Select your Top Menu from wp menus

محبت کی ادھوری منزل

محبت کی ادھوری منزل

جب اس کا ٹرانسفر دوسری جگہ ہوا تو اسے اپنی تنہائی کا احساس ہونے لگا…. اداسیوں نے جیسے اسے گھیر لیا… اس کے غم کا کوئی شریک نہ تھا۔ جس سے وہ اپنے دل کا درد کہہ کر دل ہلکا کر سکے۔
زندگی کے اس طویل سفر کے نخلستان کی چھاؤں میں رک کر وہ اپنے آپ کو بھولنے کی بہت کوشش کرتا۔۔۔ اور پھر انسانیت کا بھی تو یہی تقاضہ ہے کہ دوسروں کو خوشیاں دے کر خوش رہو۔
بین الاقوامی مشاعرے میں شریک ہونے کے بعد رات کے ایک بجے وہ تھکے ہارے اور بوجھل قدموں سے اپنے فلیٹ پر پہنچا۔ بلیزر اتار کر ایک طرف پھینک دیا۔۔۔ اور آنکھیں بند کرکے صوفے پر لیٹ گیا۔۔۔۔۔ آج کے مشاعرے میں اس کے کلام کو بے حد سراہا گیا تھا۔۔۔۔ سامعین نے دل کھول کر اس کو داد دی تھی۔۔۔۔ اس کے کانوں میں ابھی تک واہ واہ اور تالیوں کی گونج تھی۔۔۔۔۔۔ وہ خیالوں کے سمندر میں ڈوب گیا۔
میرے بہت سے چاہنے والے ہیں۔۔۔۔ میری آواز اور میرے کلام کے مداح ہیں۔۔۔۔ باہر سے سب کو بہت مطمئن اور خوش نظر آتا ہوں لیکن یہ کوئی نہیں جانتا میں اندر سے کتنا ٹوٹ کر بکھر چکا ہوں۔۔۔۔ مجھے اس مقام تک پہنچانے کا سہرا کس کے سر ہے؟۔۔۔۔۔۔ کس نےمیرے اس کلام کو جلا بخشی؟
بہت جلدی میرے کلام کا شعری مجموعہ منظر عام پر آ جائے گا۔۔۔ لیکن مجھے کوئی خوشی نہیں۔۔۔۔۔ جو دل غم سے بھرا ہو۔۔۔۔ وہاں خوشیوں کا گزر کیوں کر ہوسکتا ہے۔
اچانک زیرلب تمہارا نام آگیا۔۔۔۔ راکھ کے ڈھیر میں دبی ہوئی یادوں کی چنگاریاں پھر سے سلگ اٹھیں۔۔۔۔۔ جنہیں میرے بہتے ہوئے آنسو بھی سرد نہیں کر پا رہے تھے۔۔۔۔ دہکتے ہوئے لمحات نے میری روح پر گہرے داغ چھوڑے ہیں کہ وہ مٹ ہی نہیں پاتے۔
ہم دونوں کی پہلی ملاقات ایک شاپنگ مال ہوئی۔۔۔۔۔۔ بل کے ادائیگی کی لائن میں آخر میں، میں تھا۔۔۔۔ تم نے میری مدد کی۔۔۔۔۔۔ تمہاری خوبصورتی پر میں نے نظر ڈالی۔۔۔۔۔۔ تم حُسن و شباب کی دلکش مورت تھی۔۔۔۔۔۔ میں نے اپنے ذہن کے قرطاس پر بہت سارے شعر لکھ ڈالے اور اتنا محو ہوگیا کہ تم کو تھینکس بھی نہ بول سکا۔
وہ شام بہت ہی سہانی تھی۔۔۔۔۔۔۔ ساری کائنات پر شام کا سرمئی آنچل لہرانے لگا۔۔۔ ہوا میں اس قدر خنکی تھی۔۔۔۔۔۔۔ اتفاق سے تم پر نظر پڑگئی۔۔۔۔ میں نے کس قدر جھجھکتے ہوئے تم سے ٹائم پوچھا۔۔۔۔۔۔ خلافِ توقع تمہارا چہرہ سورج کی کرنوں کی طرح چمکنے لگا۔۔۔۔۔ میری خوشی کی انتہا نہ رہی۔۔۔۔۔ میں نے ہمت کر کے خود ہی اپنا تعارف کرواتے ہوئے کہا….. “ میرا نام علی حیدر ہے…. میں ریڈیو میں اناؤنسر ہوں. “
میں نے دیکھا تمہاری خوبصورت آنکھیں حیرت اور مسرت سے مجھے دیکھ رہی تھی.
سچ…!
کیا آپ ہی علی حیدر ہیں؟
