Select your Top Menu from wp menus

“زندگی نام ہے مر مر کے جئے جانے کا” کے مصرع کے خالق فانی بدایونی 

“زندگی نام ہے مر مر کے جئے جانے کا” کے مصرع کے خالق فانی بدایونی 
معروف نغمہ نگار فانی بدایونی کی یومِ پیدائش 13 ستمبر کے ضمن میں ایک خصوصی پیشکش
محمد عباس دھالیوال،
مالیر کوٹلہ، پنجاب۔
رابطہ 9855259650
اردو ادب میں خدائے سخن میر کے بعد جس شاعر کے یہاں سب سے زیادہ رنج و الم اور حزن وملال والی شاعری ملتی ہے اس کا نام فانی بدایونی ہے۔فانی بدایونی کا اصل نام شوکت علی تھا اور فانی تخلص۔
فانی 13ستمبر 1879ء کو اتر پردیش کے شہر بدایوں میں پیدا ہوئے۔ آپکے والد محمد شجاعت علی خان پولیس ڈیپارٹمنٹ میں انسپکٹر تھے۔ آپ نے اپنی تعلیم کا آغاز عربی اور فارسی سے کیا۔ اس کے بعد انگریزی پڑھی اور 1901ء میں بریلی سے بی اے کی ڈگری حاصل کی۔جبکہ 1908ء میں علی گڑھ سے ایل ایل بی کا امتحان پاس کیا۔ لیکن وکالت کے پیشہ سے کوئی خاص دلچسپی نہ تھی۔صرف والد کے مجبور کرنے پر وکالت شروع کی اور کچھ عرصہ بریلی اور لکھنؤ میں پریکٹس کرتے رہے۔ لیکن قانون سے لگاؤ نہ ہونے کی وجہ سے بحیثیت وکیل کامیاب وکیل ثابت نہ ہوئے۔
کالج چھوڑنے کے بعد کچھ عرصہ پریشانی کے عالم میں گزارا۔ لیکن شعر و سخن کی دلچسپیاں ان کی تسلی کا ذریعہ بنیں۔
فانی کی مجموعی زندگی رنج و غم اور پریشانی میں گزری۔ زندگی میں اتنی زیادہ آزمائشوں سے دوچار ہوتے ہوئے بھی انھوں نے جس صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا اور جس فراخ دلی و وقار کے ساتھ مصائب کو برداشت کیا وہ انہیں ذات کا حصہ تھا۔
فانی بدایونی کی پریشان حالی سے متاثر ہو کر مہاراجہ حیدرآباد نے انہیں اپنے پاس بلا لیا اور اسٹیٹ سے تنخواہ مقرر کر دی۔ پھر وہ محکمہ تعلیم میں ملازم ہوئے اور ہیڈ ماسٹر مقرر ہوئے ۔
 میر کے بعد فانی ایسے شاعر ہیں جن کے کلام میں حزن و غم یاسیت و نا امیدی کے گھنے بادل چھائے ہوئے ملتے ہیں۔ حالانکہ دونوں الگ الگ دور میں پیدا ہوئے ۔لیکن دونوں شعراء کا موضوع یعنی رنج و غم یاسیت مشترکہ ہے۔ دونوں کے یہاں غمِ زندگی کو پیش کرنے کا انداز دوسرے سے جدا ہے۔جہاں میر کے غم میں ایک کبھی نہ ختم ہونے والی یاسیت و تھکن ہے جس کا دکھڑا وہ اپنی شاعری میں جگہ جگہ بیان کرتے ہیں وہیں فانی نے غم کو اپنی زندگی کا حصہ تسلیم کر تے ہوئےاپنے گلے لگا لیا ہے وہ اس سے فرار اختیار کرنے کے قائل نہیں ہیں ۔بقول غالب۔۔۔
قید حیات و بند غم اصل میں دونوں ایک ہیں
موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں
غالب کے مذکورہ شعر پر عمل کرتے ہوئے گویا فانی نے غم کو زندگی کا ایک اٹوٹ حصہ مان لیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ وہ میر کی مانند اپنی زندگی کے غم کو لیکر گریہ و زاریاں نہیں کرتا بلکہ غم کو ایک عظیم دولت مان کر اس میں لذت محسوس کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ میر کے کلام کا مطالعہ کرتے ہوئے جہاں قارئین کبھی کبھی بوریت و اکتاہٹ محسوس کرنے لگتے ہیں ۔وہیں قارئین فانی کی شاعری پڑھتے ہوئے ایسا قطعاً محسوس نہیں کرتے ،بلکہ اس کے برعکس ایک تسکین و آرام محسوس کرتے ہیں ۔ایک ہی خیال کو پیش کرنے میں میر و فانی کا مختلف انداز بیاں دیکھیں:
میر: ہم نے مر مر کے زندگانی کی
