Select your Top Menu from wp menus

نشان ِ منزل خداشناسی، خوداعتمادی اور دکھی عوام سے رابطہ

نشان ِ منزل خداشناسی، خوداعتمادی اور دکھی عوام سے رابطہ

سید منصورآغا، نئی دہلی
مولانا عبدالحمید نعمانی صاحب نے ایک فیس بک پوسٹ میں لکھا ہے: ”ہم جب بھی عملی پہلو کو نظر انداز کریں گے تو فائدے کی امید نہیں کے برابر رہ جائے گی، پارلیمنٹ یا اسمبلی میں مخالفت میں صرف بولنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے، جمہوری نظام میں جب تک دیگر پارٹیوں کے ساتھ متحدہ محاذ بنا کر یا ساتھ ہو کر کام نہیں کریں گے، ملک وملت کے مجموعی فائدے کی بات موہوم ہے، اس سلسلے میں سنجیدہ غور و فکر کی ضرورت ہے، نہ تو سرینڈر اور گریز مسئلے کا حل ہے،نہ جذباتی تقریر و عمل.“
اس پوسٹ پر 14گھنٹے میں 75لائک، 53کمنٹس اور13شیئر آئے۔ ظاہر ہے وہ خوب پڑھے جاتے ہیں۔ انکی پوسٹ مختصرہوتی ہے، مگر اس میں کوئی اہم بات ہوتی ہے۔ زبان میں شائستگی اور انداز بیان میں متانت ہے۔ ان کا مطالعہ مدارس کی نصابی ومعاون کتابوں تک محدود نہیں۔ دیگر مذاہب اور تحریکات، خصوصاً ہندتووا کی تحریک اورتاریخ پر بھی ان کی خوب نظرہے۔
ان کی اس پوسٹ پر جو تبصرے میں پڑھ سکا، ان سے نہیں لگا کہ اس تجویز پر ’سنجیدہ غوروفکر‘ کی ان کی اپیل پرتوجہ دی گئی ہو۔ ہماری دشواری یہ ہے کہ اصولی نکتہ پر بات کرنے کے بجائے دائیں بائیں کی باتوں اور شخصیات پر اتر آتے ہیں اور بدگمانیوں کو گفتگوکا محور بنا لیتے ہیں۔چنانچہ کسی نتیجہ تک نہیں پہنچ پاتے۔
ہم نعمانی صاحب کی تحریر کے دو نکات پرچند معروضات پیش کرنے کی جسارت کررہے ہیں۔ موصوف نے ملت کے مجموعی فائدے کی ایک شرط یہ بتائی ہے کہ’دیگر پارٹیوں کے ساتھ متحدہ محاذ بنا کر یا مل کر کام کیا جائے۔‘اس تجویز کا تجزیہ تاریخ،تجربہ اورموجودہ ماحول کی روشنی میں کیا جانا چاہئے۔ ہمارے سامنے ایک مثال جمعیۃ علماء ہند اورکانگریس کے درمیان قریبی رشتوں کی ہے۔ مولانا نعمانی صاحب خود ایک طویل مدت تک جمعیۃ کے سیکریٹری رہے۔انہوں نے مولانا اسعد صاحب مرحوم کا دوردیکھا۔ ان کی وفات کے بعد مولانا ارشد صاحب اورمفتی سلمان منصور پوری صاحب کا بھی۔ جمعیۃ کی تاریخ، تحریک اورجو تدابیر مختلف مراحل میں اس نے اختیار کیں ان پر ان کی گہری نظرہے۔جمعیۃ کا پرشکوہ ماضی گواہ ہے کہ وہ اپنے قیام (1919) سے تا حال کانگریس کے ساتھ رہی۔قیام کے فوراً بعد خلافت تحریک (1919-24) میں دونوں ساتھ رہے جس کی بدولت کانگریس کومسلمانوں میں رسائی حاصل ہوئی۔آزادی کے بعد جمعیۃ اس کی تائید میں کھڑ ی رہی اورمرکز وریاستوں میں مسلم ووٹ سے کانگریس برسراقتدار آتی رہی۔ ایک مثال 1977 میں مرکز میں پہلی غیرکانگریسی سرکارآنے کے بعدجمعیۃ کی ’ملک و ملت بچاؤ‘ تحریک کی ہے جس سے کانگریس کے پھر اقتدارمیں آنے کی راہ آسان ہوئی۔