بہت خوشی ہوئی آپ سے مل کر!!! آپ سے ملنے کی بہت حسرت تھی۔۔۔۔ آپ کے پروگرام بہت ہی لاجواب ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔آپ کی گفتگو کا انداز ہمیں بہت ہی پسند ہے۔۔۔۔۔ آج ہم روبرو اپنے من پسند ہیرو کی آواز سن رہے ہیں۔۔۔سچ کہتے ہیں ہمیں بڑی مسرت ہوئی۔
اپنے بارے میں اتنی اچھی باتیں سن کر خود پر فخر سا محسوس ہونے لگا۔ تمہاری باتوں سے لطف اندوز ہوتے ہوئے میں نے کہا۔
کتنا عجیب اتفاق ہے۔۔۔۔ کہ آپ سے پھر ملاقات ہوگی یہ گمان میں بھی نہیں تھا۔
قدر افزائی کا بہت بہت شکریہ!!!!
لیکن آپ کا تعارف؟؟؟؟
ہمیں حنا کہتے ہیں۔۔۔۔ایم اے فائنل کی طالبہ ہیں۔
بہت خوشی ہوئی آپ سے مل کر۔۔۔ میں نے رسمً کہہ دیا۔
ہم ایک دوسرے سے متعارف ہوکر کھو سے گئے۔۔۔۔ اس وقت چونکے جب ہمارے سامنے بس آکر رکی۔۔۔۔ میں نے پرامید نظروں سے تمہاری طرف دیکھتے ہوئے کہا پھر ملاقات کی امید رکھوں؟؟؟؟ اور تم مسکرا کر رہ گئی۔
اس کے بعد ہم اکثر ملتے رہے کبھی رسٹورنٹ۔۔۔۔ کبھی پارک۔۔۔۔۔۔ کبھی شاپنگ مال۔۔۔۔۔ ہم دونوں ہم خیال تھے۔۔۔۔ اس لئے ہماری گفتگو کا موضوع شعر و ادب ہوتا….. تم میرا کلام شوق سے سنتی.
اچانک تم اداس ہو گئی….. اور بہت ہی پیار بھرے انداز میں مجھ سے کہا.
”دیکھئے شاعر صاحب! بھولے سے بھی شراب جیسی تباہ کن چیز کو اشعار کہنے کا ذریعہ نہ بنائیے گا۔ اگر آپ نے کبھی شراب کومنہ لگایا تو ہم آپ سے روٹھ جائیں گے۔”
یہ کہتے ہوئے تمہاری آنکھیں فرط جذبات سے بھیگ گئی تھیں۔ میں نے تمہارے سامنے نہایت معصومانہ انداز میں توبہ کی کہ کبھی شراب کا نام بھی نہیں لوں گا۔۔۔۔ اور تم مسکرا دیں۔
ہمہاری اجنبیت دھیرے دھیرے کم ہوتی گئی۔۔۔۔۔۔ ایک دوسرے سے کافی حد تک بے تکلف ہوگئے۔۔۔۔۔ فاصلے مٹتے گئے۔۔۔۔۔۔ مگر اتنی بے تکلفی کے باوجود بھی ہم دونوں میں سے کسی نے بھی اظہار محبت نہیں کیا۔
کئی مرتبہ میں نے چاہا بھی کے پیار کے خوبصورت احساسات کو الفاظ میں بیان کر دوں۔۔۔۔ لیکن میں نے اپنے اندر اتنی ہمت نہیں پائی۔۔۔۔۔۔ اور نہ ہی تمہاری طرف سے ایسی کوئی بات سامنےآئی۔۔۔۔۔ حالانکہ دلوں کے حال سے ہم دونوں ہی واقف تھے۔۔۔ ” میں نے ایک خط میں اپنے والدین سے تمہارے بارے میں ذکر کیا تھا۔۔۔۔ لیکن مجھے کیا خبر تھی کہ ہماری تمناوں کے پھولوں پر خزاں کا سایہ پڑ جائے گا۔”
جس وقت تم ممبئی کیلئے روانہ ہو رہی تھیں میری آنکھیں اشکبار ہو رہی تھی جیسے دل کے ٹکڑے اشکوں کے سہارے بہہ جانا چاہتے ہوں۔”
اس کے بعد غیر متوقع طور پر میرا ٹرانسفر ہوا ۔۔۔۔۔۔۔ اور پھر تقریبا ایک ماہ کے بعد تمہارا خط تمہاری ایک سہیلی کے ذریعے مجھ تک پہنچا۔۔۔۔۔ لیکن اس وقت تک۔۔۔۔۔ میری دنیا ہی اُجڑ چکی تھی۔
آج۔۔۔۔ پھر ایک بار۔۔۔۔ تمھارا خط مجھے خون کے آنسو رلا رہا ہے۔

