Select your Top Menu from wp menus

سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ہم

سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ہم

ریاض فردوسی۔9968012976
ذرا بڑھ کوئی حسینؓ کو آواز دے دیتا
نہیں گونجا فضا میں نعرہ ¿اللہ ہو برسوں سے
خاندان ِعلی ؓاور موت ایسا ہو نہیں سکتا
آتی ہے نیند انہیں آغوشِ خنجر میں

ایک معصوم و مظلوم شخص بستر مرگ پر ہے،عروس موت اپنے آغوش میں لے کر حیاتِ ابدی کا زندہ وجاوید دلہا بنانے کے لئے بیتاب ہے۔رمضان المبارک کا مہینہ ہے۔ظالم نے خنجر اتنے زور سے مارا ہے کہ سر مبارک سے مسلسل خون بہ رہا ہے۔ڈارھی مبارک خون سے تر ہے۔اس سے چہرے مبارک کی خوبصورتی اور بھی بڑھ گئی ہے۔ایسے عالم میں جہاں عام آدمی درد سے چیختا ہے ،وہی اس مقدس ہستی کے چہرے پر مسکراہٹ ہے۔لیکن زخموں سے چورہوکر بھی اس مقدس ہستی کو اپنے رسولﷺ کے دین کی فکر ہے۔اپنے بیٹوں کو بلاکر یوں نصیحت فرمائی۔دنیا کے پیچھے ہرگز نہ لگنا خواہ دنیا تم سے بغاوت ہی کیوں نہ کر دے۔ جو چیز تمہیں نہ ملے، اس پر رونا نہیں۔ ہمیشہ حق بات کہنا، یتیموں سے شفقت کرنا، پریشان کی مدد کرنا، آخرت کی تیاری میں مصروف رہنا، ہمیشہ ظالم کے دشمن اور مظلوم کے حامی رہنا اور کتاب اللہ کے احکامات پر عمل کرتے رہنا۔ اللہ کے دین کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے مت گھبرانا۔ صرف اسلام ہی کی حالت میں جان دینا۔ تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔میرے بیٹوں جو وعدہ میںنے اپنے نبی ﷺ سے کیا تھا اس کی ہمیشہ پاسداری کرتے رہنا۔میرے بیٹوں جب دعوت ذوالعشیرہ کے دن اللہ کے رسول ﷺ نے تمام عزیز واقربا کو اسلام کی دعوت دی تو کسی نے بھی پیغمبر کی ہاں میں ہاں نہ ملائی لیکن میں نے کہا اے اللہ کے رسول ﷺ اس راہ میں میں آپ ﷺ کا یار اور مددگار ہوں گا،اور میرے بیٹوں میں نے اس فرض کو بخوبی ادا کیا ۔تم لوگ بھی میرے اس وعدے کی پاسداری کرتے رہنا۔ایسا کوئی عمل نہ کرنا کہ کل قیامت میں اللہ اور رسول ﷺ کے سامنے مجھے شرمندہ ہونا پڑے۔ےہ مو لیٰ علی کرم اللہ وجہ کی ذات مبارکہ ہے،ان کی وصیت پر ان کے مقدس فرزندوں نے بخوبی عمل کیا ۔بڑ ے فرزند سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ نے اپنے جان کی قربانی دے کر مسلمانوں کے درمیان خون ریزی نہ ہونے دیا۔دوسرے فرزند نے اپنے مقدس والد کے وعدے کی پاسداری کاحق ادا کرتے ہوئے اپنے پورے خاندان کو سوائے ایک بیمار کے اللہ کے دین کے لئے قربان کر دیا۔
