Select your Top Menu from wp menus

امریکی عدالت کا تاریخ ساز فیصلہ

امریکی عدالت کا تاریخ ساز فیصلہ
                   نقاش نائطی
            +966504960485
قوموں کی شاندار تاریخ،عدل و انصاف کے ان کے فیصلوں پر منتج ہوا کرتی ہیں
“معاشرے کفر کے ساتھ تو زندہ رہ سکتے ہیں لیکن ناانصافی کے ساتھ نہیں”- حضرت  علی رض
بابری مسجد رام مندر زمین ملکیت تنازع پر حقائق کے خلاف ہندوؤں کے فرضی عقیدت پر آئے 9 نومبر سپریم کورٹ فیصلہ کے تناظر میں
جو دباؤ میں آکر فیصلے بدل دیں وہ عدالتیں نہیں بادبانی کشتیاں ہوتی ہیں جن کی منزلوں کا تعین ملاح نہیں طوفانی ہوائیں کیا کرتی ہیں-
“کار لافے ٹکر سزائے موت فیصلہ” امریکی ایوان عدالت کے انصاف کا جیتا جاگتا ثبوت
ایک طوائف کے یہاں پیدا ہوئی بچی اسکی ولدیت کے خانے میں اس کی ماں ہی کا نام لکھا گیا- ماں کی گوناگوں “مصروفیات” کی باعث، کارلافے ٹکر کی تربیت کا مناسب بندوبست نہ ہوسکا لہذا گندے ماحول اور عدم توجہ کے باعث 8 برس کی عمر میں اس نے سگریٹ نوشی شروع کر دی اور بمشکل دس برس کی عمر میں اس نے چرس پینا بھی شروع کر دی- 13 برس کی عمر میں جب وہ ابھی جوانی کے دروازے پر ہلکی ہلکی دستک دے رہی تھی تو اس کی ماں اسے پہلی بار “ساتھ” لے کر “باہر” نکلی جس کے بعد وہ مسلسل 11برس تک گناہ کی گھاٹیوں میں اترتی رہی اور ذلت کے صحراؤں میں ننگے پیر چلتی رہی-
پھر 1983ء کی وہ رات آگئی جب اس نے اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ مل کر ایک جوڑے سے موٹر سائیکل چھیننے کی کوشش میں جوڑے کو ہلاک کرکے یہ دونوں فرار ہو گئے لیکن چند ہی ہفتوں میں پولیس نے انھیں گرفتار کرلیا- مقدمہ چلا اور ٹیکساس کی عدالت نے دونوں کو سزائےموت سنا دی، جس کے بعد اپیلوں کا ایک طویل سلسلہ شروع ہو گیا- اسی دوران اس کا بوائےفرینڈ بیمار ہوکر جیل میں انتقال کر گیا جس کے بعد وہ تنہا رہ گئی-
جیل حکام کو اس حادثے کا کوئی علم نہیں جس نے اس کی زندگی کا رخ ہی بدل دیا، وہ لڑکی جو بات بات پر جیل انتظامیہ کو ننگی گالیاں دیا کرتی تھی وہ اچانک اپنا ذیادہ تر وقت بائبل کے مطالعے میں گزارنے لگی، وہ نشئی عورت جو ہر وقت سگریٹ اور شراب کا مطالبہ کرتی رہتی تھی اب ذیادہ تر روزے سے رہنے لگی اور اب اللہ اور مسیح کے سوا کسی چیز کا نام نہیں لیتی تھی- وہ ایک طوائف زادی اور قاتلہ کی جگہ مبلغہ بن گئی، ایک ایسی مبلغہ جس کے ایک ایک لفظ میں تاثیر تھی، پھر اس نے جیل ہی میں شادی کرلی اور تبلیغ کو اپنی زندگی کا نصب العین بنا لیا-