اب تو جمعیۃکادائرہ صرف مدرسہ دیوبند کے وابستگان تک رہ گیا ہے۔ قیام کے وقت اس میں تمام مسالک کی نمائندگی تھی۔ تحریک آزادی میں جمعیۃ مسلم لیگ کے خلاف کانگریس کی شریک کاراورموئد رہی۔لیکن ایک مرحلہ وہ آیاجب کانگریس نے فرقہ ورانہ بنیادوطن کی تقسیم کو قبول کرلیا حالانکہ جمعیۃ ’متحدہ قومیت‘ کے اصولی موقف پر سختی سے قائم رہی۔ آج بھی قائم ہے۔ اورمجھے یہ کہنے میں عارنہیں کہ ہندستان کے فرقہ ورانہ مسائل اورملت کی بدحالی کی جڑ میں دوقومی نظریہ کے تحت ملک کی تقسیم اور کانگریس کے ہندواحیاء پرست لیڈروں کے نظریات ہیں۔تحریک آزادی کے دوران کی ایک معرکۃ الارآ یادگارحضرت مولانا حسین احمد مرحوم ومغفو ر کا رسالہ ’قومیت اوروطینت‘ ہے جس میں انہوں نے اس نظریہ کی تائید میں کہ ’قوم اوطان سے تشکیل پاتی ہے،‘ پرزورعلمی دلائل دئے ہیں۔ لیکن ان کی حیات میں ہی آزادی کے چندسال بعد دارلعلوم دیوبند پر پولیس کا چھاپا پڑا اورگہری تلاشی کا المناک واقعہ پیش آیا۔ تمام ترتائید وحمایت کے باوجود اکابرین دیوبند پر یہ بے اعتمادی کیا کہتی ہے؟
مختصراً میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ملک کی سب سے بڑی مسلم نیم سیاسی جماعت کے برسرِ اقتدار پارٹی کے ساتھ غیرمشروط تائید وحمایت کے باوجود مسائل کم نہیں ہوئے اورہمیں اس مقام پر پہنچادیا گیا جس کا آئینہ سچرکمیٹی رپورٹ میں دکھایاگیاہے۔ حالانکہ جمعیۃ نے روکنے ٹوکنے میں کبھی تساہل نہیں برتا۔میں نے فرقہ ورانہ فسادات پر مولانا اسعد صاحب مرحوم کی راجیہ سبھا میں پرسوزتقریریں پڑھی ہیں، جن میں کانگریسی سرکاروں پرسخت پکڑ کی گئی ہے۔ مولانا کانگریس کے ایم پی تھے اوران کی پشت پر پوری جمعیۃ تھی، مگر یہ اتحاد اورتعاون مسلم کش فسادات کا زورکم کرانے میں بے اثر رہا۔ مراداباد، ہاشم پورہ، راؤڑ کیلا، جمشیدپور، بھونڈی اورممبئی سمیت ہزاروں مسلم کش فسادا ت کانگریس کے دور میں ہوئے۔
جمعیۃ اور جماعت اسلامی اپنے بہت سے پروگراموں میں غیرمسلم مذہبی و سیاسی رہنماؤں کو شریک کرتی ہیں۔ لیکن بات آگے نہیں بڑھتی۔جمعیۃ نے ’دلت۔مسلم‘ میل ملاپ کی تدابیر بھی کیں۔مشترکہ وسیع دستر خوان بچھائے۔ یقینا یہ ایک اچھی تدبیرتھی۔مگر مجموعی طور سے بے اثررہی۔ہماری پرانی روش نہیں بدلی۔ وجہ شایدیہ کہ چند سفید پوش لیڈروں کوتو ہم نے اپنے گھرمدعوکرلیا مگرغریب دلتوں کی بستیوں تک نہیں پہنچے۔(شرم کی بات یہ بھی ہے کہ مسلم محنت کش طبقوں کے ساتھ بھی حقارت کی روش برقرار ہے۔)’مسلم دہشت گردی‘ کی رد میں جمعیۃ کی کانفرنسوں کا اثر بیشک محسوس ہوا۔لیکن کیا رائے دہندگان کا رخ بدلا؟ مشاورت بھی ہرالیکشن کے موقع پرمختلف پارٹیوں کے امیدواروں کے حق میں اپیلیں جاری کرتی رہی مگر یاتوپانسہ الٹا پڑتا یا چناؤ جیت کر حمایت یافتہ امیدوار نے آنکھیں پھیرلیں۔ چنانچہ لیڈروں اورپارٹیوں کے ساتھ میل ملاپ اورتائید وتعاون کی تدابیرمسئلہ کا حل نہیں۔ہاں ان سے مدد مل سکتی ہے۔مگرکب؟ یہ آگے آتا ہے۔