رسول اللہ ﷺ نے امام حسینؓ کے متعلق فرمایا ہے ”حسینؓ میں میری سخاوت اور میری جراَت ہے”
آپؓ کا لقب ابوالمساکین تھا۔امام حسینؓ عصمت و طہارت کا مجسمہ تھے-ایک مرتبہ امام حسینؓ نے امیر معاویہ کو ایک سخت خط لکھا جس میں اس کے اعمال و افعال اور سیاسی حرکات پر نکتہ چینی کی تھی اس خط کو پڑھ کر امیر معاویہ کو بڑی تکلیف محسوس ہوئی- پاس بیٹھنے والے خوشامدیوں نے کہا کہ آپ بھی اتنا ہی سخت خط لکھیے- امیر معاویہ نے کہا ”میں جو کچھ لکھوں گا وہ اگر غلط ہو تو اس سے کوئی نتیجہ نہیں اور اگر صحیح لکھنا چاہوں تو بخدا حسینؓ میں مجھے ڈھونڈنے سے کوئی عیب نہیں ملتا”-
نیلسن منڈیلا نے کہا تھا کہ، میں نے بیس سال جیل میں گزارے ہیں، ایک رات میں نے فیصلہ کیا کہ تمام شرائط پر دستخط کرکے رہائی پالینی چاہیے لیکن پھر مجھے امام حسینؑ اور واقعہ کربلا یاد آگیا اور مجھے اپنے اسٹینڈ پر کھڑا رہنے کے لیے پھر سے تقویت مل گئی۔
انٹرفیتھ گروپ کی ایکٹیوسٹ و ریسرچر ڈائنا ملز نے کہا ہے کہ امام حسینؑ نوع انسان کے لیے رول ماڈل ہیں، میرے لیے امام حسینؑ کئی جہتوں سے مسیح علیہ السلام کے متوازی نظر آتے ہیں، خدا کے حکم پر پورا اترنے کی خاطر انہوں نے بھی ہر چیز کو بالائے طاق رکھ دیا تھا، امام حسینؑ کی یہ بات مجھے بہت بیحد پسند ہے کہ تم میری جان تو لے سکتے ہو لیکن میرا ایمان نہیں لے سکتے(You can take my body but you can’t take my faith)۔ (یوٹیوب، ایمبیسڈر آف فیتھس، 10 اکتوبر 2016)
چلی کے مصنف و ناولسٹ رابرٹ بولانو نے کہا ہے کہ امام حسین کو شہید کرنا بنو امیہ کی سب سے بڑی سیاسی غلطی تھی جو ان کی ہر چیز کو نظرانداز کرنے پہ مجبور کرگئی بلکہ ان کے نام و نشان اور ہر چیز پر پانی پھیر گئی(Roberto Bolano Avalos 1953–2003)
معروف برطانوی ادیبہ فریا اسٹارک کئی کتابوں کی مصنف ہے، فریا نے 1934 میں عراق کے بارے میں ایک سفر نامہ the valley of assassin بھی لکھا ہے، فریا کہتی ہے کہ امام حسینؑ نے جہاں خیمہ لگائے وہاں دشمنوں نے ان کا محاصرہ کر لیا اور پانی بند کر دیا، یہ کہانی آج بھی اتنی ہی دلگیر ہے جتنی 1275 سال پہلے تھی، میرا کہنا ہے آپ کربلا کی سرزمین کا سفر کرنے سے اس وقت تک کوئی نفع حاصل نہیں کرسکتے جب تک کہ آپ کو اس کہانی کا پتا نہ ہو، یہ ان چند کہانیوں میں سے ایک ہے جسے میں روئے بغیر کبھی نہ پڑھ سکی، فریا سٹارک (Freya Stark 1893–1993)
