Select your Top Menu from wp menus

عنوان:کراچی کی سرکاری زمینوں کا دشمن کون؟!!

عنوان:کراچی کی سرکاری زمینوں کا دشمن کون؟!!
کالم نگار: جاوید صدیقی
بیدار ہونے تک
قبل عید الفطر کے بعد دوبارہ ایک طویل عرصہ بعد ایک بار پھر کالم تحریر کررہا ہوں، گزشتہ دو ماہ قبل روڈ ایکسیڈینٹ اور طبیعت کی گرانی کے سبب لکھنے سے قاصر رہا ہوں میری پیارے مخلص دوستوں ، معزز قارئین کی دعاؤں کے سبب لکھنے کی طاقت پیدا ہوئی ہے اللہ آپ کی دعاؤں کا یہ سلسلہ ہمیشہ جاری و ساری رکھے آمین۔۔معزز قارئین !! آج کا کالم میں اپنے دوست کے بھیجے ہوئے مواد پر تحریر کررہا ہوں، نام نہاد جمہوری سیاسی جماعتوں نے جس قدر اس وطن عزیز پاکستان کوتار تار کیا ہے وہ انشا اللہ تعالیٰ ضرور بلضرور روز قیات میں لعنت کا طول پہنے ہوئے ہونگے اور ذلیل و رسوائی ان کا مقدر ہوگی، یوں تو پاکستان کی کسی بھی سیاسی جماعت نے کرپشن ، لوٹ مار، بدعنوانی میں اپنا پنا بھرپور کردار ادا کیا ہے وہیں پاکستان پیپلز پارٹی ہو یا ایم کیو ایم اور ایم کیو ایم حقیقی ان سب کے پس پردہ معاملات اب عوام سے ڈھکے چھپے نہیں۔۔معزز قارئین!! مجھے جو میرے دوست نے شہزاد احمد عرف شہزاد بہاری کے بارے میں اہم تحریر بھیجی جو آپ کی نظر پیش کررہا ہوں ۔۔’’خالد یوسفی سسٹم “کا اہم کردار کون؟؟ آفاق احمد، عامر خان، وسیم باغات،اور منظور کاکا سیٹ اپ کا سہارا لیکر “کروڑوں روپے” کمانے والا کون؟؟“شہزاد بہاری “ بدمعاش ، ڈکیت، قاتل، اور اب سرکاری لینڈ گربیر تمام تفصیل درج زیل ہےشہزاد احمد عرف شہزاد بہارییہ کورنگی “کے ایریا “ کے ایک غریب گھرانے میں اپنی نانی کے پاس رہتا تھابچپن سے غنڈا گردی اور بدمعاشی کے شوق کے بعد  1994 میں’’حقیقی‘‘ میں شامل ہوگیاہاتھ میں ہتھیار آیا تو شروع شروع میں موٹر سائیکلیں چھیننا شروع کیںپھر مال کی لالچ میں شہر میں ڈکیتیاں اور اغواء برائے تاوان کی وارداتوں میں ملوث ہوگیاحقیقی میں پارٹی فنڈ جمع کرنے کے نام پر کورنگی انڈسٹریل زون کی تمام فیکٹریوں سے ہفتہ اور ماہانہ لاکھوں روپے بھتہ وصول کرنے لگادہشت گردی نیٹ ورک کے کارندے شہزاد بہاری کو حقیقی دور میں بلدیہ شرقی ( موجودہ ڈی ایم سی ایسٹ میں) جعلی تعلیمی اسناد پر ملازم رکھوادیا گیا اس وقت کے میونسپل کمشنر’’بلال منظر عرف غدار‘‘ نے اس کو بھرتی کیاحقیقی دہشت گرد شہزاد بہاری ایم کیو ایم کے ایم پی اے محمد حسین کے بھائی کو قتل کرنے اور سرکاری آفیسر جمیل بلوچ کو اغواء کے مقدمے میں پانچ سال جیل بھی کاٹ چکا ہےضمانت پر رہائی کے بعد جب شہزاد بہاری واپس باہر آیا تو حقیقی پر زوال آچکا تھاپھر شہزاد بہاری نے ہاتھ پائوں چلا کر’’وسیم باغات‘‘ جو بدین لوکل گورنمنٹ میں ایک اہم عہدے پر تھا اور ماضی میں حقیقی میں فعال تھااس کے زریعے ٹھٹھہ میونسپل آفس میں اکائونٹ سیکشن میں اپنی پوسٹنگ کروائی شہزاد بہاری نے اس پوسٹنگ پر  بوگھس فائلیں اور جعلی بلنگ کے تحت دباکر’’مال‘‘ کمایامتحدہ کے کراچی پر راج کے سبب شہزاد بہاری کو اپنی جان کے لالے پڑے تھےکورنگی میں متحدہ کارکنان شہزاد بہاری کی تلاش میں تھےخیر حقیقی میں آفاق احمد اور
