Select your Top Menu from wp menus

سنگھیوں کے بھگوان کی حقیقت

سنگھیوں کے بھگوان کی حقیقت

 

نقاش نائطی
+966504960485

*مہینوں ہفتوں انتظار بعد، گھر گھر دکان در دکان جاکر، چندہ مانگ کر ، کئی کاریگروں کے تعاون اور پوری طرح دیکھ بھال کرتے ہوئے، ایک بہت ہی بڑی خوبصورت سی، گنیش جی کی مورتی،بڑے ہی جاہ و اکرام سے، علاقے کے نوجوان، گانے باجے ڈھول تپھاڑے کے ساتھ، محلہ کی ایک سڑک کے ایک شاندار عارضی بنائے پنڈال میں لاکر رکھ دیتے ہیں ۔ جہاں نو دن تک نہ صرف پورے علاقہ کے نوجوان بچے بوڑھے مرد و ناری، پوری آستھا کے ساتھ گنیش جی کی پوجا ارچنا کرتے ہیں، منتیں کامنائیں طلب کرتے ہیں، پرساد چڑھاتے ہیں ،مٹھائیاں بانٹنے ہیں ،اور آستھا میں ڈوبے ساز و ترنگ پر خوب ناچتے،خوب مستیاں کرتے ہیں ، اور سال بھر کے لئے، اپنے لئے، اپنی اولاد کے لئے، اچھی نوکری، اچھی معاشی حالت، اپنی بچیوں کے لئے مناسب رشتہ داریاں، بیماریوں کے لئےتندرستی، گنیش جی سے مانگتے رہے۔بالآخر دسویں دن پوری آستھا کے ساتھ، اگلے برس جلدی آنا، ہم پر کرم آشیرواد برسائے رکھنا، اپنے آستھا والے گیت گاتے،گنیش جی کا، وسرجن کرنے یا الوداع کہنے، ناچتے گاتے سمندر کنارے پہنچ جاتے ہیں، جس گنیش جی کو ہم انسانوں نے، اپنے ہاتھوں سے پوت پوت کر بنایا تھا، اچھے رنگ و روغن سے اسے سجایا تھا، اچھے ابھوش سے اسے سنوارا تھا۔دس روز تک دن رات، نہ صرف گنیش جی کی سیوا کی تھی بلکہ اسکے شردھالوؤں کی بھی شربت مٹھائی پانی سے سیواکر کے، جس بھگوان گنیش کی اپاسنا کی تھی،وسرجن استھل پر اسی بھگوان گنیش کی ہوئی درگت دیکھ کر، آنکھوں میں آنسو بھر آئے ہیں، کیا یہ وہی بھگوان گنیش جی ہیں، جس سے کروڑوں دیش واسی آستھا رکھتے ہیں۔اپنی خوشحالی کی بھیک مانگتے ہیں، اپنے بچوں کے مستقبل کو شاندار بنانے کی دعائیں مانگتے ہیں،اسی بھگوان کی یہ درگت، وہ بھی ہم جیسے گنیش بھگتوں کے ہاتھوں، ہم انسان اپنے ہاتھوں سے ایسا کیسے کرسکتے ہیں؟ کل تک آسمان کی بلندیوں کو چھوتی،گورتہ پوروک، پورے دس دن تک، سر راہ ہزاروں بھگتوں کی منوکامنائیں پورا کرتی، بھگوان گنیش کی پرتیما کو، انسانوں کے ہاتھوں بنے،کیٹرپلر لوڈر سے، بڑی ہی بے دردی کے ساتھ، نہ صرف زمین بوس کیا جاتا ہے، بلکہ اسے ٹرک میں لوڈ کرکے کچرے کی طرح دریا میں بہا کر،بربادکیا جاتا ہے۔بالکل ایسے جیسے نیکی کر دریا میں ڈال کی عمدہ مثال ہے*