اس کی بدلی ہوئی شخصیت کی مہک جب جیل سے باہر پہنچی تو اخبارات کے رپورٹر جیل پر ٹوٹ پڑے اور امریکہ کی معاشرتی زندگی میں بھونچال آگیا، یہاں تک کہ پوپ جان پال نے بھی زندگی میں پہلی بار عدالت میں کسی قاتلہ کی سزا معاف کرنے کی درخواست کر دی-
سزائےموت سے پندرہ روز قبل جب لیری کنگ جیل میں کارلافے ٹکر کا انٹرویو کرنے گیا تو دنیا نے سی این این پر ایک مطمئن اور مسرور چہرہ دیکھا جو پورے اطمینان سے ہر سوال کا جواب دے رہا تھا- لیری نے پوچھا ” تمھیں موت کا خوف محسوس نہیں ہوتا”- ٹکر نے مسکرا کر جواب دیا ” نہیں! اب مجھے صرف اور صرف موت کا انتظار ہے، میں جلد اپنے رب سے ملنا چاہتی ہوں، اپنی کھلی آنکھوں سے اس ہستی کا دیدار کرنا چاہتی ہوں جس نے میری ساری شخصیت ہی بدل دی”-
انٹرویو نشر ہونے کے دوسرے روز پورے امریکہ نے کہا: ” نہیں یہ وہ کارلافے ٹکر نہیں ہے جس نے دو معصوم شہریوں کو قتل کیا تھا، یہ تو ایک فرشتہ ہے جو صدیوں بعد پیدا ہوتا ہے اور فرشتوں کو سزائے موت دینا انصاف نہیں ظلم ہے”- رحم کی اپیل “ٹیکساس بورڈ آف پارڈن اینڈ پیرول” کے سامنے پیش ہوئی- 18 رکنی بورڈ نے کیس سننے کی تاریخ دی تو 2 ممبروں نے چھٹی کی درخواست دیدی جبکہ باقی 16 ممبران نے سزا معاف کرنے سے انکار کر دیا- بورڈ کا فیصلہ سن کر عوام سڑکوں پر آگئے اور کارلافے ٹکر کی درخواست لےکر ٹیکساس کے گورنر “جارج بش” کے پاس پہنچ گئے- امریکہ کے معزز ترین پادری جیسی جیکسن نے بھی ٹکر کی حمایت کر دی- گورنر نے درخواست سنی، جیسی جیکسن اور ہجوم سے اظہار ہمدردی کیا، لیکن آخر میں یہ کہہ کر معذرت کرلی:
“مجھے قانون پر عملدر آمد کرانے کے لئے گورنر بنایا گیا ہے، مجرموں کو معاف کرنے کے لئے نہیں، اگر یہ جرم فرشتے سے بھی سرزد ہوتا تو میں اسے بھی معاف نہ کرتا”-
موت سے 2 روز قبل جب کارلافےٹکر کی رحم کی اپیل سپریم کورٹ پہنچی تو چیف جسٹس نے یہ فقرے لکھ کر درخواست واپس کر دی۔ ” اگر آج پوری دنیا کہے کہ یہ عورت کارلافے ٹکر نہیں، ایک مقدس ہستی ہے تو بھی امریکن قانون میں اس کے لئے کوئی ریلیف نہیں ہے کیونکہ جس عورت نے قتل کرتے ہوئے دو بےگناہ شہریوں کو کوئی رعایت نہیں دی اسے دنیا کا کوئی منصف رعایت نہیں دے سکتا، ہم خدا سے پہلے ان دو لاشوں کے سامنے جوابدہ ہیں، جنہیں اس عورت نے ناحق مار دیا”-
3 فروری 1998ء کی صبح پونے چھ بجے ٹیکساس کی ایک جیل میں 38 سالہ “کارلافے ٹکر” کو زہریلا انجیکشن لگا کر سزائےموت دیدی گئی تھی، لیکن امریکی عدالتوں اور حکومتی ایوانوں نے ،عقیدت، آستھا، محبت ،چاہت پر قانونی کی حکمرانی کو جیت دلوائی تھی