مشہور انگریزی ناولسٹ چارلس ڈکنز نے کہا تھا اگر امام حسینؓ کی جنگ مال ومتاع اور اقتدار کے لیے تھی تو پھر میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ خواتین اور بچے ان کے ساتھ کیوں گئے تھے، بلاشبہ وہ ایک مقصد کے لیے ہی کھرے تھے اور ان کی قربانی خالصتاً اسلام کے لیے تھی، چارلس کا دور تھا(Charles John Huffam Dickens 1812–1870)
کیمبرج یونیورسٹی میں عربی کے پروفیسر ایڈورڈ جی برا¶ن کے حوالے سے“لٹریری ہسٹری آف پرشیا”میں لکھا ہے، کربلا کا خون آلود میدان یاد دلاتا ہے کہ وہاں خدا کے پیغمبر ﷺ کا نواسہ اس حال میں شہید کیا گیا کہ بھوک و پیاس کا عالم تھا اور اس کے ارد گرد لواحقین کی لاشیں بکھری پڑی تھیں، یہ بات گہرے جذبات اور دلدوز صدمے کی باعث ہے جہاں درد، خطرہ اور موت تینوں چیزیں ایک ساتھ رونما ہو رہی ہوں۔ (Literary History of Persia by Edward Granville Brown, 1862–1926)
چیسٹر کے ادبی اسکالر رینالڈنکلسن نے تاریخ اسلام، مولانا رومیؒ اور علی ہجویریؒ پر بھی کام کیا ہے، ان کے حوالے سے“لٹریری ہسٹری آف عرب”میں ہے جس طرح امام حسینؑ کے ساتھی ان کے ارد گرد کٹ گئے بلاخر امام حسین بھی شہید ہو گئے، یہ بنو امیہ کا وہ تلخ کردار ہے جس پر مسلمانوں کی تاریخ امام حسینؑ کو شہید اور یزید کو ان کا قاتل گردانتی ہے۔ (Reynold Alleyne Nicholson 1868–1945)
تھامس کارلائل نے کہا کہ واقعہ کربلا نے حق و باطل کے معاملے میں عددی برتری کی اہمیت کو ختم کر دیا ہے۔ معرکہ کربلا کا اہم ترین درس یہ ہے کہ امام حسینؓ اور ان کے رفقا خدا کے سچے پیروکار تھے، قلیل ہونے کے باوجود حسینؑ کی فتح مجھے متاثر کرتی ہے۔ (Thomas Carlyle 1795–1881)
ابن خلدون نے لکھتا ہے کہ ظالم اور ستمگروں سے لڑنے کے لیے عادل امام کا ہونا شرط ہے اورسیدنا امام حسینؑ اپنے زمانے کے عادل ترین فرد تھے اور اس جنگ کرنے کے حق دار تھے۔(ابن خلدون، تاریخ ابن خلدون، دار احیاءالتراث العربی، ج1، ص217)
عباس محمود عقاد اپنی کتاب ابوالشہدائ، الحسین بن علی میں لکھتا ہے: یزید کے دور میں حالات اس نہج پر پہنچے تھے کہ شہادت کے علاوہ اس کا کوئی علاج نہیں تھا۔(عقاد، ابوالشہدائ، 1429ق، ص207)
امام حسین کے اقوال۔۔۔۔۔۔۔
اگر تمہارا کوئی دین نہیں اور قیامت سے نہیں ڈرتے ہو تو اس دنیا میں کم از کم آزاد رہو۔
لوگ دنیا کے غلام ہیں اور اپنی دنیاوی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے اپنی زبانوں پر دین کا ورد کرتے رہتے ہیں. اور جب آزمائش میں ڈالے جائیں تو دیندار لوگ بہت کم ہوں گے.
