Select your Top Menu from wp menus

مجروح سلطان پوری: پہلا ترقی پسندغزل گو شاعر اور نغمہ نگار

مجروح سلطان پوری: پہلا ترقی پسندغزل گو شاعر اور نغمہ نگار

دہر میں مجروح کوئی جاوداں مضمون کہاں
میں جسے چھوتا گیا وہ جاوداں بنتا گیا
اردو غزل کا دامن وسیع تر کرنے میں اور فنِ غزل گوئی کو نئی جہت دینے میں مجروح سلطان پوری کا نام صفِ اول میں آتا ہے۔ ۵۴۹۱ سے مجروح نے سماجی اور سیاسی مسائل کو غزل میں شامل کیا۔ ترقی پسند تحریک کے علمبردار ہوتے ہوئے انہوں نے دیگر شعراءکی طرح اس صنفِ سخن سے اپنا رشتہ منقطع نہیں کیا بلکہ اس میں زندگی کے مسائل شامل کرکے اور غزل کو جذبات و احساسات کی لڑی میں پرو کر غزل کو نیا رنگ دیا ہے۔ ترقی پسند تحریک نے جب زور پکڑا تو دوسرے شعراءغزل کی صنف کو خیرباد کہتے ہوئے نظم گوئی کی طرف قدم بڑھارہے تھے اور غزل کو فرسودہ روایتی صنفِ سخن قرار دیا۔ مجروح نے غزل کے میدان میں اپنی ہنرمندی دکھائی اور اپنی مہارت سے دوسروں کو بھی متاثر کیا۔ غزل میں سیاسی مضامین شال کر کے اسے نیا موڑ دینے میں مجروح سلطان پوری نے پہل کی۔ مجروح کا شعری سرمایہ کم ہے لیکن انہوں نے غزل کی ہئیت و ماہیت میں خوشگوار تبدیلی پیدا کی۔
۲۵۹۱ میں ان کا شعری مجموعہ ’غزل‘ شائع ہوا اور بعد میں اس کے چھ ایڈیشن شائع ہوتے رہے۔ پہلی اشاعت میں ۲۲ غزلیں ہیں۔انہوں نے غزل کو دلی جذبات، احساسات اور سماجی و سیاسی مسائل کو نئے لفظیات کے ساتھ ساتھ اپنی غزلوںمیں پیش کرکے غزل کو نئی زندگی بخشی۔
مجھے سہل ہوگئیں منزلیں وہ ہوا کے رخ بھی بدل گئے
تیرا ہاتھ ہاتھ میں آگیا کہ چراغ راہ میں جل گئے
ان کا اہم کارنامہ ہے کہ انہوں نے غزل میں ایک دلکش اور منفرد اسلوب کی بنیاد ڈالی۔ وہ خصوصاََ غزل کے شاعر ہیں۔ مجروح نے تقریباََ ۵۵ سالوں تک اپنی غزلوں اور اپنے گیتوں سے اردو شعر و ادب کی خدمت کی۔ مجروح نے جدید غزل کو تمکنت اور وقار بخشا اور ان کے اشعار آج بھی خاص و عام کی زبان پر ہے اور ضرب المثل اور یادگار بن گئے ہیں۔ مجروح نے اپنی دلی کیفیات کو کلاسیکی غزل کے رچے ہوئے انداز میں پیش کیا۔ ان کے قلم میں عشق کی آگ تھی اور زندگی کی الجھنوں سے جوجھنے کی چاہت بھی تھی۔ مجروح نے اردو غزل کو زندگی کے مسائل حل کرنے کا ذریعہ بنا کر اردو غزل کو نیا رنگ و آہنگ بخشا۔ کلام میں احساس کی گہرائی ہے۔
ہم روایات کے منکر نہیں لیکن مجروح
سب کی اور سب سے جدا اپنی ڈگر ہے کہ نہیں
۶۴۹۱ سے ۹۹۹۱ تک مجروح نے فلمی دنیا سے وابستہ ہو کر ہزاروں کی تعداد میں گیت لکھے جن میں زیادہ تر مقبولِ خاص و عام ہوئے۔ فلمی دنیا میں ان کی آمد بڑے ہی شاندار طریقے سے ہوئی۔ ان کا پہلا گیت ’جب دل ہی ٹوٹ گیا، ہم جی کر کیا کریں گے‘ سہگل کا گایا ہوا ہے۔ اپنی پہلی ہی فلم سے مجروح نے فلمی دنیا میں اپنے قدم جمائے۔ انہوں نے فلمی نغموں میں ادبی اقدار کو اہمیت دی۔ ان کے نغموں کی