۲
 عامر خان گروپ بن گئےعامر خان نے متحدہ میں شامل ہونے کا اشارہ دے دیااس کے بعد شہزاد بہاری نے فوری عامر خان گروپ کو جوائن کرکے آفاق احمد کے خلاف زہر اگلنا شروع کردیا حقیقی تقسیم کے دوران شہزاد بہاری نے آفاق احمد گروپ کے سوہنی پپی کے بھائی کو حیدر آباد میں قتل کروا دیا عامر خان سال دو ہزار گیارہ میں ہاتھ جوڑ کر معافی مانگنے جب لال قلعہ گرائونڈ نائن زیرو پہنچے تو شہزاد بہاری بھی ساتھ تھامعافی قبول ہوجانے کے بعد شہزاد بہاری متحدہ کورنگی یونٹ کا کارکن بن گیامتحدہ میں شمولیت کے بعد شہزاد بہاری نے بہت کوشش کی ،کسی طرح کراچی کے کسی ٹائون یا سوک سینٹر میں کے ایم سی یا کے ڈی اے میں کوئی پوسٹ مل جائےایڈمنسٹرز کا دورآچکا تھا متحدہ کا اثر رسوخ زیادہ نہیں تھاشہزاد بہاری کو متحدہ کے پلیٹ فارم سے کوئی خاص ردعمل نہیں ملاشہزاد بہاری عامر خان کے رویئے سے بھی مایوس تھامال کمانے کیلئے بے چین شہزاد بہاری کا اس ہی دوران منظور کاکا سیٹ اپ کے’’ناصر چنگاری‘‘ جو منصور چاچا لائزایریا کا قریبی عزیز تھا اس سے رابطہ ہوااس کے بعد ٹھٹھہ سے شہزاد بہاری کی پوسٹنگ کے ڈی اے سرجانی آفس کروائی گئی شہزاد بہاری کو ٹارگٹ دیا گیا کہ وہ منظور کاکا سیٹ اپ کی پالیسی کے تحت کام کرے گاچائنا کٹنگ ، زمینوں پر قبضے ، ایس ٹی پلاٹس کی الاٹمنٹ میں ردوبدل ، تجارتی پلاٹس کو جعلی فائلیں بناکر فروخت کرنا شامل ہےسب دو نمبر اور غیر قانونی کام کریگا اس فارمولے کے تحت خود بھی کمائیں اور کاکا سیٹ اپ کو بھی کماکر دے گاشہزاد بہاری منظور کاکا کے دور میں دو تین سال کے ڈی اے سرجانی آفس کا کنگ بنا رہااس دوران اس نے تقریباً پچاس کروڑ روپے سے زائد کی رقم کمائی شہزاد بہاری نے سرجانی آمدنی سے محمد علی سوسائٹی میں تقریباً اٹھارہ کروڑ روپے مالیت کا گھر خریدا بحریہ ٹائون کراچی میں چار چار سو گز کے دو پلاٹس اپنے سالے کے نام پر خریدے جرمنی میں پرفیوم کی شاپ خریدی اور وہاں کاروبار سیٹ کیابنگلہ دیش جہاں شہزاد بہاری کی اصل فیملی موجود ہے وہاں زمین خرید ی منظور کاکا پر زوال اور سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ جو ملازم جس محکمے کا ہے وہ واپس اپنے بنیادی محکمے میں چلا جائےجس کے بعد شہزاد بہاری کو بھی کے ڈی اے سے واپس ڈی ایم سی بھیج دیا گیاشہزاد بہاری نے مال کمانے کیلئے اب تک آفاق احمد ، عامر خان، وسیم باغات، منظور کاکا، کا سہارا لیا ہےشہزاد بہاری نے کچھ ہفتے قبل معروف لینڈ گربیڑ ’’خالد یوسفی ‘‘ سسٹم کو جوائن کیا ہےزبیر عرف ڈی سی کےذریعے خالد یوسفی سسٹم کا حصہ بننے والے شہزاد بہاری نے کورنگی کے ایریا پانچ نمبر کے فٹ بال گرائونڈ پر قبضہ کرواکے چار