ایک توجہ طلب پہلو اس تجویز کی راہ میں عملی دشواریوں کا ہے۔کیا موجودہ ماحول میں کوئی پارٹی ایسی نظر آتی ہے جو آپ کے ساتھ متحدہ محاذ بنانے میں دلچسپی رکھتی ہو اورجس پر اعتماد کیا جاسکے؟ اینمی پراپرٹی بل، تین طلاق بل اوراب کشمیر بل پر ووٹنگ کا رجحان کیا بتایا رہا ہے؟ تمہارے ساتھ کھڑا دکھائی دینا اب ان کوسود مندنظرنہیں آتا۔ حالیہ الیکشن کے بعد مودی جی نے ایک بات کہی تھی جو اتفاق سے سچ ہے۔انہوں نے کہا تھا ’اس الیکشن میں کسی پارٹی نے سیکولرزم کا نام تک نہیں لیا۔‘ یہ مشاہدہ توعام رہا کہ انتخابی مہم میں نام نہاد سیکولرپارٹیوں کے لیڈر بھی بھگوارنگ میں رنگے نظرآئے۔ حتیٰ کہ کئی پارٹیوں نے اپنے بڑے بڑے مسلم لیڈروں کو بھی انتخابی مہم سے دوررکھا۔یہ کیا ظاہر کرتا ہے؟ رائے عامہ کا رجحان کس طرف ہے؟اوراس کوکیسے بدلاجائے؟
محترم نعمانی صاحب نے ایک بات پتہ کی کہی ہے۔ ’مسائل کا حل نہ تو خود سپردگی میں ہے، نہ گریز میں اور،نہ جذباتی تقریر و عمل میں۔‘توپھرکیاجائے کہ بنددروازہ کھلے؟سیدھا جواب ہے۔خداشناسی اورخود اعتمادی کے ساتھ عوام سے راست رابطہ کی راہ اختیارکی جائے۔اوریہ رابطہ سیاسی نہیں غیرسیاسی ہو۔ ایک پتہ کی بات ماہ جون میں حیدرآباد میں منعقدہ ’انڈیا ایجوکیشن کانکلیو‘ میں پروفیسرمحسن عثمانی صاحب نے کہی تھی۔’ہمارے علماء نے مقامی زبانوں میں دین کی دعوت عوام تک پہنچانے کا کام نہیں کیا۔‘ بات درست ہے۔جس طرح مدارس کاقیام عام ہوا، مقامی زبانوں میں دعوت دین کا کام بھی اس کے ساتھ ہوتا تورابطہ کی صورت نکلتی۔اوروہ بھی فی سبیل اللہ۔ مگر مدارس خوداپنی چار دیواری میں بندہیں۔مقامی آبادی سے کوئی رابطہ نہیں۔ بڑی بڑی جماعتوں کا بھی یہی حال ہے۔ ان کی دنیا آس پڑوس کی آبادی سے بالکل الگ تھلگ ہے۔ میرے نزدیک صورتحال کو بدلنے کی راہ مسلکی اختلافات کے باوجود سمائی سے کام لیتے ہوئے غیرمسلم باشندگان وطن کے ساتھ رابطہ مضبوط کرنے سے نکلے گی۔ یہ رابطہ محض زبانی نہیں بلکہ غم گساری اورمعاونت کا ہونا چاہئے۔ اسکی حکمت عملی وہی ہوگی جس کی رہنمائی سیرت رسول ﷺ میں ملتی ہے۔ انسان کو انسان جانو اوردکھی عوام کے غم گساربن جاؤ۔ حضوراکرم ﷺ کا یہ ارشادذہن میں رہیں: ’ہرمسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے اورسارے مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔‘’تم آپس میں ظلم نہ کرنا۔‘ ’اے لوگو تمہارارب ایک ہے اورتمہارا باپ بھی ایک ہے۔ تم سب آدم کی اولاد ہو، اورآدم مٹی سے بنے ہیں۔‘’کسی گورے کو کسی کالے پر، کسی عربی کو غیرعربی پر تقوٰی کے سوا کسی اورسبب فضیلت نہیں۔‘
اورآخری بات یہ ہے، ’تمہارے درمیان دوچیزیں چھوڑے جاتا ہوں۔ اللہ کی کتاب اور اس کے نبی کی سنت۔ اگر ان کو مضبوطی سے پکڑے رہے توگمراہ نہ ہوگے۔‘ پس بلاتفریق مذہب وملت ہرانسان کا احترام بحیثیت انسان اورہرشخص سے ہمدردی رسول ﷺ کی نمایاں سنتوں میں شامل ہیں۔خداشناسی، خوداعتمادی اورخودآگاہی سے ہی بنددروازے کی کنڈی کھلے گی۔
8077982485

HTML Snippets Powered By : XYZScripts.com