Select your Top Menu from wp menus

“دیش کے موجودہ حالات اور گاندھی جی کی تعلیمات “

“دیش کے موجودہ حالات اور گاندھی جی کی تعلیمات “
بابائے قوم مہاتما گاندھی کی یومِ پیدائش 2 اکتوبر کے ضمن میں ایک خصوصی پیشکش.

از: محمد عباس دھالیوال
مالیر کوٹلہ ،پنجاب
رابطہ 9855259650
ہندوستان میں بیسویں صدی کے اوائل میں آہنسا کے دم پر جدو جہد آزادی کی لڑائی لڑنے والے ہیروز کی جب بات چلتی ہے تو بابائے قوم مہاتما گاندھی کا نام سر فہرست آتا ہے .
 آج بے شک مہاتما گاندھی کو شہید ہوئے سات دہائیوں سے اوپر ہو چکا ہے اتنا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود مہاتما گاندھی کی شخصیت کی حيرت انگيز مقبوليت ميں اب تک کوئی کمی واقع نہيں ہوئی ہے۔ اس کی تازہ مثال ابھی گزشتہ دنوں امریکہ کے ہیوسٹن میں اس وقت سامنے آئی جب وہاں منعقدہ تقریب “ہوڈی مودی ” شو میں ایک امریکی ڈیموکریٹک رکن نے نریندر مودی کی موجودگی میں اس بات کو فخریہ انداز میں قبول کیا کہ ہندوستان کی آزادی کے بعد شروع شروع میں اس ملک کی جمہوری اقدار کو مضبوط و مستحکم بنانے میں مہاتما گاندھی نے جو خصوصی رول ادا کیا وہ یقیناً قابل تعریف تھا . یہاں قابل ذکر ہے کہ اس سے پہلے بھی دنیا کے عظیم رہنماؤں میں سے جیسے کہ مارٹن لوتھر کنگ، نيلسن مينڈيلا سے لے کر بوراک اوبامہ تک نے مہاتما گاندھی کو اپنے ليے ايک مثالی شخصيت قرار ديتے ہوئے اپنا آئیڈیل تسلیم کیا۔
پورے عالم میں اہنسا کے دوت کے طور پر جانے جاتےمہاتما گاندھی کا دراصل پورا نام موہن داس کرم چند گاندھی تھا ۔آپ 2 اکتوبر کو صوبہ گجرات میں پیدا ہوئے ۔ جب ہم مہاتما گاندھی جی کی زندگی کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمارے مشاہدہ میں یہ بات آتی ہے کہ جنوبی افریقہ میں وکالت کے دوران گاندھی جی نے رہائشی ہندوستانی باشندوں کے شہری حقوق کے سنگھرش کے لیے شہری نافرمانی کا استعمال پہلی بار کیا۔ 1915ء میں ہندوستان واپسی کے بعد، انہوں نے کسانوں اور شہری مزدوردں کے ساتھ بے تحاشہ زمین کی چنگی اور تعصب کے خلاف احتجاج کو بام عروج تک پہنچا یا۔ جبکہ 1921ء میں انڈین نیشنل کانگریس کی قیادت سنبھالنے کے بعد، گاندھی نے ملک سے غربت کم کرنے، خواتین کے حقوق کو بڑھانے، مذہبی اور نسلی خیرسگالی، چھوت چھات کے خاتمہ اور معاشی خود انحصاری کو بڑھانے کی مہم کی قیادت کی۔ انہوں نے بھارت کوغیر ملکی تسلّط سے آزاد کرانے کے لیے سوراج کا پر عزم راستہ اختیار کیا۔اس کے علاوہ گاندھی نے مشہور عدم تعاون تحریک کی قیادت کی۔ اس کے ساتھ ہی 1930ء میں انہوں نے برطانوی حکومت کی طرف سے عائد نمک چنگی کی مخالفت میں 400 کلومیٹر لمبا دانڈی نمک مارچ شروع کیا اس کے بعد 1942ء میں انہوں نے بھارت چھوڑو تحریک کا آغاز کیا۔
آگے چل کر ہندوستان کے سیاسی اور روحانی رہنما اور آزادی کی تحریک کے اہم ترین کردار بنے۔ آپ نے حصول آزادی کے لیے ستیہ گرہ اور عدم تشدد کو اپنا ہتھیار بنایا۔ ستیہ گرہ، ظلم کے خلاف عوامی سطح پر منظم سول نافرمانی تحریک تھی جو عدم تشدد پر مبنی تھی ۔یہی تحریک آگے چل کر ساری دنیا کے لیے حقوق انسانی اور آزادی کی تحاریک کے لیے روح رواں ثابت ہوئی۔
