Select your Top Menu from wp menus

ایسی بلندی ایسی پستی؟

ایسی بلندی ایسی پستی؟

حفیظ نعمانی

ہم دوسرے ملکوں کے بارے میں تو یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتے لیکن اپنے ملک کے بارے میں یہ دعویٰ کرنے میں حق بجانب ہوں گے کہ ہمارے ملک کے جو سب سے بڑے لیڈر ہوئے ہیں وہ وکیل تھے۔ بات صرف گاندھی جی، مسٹر جناح، پنڈت نہرو، ڈاکٹر امبیڈکر اور نہ جانے کتنوں کی نہیں ان کے بعد بھی حکومت اور سیاست میں آئے ان میں زیادہ تر وکیل تھے۔ ہم سنبھل میں پیدا ہوئے اور ڈھائی برس کی عمر میں اپنی والدہ کے ساتھ کرایہ کے مکان بریلی آگئے وہ مکان جن کا تھا وہ تو ماسٹر تھے لیکن جس محلہ میں تھا وہ گھیر مولوی عبدالقیوم کہلاتا تھا۔ یہ تو ہوش سنبھالنے کے بعد معلوم ہوا کہ انگریزوں کے زمانہ میں مسلمان وکیل کو مولوی صاحب اور ہندو کو بابوجی کہا جاتا تھا اور گھیر کے مالک مولوی عبدالقیوم کوئی امام نہیں تھے بلکہ بہت بڑے وکیل اور بڑے تعلقہ دار تھے جنہوں نے سہارنپور کے ایک محلہ سے اپنے سارے خاندان کے ساتھ ہجرت کی تھی اور بریلی کے شمالی کنارہ پر کوئی 25 ایکڑ زمین کا ٹکڑا خرید کر دائرہ کی شکل میں مکان بنوائے تھے اور کہا تھا کہ اس گھیر میں صرف اپنے خاندان اور اپنی نسل کے بچوں کو بسانا۔
مولوی عبدالقیوم صاحب مسلک کے اعتبار سے دیوبندی تھے اور پورے خاندان میں کوئی عالم نہیں تھا اس لئے والد ماجد مولانا منظور نعمانی نے رسالہ الفرقان جب نکالا تو محلہ سوداگران کے ایک عارضی مکان سے نکالا اور جب ایک مہینہ کے اندر گھیر کے لوگوں کو معلوم ہوا تو جماعتی طور پر وہ آئے اور پیشکش کی کہ اپنا قیام گھیر میں کرلیں مکان موجود ہے۔ اور سب سے اہم مسئلہ مسجد کا ہے جو بن تو گئی ہے مگر بریلی میں وہ دیوبندی مسلک کے لوگوں کی باقی رہے یہ مشکل ہوجائے گا اور اس طرح سب انگریزی تعلیم یافتہ اور سرکاری ملازموں نیز ممتاز وکیلوں مولوی معین الدین، مولوی امین الدین اور مولوی جمیل الدین کے پڑوس میں رہنا شروع کیا۔
یہ بھی اپنی صحت کی کمزوری ہے کہ منظر کا پس قابو سے باہر ہوجاتا ہے۔ عرض کرنا یہ تھا کہ ایک ہفتہ سے سفید پوشوں کی غنڈہ گردی کے جیسے جیسے اسٹائل دیکھنے کو مل رہے ہیں کہ جن سے مکئی کی روٹی لہسن کی چٹنی کے ساتھ کھا کھاکر اور گاﺅں کے اسکول سے ہائی اسکول پاس کرکے پولیس کی وردی دیکھ کر ہر شریف کتراکر نکل جاتا ہے وہ بھی پناہ مانگ رہے ہیں اور اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کے بجائے اپنے افسروں اور حکومت سے مطالبہ کررہے ہیں کہ ہم یونین بنائیں گے اس کی اجازت ملنا چاہئے۔ بریلی کے قیام کے زمانہ میں پورے گھیر میں پبلک سروس کمیشن کے ممبر پھر چیئرمین محمد احمد صاحب، ڈپٹی کلکٹر عبداللطیف صاحب، حلیم مسلم کالج کانپور اور رضا ڈگری کالج رامپور کے پرنسپل عبدالشکور صاحب کے دوش بدوش یہ وکیل صاحبان تھے پھر جو بھی تھے وہ ان کے بعد تھے۔ عمر کے 14 سال بریلی میں گذارکر لکھنو¿ آئے تو جہاں قیام تھا اس کے مغرب میں چودھری حیدر حسین ایڈوکیٹ جنوب میں چودھری نعمت اللہ اور ہر طرف کوئی نہ کوئی صاحب حیثیت ایڈوکیٹ آباد ملے۔ جس کا نتیجہ یہ تھا کہ جس کے گھر پر وکیل کا بورڈ لگا ہوتا تھا اس کے دروازہ کے سامنے سے باادب گذرنے کا خیال آتا تھا۔
