Select your Top Menu from wp menus

25 برس کی کوشش کا حاصل ’ڈھاک کے تین پات‘

25 برس کی کوشش کا حاصل ’ڈھاک کے تین پات‘

حفیظ نعمانی

ملک سے انگریزوں کے جانے کے بعد جب حکومت اپنے ہاتھوں میں آئی تو معلوم ہوا کہ پوری قوم تعلیم سے بہت دور ہے اور آبادی کے بڑے حصہ کو اس کا کوئی ملال نہیں ہے۔ ملک کی آبادی جو شہروں میں تھی اور خوشحال تھی اس کے بچے اسکول اور کالج جارہے تھے اور جنہیں روز کھودنا اور روز پانی نکالنا تھا وہ اپنے حال میں مست ہیں۔ ظاہر ہے کہ کسی بھی قوم کے لیڈر اس صورت حال کو برداشت نہیں کرسکتے تھے۔ اور جب اسے بدلنے کے بارے میں سوچا تو قوم کے دردمندوں نے تعلیم کو عام کرنے کا پروگرام بنایا لیکن 100 سال سے زیادہ انگریزوں نے حکومت کرکے ملک کے بڑے طبقہ کو یہ سکھا دیا تھا کہ تعلیم بڑے لوگوں کے بچوں کے لئے ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہر اسکیم تھوڑی دور چل کر بکھر جاتی تھی۔
انسانی نفسیات کے ماہروں نے جائزہ لیا تو انہوں نے محسوس کیا کہ ہر غریب یہ حساب لگائے ہوئے ہے کہ اگر اس کے چار بیٹے ہوں گے تو آٹھ ہاتھ کام کرنے والے ہوجائیں گے اور جب شام کو دن بھر کی محنت کے بعد آٹھ ہاتھوں کی کمائی آئے گی تو سب بھر پیٹ کھا بھی لیں گے اور بچ بھی جائے گا۔ اس کا توڑ انہوں نے سمجھایا کہ ہر بچہ اسکول جائے گا اور دوپہر کو پیٹ بھرکر اسکول میں ہی کھانا کھائے گا اور پھر باقی وقت میں اپنے باپ کا ہاتھ بٹائے گا۔ 15 اگست 1995 ءسے حکومتوں نے یہ کام شروع کیا کہ ہر سرکاری اسکول میں دوپہر کا کھانا بچوں کو کھلایا جائے اور ان کو عادی بنانے کیلئے باقی وقت میں پڑھایا جائے۔ یہ سلسلہ آج بھی چل رہا ہے اور رفتہ رفتہ یہ اتنا بڑھا کہ ہر بچہ کو خوبصورت یونیفارم کالا جوتا سردیوں میں سوئٹراور موزے۔ پڑھنے کے لئے کتابیں لکھنے کے لئے کاپیاں سب کچھ اسکول سے ملنے لگا۔
اب یہ ہمارے ملک کا مزاج ہے جو انگریز بنا گئے ہیں کہ جسے جتنا موقع ملے وہ اتنی بے ایمانی کرلے۔ ہم اس وقت اس قضیہ پر روشنی ڈالنا چاہ رہے ہیں جو ہم نے بھی بار بار ٹی وی پر دیکھا کہ ایک عورت نے پہلے روٹیاں بچوں میں تقسیم کیں اس کے بعد وہ پھر بالٹی لے کر آئی اور اس میں سے نمک کی کنکریاں نکال نکال کر ہر پلیٹ میں ڈالتی چلی گئی اور یہ دیکھ کر ان غریب بچوں نے کچھ بھی کہے بغیر روٹی توڑکر نمک کی ایک کنکری کے ساتھ نوالہ بناکر منھ میں رکھ لیا۔ یہ کسی رپورٹر نے دیکھ لیا اور اس نے اس کا فوٹو بناکر سوشل میڈیا کو دے دیا۔ جس کے بعد پورے ملک میں بھونچال نہ آنے کا سوال ہی نہیں تھا۔ اس معاملہ میں شرم سے ڈوب مرنے والی بات یہ ہوئی کہ پہلے تو خطاکاروں کو نشانہ بنایا پھر معلوم ہوا کہ اس واقعہ کی شہرت سے اترپردیش کے وزیراعلیٰ کی ناک پر مکھی بیٹھ گئی اور ان کی بدنامی ہوگئی اس لئے اس کہانی کو اُلٹ دیا اور اس رپورٹر کو ملزم بنادیا جس نے اس کا ویڈیو بنایا تھا۔