معرفت اچھی شاعری عوام تک پہنچ پائی۔ انہوں نے نغموں میں گاﺅں کی زندگی اور اس کی تہذیب پر اردو ، ہندی اور بھوجپوتی میں نغمے لکھے۔
ان کا اصل نام اسرار حسن خان تھا۔ ان کے اجداد راجپوت نسل سے تھے۔ والد کا نام محمد حسین خان تھا جو پہلے انگریزی فوج میںملازم تھے اور سارجینٹ کی حیثیت سے سبکدوش ہوئے۔ ان کا آبائی وطن ضلع سلطان پور، یو۔پی تھا جہاں ان کے آباواجداد کی چھوٹی سی زمین داری تھی۔ مجروح کے والد ملازمت کے لئے قصبہ نظام آباد اعظم گڑھ میں قیام پذیر تھے۔ مجروح وہیں عید الفطر کے دن بروز جمعہ ۳۱ اگست ۵۱۹۱ کو پیدا ہوئے۔ مجروح کے بچپن میں خلافت تحریک شباب پر تھی۔ انگریزوں کے اقتدار کے خلاف پورے ملک میں گاندھی جی کی قیادت میں مہم جاری تھی۔ سماجی اور سیاسی انتشار تھا۔ ان کے والد میں وطن کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا تھا۔ ۱۲۹۱ میں خلافت تحریک سے متاثر ہوکر انہوں نے فیصلہ کیا کہ اپنے بیٹے مجروح کو انگریزی تعلیم نہیں دیں گے۔ سات سال تک گھر پر عربی، فارسی اور اردو کی تعلیم حاصل کی۔ مجروح نے ابتدائی تعلیم اعظم گڑھ میں مکمل کی اور مزید تعلیم ٹانڈہ ضلع فیض آباد میں کی۔ وہ مدرسہ کتر العلوم میں داخل ہوگئے جہاں صرف و نحو، فقہ، حدیث اور تفسیر سیکھی۔ الہ آباد یونیورسٹی کے امتحانوں میں مولوی عالم اور مولوی فاضل کے امتحانات میں کامیابی حاصل کی۔ ۳۳۹۱ میں لکھنﺅ میں چوبیس برس کے مجروح نے تکمیل الطب کالج میں داخلہ لیا۔ طب کی سند ٹانڈہ فیض آباد ۸۳۹۱ میں حاصل کی اور اسی سال اپنے آبائی وطن سلطان پور واپس آگئے اور یہاں اپنا مطب قائم کیا۔ مجروح کو شروع سے موسیقی سے دلچسپی تھی۔ لکھنﺅ میوزک کالج میں داخل ہو کر موسیقی کی تعلیم بھی حاصل کی تھی۔ اسی دوران شاعری بھی کی۔ ۰۴۹۱ میں پہلی بار اپنی غزل سلطان پور کے مشاعرے میں سنائی تھی جہاں اس کی بہت پذیرائی ہوئی۔ دوست احباب کی حوصلہ افزائی پر شاعری جاری رکھی۔ ان کی شاعری کے شوق نے انہیں ڈاکٹر سے شاعر بنا دیا۔
ابتداءمیں غزلوں اور نظموں پر مولانا آس لکھنوی سے اصلاح لی تھی۔ جون پور کے مشاعرے میںجگر مراد آبادی سے ملاقات ہوئی۔ مجروح ان کے ساتھ دوچار مہینے رہے اور جگر صاحب کی سرپرستی میںبہت کچھ سیکھا۔ وہ اصغر گوندوی سے بھی متاثر تھے۔ مجروح نے اپنی شاعری کا آغاز اصغر اور جگر کے عاشقانہ انداز سے اپنے کلام میں بھی جمالیاتی کیفیات اپنائے۔ علی گڑھ میں پروفیسر رشید احمد صدیقی کے یہاں دو سالوں تک مہمان بھی رہے۔ ان دنوں ڈاکٹر ذاکر حسین، مولانا حسرت موہانی، ڈاکٹر عابد حسین اور پروفیسر محمد مجیب کی صحبت سے مستفیض ہوئے۔ ان کی اکثر غزلیں علی گڑھ کے زمانہ قیام سے تعلق رکھتی ہےں۔ مجروح نے جب شاعری کا آغاز کیا تو اس وقت ملک کی آزادی کے لئے مسلسل جدوجہد جاری تھی۔ ان کی غزلیں شروع میں رومان پرور تھیں اور ترقی پسند تحریک نے ان میں احتجاجی لہجہ اپنانے پر مجبور کیا۔