جب انڈین نیشنل کانگریس اور مہاتما گاندھی برطانیہ پر بھارت چھوڑنے کا دباؤ بنا رہے تھے تو 1943ء میں مسلم لیگ ملک کو تقسیم کرنے اور چھوڑ نے کی قرارداد منظور کیا، مانا جاتا ہے کہ گاندھی ملک کو تقسیم کرنے کے مخالف تھے اور مشورہ دیا کہ ایک معاہدہ کے تحت کانگریس اور مسلم لیگ کی تعاون سے ایک عارضی حکومت کے تحت آزادی حاصل کی جائے۔ اس کے بعد تقسیم کے سوال پر مسلم اکثریت کے اضلاع میں ایک رائے شماری کے ذریعے حل ہو سکتا ہے لیکن محمد علی جناح براہ راست کارروائی کے حق میں تھے۔ 16 اگست 1946ء کو گاندھی مشتعل تھے اور فسادات زدہ علاقوں کا دورہ کر قتل عام کو روکنے کی ذاتی طور پر کوشش کی۔ انہوں نے بھارتی ہندو، مسلمان اور مسیحی کی اتحاد کی مضبوط کوشش کی۔ اور ہندو سماج میں “اچھوت” کی آزادی کے لیے جدوجہد کی۔
چنانچہ 14 اور 15 اگست، 1947ء کو برطانوی ہندوستانی سلطنت نے بھارتی آزادی ایکٹ پاس کر دیا، جو قتل عام اور 12.5 لاکھ لوگوں کے منتقلی اور کروڑوں کے نقصان کی گواہ بنی۔ ممتاز نارویجن تاریخ داں جینس اروپ سیپ کے مطابق گاندھی کی تعلیمات، اس کے پیروکاروں کی کوشش اور ان کی اپنی موجودگی تقسیم کے دوران میں نقصانات کو کم تر کرنے میں کامیاب رہی. اس ضمن میں اسٹینلے والپرٹ گاندھی کے کردار اور خیالات کا خلاصہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ
” برطانوی ہند کو باٹنے کا منصوبہ گاندھی کو کبھی منظور نہیں تھا۔ تاہم انہیں احساس ہو چکا تھا کہ اب بہت دیر ہو چکی ہے۔ ان کے ساتھیوں اور حواریوں کو اصول سے زیادہ اقتدار میں دلچسپی ہے، اور وہ اپنے اس بھرم سے گھرے رہے کہ بھارت کی آزادی کی جدوجہد جس کی قیادت انہوں نے کی وہ ایک بے تشدد تھی۔”
30 جنوری 1948ء کو ایک عبادتی خطبے کے لیے جاتے وقت گاندھی کو گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔ قاتل ناتھو رام گوڈسے ہندو مہاسبھا سے وابستہ تھا جو گاندھی کو پاکستان کو ادایئگی کے لیے مجبور کرنے اور کمزور کرنے کے لیے ذمہ دار سمجھتی تھی۔ گوڈسے اور اس کا ساتھی سازش کار نارایئن آپٹے کو عدالتی کارروائی کے بعد مجرم قرار دیا گیا اور 15 نومبر 1949ء کو ان دونوں کو پھانسی دی گئی۔ اس وقت گاندھی کی سمادھی راج گھاٹ نئی دہلی میں واقع ہے۔ جواہر لعل نہرو نے ریڈیو سے قوم کو خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ
” دوستوں اور ساتھیوں روشنی ہماری زندگی سے نکل گئی ہے، اور ہر جگہ تاریکی ہے، اور میں واقعی نہیں جانتا کہ آپ کو کیا بتاؤں اور کس طرح بتاؤں۔ کہ ہمارے محبوب قائد، باپو جیسا کہ ہم انکو کہتے تھے، باباۓ قوم، اب نہیں رہے۔ شاید میں کہتا ہوں کہ میں غلط ہوں، پھر بھی، ہم انہیں پھر نہیں دیکھ سکیں گے جیسا کہ ہم نے ان کو کئی سالوں سے دیکھا ہے، ہم مشورہ کے لیے اس کے پاس نہ جا سکیں گے نا ان سے سکون حاصل کر پائيں گے، اور یہ کہ ایک سخت دھچکا ہے، نہ صرف میرے لیے، لیکن اس ملک کے لاکھوں لاکھ لوگوں کے لیے۔”
مہاتما گاندھی کی تعليمات پر اگر غور کریں تو اس کی تين بنياديں پہلو سامنے آتے ہيں آپ ہمیں ہمیشہ عدم تشدد يا آہنسا کے ساتھ ساتھ سچائی کے راستے پر چلنے کا درس دیتے ہیں اس کے ساتھ ہی انفرادی سياسی حق رائے دہی يا سوراج کا حصول ان کے اہم نصب العین خیال کیے جاتے ہیں.