فانی: زندگی نام ہے مرمر کے جیے جانے کا
ایک جگہ فانی کی شاعری کے تعلق سے مجنوں گورکھپوری کہتے ہیں کہ,” فانی کی شاعری کو “موت” کی انجیل کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔”
اسی طرح ایک جگہ معروف نقاد خواجہ احمد فاروقی کہتے ہیں کہ “غم عشق اور غم روزگار نے مل کر دل کو آتش کدہ بنا دیا تھا یہی آگ کے شعلے زبان ِشعر سے نکلے ہیں اُن کی شاعر ی کا عنصر غالب غم و اندوہ ہے لیکن یہ غم روایت نہیں صداقت ہے۔”
موت و حیات کی جس کشمکش میں فانی نے اپنی عمر تمام کی ہے اس تعلق سے مجنوں گورکھپوری لکھتے ہیں کہ “فانی موت اور حیات کے درمیان ہمیشہ ٹھوکر یں کھاتے رہے موت نے جب آنکھیں دکھائیں تو حیا ت کی طرف پلٹے اور جب حیات نے پریشان کیا تو موت کو آواز دی۔” انکی مذکورہ حالت کا اندازہ ان درج ذیل اشعار سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ:
چلے بھی آؤ وہ ہے قبر ِ فانی دیکھتے جاؤ
تم اپنے مرنے والے کی نشانی دیکھتے جاؤ
سنے جاتے نہ تھے تم سے مرے دن رات کے شکوے
کفن سرکائو میری بے زبانی دیکھتے جاؤ
دیکھ فانی وہ تری تدبیر کی میت نہ ہو
اک جنازہ جا رہا ہے دوش پر تقدیر کے
شب فرقت کٹی یا عمر فانی
اجل کے ساتھ آمد ہے سحر کی
چمن سے رخصت فانی قریب ہے شائد
کچھ آج بوئے کفن دامن ِ بہار میں ہے
فانی بدایونی کی تمام عمر میں جو حشر بپا رہا اور اپنی زندگی میں کیسے کسیے حوادث کا سامنا کیا اس کا بیان کچھ اس انداز میں کرتے ہیں کہ:
ہر شام شا م گور ہے ہر صبح صبح حشر
کیا دن دکھائے گردش لیل و نہار نے
ہر گھڑی انقلاب میں گزری
زندگی کس عذاب میں گزری
ہر نفس عمر گزشتہ کی ہے میت فانی
زندگی نام ہے مرمر کے جیے جانے کا
آج روز وصال ِ فانی ہے
موت سے ہو رہے ہیں راز و نیاز
جب دیکھیے جی رہا ہے فانی
اللہ رے اس کی سخت جانی
فانی خدا کی رحمت سے مایوس ہرگز نہیں ہیں لیکن البتہ خدا کی رحمت میں تاخیر کا شکوہ ضرور کرتے ہیں۔چنانچہ ایک جگہ کہتے ہیں کہ
یا رب تیری رحمت سے مایوس نہیں فانی
لیکن تیری رحمت کی تاخیر کو کیا کہئیے
ایک جگہ احباب کے ناصح ہونے پر اپنے دکھ کا اظہار کچھ اس طرح سے کرتے ہیں کہ
آتے ہیں عیادت کو تو کرتے ہیں نصیحت
احباب سے غم خوار ہوا بھی نہیں جاتا
زندگی کو ایک دیوانے کا خواب قرار دیتے ہوئے فانی کہتے ہیں کہ
اک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا
زندگی کاہے کو ہے خواب ہے دیوانے کا
ایک جگہ اپنی خودی سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ
اے بے خودی ٹھہر کہ بہت دن گزر گئے
مجھ کو خیال یار کہیں ڈھو نڈ تا نہ ہو
نہ امیدی اور امید کے تضاد کو ایک جگہ اس طرح بیان کرتے ہیں کہ
نہ امیدی موت سے کہتی ہےاپنا کام کر
آس کہتی ہے ٹھہر خط کا جواب آنے کو ہے
گردشِ دوراں کو رلانے کا خلاصہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ
ہر مصیبت کا دیا ایک تبسم سے جواب
اس طرح گردشِ دوراں کو رلایا میں نے
فانی کے تصور و خیالات کے چند الگ الگ رنگوں کے اشعار ملاحظہ فرمائیں۔
جینے بھی نہیں دیتے مرنے بھی نہیں دیتے
کیا تم نے محبت کی ہر رسم اٹھا ڈالی
یوں نہ قاتل کو جب یقین آیا
ہم نے دل کھول کر دکھائی چوٹ
دنیا میری بلا جانے مہنگی ہے یا سستی ہے
موت ملے تو مفت نہ لوں ہستی کی کیا ہستی ہے
اس درد کا علاج اجل کے سوا بھی ہے