جلا کے مشعل جاں ہم جنوں صفات چلے
جو گھر کو آگ لگائے ہمارے ساتھ چلے
ستونِ دار پر رکھتے چلو سروں کے چراغ
جہاں تلک یہ ستم کی سیاہ رات چلے
۵۴۹۱ کے ایک مشاعرے میں فلم ’شاہ جہاں‘ کے گیت لکھنے کے لئے فلم ڈائریکٹر، عبدالرشید کاردار نے ان سے رابطہ قائم کیا۔ اس کے بعد وہ ممبئی آگئے اور فلموں کے لئے گیت لکھنا ان کا مستقل ذریعہ معاش بن گیا۔ مجروح کا شمار فلمی دنیا کے کامیاب اور مشہور نغمہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ ابتداءسے بے شمار کامیاب گیت لکھے۔ فلمی نغموں میں ادبی معیار کو مجروح نے بڑے ہی موثر انداز سے پیش کیا اور ان کو ادبی رنگ دینے اور انہیں مقبولِ عام بنانے میں اہم رول ادا کیا ہے۔ انہوں نے فلموں میں روایتی انداز کی نغمہ نگاری سے ہمیشہ پرہیز کیا۔ ان کے نغموں میں بھی زندگی کی حقیقت نظر آتی ہے۔’پھر وہی دل لایا ہوں’، ’تیسری منزل‘، ’بہاروں کے سپنے‘، ’کارواں‘، ’خاموشی‘، ’اکیلے ہم اکیلے تم‘، ’قیامت سے قیامت تک‘ ایسی فلموں کی مثالیں ہیں جن میں موجود سبھی نغمے فلموں کی کامیابی کے ضامن بن گئے۔ مجروح نے فلم کے نغموں میں اردو الفاظ کی شیرینی اور لطافت کو ایک الگ انداز سے پیش کیا ہے۔ فلمی نغموں میں ہدایت کار، کردار اور کہانی کے مطابق نغمے لکھتے اور ہمیشہ تہذیب کے دائرے میں لکھتے تھے۔
آنکھیں کھلی تھیں، آئے تھے وہ بھی نظر مجھے
پھر کیا ہوا نہیں ہے کچھ اس کی خبر مجھے (فلم ’ساتھی‘ کا نغمہ)
۵۵ سالہ فلمی زندگی میں ۰۵۳ سے زائد فلموں کے لئے تقریباََ۵۲۲۲ کامیاب نغمے لکھے۔ فلم ’دوستی‘ کے نغمے ’چاہوں گا میں تجھے سانجھ سویرے‘ کے لئے فلم فیئر ایوارڈ حاصل کی۔ انہیں دادا صاحب پھالکے ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
مجروح نے وقت کے حساب سے اپنے بول کو بدلا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ ان کے نغموں میں تازگی آگئی۔ سادہ الفاظ سے انہوں نے زمانے کی نبض پکڑی اور پچاس سالوں تک کامیاب گانے لکھتے چلے گئے۔ ان کے نغمے دل کو چھو جاتے اور محبت کی داستان ہوا کرتی تھیں۔
۸۴۹۱ میں ان کی شادی لکھنﺅ کے متوسط گھرانے سے تعلق رکھنے والی فردوس گل سے ہوئی۔ ان کی پانچ اولادیں ہوئیں جن میں تین لڑکیاں اور دولڑکے تھے۔ ان کا حلقہ احباب بہت وسیع تھا۔ وہ ایک کامیاب شاعر اور گیت کار کے علاوہ نیک دل، ہمدرد اور شریف انسان تھے۔ یہ انسان دوستی ان کے کلام میں بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔
یہ محفلِ اہلِ دل ہے یہاں، ہم سب میکش، ہم سب ساقی!