ہماری محبت کی آخری منزل۔۔۔۔۔!
آج ہم اپنے دل میں برسوں سے سوئے ہوئے احساسات کو جگانا چاہتے ہیں۔۔۔۔۔۔ ہمارے دل نے چپکے چپکے آپ کی پرستش کی ہے۔۔۔۔ ہم نے آپ کو پانے کے بعد محسوس کیا کہ ہماری سالوں پرانی تلاش اور جستجو کا ثمر ہمیں مل گیا۔
سوچا تھا زندگی کے تپتے ہوئے ریگستان میں تھک کر ایک پرندے کی طرح آپ کے پیار کی گھنی چھاؤں میں زندگی گزاریں گے۔۔۔ لیکن حالات کے ہاتھوں مجبور ہو کر آپ کو بھی کھو دیا۔۔۔۔۔۔۔ اس پانے اور کھو دینے کے نہ ختم ہونے کے سلسلے سے تنگ آ چکے ہیں۔
آپ نے میرے خط کا کوئی جواب نہیں دیا۔۔۔شاید ہم اسی لائق تھے۔۔۔۔۔ جس وقت ہمارے والدین ہماری شادی کی بات کسی اور جگہ پکی کر رہے تھے۔۔۔۔۔ تب ہم نے اپنی شرم و حیا کو بالائے طاق رکھ کر آپ کا ذکر کردیا۔۔۔۔۔۔ گھر میں سب نے مخالفت کی۔۔۔۔۔ ہم نے بھوک ہڑتال بھی کی۔۔۔۔۔۔ آخر آپ کے والدین سے رشتے کی بات کو آگے بڑھانے کے لئے کہا۔۔۔۔۔ لیکن حیدر۔۔۔! ہمارے ارمانوں کا ایک ہی وار میں سر قلم کر دیا گیا۔۔۔۔۔ آپ کے گھر والوں نے انکار کی آہنی دیوار کھڑی کر دی۔۔۔۔۔ اُدھر آپ کی خاموشی نے ہمارا دل چکنا چور کردیا۔۔۔ہم ٹوٹ کر بکھرنے لگے۔
حیدر۔۔۔! عورت کے دل پر ایک بار جو عکس ابھرتا ہے۔۔۔۔ اسی عکس کو اپنے من مندر میں سجا کر آخری سانس تک اسی دیوتا کی پوجا کرتی ہے۔
ہم جتنی بار بھی آپ سے ملے، آپ کے عادات و اخلاق اور بے پناہ خلوص سے متاثر ہوئے۔۔۔۔ دل نے چاہا۔۔۔۔۔ آپ ہی وہ انسان ہیں جس پر ہم اپنا سب کچھ قربان کر دیں۔۔۔۔۔ اس لئے ہم آج سلیپنگ پلس کا سہارا لے رہے ہیں۔۔۔۔۔۔ آپ کے کلام میں اور درد و کرب کی کمی ہے۔۔۔۔۔ ہمارے اس قدم کے بعد شاید وہ کمی بھی پوری ہوجائے گی۔۔۔۔۔۔۔ ہمارے اس درد کی سوغات ضرور رنگ لائے گی۔۔۔۔۔ یقین مانیں آپ کا فن شہرت کی بلندیوں کو چھونے لگے گا۔۔۔۔ اور ہماری روح خوش ہوجائے گی۔
اللہ حافظ
آپ کی حنا
حیدر کے ہاتھ سے خط چھوٹ کر نیچے گرا۔۔۔۔ پہلی بار شراب کے ذریعے اپنے غم کو کم کرنا چاہتا تھا۔لرزتے ہاتھوں سے جام اٹھایا۔۔۔۔ مگر جام فرش پر گر کر چکنا چور ہوگیا۔۔۔۔۔۔ وہ خالی آنکھوں سے شکستہ جام کو تکتا رہ گیا۔

سیدہ تبسم منظور ناڈکر۔ممبئی
نائب ایڈیٹر گوشہ خواتین واطفال اسٹار نیوز ٹو ڈے
ایڈیٹر گوشہ خواتین و اطفال ہندوستان اردو ٹائمز
9870971871

HTML Snippets Powered By : XYZScripts.com