Select your Top Menu from wp menus
سرخیاں

مولانا آزاد کی زبان دانی:چند جهلکیاں

مولانا آزاد کی زبان دانی:چند جهلکیاں
    تحریر……شرف الدین عبدالرحمٰن تیمی
مولانا ابوالکلام آزاد کی ذات اپنی جگہ ایک انجمن تهی.علم وفضل کی وہ کون سی بلندی ہے جس کو مولانا کے ذهن رسانے نہ پایا ہو،ان کی جادو بیانی کا کوئی ثانی نہیں تها وه حسن انشا میں یگانہ تهے.فکر کی تابانی،یقین کی روشنی اور عمل کی گرمی نے ان کی شخصیت میں ایک دل آویزی ودلکشی پیدا کردی تهی.فضل وکمال کی رنگا رنگی،مطالعہ کی وسعت،عالمانہ رکھ رکهاؤ،پاکیزه جمالیاتی ذوق ان سب کا اتنا دلکش اور حسین امتزاج مولانا کے اندر پایا جاتا تها کہ ہم ان میں سے کسی ایک کو دوسرے سے جدا نہیں کرسکتے.گویا وہ ایک ایسا”گل”تهے جس کے ارد گرد مختلف اجزا گردش میں ہوں،شعر وادب،مذہب واخلاق،زبان وبیان،حکمت وفلسفہ،سیاست وصحافت ہر جگہ مولانا کی اپنی انفرادیت،ان کا ذہنی کمال اور فکری عمق اپنی مثال آپ ہے.قدرت نے انہیں وہ ذہنی صلاحیتیں ودیعت کی تهیں کہ جس فن پر بهی انہوں نے توجہ دی اسے بام عروج تک پہنچا دیا اور دیکهنے والوں کو ایسا محسوس ہوا جیسے وہ شاید اسی کے لئے پیدا کئے گئے ہیں.شعر وادب پر گفتگو کی تو عرفی ونظیری،متنبی اور بدیع الزماں ہمدانی کی صف میں کهڑے نظر آئے،حکمت وفلسفہ کی بات کی تو ابن رشد اور ابن طفیل کی مسند سنبهالی،رشد وہدایت،دعوت وعزیمت اور مذهبی اصلاح وانقلاب کو اپنا شعار بنایا تو وقت کے ابن تیمیہ اور ابن قیم ثابت ہوئے.حقیقت یہ ہے کہ مولانا آزاد جیسی علمی فضیلت،ذہانت وعبقریت اور اسلامی علوم وفنون پر گہری نظر رکهنے والی شخصیت اس وقت کی اسلامی دنیا میں کوئ اور نظر نہیں آتی.
مولانا ابوالکلام آزاد کی زبان دانی کے سلسلے میں بانئ جامعہ امام ابن تیمیہ اپنی مشہور زمانہ کتاب”کاروان حیات” کے اندر رقمطراز ہیں مولانا آزاد کی کتب بینی کا یہ نتیجہ نکلا کہ باره سے تیره سال کی عمر ہوتے ہوتے تمام مروجہ علوم میں مہارت حاصل کرلی،اور عربی وفارسی میں بڑی بڑی ضخیم و دقیق کتابوں کو گوشہ ہائے حافظہ میں بند کر لیا،اور درس نظامی کا دس سالہ کورس بہت ہی کم سنی میں مکمل کر لیا، ولادت کے بعد دس سال تک مکہ مکرمہ میں رہنے کے سبب عربی ان کی مادری زبان تھی.علامہ ڈاکٹر محمد لقمان السلفی مولانا کی انگریزی کے سلسلے میں گفتگو کرتے ہوئے لکهتے ہیں:
آپ نے انگریزی زبان خود پڑھ کر سیکھ لی تهی،اور اس قدر سیکھ لی کہ مشکل سے مشکل ترین کتابوں کا مطالعہ کرنے لگے،اور ان میں زبان وادب کے نقائص وعیوب نکال کر ان کے مصنفین کو دکهانے لگے.لیکن برا ہو حسد ومعاصرت کا کہ آپ کے حاسدین آپ کے انگریزی نہ جاننے سے متعلق بے بنیاد روایتیں اور بے سروپا قصے گهڑ کر خوب آپ کا گوشت کهاتے رہے.(کاروان حیات،ص-599-600)
مولانا کتابوں کی صحبت اور علمی مشاغل کو بہت پسند کرتے تهے.ان کے تعلق سے یہ واقعہ بیان کیا جاتا ہے کہ وہ علم اللسان میں اپنی نظیر نہیں رکهتے.مولانا آزاد رحمہ اللہ بہت بڑے مشتشرق ہیں.عربی اور فارسی میں تو کوئ بهی ان کا حریف نہیں ہے مگر جب گفتگو کرتے ہیں تو ایسی آسان،شگفتہ اور رواں دواں اردو بولتے ہیں کہ ہر کوئ اسے بہ آسانی سمجھ سکتا ہے. بے شک مولانا کی یہی زبان “ہندوستانی زبان” ہے.