تفریق کریں انسانوں میں اس بزم کا یہ دستور نہیں
جنت بہ نگہ، تسنیم نہ لب، انداز اس کے اے شیخ نہ پوچھ
میں جس سے محبت کرتا ہوں، انسان ہے خیالی حور نہیں
مجروح کی شاعری کلاسکی اور ترقی پسندی کا حسین امتزاج ہے۔ ان کی یہاں کلاسکی غزل کی تمکنت اور آہنگ کی سربلندی پائی جاتی ہے۔ ان کے اشعار میں سماجی حقیقت نگاری موجود ہے۔ مجروح آخری دم تک اشتراکیت اور سوشلزم کے قائل رہے۔ ان کے کلام میں سماج کا درد جھلکتا ہے۔ انہوں نے زندگی کو ایک فلسفی کے نظریے سے دیکھا اور اردو شاعری کو نئی اونچائیاں عطا کیں۔ زندگی کی کشمکش ان کو مضطرب رکھتی۔ ترقی پسند مصنفین کی تحریک سے وابستہ ہونے کے بعد انہوں نے حکومت کے خلاف نطم پڑھنے اور معافی نہ مانگنے کے جرم میں قید و بند کے شکار ہوئے۔
۹۴۹۱ میں قید میں ہونے کے باعث ان کی مالی حالت اتنی خراب ہوئی کہ ان کی حاملہ بیوی کو پرشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ایسے میں بالی ووڈ کے شومین راج کپور نے ان کی مدد کرنی چاہی۔ جب مجروح نے انکار کیا تو ان سے ایک نغمہ لکھنے کی فرمائش کی۔ ’ایک دن بک جائے گا ماتی کے مول‘ نغمہ کے لئے راج کپورنے انہیں ۰۰۰۱ روپے دئے اور ۵۸۹۱ میں اپنی فلم دھرم کرم میں اس گیت کو شامل کیا۔
جیل میں اردو اور فارسی کے قدیم اور کلاسیکی شعراءکا مطالعہ کیا۔ وہ میر تقی میر کے کلام سے بے حد متاثر تھے۔انہوں نے لینین اور مارکس کا بھی مطالعہ کیا۔
مجروح کے اشعار کی رعنائی، حسن ادا اور بانکپن میں ایک کشش ہے۔ فاشسٹ قوتوں کے خلاف انہوں نے مظلوموں کو متحد ہونے کا پیغام دیا۔ ان کے اشعار میں فکر کی وسعت اور جذبے کی گہرائی ہے۔ اس کے باوجود انہوں نے تغزل کا دامن ہمیشہ تھامے رکھا۔ ان کے کلام میں چست بندشوں اور خوش آہنگ ترکیبوں اور اضافتوں کا فنکاری سے استعمال ہوا ہے۔ مجروح نے اپنی شاعری میں ٹھیٹھ روایتی علامتیں استعمال کی ہیں جیسے آبلہ پائی، نقشِ پا، خار، چمن اور جنوں اور اس کے ساتھ ساتھ ترقی پسند علامتیں بھی ہیں جیسے پردار، زنداں، سحر، زنجیر، کلاہ اور مقتل۔
جس طرف بھی چل پڑے ہم آبلہ پایان شوق
خار سے گل اور گل سے گلستاں بنتا گیا
مجروح نے اپنے معاصرین کے مقابلے کم لکھا لیکن بہت مقبول ہوئے۔ ان کے کچھ اشعار زبان زد خاص و عام ہوئے۔ ۰۴۹۱ غزل سے گریز کا دور تھا۔ غزل کو عیش پسندی اور جاگیردارانہ معاشرے کا ترجمان مانا جاتا تھا۔ ترقی پسندوں میں مجروح سلطان پوری واحد شاعر تھے جنہوں نے آخری دم تک غزل کو سینے سے لگایا۔ مجروح کی غزلوں میں لفظیات ور اسلوب کی نئی جہت کا آغاز ہوا۔ سیاسی مضامین کو استعاروں اور کنایوں کی زبان میں پیش کیا۔ ان کے کلام میں حسن و عشق کی حیثیت ثانوی اور ضمنی ہوجاتی ہے۔
کس نے کہا کہ ٹوٹ گیا خنجر فرنگ
سینے پہ زخم نو بھی ہے داغ کہن کے ساتھ