4 فروری کو جب سی این این سے کارلافے ٹکر کی موت کی خبر نشر ہو رہی تھی تو میں نے اپنے ضمیر سے پوچھا کہ وہ کیا معجزہ ہے جو امریکہ جیسے سڑے ہوئے بیمار معاشرے کو زندہ رکھے ہوئے ہے تو حافظے میں حضرت علی کا قول زریں چمکنے لگا،  “معاشرے کفر کے ساتھ تو زندہ رہ سکتے ہیں لیکن ناانصافی کے ساتھ نہیں”-
جو عدالتیں عوامی احتجاج یا حکمرانوں سے متاثر ہو کر اپنے فیصلے بدل دیں، تو وہ عدالتیں نہیں بادبانی کشتیاں ہوتی ہیں جن کی منزلوں کا تعین ملاح نہیں،طوفانی ہوائیں کرتی ہیں-
9 نومبر2019 ،کیا ہندستان کی عدالت عالیہ نے،باوجود اس یقین دہانی کے کہ ستر سال قبل کے بابری مسجد رام مندر زمین ملکیت تنازع کا فیصلہ، اکثریتی فرقے کی آستھا یقین  پر نہیں سنایا جائیگا اور اپنے فیصلے میں  اس اقرار کے بعد بھی کہ
1)کروڑوں ہندو بھائیوں کو گمراہ کئے گئے، اس مفروضے کے مطابق کہ شہنشاء ھند  بابر نے، اپنی شہنشایت کے نشے میں،ہندوؤں کے مقدس رام جنم مندر کو توڑ کر، بابری مسجد بنائی تھی یہ مفروضہ نہ صرف جھوٹ پر مبنی ہے اور نہ ہی، بابری مسجد متنازع زمین کے نیچے کھدائی کے بعد کسی سابقہ مندر کے آثار ملے ہیں۔گویا رام مندر توڑ کر بابری مسجد بنائے جانے کا الزام مسلمانوں پر غلط اور بے بنیاد ہے
2) دسمبر 1949 کی رات،شب کی تاریکیوں میں، بابری مسجد کی دیوار پھاند کر،ہندو شدت پسندوں کا، بابری مسجد کے اندر مرکزی محراب کے نیچے رام للہ کی مورتیاں رکھنے کا عمل، غیر قانونی تھا
  3) 6 دسمبر 1992 ہندو شدت پسند ہزاروں بلوائیوں  کے ہاتھوں بابری مسجد کی شہادت ایک جرم عظیم تھا
4) ایودھیا نگری ہی میں پہلے سے موجود 9 نامور پرانے رام جنم استھان مندروں کی موجودگی میں، مسلمانوں کی500 سالہ بابری مسجد ہی کو رام جنم استھان ثابت کرنے میں، ہندو برادری پوری طرح ناکام رہی ہے
 دیش کی سب سے بڑی عدلیہ سپریم کورٹ کے امتناع باوجود، 6 دسمبر 1992،اس متنازع جگہ پر ہندو کارسیوکوں کے جمع ہونے سے پہلے، بابری مسجد ڈھانچے کی حفاظت کی تمام تر ذمہ داری، یوپی  بی جے پی سرکار کے لینے کے بعد، شدت پسند بلوائیوں کے ہاتھوں بابری مسجد شہادت تناظر میں، اس وقت کے کانگریسی  وزیر اعظم شری نرسمہا راؤکے بابری مسجد تعمیر کرنے کے،ہندستانی مسلمانوں کے ساتھ کئے وعدہ کے مخالف، سنی وقف بورڈ ملکیت والی بابری متنازع مسجد زمین، بابری مسجد شہید کرنے یا کرانے والے مجرموں ہی کی تحویل میں دیا جانا، ہندستانی عدلیاتی تاریخ کا ایک تاریک باب، تاریخ کی کتابوں میں لکھا جائیگا اور مسلمانوں کے ساتھ ہوئی یہ ناانصافی مسلمان تا قیامت بھلا نہیں پائیں گے
HTML Snippets Powered By : XYZScripts.com