اور وہ وقت بھی آیا کہ یکم اگست 1965 ءکی صبح کو گرفتار ہوئے جیل گئے اور 9 مہینے کے بعد جھک مارکر حکومت کو چھوڑنا پڑا تب حکومت کو یہ خیال آیا کہ ان کا جینا حرام کردیا جائے۔ اور ابتدا اس سے ہوئی کہ 1962 ءمیں اور اس کے ایک سال بعد ندائے ملت میں جو مضمون ملا اس کے خلاف مقدمہ قائم کردیا گیا بڑے بھائی پر ایڈیٹر کی حیثیت سے اور پرنٹر پبلشر کی حیثیت سے ہمارے خلاف اور پھر ان کی تعداد آٹھ ہوگئی اور ہر مقدمہ میں دو ضامنوں کی ضمانت یعنی 32 ایسے آدمیوں کا انتظام کرو جو صاحب حیثیت ہوں اور ضمانت لے سکیں اور ہر مقدمہ کی الگ الگ ہر 15 دن کے بعد پیشی جس کی وجہ سے ہر مہینہ کے 16 دن عدالت میں برباد ہوں۔ اتفاق کی بات کہ اس زمانہ میں عبدالمنان ایڈوکیٹ، حیدر عباس رضا، شہیر الحسن عثمانی، خواجہ محمد رائق، اعزاز رضوی وغیرہ نے ان مقدموں کو والی بال کی طرح ہاتھوں سے ہوا میں اُڑا دیا۔ یہ دوسرا نمونہ تھا وکیلوں کا اور اب یہ تیسرا نمونہ ہے جن کے بارے میں جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے بڑے درد کے ساتھ لکھا ہے کہ- ہندوستان میں اس وقت وکلاءکی غالب اکثریت تقریباً 80 فیصدی نوجوانوں پر مشتمل ہے جن کو اپنے پیشہ کے اہم نکات اور باریکیوں کا زیادہ علم نہیں ہوتا اور اس طرح سخت زبان اور لہجہ کے وکلاءبار ایسوسی ایشن میں اپنی بالادستی قائم کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سنجیدہ اور سینئر وکلاءبار ایسوسی ایشن میں اپنی بات رکھنے میں کتراتے ہیں اور کچھ لوگ تو بدسلوکی کے ڈر سے ان کم علم اور سخت رجحانات رکھنے والے وکلاءپر مشتمل ایسوسی ایشن میں جانا بھی پسند نہیں کرتے۔ کاٹجو صاحب نے مزید لکھا ہے کہ مدراس ہائی کورٹ میں ابتدائی طور پر مدراس بار ایسوسی ایشن میں وہی وکلاءممبر بنتے تھے جو کہ برطانیہ سے تعلیم حاصل کرکے آتے تھے۔ بعد میں ایسے سینئر وکلاءکو بھی ممبر بنانے کی اجازت دی جانے لگی جن کو پریکٹس کرتے 15 سال ہوچکے ہوں۔
کہنے کو اور بہت کچھ کہا جاسکتا ہے اصل بات وہی ہے کہ جب علم والوں کے مقابلہ پر ججوں کے رشتہ داروں نے یا دلالوں نے بڑے بڑے وکیلوں کے مقابلہ میں زیادہ آسانی سے ان سے کم روپئے میں ضمانت دلانا شروع کردی تو پھر ہر جاہل کے منھ سے زبان بولنے لگی کہ ہمارے باپ دادا نے سالے انگریزوں کو بھگانے کے لئے جان قربان کردی اور اب پھر وہی کہ جس نے آکسفورڈ میںتعلیم حاصل نہیں کی وہ بار کا ممبر نہیں ہوسکتا۔
