Select your Top Menu from wp menus

ہمارامعاشرہ خدمت کی عظمت اورنفرت کی شکس

ہمارامعاشرہ  خدمت کی عظمت اورنفرت کی شکس
سید ہ مہرافشاں
کچھ واقعات ایسے سامنے آجاتے ہیں، جوبہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیتے ہیں۔ ایسا ہی ایک واقعہ حال ہی میرے سامنے اس وقت آیا جب میں اپنی ایک عزیزہ کی مزاج پرسی کیلئے ایک اسپتا ل گئی اوروہاں ایک اجنبی خاتون سے ملاقات ہوگئی جو اسی کمرے میں ایک معمرغیرمسلم خاتون کی تیماردار تھی۔اخلاقاًمیں ان کے پاس بھی گئی۔ ان کی مزاج پرسی کی۔ان کو دلاسہ دلایا کہ جلد ٹھیک ہوجائیں گی۔میں برقعہ پہنتی ہوں۔ سرڈھکا رکھتی ہوں۔ انہوں نے ایک نظر اٹھا کرمیری طرف دیکھا۔ ہاتھ کے اشارے سے جواب بھی دیا۔ میں ان کے چہرے کے تاثرات پڑھنے کی کوشش کرتی رہی۔
میں اپنی جن عزیزہ کودیکھنے گئی تھی انکے یہا ں ولادت ہوئی تھی اور بچہ فوت ہوگیا تھا۔زچہ کو روم میں شفٹ کردیا گیا تھا اوربچے کی میت ورثاء کی سپرد کی جارہی تھی۔ گھرکے لوگ میت کولے کر چلے گئے۔ان کی واپسی تک میں چند گھنٹہ وہیں رکی رہی۔
کچھ دیربعدوہ تیماردارخاتون میرے پاس آکربیٹھ گئیں۔ آہستہ سے سلام کیا، حالانکہ ماتھے پر بندی تھی۔ میں نے جوا ب تو دیدیا مگر حیرت سے انکی طرف دیکھا۔ اس نے سرگوشی میں کہا’باجی میں مسلمان ہوں۔‘ اپنا اچھا سا مسلم نام بھی بتایا۔ اتنے میں ان مریضہ نے زورسے آواز دی،’بیٹی تو کہاں گئی، تونے آج بھی کھانا کھایا یا نہیں؟‘ وہ فوراً اٹھ کران نے پاس گئی اور بولی ’جی ممی جی کھانا کھا لیا۔‘ مریضہ بولیں، ’بیٹا میرے ہاتھ میں درد ہے۔ نرس کو بلاؤ۔‘نرس فورا آگئی۔ انکو خون چڑھایا جارہا تھااور سوئی اپنی جگہ سے ہٹ گئی تھی۔
وہ پھر میرے پاس آکر بیٹھ گئی اور بتایا کہ ایک دن وہ رات کو کھانا نہیں کھا سکی تھی۔ ممی جی کو پتہ چلا توبہت ناراض ہوئیں۔ اس دن سے میرے کھانے کے بڑی فکررکھتی ہیں۔ اس نے بتایاکہ ان کے کولھے کی ہڈی ٹوٹ گئی ہے۔ آپریشن ہوگیا ہے۔ شوگربھی ہے اوربی پی بھی ہے۔کل سے یہ پریشانی ہے کہ خون چڑھنا بار باررک جاتا ہے۔ میں نے پوچھا تواس نے بتایاوہ بیس، پچیس دن سے ان کی دیکھ بھال کررہی ہے۔‘
عورتوں کی ایک صفت یہ ہوتی ہے اجنبی سے بھی اپنا دکھ درد بیان کر دیتی ہیں۔اس نے بتایا، اس کے شوہر کی دوکان ہے۔گزارہ ٹھیک چل رہا تھا کہ انکا ایکسی ڈنٹ ہوگیا۔ سر سے بہت خون گیا تھا۔ چھ ماہ بسترپر رہے۔ آمدنی رک گئی۔ اور علاج پر خرچ بہت ہوا۔اس مجبوری میں میں نے سوچا کہ کچھ میں ہی کروں۔ ہمارے پڑوس میں ایک آفس ہے۔ وہ عارضی کام دلا دیتے ہیں۔ان کا کمیشن ہوتا ہے۔ہیں تو غیرمسلم، مگربھلے آدمی ہیں۔ان کو بھیا جی کہتے ہیں۔ انہوں نے کہاتم مریض عورتوں کی دیکھ بھال کر لوگی؟ میں نے ہاں کر دی۔ تو کہنے لگے مگر نام بدلنا ہوگا۔ میں نے کہا، آئی کارڈ اور آدھا ر میں جو نام ہے، وہی تو بتاؤں گی‘۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ ہمارے اوپر چھوڑ دو۔خیر میں نے ہاں کرلی۔ ایک شام مجھے کال آئی کہ فلاں اسپتال میں رات کو فلاں مریضہ کے پاس رہنا ہے۔ صبح نوبجے واپسی ہو گی۔ میں خوشی خوشی گئی۔ لیکن نہ توانہوں نے نیا نام بتایا اورنہ مجھے پوچھنایاد رہا۔ میں مریضہ کے پاس پہنچی۔ ان کے رشتہ داروں نے مجھے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ نام پوچھا۔ میں نے اپنا اصلی نام ہی بتادیا۔ بسترپر پڑی مریضہ نے نام سنا تو چلا اٹھیں۔ نہیں نہیں، یہ مسلمان ہے، اس کو بھگاؤ۔ رام رام، مجھے نہیں چاہئے کوئی نرس اور میڈ۔ انہوں نے ایک شور برپا کردیا۔رشتہ دار بھی دیکھتے رہ گئے اورمیں کمرے سے نکل آئی۔مجھے بہت تکلیف ہوئی۔ بھیا جی نے کہا واپس آجاؤ۔ اس کے بعد میرا نام ’رانی‘ ہوگیا۔
میں نے پوچھا توبتایا، شوہر اب کچھ کرنے لگے ہیں۔ مگردماغ کمزورہوگیا۔ زیادہ نہیں کرپاتے۔ میں کئی سال سے یہی کام کررہی ہوں۔ کبھی شکایت نہیں آنے دی۔ اس لئے بھیاجی مجھے خالی نہیں بیٹھنے دیتے۔ باجی جیسا مریض ہوتا ہے اسی طرح ایڈجسٹ کرناہوتا ہے تاکہ مریض سکون سے رہے۔ ان ممی جی کوبھی میرانام رانی معلوم ہے۔ ایک دن پوچھا،’بیٹا تیرا آدمی نہیں ہے کیا؟ میں نے کہا ’جی ہے، مگربیمار ہے۔ اسی لئے کام کرتی ہوں۔‘  بولی بیٹا بندی لگایا کر۔ بس باجی میں ان کے پاس آتی ہوں تو بندی لگالیتی ہوں۔تاکہ ان کا ذہن سکون سے رہے۔‘
ہم بات کررہی رہے تھے کہ ایسا واقعہ پیش آیا جو خدمت کی عظمت بتاتا ہے۔وہ مریضہ زورزورسے کچھ بڑ بڑانے لگیں۔ رانی بھاگ کرانکے پاس پہنچی۔ انکے بال درست کرتے ہوئے نرمی سے پوچھا،’ممی جی کیا بات ہے۔‘ ضعیف مریضہ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کہا، ’بیٹا تو مجھ کو چھوڑ کر تو نہیں چلی جائیگی؟ تجھے آنے میں دیر ہوتی ہے تو میرا دل گھبراجاتا ہے۔ تومیرے سر پر ہاتھ رکھ کر قسم کھا کہ تومجھ کو چھوڑ کر نہیں جائے گی۔میرے گھر بھی میرے پاس رہے گی۔ میں تجھ کو پورے پیسے دوں گی۔“ رانی نے جواب دیا، ”جی ممی جی جب تک آپ رکھو گی، آپ کی سیواکروں گی۔“
میں یہ منظردیکھ کرحیران رہ گئی۔ اچھا اخلاق اور خدمت انسان کا دل جیت لیتا ہے۔یہی دوکام ہمارے رسول ﷺ کے کردارکے اہم پہلو ہیں۔ مگر ہم اللہ اوررسولؐ کے نام لیوااس کو بھول گئے۔میں سوچتی رہ گئی۔ اسی دوران میری عزیزہ کے پاس کئی اورلوگ آگئے۔میں اٹھ گئی۔مگراس نے میراہاتھ پکڑ کرکہا،’باجی جب سے میں مریضوں کی خدمت کررہی ہوں، بہت کچھ سیکھا ہے۔ میں غیربن کر آتی ہوں۔ اوراپنا بناکرجاتی ہوں۔ میں اپنی اجرت سے زیادہ مریض کی فکرکرتی ہوں۔ ان کی دعائیں لیتی ہوں۔ دیکھئے ہر طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔ مگرسب کو نبھانا پڑتا ہے۔ اسی لیے ان ممی جی کو مجھ سے اتنا لگاؤ ہوگیا ہے۔ بہت بھروسہ کرتی ہیں۔ ان کی بہو اوربیٹے اچھی پوسٹ پر ہیں۔جب آتے ہیں کچھ نہ کچھ اچھی چیز کھانے کی لاتے ہیں۔مگرممی جی میرے بغیرکوئی چیزاپنے منھ پر نہیں رکھتیں۔‘یہ کہتے کہتے اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ بولی ’میں دن میں گھرچلی جاتی ہوں تودل ان میں ہی پڑا رہتا ہے۔دل چاہتا کہ ساری عمر ان کے پاس گزار دوں۔ بس میرے اوران کی درمیان یہ بندی ہے۔‘
