Select your Top Menu from wp menus

تبصرہ

تبصرہ

تبصرہ
نام کتاب : احساسات
نام مصنف : مصطفی علی سروری
نام مبصر : ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی

حیدرآباد دکن کی اردو صحافت نے عالمی شناخت بنائی ہے۔یہاں کے صحافی اپنی پیشہ وارانہ سرگرمیوں کے علاوہ سماجی سرگرمیوں سے بھی وابستہ ہیں اور ہفتہ وار کالم لکھ کر عہد حاضر کے تقاضوں پر سیر حاصل گفتگو کرتے ہیں۔ حیدرآباد دکن کے ایسے ہی صحافی مصطفی علی سروری ہیں جن کا کالم گزشتہ کئی سال سے روزنامہ سیاست کے اتوار سپلمنٹ میں شائع ہوتا ہے اور عوامی مقبولیت حاصل کرچکا ہے۔صحافتی مضامین لکھنا مصطفی علی سروری کا شوق ہے۔پیشے سے وہ صحافت کے استاد ہیںاور مولانا آزاد اردو یونیورسٹی کے شعبہ ترسیل و صحافت میں اسوسیٹ پروفیسر ہیں۔ سروری صاحب حیدرآباد کی نئی نسل کہ وہ صحافی ہیں جنہیں زمانہ طالب علمی سے ہی اردو صحافت سے دلچسپی رہی ۔ عثمانیہ یونیورسٹی سے بی سی جے ایم سی جے کی تعلیم حاصل کی۔ نامور استاد صحافت رحیم خان صاحب کے شاگرد رہے۔سیاست اخبار نے انہیں اظہار خیال کا موقع فراہم کیا۔ اور ہر اتوار سماجی ©سیاسی اور حالات حاضرہ کے موضوعات پر بے لاگ تبصروں کے ساتھ شائع ہونے والے ان کے مضامین اردو اخبار کے قارئین میں بے حد مقبول ہیں۔ گزشتہ کئی سال سے انہوں نے عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر خون کا عطیہ کیمپ کا کامیابی سے انعقاد عمل میںلایا۔ وہ حیدرآباد کے ٹی ٹی وی خانگی چینل پر مختلف ماہرین سے کیریر گائڈنس لیکچرز اور براہ راست سوال و جواب کے پروگرام منعقد کرتے ہیں۔
”احساسات“ (حصہ دوم“ مصطفی علی سروری کی گیارہویں کتاب ہے۔ جیسا کہ کتاب کے عنوان سے ظاہر ہے اس کتاب میں فاضل مصنف کے ہندوستانی سماج کے مختلف گوشوں پر احساسات و تاثرات ہیں۔اس کتاب کا پیش لفظ مولانا آزاد اردو یونیورسٹی کے سابق پرووائس چانسلر پروفیسر شکیل احمد نے لکھا۔جس میں انہوں نے اس کتاب کے مضامین کی افادیت بیان کرتے ہوئے لکھا کہ” اس کتاب کا ہر مضمون ایک مشن کی نشاندہی کرتا ہے اور امت مسلمہ کو دعوت دیتا ہے کہ وہ اس طرح کی ترغیبی و تحریکی کتابوں کو عام کریں“۔ کتاب میں میری بات کے تحت فاضل مصنف نے لکھا کہ” مسلمانوں میں آج سب سے بڑی ضرورت سوشل سائنس دانوں کی ہے۔۔جن چیالنجس کا آج مسلم قوم سامنا کر رہی ہے ان کا سائنسی انداز میں تجزیہ کرنے اور حل تجویز کرنے کی سمت یہ میری کوشش ہے“۔ پروفیسر شکیل احمد اور مصنف کتاب مصطفی علی سروری صاحب کے بیانات اور ”احساسات“(دوم) میں شامل کل30مضامین کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ فاضل مصنف نے ہندوستان کے مسلمانوں کے سماجی و سیاسی حالات کا گہرائی سے مطالعہ کیا ہے۔

 