اگر چہ آپ انگریزی کم بولتے تهے،مگر آپ کی لائبریری انگریزی اور فرانسیسی کتابوں سے بهری ہوئ ہوتی تهی.آپ نے کئ انگریزی شعراء شیکسپیئر،ورڈز ورتھ ،شیلے اور بائرن کا مطالعہ کیا ہے.گوئٹے،سپونوزا،روہو،مارکس،ہیولاک ریلس،ڈیوماز،ہیوگو،ٹالسٹانی اور سکن کو ایک بار نہیں بار بار پڑها ہے.(سوانح افکار مولانا ابوالکلام آزاد،ص- 32)
ترکی زبان کی تحصیل:
ترکی زبان سیکهنے کا موقع تو ہمیں ملا لیکن افسوس کہ اس کی تکمیل نہ کرسکا،ایک بہت قابل ترک”طاہر بک” حسن اتفاق سے کلکتہ پہونچے.یہ ایک بہت ہی قابل زبان داں سیاح شخص تهے.ابتداء میں یمن وشام کے مخلتف سرکاری عہدوں پر بهی ره چکے تهے اور اس کے بعد کچھ دنوں تک “ترجمان حقیقت”قسطنطنیہ”کے ایڈیٹر بهی ره چکے تهے.فرنچ بہت عمده جانتے تهے.فارسی اور عربی بڑی بے تکلفی کے ساتھ بولتے تهے نہیں معلوم کیا مصائب پیش آئے، سخت بدحالی کے عالم میں کلکتہ پہنچے.ایک دن میں مسجد سے نکل رہا تها اتنے میں مجهے ایک شخص نظر آیا جو ٹخنوں تک کا کرتا اور چهوٹا سا کوٹ پہنے اور سر پر چهوٹا سا عربی عمامہ لپیٹے ہوئے،شامی یا عراقی عربوں کی طرح سیڑهیوں پر چڑھ رہا تها.میں نہ چاہتے ہوئے بهی اس کی طرف متوجہ ہوگیا.میں نے عرب سمجھ کر ان سےعربی میں کچھ پوچها، جس کا جواب انہوں نے ایسے لہجے میں دیا جس سے معلوم ہوا کہ یہ عربی لب ولہجہ نہ تها.میں انہیں اپنے ساتھ لے آیا اور جب کچھ باتیں ہوئیں تو اقرار کیا کہ میں ترک ہوں.معلوم ہوا کہ اس بے چارے نے یہ سنا تها کہ ہندوستان میں عربی کی زیاده قدر ہوتی ہے. پریشانی کی وجہ سے چونکہ طالب اعانت تها اس لئے اپنے تئیں ایک ایسی مشتبہ حالت میں چهوڑ دیا تها. دو چار دن ہی میں اس کی واقفیت اوراس کی قابلیت ظاہر ہوگئ اور میں نے والد مرحوم سے اجازت لے کر اپنے یہاں اس کے قیام کا بندو بست کر دیا.سات آٹھ مہینے تک یہ وہیں رہے اور اس کے بعد قسطنطنیہ چلے گئے.ان کی صحبت سے بهی مجهے بہت سے تعلیمی فوائد حاصل ہوئے.عربی کی بهی بہت اچهی استعداد تهی، تحریر بہت ہی اچهی تهی، معلومات عامہ خاص طور پر تهیں. میں اور میرے بهائ مرحوم کے ساتھ ساتھ چند لوگوں نے بهی ان سے ترکی زبان سیکهنا شروع کر دیا.بهائ مرحوم زیاده مستعدی سے پڑهتے رہے لیکن میں اسے جاری نہ رکه سکا.
انکے خیالات بالکل فلسفیانہ تهے.اور مجهے حیرت ہوتی تهی کہ تمام مذہبی مباحث میں بجنسہ وہی خیالات رکهتے تهے اور ان کے اثبات کے لئے بعینہ وہی دلائل استعمال کرتے تهے جو نئے خیال کے اصلاح پسند ہندوستان میں ظاہر کرچکے ہیں.یہ اس امر کا ثبوت تها کہ ایک ہی حالات میں ایک ہی طرح کے خیالات کا پیدا ہونا،ایک قدر مشترک ہے جو تمام ملکوں اور قوموں میں یکساں طور پر ظہور میں آتا ہے.
اس زمانے میں چونکہ خود بهی سرسید مرحوم کے رنگ میں رنگ چکا تها،اس لئے ان سے مجهے بہت دلچسپی ہوگئ اور میں انکی بہت قدر کرنے لگا.ترکوں کے حالات ترکی لٹریچر،ترکی شاعری،اس کے قدیم وجدید مختلف دور،مشاہیر ادبائے ترک،نئی پولیٹیکل جماعتیں اور بہت سی مفید باتیں اس زمانے میں انہی سے معلوم ہوئیں اور آگے چل کر بہت کام آئیں.نامق کمال بک،یوسف ادیب،احمد جودت کا کلام بڑے ذوق وشوق اور ترنم کے ساتھ سنایا کرتا تها.اس کی آواز بهی بہت پیاری تهی.اور ترکی گانے بهی نہایت عمده ہوا کرتے تهے. لہذا میں خود ترکی اشعار سناتا اور ان کا ترجمہ کرتا تها.
الغرض مولانا آزاد رحمہ اللہ بیک وقت عربی، فارسی،ہندی،اردو،انگریزی،فرنچ،ترکی اور بنگلہ زبانوں دسترس رکهتے تهے یہی وجہ ہے کہ آج بهی ان کا نام علمی دنیا میں قدر سے لیا جاتا ہے اور قیامت کی صبح تک لیا جاتا رہے گا.
HTML Snippets Powered By : XYZScripts.com