Select your Top Menu from wp menus

استاد کا مقام و مرتبہ

استاد کا مقام و مرتبہ

اسلام نے استاد کو بے حد عزت و احترام عطاکیا ۔اللہ رب العزت نے قرآن میں نبی اکرم ﷺ کی شان بحیثیت معلم بیان کی ہے۔خود رسالت مآب ﷺ نے ’’انمابعثت معلما‘‘(مجھے معلم بنا کر بھیجا گیاہے ) فرما کر اساتذہ کو رہتی دنیا تک عزت و توقیر کے اعلی منصب پر فائز کردیا ہے ۔
انسان کی زندگی میں استاد کا مقام ومرتبہ اہم ہوتا ہے۔ قوموں کی ترقی و بقا میں استاد کا اہم کردار ہوتا ہے۔ استاد ہی نو نہالانِ قوم کی تعلیم و تربیت کا ضامن ہوتا ہے۔ انسان چاہے کوئی بھی ہو کاروباری ہو درزی ہو سیاستداں ہو فنکار ہو یا وکیل یا پھر کھیل کود سے دلچسپی رکھنے والاہو یا مذہبی رجحان رکھنے والاہی کیوں نہ ہو ہر کسی کو علم کی ضرورت پڑتی ہے ۔ علم حاصل کرنے کے لئے ایک استاد کی ضرورت ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ والدین کے بعد اگر دنیا میں انسان کسی شخصیت کی دل و جان سے عزت و احترام کرتا ہے تو وہ استاد ہے۔ ہاں استاد!!!!
استاد علم کا گہوارہ ہوتا ہے۔ قوموں کی ترقی میں اساتذہ کا کردار اہمیت کا حامل ہے۔ انسانیت اور علمی ارتقاء میں استاد کے کردار سے کبھی کسی نے انکار نہیں کیا ہے۔ استاد کو نئی نسل کی ترقی دینے، معاشرے کی فلاح و بہبود اور افرادکی تربیت سازی کی وجہ سے قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ استاد اپنے شاگردوں کی تربیت میں اس طرح مگن رہتا ہے جیسے ایک باغبان ہر وقت اپنے پیڑ پودوں کی کانٹ چھانٹ نگہداشت میں مصروف رہتا ہے۔ تدریس وہ پیشہ ہے جسے صرف اسلام ہی نہیں بلکہ دنیا کے ہر مذہب اور معاشرے میں نمایاں مقام حاصل ہے۔ لیکن یہ ایک حقیقت بھی ہے کہ دنیا نے استاد کی حقیقی قدر و منزلت کو کبھی اس طرح اجاگر نہیں کیا جس طرح اسلام نے اس کے بلند مقام و مرتبے سے آگاہ کیا ہے۔ اسلام نے استاد کو بے حد عزت و احترام کا مرتبہ دیا ہے۔
استاد کو ہر زمانے میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا رہا ہے۔استاد کی اہمیت اور ان کا مقام ومرتبہ کی ایک خاص وجہ یہ بھی ہے کہ وہ ہماری شخصیت سازی اور کردار سازی میں معاون مددگار ہوتے ہیں۔استاد ایک طالب علم کو ویسے ہی سنوارتا ہے جیسے ایک سونار سونے کے ٹکڑے کو آگ میں تپا کر اس سے زیور بناتا ہے، اسے سنوارتا ہے.استاد ہی علم کا حصول ذریعہ ہے اسلئے انکی عزت و احترام کا حکم دیا گیا ہے۔
کسی بھی انسان کی کامیابی کے پیچھے ایک بہترین استاد کی بہترین تعلیم وتربیت ہی کار فرما ہوتی ہے۔ خوش قسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جن کی زندگی میں اچھے استاد میسر آجاتے ہیں ۔ ایک معمولی سے بچے سے لے کر ایک کامیاب انسان تک کاسارا سفر اساتذہ کا مرہون منت ہوتا ہے ۔ وہ ایک طالب علم میں جو رنگ بھرنا چاہیں بھر سکتے ہیں۔ جیسے سنوارنا چاہیں سنوار سکتے ہیں.اگر حقیقت کی نظر سے دیکھا جائے تو استاد ہی قوم کے نوجوان کو علوم و فنون سے آراستہ پیراستہ کرتا اور اس قابل بناتا ہے۔ کہ وہ ملک اور قوم کی پریشانیوں اور ذمہ داریوں کو نبھا سکیں۔ استاد جہاں نوجوانوں کی اخلاقی وروحانی تربیت کرتا ہے وہیں پر ان کی مختلف مہارتوں کا سامان مہیا کرتا ہے۔ والدین بچے کی جسمانی پرورش کرتے ہیں۔ جبکہ ایک استاد بچے کی روحانی تربیت کرتا ہے۔ اس لحاظ سے استاد کی اہمیت اور مرتبہ والدین سے کس طرح سے کم نہیں بلکہ ایک طرح سے ان سے بھی زیادہ ہے ۔ کیونکہ روح کو جسم پر سبقت حاصل ہے۔
استاد ایک چراغ ہے جو تاریک راہوں میں روشنی دیکھتا ہے۔ اُستاد وہ پھول ہے جو اپنی خوشبو سے معاشرے میں امن،محبت و دوستی کا پیغام پہنچاتا ہے۔ اُستاد ایک ایسا رہنما ہے جو آدمی کو زندگی کی گمراہیوں سے نکال کر منزل کی طرف گامزن کرتا ہے۔معاشرے میں جہاں ماں باپ کا کردار بچے کے لیے اہم ہے، وہاں استاد کو بھی اہم مقام حاصل ہے۔ ماں باپ سکھاتے ہیں۔ان کی اچھی طرح سے پرورش کرتے ہیں۔اٹھنے، بیٹھنے اور چلنے کا سلیقہ سکھاتے ہیں مگر استاد وہ عظیم رہنما ہے جو آدمی کو انسان بنا دیتے ہیں۔ اندھیرے میں راہ دکھاتےہیں۔ ایک سیڑھی ہے جو انسان کو اونچائی تک پہنچاتے ہیں۔ ایک انمول تحفہ ہے جس کے بغیر انسانی زندگی ادھوری ہے۔

سیدہ تبسم منظور ناڈکر۔ممبئی
نائب ایڈیٹر گوشہ خواتین واطفال اسٹار نیوز ٹو ڈے
ایڈیٹر گوشہ خواتین و اطفال ہندوستان اردو ٹائمز
9870971871

HTML Snippets Powered By : XYZScripts.com