Select your Top Menu from wp menus

آپنے قائدین پر اعتماد نہ کرنے والے ہم ھندی مسلمان

آپنے قائدین پر اعتماد نہ کرنے والے ہم ھندی مسلمان

*یہ ہیں ہم مسلمان جو ہمارے قائدین ملت ہی کے خلاف فتوے حاصل کرتے ہیں اور مفتیان کرام دارلفتاوہ بھی ایسے جو، بغیر تحقیق کئے پپو طوطے کی طرح ہر کسی کے پوچھے کا رٹا رٹایا جواب دے دیا کرتے ہیں۔اللہ ہی خیر کا معاملہ کرے مسلمانان بند سے*

‏کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام ایسے شخص کے بارے میں جو ایک کافر بادشاہ کو نیک صفت ولی دوست بادشاہ اورنگزیب رحمہ اللہ سے زیادہ اچھا سمجھتا ہو جبکہ اورنگزیب رحمہ اللہ کے نیک صفات کے بارے میں تمام علمائے دیوبند معترف ہیں،
کیا ایسے شخص کو مسلمانوں کی عظیم الشان جماعت کے عہدے پر رہنے کے لائق ہیں؟؟
اور کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام ایسے شخص کے بارے میں جو کہتا ہے کہ ہم نے نظام مصطفیٰ ﷺ کو ریجیکٹ کیا ہے؟؟
امید ہے کہ ایسے شخص کے بارے میں مکمل وضاحت فرمائیں گے
: أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ ۚ أَتُرِيدُونَ أَن تَجْعَلُوا لِلَّهِ عَلَيْكُمْ سُلْطَانًا مُّبِينًا (144)
القول في تأويل قوله : يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَتَّخِذُوا الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ أَتُرِيدُونَ أَنْ تَجْعَلُوا لِلَّهِ عَلَيْكُمْ سُلْطَانًا مُبِينًا (144)
قال أبو جعفر: وهذا نهي من الله عبادَه المؤمنين أن يتخلَّقوا بأخلاق المنافقين، الذين يتخذون الكافرين أولياءَ من دون المؤمنين، فيكونوا مثلهم في ركوب ما نهاهم عنه من موالاة أعدائه.
يقول لهم جل ثناؤه: يا أيها الذين آمنوا بالله ورسوله، لا توالوا الكفَّار فتؤازروهم من دون أهل ملَّتكم ودينكم من المؤمنين، فتكونوا كمن أوجبت له النار من المنافقين. ثم قال جل ثناؤه: متوعدًا من اتخذ منهم الكافرين أولياء من دون المؤمنين، إن هو لم يرتدع عن موالاته، وينـزجر عن مُخَالَّته (31) = أن يلحقه بأهل ولايتهم من المنافقين الذين أمر نبيه صلى الله عليه وسلم بتبشيرهم بأن لهم عذابًا أليمًا=: ” أتريدون “، أيها المتخذون الكافرين أولياء من دون المؤمنين ممن قد آمن بي وبرسولي=” أن تجعلوا لله عليكم سلطانًا مبينًا “، يقول: حجة، (32) باتخاذكم الكافرين أولياء من دون المؤمنين، فتستوجبوا منه ما استوجبه أهلُ النفاق الذين وصف لكم صفتهم، وأخبركم بمحلّهم عنده=” مبينًا “، (33) يعني: يبين عن صحتها وحقيقتها. (34) يقول: لا تعرَّضوا لغضب الله، بإيجابكم الحجة على أنفسكم في تقدمكم على ما نهاكم ربكم من موالاة أعدائه وأهلِ الكفر به.
* * *
وبمثل الذي قلنا في ذلك قال أهل التأويل.
*ذكر من قال ذلك:
10737- حدثنا بشر بن معاذ قال، حدثنا يزيد قال، حدثنا سعيد، عن قتادة: ” يا أيها الذين آمنوا لا تتخذوا الكافرين أولياء من دون المؤمنين أتريدون أن تجعلوا لله عليكم سلطانًا مبينًا “، قال: إن لله السلطان على خلقه، ولكنه يقول: عذرًا مبينًا.
10738- حدثني المثنى قال، حدثنا قبيصة بن عقبة قال، حدثنا سفيان، عن رجل، عن عكرمة قال: ما كان في القرآن من ” سلطان “، فهو حجّة.
10739- حدثني محمد بن عمرو قال، حدثنا أبو عاصم، عن عيسى، عن ابن أبي نجيح، عن مجاهد في قوله: ” سلطانًا مبينًا “، قال: حُجَّة.
10740- حدثني المثنى قال، حدثنا أبو حذيفة قال، حدثنا شبل، عن ابن أبي نجيح، عن مجاهد، مثله. (35)۔

مذکورہ قرآنی آیات اور اسکی تفسیر سے معلوم ہوا مذکورہ سوال میں ایسے شخص یہ عقیدہ رکھنا غلط اور بے بنیاد ہے جسکی شریعت اجازت نہیں دیتی اور ایسے شخص کو مسلمانوں کی جماعت میں رہنے کے لائق نہیں ہے ۔

۲ ۔ اور جو رسول اللہ ﷺ کی نظامت کا منکر ہے ایسا شخص فاسق اور باعث لعنت ہے ایسے شخص پر پکی سچی توبہ لازم ہیں ورنہ ایمان کے جانے کا بھی خطرہ ہے ۔

واللہ اعلم ۔
دارالافتاء۔
دارالعلوم دیوبند

HTML Snippets Powered By : XYZScripts.com