اور جو ایک ہفتہ سے سڑکوں پر نظر آرہا ہے اور جو وردی پوش رو روکر بیان کررہے ہیں کہ پولیس والے جان بچانے کے لئے بھاگ رہے تھے اور ایک آئی پی ایس خاتون افسر کا ریوالور وکیل نے چھین لیا اور اس پر دباﺅ ڈالا جارہا ہے کہ زبان نہ کھولو اور ہر وکیل نے اعلان کردیا ہے کہ اگر دوسرے ملک سے بھی پولیس والوں کا مقدمہ عدالت میں لڑنے کےلئے آئے گا تو اسے ہم ماریں گے۔ بلاشبہ اب تک کسی شریف آدمی کا پولیس والے کے ساتھ دیکھا جانا فکر کی بات سمجھی جاتی تھی یا پولیس اسٹیشن پر کسی شریف کو دیکھنا فکر کی بات تھی اور وکیل کے گھر جانا یا وکیل کے ساتھ دیکھنا فخر کی بات تھی اب اس کا اُلٹ ہوگیا ہے۔
اور یہ سارا بگاڑ اسی کا ہے کہ سشن عدالت کی زبان اور کھاپ پنچایت کی زبان میںکوئی فرق نہیں رہ گیا۔ یہ اپنے سامنے کا واقعہ ہے کہ تقریباً اٹھارہ برس پہلے میں ایک مقدمہ کی وکالت کرنے کے لئے اپنے دوست منان ایڈوکیٹ کو سہارنپور سے لے گیا تھا۔ ہوٹل میں جب نہاکر تیار ہوئے تو انہوں نے وہی کپڑے پہن لئے جو روز لکھنو¿ میں پہنا کرتے تھے۔ میں نے کہا کہ گھر پر آپ کا سوٹ کیس دیکھ لیتا تو کپڑ ے بدلوا دیتا۔ ہنس کر کہنے لگے کہ وکالت کپڑوں کو کرنا ہے یا زبان کو؟ اور جب عدالت گئے تو انہوں نے پیش کار سے کہا کہ اس مقدمہ کی فائل میں دیکھنا چاہتا ہوں۔ سشن جج نے گردن اٹھائی تو انہوں نے کہا کہ میں لکھنو¿ سے اسی کیس کے لئے آیا ہوں اور آج ہی مجھے واپس جانا ہے۔ بس اس کا خیال رکھئے گا۔
منان صاحب کی صورت بھی زیادہ پرکشش نہیں تھی۔ ساڑھے بارہ بجے شور ہوا کہ وکیل صاحب آگئے۔ اور جج صاحب نے تھوڑی دیر کے بعد ہی آواز لگوادی۔ مدعی کی طرف سے ان کے وکیل نے مختصر بات اردو میں کہی اور کہا کہ مجھے جتنی باتیں کہنا تھیں وہ میں کہہ چکا ہوں۔
منان صاحب جو اب تک ایک عام سے وکیل سمجھے جارہے تھے انہوں نے انگریزی میں وکیل صاحب کی ہر بات کا اس طرح جواب دیا جیسے انہوں نے دو گھنٹے میں ہی پوری فائل کو پی لیا ہو۔ ادھر منان صاحب کی آواز میں گرج بڑھتی جارہی تھی ادھر عدالت سے باہر شور ہورہا تھا کہ لکھنو¿ سے کوئی حسنین صاحب آئے ہیں کیا فراٹے کی انگریزی بول رہے ہیں کہ جج اور مخالف وکیل کو گونگا کردیا اور ان کی بحث سننے کےلئے عدالت کے اندر اتنے وکیل گھسے کہ ہمارا دم گھٹنے لگا اور چار بجے کے قریب مخالف وکیل یہ کہتے ہوئے نکلے کہ آپ لوگ پریشان نہ ہوں ہم ہائی کورٹ جائیں گے۔ اور منان صاحب نے صرف دو باتیں اردو میں کہیں کہ یہ روپیہ نہ ہمارا ہے نہ ہمارے باپ کا۔ ہم ایک کوڑی دینے کے حقدار نہیں ہیں۔ اور پھر جب باہر نکلے ہیں تو کم از کم 25 وکیل اپنا کارڈ دے رہے تھے اور ان کا نمبر مانگ رہے تھے۔ اور یہ بات میں جانتا ہوں کہ انہوں نے 15 سال سے زیادہ ساہی صاحب ایڈوکیٹ کے اسسٹنٹ کی حیثیت سے کام کیا تھا۔ افسوس کہ اب اگر پابندی لگی تو بغاوت ہوجائے گی اس لئے کہ ہائی کورٹ میں بھی ہندی آگئی اور جو انگریزی نہیں بول پاتے وہ کہہ دیتے ہیں کہ انگریزی سے نفرت ہے۔ حاصل یہ ہے کہ آنکھ کھول کر جو دیکھا پھر شعور میں جو دیکھا وہ یہ تھا کہ ایڈوکیٹ یعنی بہت بڑا آدمی اور جب دنیا کو الوداع کرکے جانے کا وقت آیا تو ایڈوکیٹ کے معنیٰ جاہل پولیس والے سے بھی بڑا جانور جسے دیکھ کر باوردی پولیس والا بھی بھاگتا ہے۔
Mobile No. 9984247500
خخخ

HTML Snippets Powered By : XYZScripts.com