آئے دن ہمارے سماج میں پیش آنے والے واقعات جو اخبارات کی سرخیاں بنتے ہیں ان کا گہرائی سے مطالعہ کرتے ہوئے اور تجزیے کے بعد مسئلے کی سنگینی کو بیان کرنے اور اس کا حل پیش کرتے ہوئے مصطفی علی سروری نے کوشش کی ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کی موجودہ سماجی صورتحال اور اس کے حل کے لیے ایک مکالمہ پیش کیا جائے۔مصطفی علی سروری صحافی ہونے اور صحافت کی تدریس کے پیش نظر ہندوستان کی اردو اور انگریزی صحافت پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا پر ان کی گہری نظر ہے۔ اکثر انگریزی اخبارات مسلمانوں کے سماجی مسائل سے متعلق اسٹوری کور کرتے ہیں جو اردو اخبارات تک نہیں پہونچ پاتیں ۔مصطفی علی سروری انہیں بنیاد بنا کر اپنے کالم کا مواد تیار کرتے ہیں اور اسے تجزیاتی انداز میں پیش کرتے ہیں۔ ان مضامین میں ہماری سماجی زندگی کے کئی کردار ہیں جن کی پسماندگی پر مصطفی علی سروری نے سماجی تجزیہ کیا ہے۔کتاب”احساسات“ کا پہلا مضمون” ماں پلیز مجھے پیار سے پڑھاﺅ نا“ ہے جس میں حال ہی میں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک چھوٹی لڑکی حیا ءکا قصہ بیان کیا گیا ہے جو اپنی ماں کے تشدد کا شکار ہوتی ہے۔اس واقعہ کو بنیاد بنا کر انہوں نے مضمون میں دیگر کئی واقعات کے حوالے دئیے جن میں اپنے بچوں سے بہتر تعلیمی نتائج کے لیے والدین کے دباﺅ اور اس کے منفی نتائج کا ذکر کیا گیا ہے۔چنانچہ وہ اس مسئلے کے حل کی جانب بڑھتے ہوئے کہتے ہیں کہ” بچوں پر تعلیم کے لیے والدین کی طرف سے بڑھنے والا دباﺅ ایک سنگین مسئلہ ہے۔اس مسئلہ کو تسلیم کرنا ہی اس کو حل کرنے کی سمت اٹھایا جانے والا صحیح قدم ہوگا۔۔اچھے مارکس کے لیے اچھے رینک کے لیے میرٹ کے لیے اور نتیجہ حسب توقع نہ آنے پر موت کی نیند سوجانا پسند کر رہے ہیں۔یہ لمحہ فکر ہے“۔فاضل مصنف نے تجویز رکھی کے والدین کی جانب سے تعلیم اور بہتر نتائج کے حصول کے جذبے میں شدت نہیں ہونی چاہئے۔حیدرآباد میں کم عمر لڑکیوں کی عرب شیوخ سے بے جوڑ شادی کے مسئلے کو مضمون”غریب مسلمان ہی نہیں اور بھی ہیں لیکن“ میں پیش کیا گیا ہے کہ کس طرح پرانے شہر حیدرآباد میں دولت کے حصول کے لالچ میں لوگ اپنی معصوم بچیوں کو عرب بھیڑیوں کے حوالے کر رہے ہیں اور معصوموں کی زندگی سے کھلواڑ کر رہے ہیں اس مضمون میں انہوں نے کئی واقعات کو بیان کیا جس میں والدین افراد خانہ اور قاضی حضرات ملوث رہے ہیں۔اس مضمون میں انہوں نے ایک جیوتی نامی لڑکی کی کہانی بھی پیش کی جو شادی کے بعد کاروبار کرتے ہوئے عزت سے گھر چلا رہی تھی۔مضمون کے آخر میں وہ کہتے ہیں” غریب مسلمان ہی نہیں ہندو بھی ہیں۔ مگر غریب ہندو تعلیم کو ترجیح دے رہا ہے اور مسلمان بس شادی کی فکر کر رہا ہے۔ خدایا تو ہم سب پر رحم فرما اور ہمیں کامیابی کے راستے پر چلا دے۔“۔مضمون” تو دوست ہے تو نصیحت نہ کر خدا کے لیے“ میں مصطفی علی سروری نے سماج میں خواتین کے کام کرنے اور زندگی کی گاڑی خود چلانے کی مختلف مثالوں کو پیش کیا ہے۔ جس میں انہوں نے موہالی پنجاب میں 52برس کی بیوہ پرمجیت کور کی ٹیکسی بائیک چلانے‘خواتین کا بچوں کو سنبھالتے ہوئے کنڈیکٹر کی نوکری کرنے‘مستان اماں کے پکوان کے ویڈیو یوٹیوب پر ڈال کر پیسے کمانے کی مثالیں واقعات کے ساتھ پیش کرتے ہوئے لکھا کہ سماج میں خواتین روزگار کمانے کے لیے جستجو کر رہی ہیں مسلم خواتین بھی باعزت طریقے سے روزگار کمائیں تو مسلمانوں کی معاشی حالت بہتر ہوسکتی ہے۔مضمون ”عثمانیہ یونیورسٹی کے سوسال“ میں فاضل مصنف نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے لکھا کہ ماضی میںاس یونیورسٹی سے کئی مسلم اساتذہ وابستہ رہے اب یونیورستی کے پندرہ شعبوں میںکوئی بھی مسلم طالب علم نہیں ہے انہوں نے حکومت سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ یونیورسٹی میں تقررات عمل میں لاتے ہوئے یونیورسٹی کے سابقہ معیار کو بحال کریں۔اس طرح کتاب”احساسات“(دوم) کے سارے مضامین مسلمانوں کے سماجی ‘سیاسی‘تعلیمی و معاشی حالات پر غور و فکر کی دعوت دیتے ہیں۔ جیسا کہ کہا گیا کہ ہمیں اپنے لیے سوشل سائنس دانوں کی بھی ضرورت ہے جو سماجی حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے مناسب حل پیش کریں۔ چنانچہ مصطفی علی سروری بھی ایک رضاکارانہ سماجی سائنس دان کی طرح مسلمانوں کے معاشی ‘ملی‘سیاسی‘تعلیمی و اقتصادی حالات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ اس کتاب میں تقابلی انداز اختیار کیا گیا ہے۔ اور مسلمانوں اور دیگر طبقات کا تقابل کرتے ہوئے فاضل مصنف نے لکھا کہ جس طرح ماضی میں مسلمان حکمران تھے اور زندگی کے ہر شعبے میں آگے رہ کر دوسروں کی ترقی کے کام کرتے تھے آج مسلمانوں میں بے کاری‘بے عملی‘اسراف‘ بے دینی اور دیگر سماجی برائیاں پیدا ہونے سے ان کے مسائل میں اضافہ ہوا ہے۔ اس طرح کے مضامین سے اپنے عہد کے سماجی مسائل کو سمجھنے اور ان کے حل میں مدد ملتی ہے۔ واقعات کا سہارا لے کر اپنی بات کو دلائل سے پیش کرنا مضمون نگار کی اہم خصوصیت ہے۔ چنانچہ یہ کتاب تحقیقاتی صحافت کی بھی ایک اچھی مثال ہے۔ کتاب کا اسلوب رواں اور دلچسپ ہے اور قاری کو مکمل مضمون پڑھنے کے لے راغب کرتا ہے۔ فاضل مصنف مبارکباد کے لائق ہیں کہ وہ ہر ہفتہ اپنے کالم کے ذریعے ہندوستانی مسلمان اور ہمارے عہد کے مسائل کو سنجیدگی سے اجاگر کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں اس طرح کے مضامین کو سوشل میڈیا پر بھی پیش کرنے کی ضرورت ہے جس کا سلسلہ اب مصطفی علی سروری نے شروع کیا ہے۔میری تجویز ہے کہ سوشل میڈیا کے ایک بلاگ پر یہ سارے مضامین پیش ہوں تاکہ مستقبل میں بھی لوگ مطالعہ کرسکیں۔کتاب”احساسات“(دوم) ایجوکیشنل بک ہاﺅز نئی دہلی سے شائع ہوئی ہے۔حیدرآباد کے علاوہ ہندوستان کے اہم شہروں اور پاکستان میں بھی یہ کتاب دستیاب ہے۔مصنف سے رابطہ کرتے ہوئے یہ کتاب حاصل کی جاسکتی ہے۔

HTML Snippets Powered By : XYZScripts.com