چلتے چلاتے اس نے ایک واقعہ اورسنایا۔ کالونی کے ایک غریب غیرمسلم گھرانے کا ایک لڑکے کا حادثہ ہوگیا۔ مجھے پتہ چلا توآٹولے کرفوراً بھاگی۔ اسکی مدد کرنے والا کوئی نہیں تھا۔بوڑھی ماں بے بسی سے رو رہی تھی۔ میں نے اسے آٹو  میں ڈالا، اس کی ماں کو بٹھایا اورایک اسپتال میں لے گئی۔ وہاں سب مجھ کو جانتے تھے۔فوراً اس کا علاج شروع ہوگیا۔ اللہ نے اس کی جان بچالی۔میرے کہنے سے پیسے بھی بہت کم مانگے گئے۔ اب باجی کالونی میں جدھر سے گزرتی ہوں، غیرمسلم عورت اورمرد سب مجھے عزت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ سب جانتے ہیں کہ میں مسلمان ہوں۔ انسان کو اورکیا چاہئے؟‘
 وہ کچھ اور باتیں کرکے اپنادل ہلکاکرناچاہتی تھی، مگرمیری گاڑی آگئی اور مجھے اٹھنا پڑا۔ میں باربار سوچتی ہوں محسن انسانیت نے جو درس ہم کو دیا تھا کیا ہم اس کو اتنا بھول گئے کہ ہمارے نام کی پہچان خدمت، اخلاص اور اخلاق کے بجائے، جھوٹ، فریب، مکاری، غلاظت اورغلط عادتوں سے ہونے لگی اور ایک خاتون کو دوسروں کی خدمت کیلئے اپنانام چھپانا پڑرہا ہے۔ ایسی خبریں گجرات سے کئی مرتبہ آئیں۔ نام بدلاتوکام ملا۔ نام سناتو سوسائٹی میں رہنے نہیں دیا۔ ایسا کیوں ہورہا ہے؟کیا اس میں کچھ کوتا ہی ہماری نہیں ہے۔ سوچئے کہیں کوئی بھول ہم سے تونہیں ہورہی۔
 ہمارادین ایثار، محبت، خدمت اورقربانی کی تعلیم دیتا ہے جس سے ہم پر غیر بھی بھروسہ اور لگاؤ محسوس کرنے پرمجبورہوجائیں۔ ہمارے سامنے سرکار رحمت اللعالمین ﷺکی سیرت اورتعلیمات ہیں۔ تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملے گی کہ اپنی جان کے دشمنوں کو بھی دعائیں دیں اورجب بدلہ لیا جا سکتا تھا تو سب کو بنا شرط معاف کردیا۔ جس نے راستے میں کانٹے بچھائے، گردن پر اوجھڑی رکھدی، جس نے صحابیہ حضرت سمیہؓ کو بے دردی سے شہید کیا،ان سب سے مخاطب ہوکردریافت فرمایا، اے قریش، کیاخیال ہے، میں تمہارے ساتھ کیسا سلوک کرنے والا ہوں؟اورپھرآپ ؐنے عام معافی کا اعلان کردیا۔ جان کے دشمنوں کو جام حیات دیا۔ سبحان اللہ۔
 ہماری نبی ؐکی شان یہ ہے کہ میدان جنگ سے ایک خاتون’سفانہ‘ جنگی قیدی بنا کرلائی گئیں۔ ان کے سرپردوپٹہ نہ تھا۔ آپؐ نے اپنی چادردی کہ اس کے سرپر ڈال دی جائے۔صحابیؓ نے کہا حضورؐآپ کی چادر اور کافرہ کے سرپر؟ پیارے نبیؐ نے فرمایا، بیٹی تو بیٹی ہوتی ہے۔کسی کی بھی ہو۔‘اپنی چادر سے اس کا سرہی نہیں ڈھکا بلکہ اس کو آزادبھی کردیا۔
اسی انقلابی کردار نے دشمنوں کے دلوں کو مسخر کیااور آج بھی دلوں کو مسخر کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ سچ ہے کہ تلوار سر کاٹ سکتی ہے جبکہ اچھا اخلاق اور کردار دلوں کو جیتتا ہے۔ آج ضرورت ہے اس قندیل کی لو کو تیز کیا جائے۔اپنا ہو یا غیرخوش اخلاقی اور خدمت سے بہت سے کانٹے خودبخود نکل جائیں گے
HTML Snippets Powered By : XYZScripts.com