*بھگوان ایشور اللہ نے ہزاروں سال قبل سے، وقت وقت سے، دنیا کے کونے کونے میں بسنے والے ہم انسانوں کی رہنمائی کے لئے، اپنے دودھ، رشی منی، رسول اور نبی بھیجتے رہے ہیں۔ اس دھرتی کے سب سے پہلے رشی منی یا نبی، بابائے انسانیت حضرت آدم علیہ السلام تھے تو ہزاروں سال قبل بھارت و آس پاس رہنے والی ہندو قوم کی رہنمائی کے لئے، رشی منی، منو(حضرت نوح) کو بھیجا گیا تھا، یورپ امریکہ آسٹریلیااسرائیل واسیوں کے لئے،حضرت موسی و عیسی علیہ السلام کے علاوہ کئی ایک نبی رسول یا رشی منی بھیجے گئےتھے۔اور دیگر مذاہب کی آسمانی کتابوں میں، بھگوان ایشور اللہ کی طرف سے قبل از وقت بتائے گئے فیصلے کے تحت،عرب کھاڑی میں، اپنے آخری دودھ، آخری رشی منی حضرت محمدﷺ کا نزول کیا تھا اور اس دھرتی کے خاتمہ تک، اور آنے والی نسل انسانیت تک، بھگوان ایشور اللہ کے دین اسلام کو پہنچانے کی ذمہ داری، ہم مسلمانوں پر عائد کی تھیں،لیکن یہ ہم مسلمانوں کی کوتاہی غفلت ہی ہے،جو ہم دیگر بگڑے یا زمانے کے تپھیڑوں سے بدلے ہوئے مذاہب کے ماننے والوں تک، ایشور اللہ کے پیغام کو پہنچانے کے بجائے، چوبیس ساعت، ہمہ وقت ساتھ رہنے والے، ہندو بھائیوں کے عبادات کے مثل، شرک و وبدعات کا،اپنے ہی دین اسلام میں اضافہ کر، اپنے میں مست پڑے ہوئے ہیں۔*

*ہندستان میں ہزاروں سال سے، سکھ شانتی سے رہتے آئی، یہ سناتن دھرمی، منو وادی ہندو قوم، دھرم کے معاملے میں، بڑی ہی، دھرم پر آستھا، یقین رکھنے والی مذہبی قوم ہے. سناتن دھرم یعنی سدا سے یا صدیوں سے(حضرت آدم علیہ السلام کا) سیدھا چلا آرہا دھرم اور منو وادی یعنی رشی منی، منو (حضرت نوح) کا لایادھرم ،اصل ہندو قوم،سناتن دھرم اور منو وادی دھرم کے ماننے والی قوم ہے۔ یہ قوم اپنے پاس موجود رگ وید، اتھر وید جیسے، مختلف وید کو، ادھی گرنتھ یا ادھی گیان کے طور سے جانتی اور مانتی آئی ہے اور پران، اپینیشد، براہان، آرٹیک جیسی مذہبی کتب کو، مختلف عہدوں، مختلف ادوار میں، انسانوں کے کئے ویدوں کے ترجمے تصور کرتی ہے۔ قرآن میں جہاں آسمانی کتب، زبور، انجیل، تورات، کے ساتھ ہی ساتھ؛ صحف اولی اور زبرالاولین کا تذکرہ بھی آیا ہے۔صحف الاولی سب سے پہلے آئے صحیفے (آسمانی کتب) اور زبرالاولین بکھرے ہوئے اوراق ،کیا یہ وہی ہندو بھائیوں کے، ادھی گرنتھ و ادھی گیان مختلف وید تو نہیں ہیں؟ اس پر ہندو گیانی پنڈتوں کے ساتھ ہی ساتھ،قرآن پر عبور رکھنے والے علماء و صلحاء کی یہ ذمہ داری ہے کہ ہم قرآن کی روشنی میں، ان صحف اولی اور زبرالاولین یا ادھی گرنتھ یا ادھی گیان کے ایک ہونے کو ثابت کرتے ہوئے،صدیوں سے ساتھ رہتے آئے، اپنے ہم وطن بھائیوں کو، ان کے اپنے زمانہ قدیم سے چلے آرہے، اصلی ایشور کے دین سے متعارف کروائیں۔ہم مسلمین کا اس سمت سکوت اور اپنے ہندو بھائیوں کو ان کے حقیقی دین ایشور سے دوبارہ متعارف کرانے میں ہم سے ہوئی کوتاہی پر، کل پرلوک میں محشر کے روز، اللہ رب العزت، ہم سے سوال کریں گے تو ہم اس وقت کیا جواب دے پائیں گے؟ یہ ہمیں سوچنا اور اس کی تیاری کرنا ہے۔ اس سمت شری گنگا پرساد اپادھیائے کی مصابیح الاسلام کتاب، جس میں تمام وید منتروں کے ترجمے موجود ہیں۔ ہماری مدد کرسکتے ہیں*