وزیراعلیٰ اب اسے پھانسی دیں یا گولی ماریں، پورا گاﺅں چیخ رہا ہے کہ آئے دن روٹی نمک چاول نمک بچوں کو کھلایا جاتا ہے اور غریب بچے اس لئے چپ ہیں کہ منھ کھولا تو یہ روٹی بھی نہیں ملے گی۔ ہم نے جب تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ حکومت کی طرف سے جو اس سال کے لئے ڈھائی ہزار کروڑ روپئے سے زیادہ دیا گیا ہے وہ اس لئے ہے کہ بچوں کو جو کھلایا جائے گا اس کا چارٹ ہر اسکول میں لگا ہوا ہے جس میں روٹی سبزی اور موسمی پھل۔ 2۔ طہری اور کھیر 3۔ پراٹھا اچار اور موسمی پھل 4۔ چاول دال 5۔ چاول سبزی وغیرہ پھلوں کے بارے میں ہدایت ہے کہ موسم کے حساب سے سیب سنگترہ آم کیلا اور تربوز خربوزہ ہر پھل بچوں کو دیا جائے۔
وزیراعلیٰ کو ہم مشورہ دیں گے کہ وہ اپنے مزاج کو بدلیں اس واقعہ پر مذاکروں میں بولنے والوں نے اس واقعہ کو بھی یاد دلایا کہ جب گورکھ پور میڈیکل کالج میں آکسیجن کی سپلائی بند ہونے کی وجہ سے سیکڑوں بچے مرجاتے اگر ڈاکٹر کفیل ایک ڈاکٹر اور ایک مسلمان ہونے کا فرض ادا کرتے ہوئے شہر کے ہر اسپتال سے آکسیجن سلنڈر نہ لاتے۔ اور یہ بات وضاحت کے ساتھ اخباروں میں آئی کہ گجرات سے جو آکسیجن آرہی تھی اس کی قیمت بار بار مانگنے کے باوجود نہ دینے اور پھر کنکشن کاٹ دینے کے نوٹس پر بھی کچھ نہ کرنے کی وجہ سے اس کی سپلائی روک دی تھی۔ اب یہ وزیراعلیٰ کا وہ مزاج ہے جو مذہبی معاملات میں چلتا ہے سیاسی اور سرکاری معاملات میں نہیں چلتا۔ وہاں بھی انہوں نے یہی کہا کہ حکومت کی بدنامی ہوئی۔ سوال یہ ہے کہ بدنامی ان کی وجہ سے ہوئی جنہوں نے سیکڑوں بچوں کی جان بچالی یا ان کی وجہ سے جنہوں نے آکسیجن کی قیمت کا بل ادا نہیں کیا؟
یہ سب باتیں تو الگ رہیں دیکھنا یہ چاہئے کہ جس مقصد کے لئے کروڑوں روپئے خرچ کئے جارہے ہیں اس میں کتنی کامیابی ملی ہے۔ ہمارا کوئی تعلق نہ سرکاری اسکولوں میں پڑھانے یا وہاں کے کسی سامان کے پہنچانے سے ہے۔ ہمارے گھر کے بچوں اور بچیوں کو موقع ملا وہ ان اسکولوں میں پڑھا رہے ہیں ان سے اور وہاں کے لئے ٹریننگ پانے والی لڑکیوں سے جو کچھ معلوم ہوا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ حکومت کے کروڑوں روپئے خرچ کرنے کے بعد کسی ایک شہر سے 100 بچے بھی ایسے نہیں نکلتے جو بعد میں کالج جاکر نام کمائیں۔ پڑھانے والوں نے ہم سے خود کہا کہ جب پڑھنے والے پڑھنا نہیں چاہتے تو ہم کسے پڑھائیں؟ اور یہ تو لکھنو¿ کا حال ہے کہ درجہ پانچ تک بیسک اسکول ہے اور ایک پرنسپل اور ایک ٹیچر ہے وہ اکیلی کسے کسے پڑھائے؟ مڈڈے میل آج کل 11 بجے ہوجاتا ہے اس کے بعد بچے رفتہ رفتہ چلے جاتے ہیں۔ ایک دیہات میں ایک دوست کی لڑکی پڑھائی رہی ہے۔ اسکول کی حاضری ہوتی ہے تو بچے 200 ہوتے ہیں حاضری کے بعد وہ کھیت پر چلے جاتے ہیں کھانے کے وقت سب آجاتے ہیں پھر کھانے کے بعد کھیت پر چلے جاتے ہیں۔ اس کے بعد ان اسکولوں کو باقی رکھنا یا ان سے یہ توقع کرنا کہ ان سے قوم کے بچوں کو تعلیم یافتہ بنا دیں گے بھول ہے۔ اس روپئے کو اعلیٰ تعلیم پر خرچ کیجئے کیونکہ آج ہماری نوکرانی بھی اپنی بچیوں کو پرائیویٹ اسکول میں تعلیم دلا رہی ہے جس میں ایک کی فیس تین سو روپئے ہے۔

Mobile No. 9984247500
خخخ

HTML Snippets Powered By : XYZScripts.com