لوگوں کی تم سے احتیاجات اللہ کی تم پر نعمت ہیں؛ نعمتوں سے تھکن اور مغموم مت ہونا کہیں وہ بلا میں تبدیل نہ ہوجائے۔
ذلت کی زندگی سے عزت کی موت بہتر ہے۔
میں ظلم اور فساد پھیلانے کے لیے نہیں بلکہ اپنے نانا کی امت کی اصلاح کے لیے قیام کرچکا ہوں؛ میں امر بمعروف اور نہی عن المنکر کرنا چاہتا ہوں۔
آج امت مسلمہ ایک بہت بڑے امتحان سے گزر رہی ہے۔اس امتحان میں کامیابی دلوانے کے لیے امت مسلمہ کا ہر فرد سیدنا امام حسین علیہ السلام کا کردار اپنا کر مسلم ہونے کا فرض اداکرسکتاہے۔تب اسے نہ کوئی دشمن ڈرا سکتا ہے،نہ اس کو فکری طورپر لایعنی چیزوں میں مشغول کرے کوئی اس کے ہدف سے بھٹکاسکتاہے۔جس دن امت مسلمہ کے ہرنوجوان نے یہ عہد کرلیاکہ سیدنا حسین کی سنت پر عمل کرنا ہے اسی دن امت مسلمہ اپنے عرو ج کی طرف رواں دواں ہوجائے گی۔ سیدنا امام حسین علیہ السلام نے دین حق کیلئے جانوں کی قربانیاں دے کر قیامت تک کیلئے ظالموں کا سر نیچا کر دیا۔ واقعہ کربلا کو ہم اپنے مطالعہ کا حصہ بنائیں اور سیدنا امام حسین علیہ السلام کی پاک زندگی کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالنے کی کوشش کریں۔ شہادت ایک عظیم رتبہ اور اللہ کی عظیم نعمت ہے۔ شہادت کا مقام اللہ اپنے خاص بندوں کو عطا کرتا ہے۔حقیقت میں میدان کربلا میں جیت تو یزیدی لشکر کی ہوئی تھی جب کہ ہار اور شہادت سیدنا امام حسین ؓ اور ان کے جان نثار ساتھیوں کے حصے میں آئی تھی۔ لیکن حق یہ ہے کہ حسین ہار کر بھی جیت گئے، ان کی شہادت رہتی دنیا تک کے لیے عزم و استقلال کی علامت بن کر آج تمام انسانوں کے لئے اتباع اور ہمت ہے۔مشہور مصنف گبن لکھتا ہے۔
ترجمہ: اس طرح زمانے کے پارسا ترین انسانوں میں سے ایک کا خاتمہ ہو گیا اور اس کے ساتھ اس کے خاندان کے تمام مرد بھی ختم ہو گئے سوائے امام زین العابدین علی بن حسین (جو بیماری کی وجہ سے جنگ میں شرکت نہ کر سکے)
یزید نے امام حسین کے سر کو اپنے سامنے طشت پر رکھ کر ان کے دندان مبارک کو چھڑی سے چھیڑتے ہوئے اپنے کچھ اشعار پڑھے ۔ جن کا ترجمہ کچھ یوں ہے۔””کاش آج اس مجلس میں بدر میں مرنے والے میرے بزرگ (جو کفار کی طرف سے تھے) اور قبیلہ خزرج کی مصیبتوں کے شاہد، موجود ہوتے تو خوشی سے اچھل پڑتے اور کہتے: شاباش اے یزید تیرا ہاتھ شل نہ ہو، ہم نے ان کے بزرگوں کو قتل کیا اور بدر کا انتقام لے لیا، بنی ہاشم سلطنت سے کھیل رہے تھے اور نہ آسمان سے کوئی وحی نازل ہوئی نہ کوئی فرشتہ آیا ہے“
اس شعر کو سن کر اور یزید کا فخریہ انداز دیکھ کر دربار میں موجود ایک یہودی سفیر نے کہا کہ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اولاد سے ہوں۔ میرے اور ان کے درمیان میں ستر پشتیں گزر چکی ہیں مگر اس کے باوجود یہودی میری بے حد عزت و تکریم کرتے ہیں اور ایک تم ہو کہ تم نے اپنے نبی کے نواسے کو شہید کر دیا ہے اور اب اس پر فخر بھی کر رہے ہو۔ یہ تمہارے لیے ڈوب مرنے کا مقام ہے.(دمع السجوم ص 252۔خصائص الکبریٰ،الصواعق المحرقہ)
