Select your Top Menu from wp menus
سرخیاں

مولانا سیّد مظاہر عالم قمربحیثیت ادیب و شاعر

مولانا سیّد مظاہر عالم قمربحیثیت ادیب و شاعر

ڈاکٹر ممتاز احمد خاں
سابق ایسوسیئیٹ پروفیسر شعبہ اردو ،
بی۔آر۔ اے۔ بہار یونیورسیٹی ۔مظفر پور

مولانا سیّد مظاہر عالم صاحب قمر(سابق پرنسپل مدرسہ احمدیہ ابابکر پور،ضلع ،ویشالی)شمالی بہار میں ایک معزّز ،محترم،مذہبی اور دیندار انسان کی حیثیت سے معروف و مشہور ہیں ۔ وہ ایک ذی علم مذہبی گھرانے کے چشم و چراغ ہیں ۔ ان کے والد مولانا سیّد محمد شمس الحق صاحبؒ اپنے علم وفضل اور زُہد و تقویٰ جیسی صفات کی وجہ سے بہار اور بیرونِ بہار میں عزت و احترام کی مسند پر بٹھائے جاتے تھے۔سیّد محمد شمس الحقؒ عرصہ دراز تک جامعہ رحمانی مونگیر میں شیخ الحدیث کے معزّز منصب پرفائز رہے ۔ انہی کے آغوشِ تربیت میں سیّد مظاہر عالم صاحب نے نشوونما پائی ۔ علم و ادب کا ذوق انہوں نے اپنے والد سے حصے میں پایا۔ انہو ں نے مدرسہ احمدیہ ابابکر پور بعدہ‘ مدرسہ احمدیہ سلفیہ لہریاسرائے دربھنگہ میں علم دین کی تحصیل کی ۔ اپنے زمانے کے جَیِّد اساتذئہ کرام اور علمائے عظام سے کسبِ فیض کیا اور پوری زندگی اسلامی اور مذہبی کتابوں کی درس و تدریس میں گزاری۔ مولانا کے شاگردوں کی تعداد بھی کثیر ہے۔ ان کے تلامذہ نے ان سے نہ صرف اسلامیات کا درس لیا بلکہ ان کے بہترین اخلاق کے اثرات بھی قبول کئے۔
مولانا سیّد مظاہر عالم بہت عمدہ اور پاکیزہ ذوق رکھتے ہیں۔ انہوں نے بہترین کتابوں سے فیض یاب ہوکر ہمیشہ علمی وادبی ماحول میں زندگی گزاری۔مولانا کو شعر و ادب کا بھی عمدہ ذوق ہے۔ انہوں نے نثرمیں بھی متعدد مضامین لکھے اور ان کا منظوم کلام بھی اس بات کا شاہد ہے کہ وہ شعر گوئی کا شوق و شغف رکھتے ہیں۔ مولاناکی تخلیقات و تحریرات کے مطالعہ سے ان کے فکر وخیال اوران کی عِلمِیَّت کی کئی پرتیں کھلتی ہیں ۔ مولانا کا موضوع ہمیشہ بزرگ و برگُزیدہ ہوتا ہے۔ وہ بہت ذمہ داری سے اپنے قلم کو استعمال کرتے ہیں اور سادگی اور خلو ص سے اپنے خیالات و جذبات کو قلم بند کرتے ہیں ۔
اس وقت میرے پیشِ نظر مولانا مظاہر عا لم کی چار نثری تحریریں اور ان کی شعری تخلیقات ہیں ۔ ان کے یہ مضامین خصوصیت سے قابلِ توجہ ہیں:
(الف) خود نوشت سوانح حیات (مختصر)
(ب) شعر و شاعری اسلامی نقطئہ نظر سے
(ج) نعت فخرِ کائنات ﷺ کی ابتدائ
(د) میرے ابا حضور