دیواری لگوادی ہےجعلی کاغذات پر گرائونڈ ہتھیانے والے خالد یوسفی نے شہزاد بہاری کو سرجانی ٹائون کے ڈی اے آفس میں تعینات کروانے کاوعدہ کیا ہےشہزاد بہاری سرجانی ٹائون میں ڈیڑھ ارب روپے کی سرکاری زمین کو ٹھکانے لگانے کیلئے بے تاب ہے تاہم میڈیا پر خبر نشر ہونے کے بعد شہزاد بہاری کی پوسٹنگ میں رکاوٹ آگئی ہےاعلیٰ عدلیہ اور ریاستی اداروں کو چاہیے کہ وہ بدنام زمانہ دہشت گرد اور لینڈ مافیا سرغنہ شہزاد بہاری کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کریںاگر شہزاد بہاری جیسے عناصر سرکاری اداروں میں غیر قانونی کام کرتے رہے تو آنے والے دنوں میں ’’سوک سینٹر‘‘ کا بھی سودا ہوسکتا ہے۔۔۔معزز قارئین!!سپریم کورٹ نے غیر قانونی ،چائنا کٹنگ اور لینڈ مافیا کے خلاف احکامات جاری کیئے تھے جس پر لوکل گورنمنٹ اور سندھ گورنمنٹ نے تمام احکامات ہوا میں اڑادیئے چند ایک علاقوں میں نمائشی انداز میں ایکشن دکھائے پھر انہیں علاقوں میں دوبارہ ناجائز امور کو خود ہی پروان چڑھایا البتہ اس بار رشوت اور بھتہ کی رقم میں اضافہ کردیا گیا، آج کراچی کو کوڑے کرکٹ ، گندگی و غلاظت میں اس قدر الجھادیا کہ کسی کو فکر نہیں کہ لینڈ مافیا کی جانب توجہ دے سکیں ، کراچی آج بھی مافیا کے زیر طابع ہے یہاں نہ قانون کی پاسداری ہے اور نہ ہی عدالتوں کا وقار، یہ مافیا سپریم کورٹ سمیت تمام جوڈیشل کو اپنے پاؤں کی جوتی سمجھتے ہیں اور یہ اس لیئے ہورہا ہے کہ سندھ کے تمام لوکل اور سندھ حکومت کے تمام نوکرشاہی طبقے اس مافیا کا سب سے بڑا حصہ دار بننے ہوئے ہیں، دوسری جانب سندھ کی
۳
 اپوزیشن بھی اب منہ میں زیرہ لیکر خاموش ہوگئی ہے ، پی ٹی آئی کے منتخب ممبران نے بھی بہت مایوس کیا ہے،اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا کراچی ماضی کی طرح بے بسی کی تصویر بنا رہے گااسی بابت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ پاکستان بلخصوص سندھ حکومت کا یہی نظام جاری رہا تو شہزاد احمد عرف شہزاد بہاری جیسے بے شمار لوگ قومی خذانے کو لوٹتے رہیں گے ، مفکر و دانشوروں نے شکایت کی ہے کہ پاکستان کی بقا اب اسی مین ہے کہ یہاں کا نظام ہی بدل دیا جائے اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ کا نظام ریاست رائج ناگریز ہوچکا ہے ان کے مطابق جب یورپ اور دیگر غیر مسلم ممالک نے اسلامی قوانین کو اپناکر ترقی اور امن کو حاصل کیا تو پاکستان کیونکر نہیں کرسکتا ، جب سزا و جزا کا طریقہ کار سخت ترین ہوگا ،تفریق کا عمل ختم ہوجائیگا، عدل و انصاف یکساں ہوگا تو یقیناً برائی کا خاتمہ بھی یقینی ہوجائیگا ۔ اللہ ہمارے اداروں میں کالی بھیڑوں سے جان چھڑائے اور ہم سب کو ایمانداری، سچائی اور ضلوص سے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثما آمین ۔!!
نیوز پروڈیوسر، اے آر وائی نیوز، کراچی
HTML Snippets Powered By : XYZScripts.com