مبصریں اور ناقدیںنے ان کی شاعری کو دو ادوار میں تقسیم کیا ہے۔ ۰۴۹۱ سے ۵۴۹۱ تک جگر کی چھاپ ملتی ہے۔ دوسرے دور میں ترقی پسند غزل گوئی کی طرف راغب ہوئے۔ انہوں نے اپنی منفرد غزل گوئی کے بارے میں خود کہا: ’غزل کے موضوع پر پہلی بار نئے موڑ کا آغاز میری شاعری میں ہوا۔‘
مجروح اپنے اسلوب کے خود موجد تھے۔ ان کے اسلوب میں ان کی انا، بے نیازانہ روش، انحراف اور اجتہادی رویے کو بڑا دخل ہے۔ اس انا میں خلوص و محبت کی جھلک ہے اور اس سے ایک مثبت پہلو نکلتا ہے۔ وہ فطری شاعر ہیں اور ان کے کلام میں توانائی ہے۔ ان کے شعر
میں شخصیت اور کردار ابھرتے ہیں۔ جب وہ مشاعروں میں اپنی غزل سناتے تو سماں بندھ جاتا تھا۔
بہانے اور بھی ہوتے جو زندگی کے لئے
ہم ایک بار تری آرزو بھی کھو دیتے
جدید اردو شاعری میں مجروح کی حیثیت ایک رجحان ساز تخلیق کار کی ہے۔ وہ ترقی پسندوں میں سب سے بڑے غزل گو تسلیم کئے جاتے ہیں۔ ان کے اشعار میں مدھم سروں میں پیام زیرِ لبی ہے۔ علامتی زبان بڑی دلکشی اور معنویت کے ساتھ جلوہ گر ہوتے ہیں۔ مجروح نے ترقی پسند نظریات کو اپنی شرائط پر قبول کیا۔ وہ ایک زبردست فنکار اور جمالیاتی حسن کے مالک ہیں۔ منفرد اور ممتاز تراکیب اور استعارے واقعاتِ کربلا سے حاصل کئے جو ان کی مذہبی حسیت کا ثبوت ہے۔ ان کے کلام میں لذت بخش موسقیت اور ترنم کانوں میں رس گھول دیتا ہے۔
مجھے نہیں کسی اسلوب شاعری کی تلاش
تری نگاہ کا جادو مرے سخن میں رہے
شبِ انتظار کی کشمکش میں نہ پوچھ کیسے سحر ہوئی
کبھی اک چراغ جلا دیا کبھی اک چراغ بجھا دیا
مجروح زبان و بیان کا خاص مذاق رکھتے تھے۔ انہوں نے کم سے کم الفاظ میں زیادہ معانی بیان کر دئے۔ انہوں نے شاعری میں سطحیت کو ہرگز نہیں پسند کیا۔ طبقاتی کشمکش، جاگیردارانہ ذہنیت، تشدد، بربریت، اور خصوصاََ عورتوں پر ظلم و زیادتی کے خلاف ہمیشہ جہاد کیا اور مزدوروں اور کسانوں کو حوصلہ دیا۔ ان کی غزلیں اپنے عہد کے درد و داغ اور سوز و ساز کی موثر ترجمان ہیں۔
ہم کو جنوں کیا سکھلاتے ہو ہم تھے پریشاں تم سے زیادہ
چاک کئے ہیں ہم نے عزیزو چار گریباں تم سے زیادہ
ہم ہیں متاع کوچہ و بازار کی طرح
اٹھتی ہے ہر نگاہ خریدار کی طرح
۱۸ سال کی عمر میں ۴۲ مئی ۰۰۰۲ کو مجروح دارِ فانی سے کوچ کر گئے ۔ اردو ادب کی خدمت کے صلے مین انہیں گراں قدر اقبال سنمان ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ان کے کلام کی آفاقی گونج نے اردو ادب کو نئی جہت بخشی جس کے لئے اردو غزل ان کی مرہونِ منت رہے گی۔
میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر
لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا

حوالہ: مصورِ غزل، مجروح سلطان پوری
مجروح سلطان پوری، شخصیت اور شاعری ڈاکٹر امیر علی
مجروح سلطان پوری کی شاعری کے چند پہلو پروفیسر صاحب علی
مجروح سلطان پوری: غزل کا مسیحا ڈاکٹر قطب سرشار تلنگانہ
تہذیب غزل کا شاعر مجروح سلطان پوری ڈاکٹر زیبا محمود

HTML Snippets Powered By : XYZScripts.com