ان مضامین کے مطالعہ سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ مولانا کسی موضوع پربہت سنجیدگی سے مطالعہ اور غور و فکر کے بعد قلم اٹھاتے ہیں ۔ وہ موضوع سے متعلق ضروری مواد جمع کرلیتے ہیں پھر اپنی معلومات اور مطالعہ کو حاصل مضمون کی صورت میں پیش کرتے ہیں ۔ ان کی گفتگو علم اور حقائق کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ وہ مضمون لکھتے ہوئے غیر ضروری تمہید اور بے محل تاَثّر اتی گفتگو سے یکسر پرہیز کرتے ہیں ۔ ان کی نثر واضح ،شفاف ،سادہ اور مربوط ہوتی ہے۔ وہ لفاظی اور طول کلامی سے اجتناب کرتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے مضامین پڑھتے ہوئے قاری نہ ُالجھتا ہے اور نہ اُوبتا ہے بلکہ حقائق و معارف کے موتی اپنے دامن میں سمیٹ کر اٹھتا ہے۔ علمی موضوع پر لکھتے ہوئے مولانا اپنے موقف کو دلائل و شواہد سے مُزیَّن کرتے ہیں ۔ ان کی تحریرمیں تکلف و نمایش کاکوئی گزر نہیں ہوتا۔ قاری جب مضمون مکمل کرتا ہے تو اس کو اپنی معلومات اور بصیرت میں اضافے کا احساس ہوتاہے۔
مولانا سیّدمظاہر عالم صاحب کی منظومات و غزلیات کے مطالعے سے بھی خوشگوار تَاَثُّرات مرتب ہوتے ہیں ۔ مولانا کی شاعری حمد، مناجات، نعت، سلام اور غزلیات پر مشتمل ہے۔وہ روایتی شاعری کے قائل نہیں ہیں۔گل وبلبل کے مضامین اور ہنگامی و سیاسی موضوعات سے بھی ان کو کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ وہ ایک عالم ِ دین ہیں اور اسلامی تہذیب کے نمائندہ و نقیب ہیں۔ اس لئے وہ ہر قدم سوچ سمجھ کر اور سنبھل کر اٹھاتے ہیں۔ اسلامی معیارو میزان کا وہ ہمیشہ خیال رکھتے ہیں۔ اسلامی فکر و عقیدے کے حامل شاعر کی ذمہ داری دوسرے شاعروں سے بہت بڑھی ہوئی ہوتی ہے۔ وہ ہمیشہ خیال رکھتا ہے کہ اس سے کوئی لغزش نہ ہوجائے ،تہذیب و شائستگی کے خلاف کوئی لفظ یا جملہ نہ لکھ جائے ۔ اس لئے اس کی شاعری کامطالعہ کرتے ہوئے قاری کو بھی یہ ضرور ملحوظ رکھنا چاہئیے کہ وہ ایک ایسے شاعر کا کلام پڑھ رہاہے جس میں اردو کی روایتی شاعری کاچٹخارہ نہیں ہوگا۔
مولانا سیّد مظاہر عالم کی شاعری میں حمدیات اور نعتوں کو خصوصی اور کلیدی حیثیت ہے۔ ان کی حمدوں میں ذاتِ باری تعالیٰ کی ربوبیت و وحدانیت ،خَلَّا قیت، حکمت، رحمت و رافت اور بندوں پر اس کے احسانات کا ذکر خصوصیت سے نمایاں ہیں۔اسی طرح رسول اللہ ﷺ کی نعتوں میں رسول ﷺ کے اسوئہ حسنہ کا ذکر خاص طور پر ہوا ہے۔ حضور اکرمﷺ سے شاعر کی محبت و شیفتگی کا اظہار بھی جابجا ملتا ہے۔ مکَّہ معظمہ اور مدینہ منورہ سے والہانہ محبت واحترام کا جذبہ بھی نمایاں ہے۔ سیّد مظاہر عالم کی منظومات میں پند وپیغام اور عمدہ نصیحتیں بھی ملتی ہیں ۔وہ ملت کی بے حسی اور اسلامی تعلیمات سے ان کی دوری کو دیکھ کررنجیدہ ہوتے ہیں اور اپنے رنج و ملال کا اظہارکرتے ہیں۔
میر ا جی چاہتا ہے کہ مولانامظاہرعالم کی حمدوں اور نعتوں کے چند اشعار ضرور نقل کردوں تاکہ قارئین کو معلوم ہو کہ مولانا کا رنگ ِ سخن کیا ہے۔
حمد کے لائق خدا یا باِلیقیں تُو ہی تو ہے
ہے یقیں ہم کو کہ َربُّ العالمین تُوہی تو ہے
یا الٰہی! ہو اِدھر بھی آپ کی نظرِ کرم
در پہ تیرے ہاتھ پھیلائے ہوئے حاضر ہیں ہم
O
کرم کر مِرے حال پر اے کریم

