Select your Top Menu from wp menus

جھارکھنڈ میں اردو اکیڈمی کا قیام کب۔۔؟

جھارکھنڈ میں اردو اکیڈمی کا قیام کب۔۔؟

عارف شجر، حیدرآباد، تلنگانہ
8790193834
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عجیب بات ہے جھارکھنڈ کو بہار سے الگ ہوئے 19سال کا عرصہ ہو گیا یعنی اب عنقریب اس ریاست کی تشکیل کی دوہائی کا جشن منایا جائے گا لیکن صد افسوس اس ریاست کو جو مراعات ملنی چاہئے تھی وہ اب تک نہیں مل پائی ہے۔ اقلیتی فلاحی اسکیموں سے لے کر اقلیت سے جڑے کئی محکمے اب تک زیر التوا ہیں یا یوں کہیں کہ ریاست جھارکھنڈ کے اقلیتوں میں وہ دم کھم نہیں جو حکومت سے اپنی بات منوا سکیں، یہی وجہ ہے کہ آج تک جھارکھنڈ میں اردو اکیڈمی کی تشکیل عمل میں نہیں آئی ہے۔ان 19سالوں کے دوران کئی حکومیتیں آئیں اور گئیں جس میں سیکولر حکومتیںبھی شامل تھیں لیکن اردو اکیڈمی کے تعلق سے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا یا یوں کہیں کہ اس میں کوئی دلچسپی نہیں لی گئی ویسے بھی جب اقلیتوں کے فلاحی منصوبے پر کام کرنے کی بات آتی ہے تو فرقہ پرست حکومتوں کی باتیں چھوڑئے سیکولر حکومت کی بھی ناک اور بھوئیں چڑھ جا تی ہےں انہیں لگتا ہے کہ مسلمانوں کو وہ کوئی خزانہ اپنی جانب سے دینے جا رہے ہیں اور اس سے انکا خزانہ خالی ہو جائے گا۔ ریاست جھارکھنڈ کی خوش قسمتی تھی کہ یہاں تین تین گورنر مسلم رہے لیکن کسی نے اس جانب سنجیدگی سے کام نہیں کیا۔ مجھے شکوہ جھارکھنڈ کی مسلم آبادی سے بھی ہے جنہوں نے صرف مشاعرے، شعری نشستیں، کتابوں کے رسم اجراءاور کبھی کبھی کوئی خالص اردو تو نہ کہیں نیم اردو پر سیمینار کرنے تک ہی محدود رہے اور اپنی خبریں اخبارات میں دیکھ دیکھ کر خوش ہوتے رہے اور خبروں کو ”کپور“ لگا کر فائل کی زینت بناتے رہے، لیکن کسی نے بھی جھارکھنڈ اردو اکیڈمی کے سلسلے میں گورنر ہاﺅس، یا سی ایم ہاﺅس کا گھراﺅ نہیں کیا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آج تک اردو اکیڈمی کی تشکیل کا معاملہ زیر التوا ہے، مجھے فخر ہے ونوابھاوے یونیورسٹی ہزاری باغ کے سابق پروفیسر، دانشوراور خادم اردوڈاکٹر ابوذر عثمانی کا جنہوں نے تن تنہا، اردو کی لڑائی حکومت سے لڑتے رہے یہاں تک کہ ضعیف ہونے کے باجود نوجوانوں جیسی قوت ہمت اور حوصلہ رکھتے ہوئے اردو کی خدمت کر رہے ہیں اور حکومت سے اردو کے جائز حقوق کی لڑائی لڑ رہے ہیں، ویسے تو یہ اردو کے حقوق کی لڑائی لڑتے رہے ہیں لیکن جب سے جھارکھنڈ کی تشکیل عمل میں آئی ہے وہ اور بھی سرگرم ہوگئے ہیں، ابوذر عثمانی نے جھارکھنڈ میں جتنے بھی حکومتیں آئیں اقلیتوں کی فلاح منصوبوں پر دھیان دینے کے ساتھ ہی ساتھ، اردو اکیڈمی، اقلیتی مالیاتی کارپوریشن، اور حج ہاﺅس کی تشکیل پر دھیان مبذول کراتے رہے، حج ہاﺅس تو بن گیا اس میں حکومت کی مجبوری تھی انہیں بنانا ضروری تھا، تاکہ زارین حجاج کا سفر آسان ہو سکے، لیکن اوردو اکیڈمی اور دیگر اقلیتی بورڈ کا نہ ہونا جھارکھنڈ حکومت پر کئی سوالات کھڑے ہو رہے ہیں۔ مجھے کہہ لینے دیجئے کہ جھارکھنڈ سے ابھی کئی اردو اخبارات ڈیلی اور ویکلی شائع ہو رہے ہیں، لیکن جھارکھنڈ کے ایک دو اخبار کو چھوڑ دیا جائے تو کسی نے بھی اپنے اداریہ میں جھارکھنڈ میں اردو کی زبوں حالی اور اردو اکیڈمی کے سلسلے میں اپنے فرض بلائے طاق رکھتے ہوئے ایک سطر بھی نہیں لکھا جس سے کہ جھارکھنڈ حکومت کمبھ کرن کی نیند سے بیدار ہو سکے اوراسے پتہ چل سکے کہ یہاں کثیر اردو آبادی ہے، جس میں اردو ادب کی شیدائی کی تعداد زیادہ ہے، اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ جھارکھنڈ میں اردو اداب کی زلفیں سنوارنے والے، عالمی شہرت یافتہ شعراء جھارکھنڈ اردو اکیڈمی کی تشکیل کی حسرت لئے دنیا فانی سے کوچ کر گئے، جس میں ، رانچی کے ڈاکٹر صدیق مجیبی اور ہزاری باغ کے ظہیر غازی پوری جیسے عالمی شہرت یافتہ شعراءکا نام بھی شامل ہے، جنہوں نے ہمیشہ اپنے ادبی تقریروں میں اس بات کا اظہار کرتے رہے کہ جھارکھنڈ میں اردو اکیڈمی کی تشکیل اب ہو جانی جاہئے کیوں کہ اس سے آنے والی نسلیں مستفیض ہو سکیں۔ مجھے افسوس اس بات کا ہے کہ ریاست جھارکھنڈ میں14فیصد مسلم آبادی ہونے کے باوجود کسی میں اردو کے تئیں ہمدردی نہیں ہے، کسی میں یہ ہمت اور قوت نہیں کہ وہ حکومت جھارکھنڈ کے سامنے سینہ سپر ہو کر یہ کہہ سکیں کہ اردو اکیڈمی کا قیام کب عمل میں آئے گا اس کا جواب دو۔ میری گذارش ہے کہ مسلمانوں کو متحد ہو کر ایک بار ضرور حکومت جھارکھنڈ سے اس سلسلے میں بات کریں، مجھے امید ہے کہ کوئی نہ کوئی راستہ نکل آئے گا، کیوں کہ ابھی اسمبلی الیکشن بھی عنقریب ہے ضابطہ اخلاق نافذ ہونے سے قبل سی ایم رگھوور داس سے ملاقات کرکے اردو اکیڈمی کے قیام کے سلسلے میں اپنی بات رکھیں، کیوں کہ جس طرح سے رگھورداس حکومتی فلاحی منصوبوں پر کام کر رہی ہے وہ یقیناً تعریف کے قابل ہے، حالانکہ یہ بی جے پی کی رکنیت حاصل کئے ہوئے ہیں لیکن مجھے نہیں لگتا ہے کہ وہ اقلتیوں کے دشمن ہیں جب تک کسی کے نزدیک جا کر بات نہیں کی جائے تب تک کوئی رائے قبل از وقت قائم نہیں کر سکتا۔ مجھے کامل یقین ہے کہ رگھوور داس کے علم میں اردو اکیڈمی کے سلسلے میں بات لائی جائے تو کوئی نہ کوئی مثبت راستہ ضرور نکل آئے گا، بشرطیکہ پہل کرنے کی ضرورت ہے ۔
بہر حال! اسمبلی الیکشن نزدیک ہے، جھارکھنڈ کے مسلمانوں کو اب سرگرم ہو جانا چاہئے، اپنے ذاتی فائدے کے لئے نہیں بلکہ ریاست جھارکھنڈ کی اردو آبادی کے فائدے کے لئے کیوں کہ ووٹ ہی ہمارا ایک ایسا ہتھیار ہے جس سے سبھی سیاسی قائدین کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا جاسکتا ہے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ 2014 سے مسلمانوں کی ووٹ کی وقعت ختم سی ہو گی ہے مسلمانوں کے ووٹ کے بغیر فرقہ پرست تنظیمیں کامیاب ہو رہی ہیں۔ پی ایم مودی نے اپنی سیاسی بصیرت سے اقلیتوںکے ووٹ کو بے وقعت کر کے رکھ دیا ہے۔ اب مسلمانوں کو بیدار ہو جانے کی ضررورت ہے اور ایک بار پھر سے اپنے ووٹ کی وقعت کو پہچاننے کی ضرورت ہے تاکہ سیاسی قائدین خصوصی طور سے فرقہ پرست جماعتوں کو یہ پتہ چل سکے کہ مسلمان ابھی زندہ ہیں یہ قوم کبھی مردہ نہیں ہو سکتی۔ جھارکھنڈ اردو اکیڈمی کے تعلق سے اردو ادب اور اردو محاذ بنانے والوں سے گذارش ہے کہ آپ صرف مشاعرے، ادبی نشستیں اور اردو سمیناروں کے اردو گرد نہ گھومیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ کچھ تعمیری کام پر بھی دھیان دیں تاکہ اس سے جھارکھنڈ کی اردو آبادی کا وقار پورے ہندوستان میں قائم ہو سکے۔ہمیں جھارکھنڈ حکومت سے بھی گذارش ہے کہ جھارکھنڈ کی اردو آبادی کو اردو اکیڈیمی کا تحفہ دے کر تاریخ کے سنہرے باب میں اپنا نام درج کر لیں، مجھے رگھوور داس جیسی شخصیت سے امید نہیں بلکہ کامل یقین ہے کہ وہ اردو اکیڈمی کی تشکیل کرکے اپنے سیکولر سی ایم ہونے کا ثبوت ضرور دیں گے کیوں کہ اردو اکیڈمی کی تشکیل نہ ہونے سے یہاں کے کثیر اردو آبادی کئی ادبی کاموں سے محروم ہے یہاں تک کہ جھارکھنڈ کے بے روزگاروں کو بھی روزگار مل سکے گا۔
ختم شد

HTML Snippets Powered By : XYZScripts.com