Select your Top Menu from wp menus

اوقات نہ دکھائیں !!

اوقات نہ دکھائیں !!

مدثراحمد۔

ایڈیٹر،روزنامہ آج کاانقلاب،شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
ایودھیا میں بابری مسجد اراضی کے فیصلے کے بعد نیوز چینلس ، اخبارات اور بحث و مباحثوں  میں کوئی مدعہ ہے تو وہ مدعا یہ ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے اعلان  شدہ پانچ ایکر زمین  کے تعلق سے ہے ۔ کچھ ملی ، مذہبی اور سیاسی دانشوران  اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ مسلمان  اپنی انانیت اور اپنے ضمیر کی بقاء کے لئے حکومت کی جانب سے پیش کی جانے و الی پانچ ایکر زمین  کو مسترد کریں  اور حکومت کے ساتھ بابری مسجد اراضی کے معاملے میں حکومت اپنی بات یہیں ختم کردے ۔ وہیں  دوسری جانب امت مسلمہ کے ہی کچھ علماء نما شخصیات ، دانشوران  اور ملی شخصیات اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ بابری مسجد کی اراضی کے عوض  مسلمانوں  کو جو پانچ ایکر زمین  کا اعلان  کیا گیا ہے اس زمین  کو مسلمان  قبول کرلیں اور وہاں  مسجد کے ساتھ ساتھ اسپتال ، اسکول یا یونیورسٹی بنائی جائےاور یہ تجویز وہ لوگ دے رہے ہیں جو اپنے نام پر سینکڑوں ایکر زمینیں رکھے ہوئے ہیں  اور انکا کام ہی دلالی کرنا ہے ۔ عظیم فاتح سلطان صلاح الدین  ایوبی جب بیت المقدس فتح کرنے کے لئے نکلے تو اس فلسطین سے منسلک کئی حکومتوں  نے سلطان صلاح الدین ایوبی کو طرح طرح کی لالچیں دے کر انہیں کمزور کرنے کی کوشش  کی یہاں  تک کہ انکے سامنے نہایت خوبصورت عورتیں کے گروہوں کو بھیجا گیا تاکہ انکے ایمان کی پختگی کو کمزور کیا جائے لیکن  سلطان صلاح الدین ایوبی جن کاایمان پختہ تھا انہوں  نے ہر طرح کی لالچ کو نظر انداز کردیا بدلے میں صرف بیت المقدس کی مانگ کی ۔ بیت المقدس کے علاوہ اور کوئی چیز انہیں درکار نہیں تھی ۔ نبی کریم ﷺ کے دور کی بات کی جائے تو نبی کریم ﷺ نے بھی اپنی حیات میں کئی معاہدے کئے ، کئی جنگوں کو روکا اور کئی جنگیں  بغیر لڑائی کے ہی جیت گئے لیکن  کبھی بھی دشمن کے سامنے اپنے ہتھیار نہیں  پھینکے  اور نہ  ہی دین  کی تبلیغ کے معاملے میں سمجھوتہ کیا ۔آج امت مسلمہ کا ایک بڑا حصہ لڑکر اپنے حقوق منوانے  سے زیادہ مفاہمت و حکمت کی آڑ میں اپنے  وجود کو کھوتے جارہاہے ، خاص طورپر ہندوستانی مسلمانوں کا المیہ ہے کہ آزادی سے قبل جن مسلمانوں اور مسلم تنظیموں نے ملک کی آزادی کے لئے اپنی گردنوں  میں پھانسی کے پھندے لگانے کے لئے پیش کئے تھے انہیں مجاہدین  کی آل اورتنظیمیں  آج اپنے حقوق کو منوانے  کے لئے آواز اٹھانے  کے بجائے ظالموں کے سامنے پھولوں  کے ہار پہننے کے لئے اپنی گردنوں  کو پیش کررہے ہیں ۔ افسوسناک پہلو ہے یہ ہے کہ آج ہمارے ملک میں مسلمانوں  کی قیادت کے نام پر جو لوگ تماشہ کررہے ہیں وہ ایسے ایمان  فروش ہیں جن  کی داستان اگر لکھی جائے تو آنے والی نسلیں  ان ایمان فروشوں پر ویسے ہی لعنتیں بھیجیں گی جیسا کہ آج ہم میر صادق پر لعنت بھیجتے ہیں  ۔ جو قوم 40 -50 کروڑ روپیوں کی مسجدیں اپنے بل بوتے پر بناسکتی ہے کیا اس قوم کے پاس اتنی استطاعت نہیں  کہ وہ اللہ کے گھر کے لئے 5 ایکر زمین خرید لیں  ۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق اگر مسلمان  پانچ ایکر زمین  لے لیتے ہیں تو یہ مسلمانوں  کی سب سے بڑی غلطی ہوگی اور یہ غلطی اس سے بھی بڑی غلطی مانے جائیگی جو بابری مسجد کے دستاویزات نہ بناکر مسلمانوں  نے کی تھی ۔ بابری مسجد کی اراضی کے فیصلے کو سناتے ہوئے سپریم کورٹ نے مسلمانوں  کو 5 ایکر زمین  معاوضے کے طورپردینے کے لئے حکومتوں کو احکامات دئے ہیں،یہ پانچ ایکر زمین  اس معاوضے کے طورپر ہے جس کی مسلمانوں  نے کبھی توقع ہی نہیں کی تھی ،دراصل ہندوستانی  مسلمانوں  کو اس ملک کی جمہوریت اور عدلیہ سے پورا بھروسہ تھا یہی وجہ تھی کہ ہندوستانی  مسلمانوں  نے 500 سو سال پرانے معاملے کو ہندوستانی  آئین کے مطابق ہی حل کروانا چاہ رہے تھے ۔ ضلعی سطح کی عدالت سے لے کر سپریم کورٹ جانے تک بھی مسلمانوں  نے انصاف کی امید نہ چھوڑی تھی لیکن آخر میں عدالت نے جو فیصلہ کیا اس سے مسلمانوں  کو عدلیہ سے بھروسہ ہی اٹھ گیا ہے لیکن  وہ ہمیشہ کی طرح مایوس  نہیں  ہیں ۔ رہی بات پانچ ایکر زمین پر مسجدبنانے کی ، اسکی مسلمان  ضرورت ہی نہیں سمجھتے کیو نکہ جب بھی اس ملک کی سر زمین  پر مسلمانوں  نے مسجدیں  تعمیر کی ہیں اس وقت انہوں  نے اپنے بل بوتے پر مسجدوں  کی تعمیر کی ہے ۔ چاہے وہ مساجد بادشاہوں  کے دور میں  بنائی گئی تھیں یا پھر آج کے دور میں بنائے جانے والی مسجدیں ۔ بادشاہوںعالیشان مسجدوں  کی تعمیر کے لئے زمین  خرید کر وقف کی تھیں تو آج کے دور کے مسلمانوں  نے بھی لاکھوں روپئوں کی زمینیں  مسجد وں  کی تعمیر کے لئے وقف کردی ہیں ۔ حال ہی میں مسلمانوں  نے کیر لا میں 40 کروڑ روپیوں کی لاگت سے ہندوستان  کی سب سے بڑی مسجد کی تعمیر کی ہے ، اسکے علاوہ بنگلور، منگلور میں بھی ایسی درجنوں مسجدیں ہیں جو کروڑوں روپیوں کی لاگت سے بنی ہوئی ہیں ۔ جب ایک عام مسلمان کسی ضرورت مند کی مدد کے لئے دل لگاکر کھڑا ہوجاتا ہے تو وہ صرف جمعہ کی نماز کے بعد ہزاروں روپئوں کا چند ہ اکھٹا کرلیتا ہے ۔ ہندوستانی  مسلمانوں  کی وقف املاک کی ہی آمدنی  اس ملک کے بجٹ کا ایک فیصد حصہ ہو اور ریلوے کے بعد سے زیادہ آمدنی اگر کسی شعبے میں ہے تو وہ وقف کے پاس ہے اور اگر اراضی کا حساب لگایا جائے تو ملک کے محکمہ دفاع کے پاس جتنی زمین  اس سے کہیں زیادہ زمین  اوقاف کے پاس ہے تو سپریم کورٹ نے جو پانچ ایکر مسلمانوں  کو بھیک کے طور پر پیش کیا ہے وہ تو کچھ بھی نہیں  ہے ۔ جس طرح سے اب تک کی حکومتیں  مسلمانوں  کو حج سبسیڈی کے نام پر دھوکہ دے رہیں تھی بالکل اسی طرح سے سپریم کورٹ نے پانچ ایکر زمین  مسجد کے لئے منظورکرنے کے نام پر مسلم دعویداروں کو چونا لگانے کی کوشش کی ہے اسکے علاوہ اور کچھ نہیں  ۔ جن لوگوں  کو سپریم کورٹ کا فیصلہ قابل ستائش لگ رہاہے وہ انصاف کے علمبردار نہیں  ہوسکتے اور جن لوگوں کو سپریم کورٹ کی پانچ ایکر زمین پسند آرہی ہے انکی داستان بھی لکھی جائیگی ایمان  فروشوں  کی تاریخ میں ۔ جو انصاف پرست ہے اور جس نے بابری مسجد کی زمین  کھوئی ہے وہ تاقیامت تک اس ناانصافی کا درد سہے گا ۔ اب ہماری اتنی ہی درخواست ہے کہ جو پانچ ایکر زمین لینے کی کوشش کی جارہی ہے اس زمین  کو لے کر مسلمان  ا پنی لالچ والی اوقات  نہ  دکھائیں ۔ تھوکیں  اس تجویز پر اور تھوکیں زمین  مانگنے والوں  پر اوردینے والوں  پر ۔۔۔

HTML Snippets Powered By : XYZScripts.com