میں عاصی ہوں تُوہے غفورµ رَّحیم
گل ُو غنچہ میں ہے تِر ی ہی شمیم

ہے راحت رساں بن کے بادِ نسیم
فقط ایک تو ہی ہے فریاد رَس

ہے مشہور تیرا ہی لطفِ عمیم
ہیں انعام و احسان بے حد ترے

ہے محسن تو ہی اور تو ہی کریم
خطاﺅں کو کرتاہے تو درگزر

کہاں دوسرا کوئی ایسا حلیم
اورنعت کے مندرجہ ذیل اشعار بھی بطور نمونہ پیشِ خدمت ہیں۔
یانبی ! سرورِ انس و جاں آپ ہیں
باعثِ خلقِ کون و مکاں آپ ہیں
آپ آئے تو پھیلی ضِیا چار سُو
مطلعِ نور کے آسماں آپ ہیں
اُفُق سے بطحاکے روئے روشن حضور والا دکھارہے ہیں
عرب کی تاریک وادیوں سے شیاطیں بستر اٹھارہے ہیں
نجات ِ اُخروی بے شک اُسی کاہی مقدّرہے
جو اپنی زندگی میں تابِعِ حکمِ پَیَمبر ہے
روز وشب ذکرِ شہِ اَبرار ہونا چاہئیے
دل میں حُبِّ عِترتِ اَطہار ہونا چاہیئے
دعوی¿ حُبِّ نبی رکھتے ہو گر اے مومنو!
تو نبی سا، صاحبِ کردار ہونا چاہیے
کلمئہ توحیدکے دھاگے میں جو سب بندھ گئے
پھر کبھی ان میں نہیں تِکرار ہونا چاہیئے
اے چاند تیرا چہرہ تو کچھ داغدار ہے
مُکھڑا مِرے حبیب کا کیا آبدار ہے
دل شَیفتئہ سید مکی مدنی ہے
بِن دیکھے فِدا مثلِ اُوَیسِ قَرنی ہے
اُدھر وَاللَّیل یَغشَیٰ ہے اِدھر زُلفِ مُعنبر ہے
جمالِ روئے احمد سے جہاں سارا مَنوَّ ہے
اور مظاہر عالم کی غزلوں کے مندرجہ ذیل اشعار بھی ملاحظہ فرمایئے:
کیا سمجھتے تھے زمانہ ایسا بدتر آئے گا
دوست بھی ہاتھوں میں اپنے لے کے خنجر آئے گا
ہے مہلت ِزندگی بہت کم ،ہے جو بھی کرنا وہ کام کرلو
کچھ ایسا کرکے یہاں سے جاﺅ حیات اپنی دَوَام کرلو
بہ جستجوئے سکونِ خاطر، رہوگے بے چین کب تلک تم
پڑا ہے خالی یہ خانہ¿ دل، اب آکے اس میں قیام کرلو
وہ دل بھی کیسا ہے دل کہ جس میں ، ذرا بھی رنج و اَلَم نہیں ہے
ہزار دل اس کو کوئی کہہ لے مگر یہ پتھر سے کم نہیں ہے
تھام کر میں دل کو رہ جاتا ہوں اپنے اُس گھڑی
یاد جب آتی ہے سب باتیں پُرانی آپ کی
رُو برو ہوکر ذرا اک لمحہ بھی تو دیکھئے
دور ہو جائے گی ساری بدگمانی آپ کی
ہے دما غ و ذہن سب پر حکمرانی آپ کی
اک بچا دل تو ہے وہ بھی را جدھانی آپ کی
سکون دل کو ملے تو کیسے، کہاں سے آخر قرار آئے
متاعِ قلب و جگر کو اپنی تو راہِ اُلفت میں ہار آئے
جدائی کی گھڑی بھی کس قدر غمگین ہوتی ہے
مصیبت اس سے بڑھ کر بھی کوئی سنگین ہوتی ہے؟
نہ رکھُّوں کیوں زباں کو تر ہمیشہ ذکرسے تیرے
کہ تیرے ذکر سے دل کو مِرے تسکین ہوتی ہے
O
ناتواں ہوں مجھے اور کیا چاہئے
دردِ دل کی فقط کچھ دوا چاہئے
تم سے کیا مجھ کو اے بے وفا چاہئے
صرف اپنی وفا کا صلہ چاہئے
اور مظاہر عالم صاحب کی بعض غزلیںمسلسل ہوگئی ہیں ، ان کا الگ لطف ہے ۔
چراغِ محبت جلاﺅ تو جانیں
یہ دیوارِ نفرت گِراﺅ توجانیں
ہے مشکل نہیں توڑنا کچھ، دلوں کا
شکستہ دلوں کو ملاﺅتو جانیں
عداوت کی ایسی دہکتی فضامیں
محبت کانغمہ سناﺅ تو جانیں
گلستاں کو تم اپنے، غارت گروں سے
بچانے کی ہمت جُٹاﺅ تو جانیں
مولا نا مظاہر عالم صاحب کی جملہ تخلیقات وتحریرات کاوصفِ خاص یہ ہے کہ ان میں اعلی درجہ کی فکر ہوتی ہے ۔ مولاناموصوف کے خیالات پاکیزہ ہوتے ہیں ۔ وہ اپنے خیالات و احساسات کو سادگی اور سلیقے سے پیش کرنے کا ہُنر جانتے ہیں ۔میں ان کی منظومات ، غزلیات اور اشعارکو پڑھ کر محظوظ و مسرور ہوا ہوں ۔ مولانا اعلیٰ اقدار اور بہترین افکار کے مُبلِّغ ہیں ۔ انہیں اردو زبان سے بھی بے حد محبت ہے۔ انہوں نے اپنے علاقے میں اسلامی تہذیب کی خوشبو پھیلائی ہے۔ وہ اپنے والد کے سچے جانشیں ہیں ۔ میں ان کے کلام کی اشاعت کے مبارک موقع پر مولانا کو ہد یئہ تبریک پیش کرتا ہوں ۔
ممتاز احمد خاں
یکم محرم الحرام۱۴۴۱ھ
ساجدہ منزل ، باغ ملی ،حاجی پور

HTML Snippets Powered By : XYZScripts.com