کربلہ کی روانگی سے ایک روز پہلے امام حسین علیہ السلام نے مکہ مکرمہ کے لوگوں سے خطاب کیا اور کہا کہ موت برحق ہے اسی طرح جس طرح نوعمر بچیوں کے گلے کے نیکلیس۔میں اپنے بچوں سے اسی طرح محبت کرتا ہوں جس طرح حضرت یعقوب ؑ کی محبت حضرت یوسف ؑ سے تھی۔جو کوئی بھی اپنا خون ہمارے لئے وقف کرنا چاہتا ہے اور اللہ سے ملنا چاہتا ہے اسے ہمارے ساتھ ضرور جانا چاہیئے- بہت کم لوگ آپ کے ساتھ جانے کے لئے تیار ہوئے۔آج بھی وقت کے یزید کے خلاف بہت ہی کم لوگ سنت شبیری ادا کرتے ہیں۔
اوریہودی اورعیسائی آپ سے ہرگزراضی نہیں ہوں گے یہاں تک کہ آپ ان کی ملت کی پیروی کریں۔ آپ کہہ دیں کہ یقینا(حقیقی)ہدایت تواللہ تعالیٰ کی ہدایت ہے اور یقیناًاگر اس علم کے بعدجوآپ کے پاس آچکا،آپ نے ان کی خواہشات کی پیروی کی تواللہ تعالیٰ سے (بچانے میں)نہ آپ کاکوئی دوست ہوگااورنہ کوئی مددگار۔(سورہ البقرہ۔آیت۔120)
دین حق کا باطل سے سمجھوتہ جرم عظیم ہے آیت بالا کا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ تجھ سے ہرگز راضی نہیں ہوں گے لہذا تو بھی انہیں چھوڑ اور رب کی رضا کے پیچھے لگ جا تو نے انہیں دعوت رسالت پہنچا دیں۔ دین حق وہی ہے جو اللہ نے تجھے دیا ہے تو اس پر جم جا۔ حدیث شریف میں ہے میری امت کی ایک جماعت حق پر جم کر دوسروں کے مقابلہ میں رہے گی اور غلبہ کے ساتھ رہے گی یہاں تک کہ قیامت قائم ہو جائے۔(او کما قال صل اللہ علیہ وسلم) ان لوگوں کی ناراضی کا سبب یہ تو ہے نہیں کہ وہ سچے طالبِ حق ہیں اور تم نے ان کے سامنے حق کو واضح کر نے میں کچھ کمی کی ہے۔ وہ تو اس لیے تم سے ناراض ہیں کہ تم نے اللہ کی آیات اور اس کے دین کے ساتھ وہ منافقانہ اور بازی گرانہ طرزِ عمل کیوں اختیار نہ کیا، خدا پرستی کے پردے میں وہ خود پرستی کیوں نہ کی، دین کے اصول و احکام کو اپنے تخیلات یا اپنی خواہشات کے مطابق ڈھالنے میں اس دیدہ دلیری سے کیوں نہ کام لیا، وہ ریاکاری اور گندم نمائی و جو فروشی کیوں نہ کی، جو خود ان کا اپنا شیوہ ہے۔ لہٰذا انہیں راضی کرنے کی فکر چھوڑ دو، کیونکہ جب تک تم ان کے سے رنگ ڈھنگ نہ اختیار کر لو، دین کے ساتھ وہی معاملہ نہ کرنے لگو، جو خود یہ کرتے ہیں، اور عقائد و اعمال کی اُنہیں گمراہیوں میں مُبتلا نہ ہو جا¶، جن میں یہ مبتلا ہیں، اس وقت تک ان کا تم سے راضی ہونا محال ہے۔
اوراگرحق ان کی خواہشات کے پیچھے چلتا توآسمان اور زمین اور جوکچھ ان میں ہے،سب میں فسادبرپاہوجاتابلکہ ہم ان کے پاس ان ہی کی نصیحت لائے ہیں تو وہ اپنی نصیحت سے ہی منہ موڑنے والے ہیں۔(سورہ المومنون۔آیت۔۔71)
حق عوام کے تابع ہو جائے خواہ وہ اکثریت میں ہی ہوں، اکثریت کی خواہشات کے مطابق آئین اور قانون بننے لگیں تو سارا نظام درہم برہم ہو جائے گا۔حقیقت بہرحال حقیقت ہی رہتی ہے خواہ وہ کسی کو پسند ہو یا ناپسند۔

HTML Snippets Powered By : XYZScripts.com