کیوں چارا ساز تجھ کو امید شفاء بھی ہے
موجوں کی سیاست سے مایوس نہ ہو فانی
گرداب کی ہر تہہ میں ساحل نظر آتا ہے
رونے کے بھی آداب ہوا کرتے ہیں فانی
یہ اس کی گلی ہے تیرا غم خانہ نہیں
محبوب کی یاد میں جو ایک ثڑپ ہے اس کا اظہار اپنے منفرد انداز میں اس طرح کرتے ہیں کہ
پھر کسی کی یاد نے تڑپا دیا
پھر کلیجہ تھام کر ہم رہ گئے
فانی جنھوں نے زندگی کے آخری ایام حیدرآباد میں کاٹے جس کے چلتے انھیں اپنے شہر بدایو ں کو چھوڑنے کا شدید غم تھا۔ وہ آخری ایام میں بدایون کو بہت یاد کرتے تھے۔ اس کا اندازہ ان کے ایک خط سے لگایا جا سکتا ہے جو کہ انہوں نے حیدرآباد میں رہتے ہوئے اپنے ایک شاگرد ماہر کو لکھا ، ” ماہر میں چاہتا ہوں کہ کسی طرح بدایون پہنچ جائوں اور وہیں جا کر مر جاؤں۔”
فانی ہم تو جیتے جی و ہ میت ہیں بے گور و کفن
غربت جس کو راس نہ آئی اور وطن بھی چھوٹ گیا
وہ وطن یعنی بدایوں میں واپس آنا چاہتے تھے اس لیے ان کے کچھ اشعار میں “غربت ” کا لفظ آ رہا ہے۔
غربت میں سنگ راہ کچھ آسانیاں بھی تھیں
کھاتی ہے ٹھوکریں میری مشکل جگہ جگہ
فانی کی زندگی کو جب ہم اپنے مطالعہ میں لاتے ہیں تو ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے تمام عمر رنج و غم اور مصیبتوں میں گزاری۔ جس کو بھی انھوں نے دل سے چاہا موت اسے ان سے چھین کر لے گئ۔یعنی ان کے عزیز و اقارب ایک ایک کر کے ان سے بچھڑ تے چلے گئے۔ پہلے والدین انتقال فرما گئے۔اسکے بعد ان کے دوست کشن پرشاد،پھر اس کے بعد فانی کی شریک حیات بھی ان سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رخصت ہو گئیں اور 1933میں انکی جواں سال پیاری بیٹی انتقالِ فرما گئیں۔اتنے جنازے اٹھانے کے بعد وہ خود اپنا درد اپنے شاگرد ماہر کو لکھے خط میں یوں مشترکہ کرتے ہیں کہ
“اس دور میں اتنے جنازے اُٹھائے لگتا ہے کہ جب میں مرجاؤں تو اُٹھانے والا کوئی نہیں ہوگا۔”
فانی اندر بالکل ہی ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہو چکے تھے ۔انسان کے رنج وغم سے ٹوٹنے کا اظہار غالب اپنے ایک شعر میں یوں کرتے ہیں کہ:
دل ہی تو ہے ن سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں
روئیں گے ہم ہزار بار کوئی ہمیں ستائے کیوں
فانی کو موت کا کس قدر بے صبری سے انتظار ہے اور کتنی حسرت ہے انھیں موت سے بغلگیر ہونے کی اس کا اندازہ ان کے ان اشعار سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ:
تو کہاں تھی اے اجل اے نامرادوں کی امید
مرنے والے راہ تیری عمر بھر دیکھاکئے
ظہور جلوہ کو ہے ایک زندگی درکار
کوئی اجل کی طرح دیر آشنا نہ ملا
چمن سے رخصتِ فانی قریب ہے شائد
کچھ اب کے بوئے کفن دامن بہار میں ہے
اردو کا ادب کے یہ عظیم شاعر فانی بدایونی آخر کار 12 اگست 1941ءکو حیدرآباد میں انتقال فرما گئے موت کے وقت اُن کی عمر 62 بر س تھی لیکن جب ہم اُ ن کی شاعر ی پر نظر ڈالتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ فانی بدایونی کی موت تو بہت پہلے واقع ہو چکی تھی۔ یا واقع ہونا شروع ہو چکی تھی۔بس ایک لاش تھی جسے وہ اپنے کاندھوں پر اٹھائے پھر رہے تھے۔اس کا خلاصہ وہ خود ایک جگہ کچھ یوں کرتے ہیں کہ:
فانی کی زندگی بھی کیا زندگی تھی یا رب
موت اور زندگی میں کچھ فرق چاہیے تھا
HTML Snippets Powered By : XYZScripts.com