*یہ کائینات ابھی ناتمام ہے شاید*
*کہ آئی ہے دمادم صدائے کن فیکون*

*یہ شہادت گہ الفت میں قدم رکھنا ہے*
*لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلمان ہونا*

*آزادی ھند پر ابھی ستر بہتر سال بھی پورے نہیں ہوئے ، نہ صرف ہندستانی سیکیولرزم کی پری بھاشا بدلی جارہی ہے، بلکہ ہندو دھرم کی ہزاروں سالہ آستھا، بندگی اور بھائی چارگی کے معنی تک بدل کر، ہندو یواوؤں میں مسلمانوں، دلتوں کے تئیں نفرت بھری جارہی ہے۔ہندو دھرم تو ہزاروں سال پرانا مذہب ہے۔ جس منو کے مذہب کی پوجا آستھا،ہندو بھائیوں میں صدیوں سے چلی آرہی ہے، انہی ہندوؤں کو،منو کی اصلیت سے ونچت یا انجان رکھا گیا ہے۔ ہزاروں سالہ مختلف وید کیسے پورے کے پورے محفوظ رہ سکتے ہیں؟جو کچھ ہندو مذھبی کتابیں، رگ وید، اتھر وید، وغیرھم، اب تک محفوظ ہیں، ہندوؤں کے علاوہ مسیحی، یہودی اور اسلام مذہب کی آسمانی کتابوں سے،ان ہندو مذہبی کتابوں کا تقابل کریں اور ان تمام مذہبی کتابوں کے مشترکہ اقدار ہی کو اکٹھا کر کے سب کے، آسمانی پرماتما(اللہ) ایشور، اللہ کی ہدایات پر، عمل پیرا ہوجائیں تو ایک حد تک آپسی مذہبی منافرت ہم انسانوں کے مابین ختم ہوسکتی ہے۔ہندو مذہب کے ماننے والے تمام گیانی گرو ،ہندو دھرم کے منو کو بھگوان نہیں بلکہ ایشور کی طرف سے دھرتی پر بھیجے گئے، رشی منی کے طور جانتے اور مانتے ہیں۔اور رشی منی، منو کے زمانے میں، دھرتی پر ایک ایسے پرلئے یا سیلاب آنے کے بارے میں بھی جانتے ہیں جس میں منو کے،سہیوگیوں کےعلاوہ، سب کے ختم ہونے پر یقین بھی رکھتے ہیں۔ یہی تو مسلمانوں کے دھارمک کتاب قرآن میں، ان کے ایشور اللہ کی طرف سے دنیا میں بھیجے گئے رسول(رشی منی) حضرت نوح علیہ السلام اور انکے کاریہ کال میں، پوری دھرتی کو پانی میں ڈبونے،یعنی بہت بڑے سیلاب کے بارے میں کہا گیا ہے۔ اس کا کیا مطلب ہے؟ کیا ہندوؤں کے رشی منی، منو اور مسلمانوں کے رسول حضرت نوح علیہ السلام، دونوں ایک ہی شخصیت ہیں؟ اگر وید اپنیشد اور بھگوت گیتا پر،گہری نظر رکھنے والے ہندو مذہب کے گیانی پنڈت،انکے مذہبی آسمانی ہزاروں سال پرانی کتابوں کو 1440 سال پرانے مذہب اسلام کی، آسمانی کتاب قرآن سے تقابل کریں گےتو ، ہندوؤں کے ایشور کے دودھ، منو کون تھے؟اس پر سے پردہ اٹھ سکتا ہے۔ یہ اس لئے ہم کہہ رہے ہیں۔ کہ کسی بھی مذہب میں ان کے بھگوان یا بھگوان کی پرتیماؤں کی، اتنی بے عزتی یا نا قدری نہیں ہوتی، جتنا ہندو مذہب کے تیوہاروں میں ہندو دیوی دیوتاؤں کی پریتماؤں کے ساتھ ہوا کرتی ہے۔ ہندو سنگھیوں کے گڑھ مانے جانے والے گجرات ہی میں، کل گنیش اوتسو کے بعد، احمد آباد سابرمتی ندی میں، پریاورن کے بچاؤ ہی کے بہانے سے، وہاں کی سنگھی ہندو حکومت نے، بھگوان گنیش جی کی پریتماؤں کو وسرجن یا وداع کرنے کی اجازت نہ دینے پر، اسی بھگوان گنیش کےلاکھوں بھگتوں نے، بھگوان گنیش جی کی پرتیماؤں کو، اپنے اپنے گھر بڑی ہی آستھا کے ساتھ لے جاکر، پورے دس دنوں تک بھگتی پوجا کرنے والوں ہی نے ،اپنے ہی بھگوان گنیش کی ہزاروں پرتیماؤں کو، سر راہ سڑک کنارے چھوڑ دیا پے۔کوئی اپنے بھگوان کی پرتیماؤں کے ساتھ ایسا کیسے کرسکتا ہے؟ اسکا مطلب صاف ہے یا تو ان ہزاروں لاکھوں بھگتوں کی بھگتی میں کوئی کمی ہے؟ یا بیسیوں بلکہ سیکڑوں سالوں سے چلے آرہے ہندؤں کے ان مذہبی رسومات میں ہی،کوئی کمی کوئی خامی ہے۔ہم ان لاکھوں ہندو بھگتوں کی آستھا پر شک کرنے کی ہمت نہیں کرسکتے، البتہ ہندو بھائیوں سے التجا، منت کرسکتے ہیں، کہ وہ انکے ،سناتن دھرم یا منو وادی مذہب کی، آسمانی کتاب رگ وید، اتھر وید، کو خود پڑھیں اس پر تدبر و غور و فکر کریں۔پھر خود ہی فیصلہ کریں کہ گنیش اتسو،یا مختلف دیوی دیوتاؤں کی ہزاروں پرتیماؤں کی وہ جو پوجا پاٹ کیا کرتے ہیں، کیا وہ صحیح کر رہے ہیں؟کیا انکے ایشور، اور بھگوان رام و کرشن نے، اپنے ہاتھ کی بنی ہوئی، بھگوان کی مورتیوں کی پوجا پاٹ کرنے کی اجازت بھی دی ہے یا منع کیا ہے؟ جہاں تک ہماری معلومات کا تعلق ہے، ہندوؤں کی آسمانی کتابیں، رگ وید، اتھر وید ، یا انسان کے کئے، ان کے ترجمے،پران، بھگوت گیتا، اپنیشد وغیرھم میں، مورتی پوجا سے منع کیا گیا ہے۔ جس طرح ہم مسلمانوں کی ایک بہت بڑی اکثریت نے، اپنے رسول ﷺ (رشی منی) کی تعلیمات اور اسلام دھرم کی آسمانی کتاب، قرآن کی تعلیمات کے خلاف یا اپرید،ان چودہ سو سالوں میں بھگوان ایشور اللہ کی ہدایات کے بالکل خلاف، اسے ناراض کرنے والے، بہت سارے شرک وبدعات اسلام میں، دین اسلام ہی کے نام سے ایجاد کرلئے ہیں، ہوسکتا ہے ہزاروں سال سے چلے آرہے ہندو مذہب میں بھی، مختلف وید اپنیشد اور رشی منی، منو (نوح) کے مادھیم سے،ایشور کے احکام کے خلاف، اپنے ہاتھوں سے بنائے، بھگوان کے تخیلاتی پرتیماؤں کی پوجا پاٹ شروع کردی گئی ہو۔ چاہے اسلام ہو یا ہندو دھرم ،ایشور اللہ کی مرضی کے خلاف کتنی بھی آستھا اعتماد واعتقاد کے ساتھ پوجا ارچنا، عبادات کیوں نہ کی گئی ہوں، وہ یقینا بے کار ہیں اور ایشور اللہ کی طرف سے، ہم جیسے بھگتوں کے مرنے کے بعد،پرلوک کے پریکھشا والے دن،ہمارے منھ پر ماردی جانے والی ہیں ۔حق تو یہ ہے اس ختم ہونے والے یوگ میں، ایشور اللہ کی طرف سے ہمیں عطا ہوئی مختصر زندگانی ہی میں، ہم اپنے ایشور (اللہ )کی اصلی تعلیمات کی طرف لوٹ آنے والے بنیں اور ایشور( اللہ) کی اصلی بھگتی پوجا عبادت سے ،صدا جیوت رہنے والی پرلوک کی زندگی میں، بہشت یا جنت کے دعویدار و حقداد بنیں۔ وما علینا الا البلاغ*

HTML Snippets Powered By : XYZScripts.com