گاندھی جی امن پسندی اور صلح جوئی کے قائل تھے وہ اس ليے کیونکہ انہوں نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور بدھ مت کی تعليمات کا مطالعہ گہرائی سے کيا تھا۔گاندھی نے اپنے خیالات کا اظہار ايک مرتبہ کچھ اس انداز میں کیا کہ”ميں جو کچھ ديکھتا ہوں وہ يہ ہے کہ زندگی موت کی آغوش ميں، سچائی جھوٹ کے درميان اور روشنی اندھيرے کے بيچ ميں اپنا وجود قائم رکھتی ہے۔ اس سے ميں يہ نتيجہ نکالتا ہوں کہ خدا زندگی، سچائی اور نور ہے اور وہ محبت اور اعلٰی ترين وجود ہے۔”
ایک اور جگہ گاندھی جی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و اسلام کی تعریف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ “مجھےپہلے سے زیادہ اس بات کا یقین ہو چلا ہے کہ اسلام نے تلوار کے زور پر اپنا مقام پیدا نہیں کیا، بلکہ اس کا سبب پیغمبر کا اپنی ذات کو کاملاً فنا کرنا، حد درجہ سادگی، اپنے وعدوں کی انتہائی ذمہ داری سے پابندی، اپنے دوستوں سے انتہائی درجے کی عقیدت، دلیری، بے خوفی، اپنے مشن اور خدا پر پختہ ایمان ہے”. ایک دفعہ زمیندار اخبار میں مہاتما گاندھی کے تعلق سے چھپا تھا کہ گاندھی جی اسلام کے پہلے خلیفہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے طرزِ حکومت سے بے حد متاثر تھے اور وہ ہندوستان کے حکمرانوں کو بھی یہی مشورہ دیتے تھے کہ جہاں تک ہو اہل وطن کے لیڈران بھی مذکورہ بالا خلفا سے حکومت کرنے کی سیکھ حاصل کریں.
دیش میں آج بھی آپ کو احترام سے مہاتما گاندھی اور باپو کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ جبکہ حکومت کی جانب سے آپ کو بابائے قوم(راشٹر پتا) کے لقب سے نوازا گیا ۔ گاندھی کی یوم پیدائش یعنی دو اکتوبر (گاندھی جینتی) کے موقع پر بھارت میں قومی تعطیل ہوتی ہے اس دن ملک کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں یوم عدم تشدد آہنسا کے طور پر منایا جاتاہے.
لیکن افسوس صد افسوس کہ جس گاندھی وادی وچار دھارا کی آج پوری دنیا تعریف کرتے نہیں تھکتی اسی بابائے قوم کی شان میں گستاخیاں کرنا آجکل جیسے فیشن بنتا جا رہا ہے پچھلے کچھ برسوں میں جس طرح کی گستاخیاں گاندھی جی کی شان میں کی سرجد ہو رہی ہیں وہ کسی بھی صورت میں قابلِ قبول نہیں کی جا سکتیں. لیکن یہ کسی المیہ سے کم نہیں کہ کچھ ہی برسوں میں گاندھی کا ہندوستان اس قدر نئی صورتحال اختیار کر گیا محسوس ہو رہا ہے کہ کبھی کوئی عورت گاندھی جی کی فلیکس پر بنی تصویر پر سرعام ریوالور سے گولیاں داغتے ہوئے اپنی ویڈیو بنواتی ہے اور کبھی کسی پارٹی کا کارکن اپنی فیس بک پر پوسٹ ڈالتا ہے آپ ‘ گوڈسے جی ‘ کی پستول کی نیلامی کروا دیجئے پتا چل جائے گا کہ دیش بھگت تھے کہ آتنکوادی! شاید اسی کے چلتے گاندھی جی کی شہادت پر ایک شاعر نے نہایت سخت الفاظ میں کہا تھا کہ…
ذلیل قوم یہ ذلت بھی دیکھ لی تیری
سفینہ توڑ دیا جب تجھے کنارہ ملا…
گاندھی جی یومِ پیدائش پر ہم اہلِ وطن کا یہ فرض بنتا ہے کہ ہم لوگ اپنی روزانہ زندگی میں گاندھی جی کی وچار دھارا کو اپنائیں اور انکی تعلیمات پر پہرہ دیں. اس کے ساتھ ہی ملک میں بسنے والے سبھی ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی ایک دوسرے کے لیے نفرت کی جگہ پیار محبت کے جذبہ کو پروان چڑھانے کا پختہ عزم کریں. یقیناً اگر ہم ایسا کرتے ہیں تو یہ جہاں ہماری طرف سے بابائے قوم مہاتما گاندھی کو پیش کی جانے والی سچی شر دھانجلی ہوگی وہیں یہ جذبہ ملک کی خوشحالی و ترقی میں بھی ایک سنگ میل ثابت ہوگا.

 

HTML Snippets Powered By : XYZScripts.com