Select your Top Menu from wp menus

محمد شیر علی،مجاہدین ازادی کے رول ماڈل

محمد شیر علی،مجاہدین ازادی کے رول ماڈل
مکرمی
محمد شیر علی ایک مجاہد آزادی تھے۔آپ کی پیدائش 1842میں پشاور میں ہوئ۔محمد شیر علی نوجوانی میں ہی برطانوی حکومت کے خلاف مورچہ لیا۔آپ 1853پشاور سے پنجاب کے امبالا ہجرت کر گئے۔برطانوی حکومت کے خلاف چلنے والی تحریکوں میں فعال کردار ادا کرنے کی وجہ سے برٹش حکومت نے 2اپریل 1868میں موت کی سزا سنائی۔بعد میں موت کی سزا بدل کر انہیں انڈومان کالا پانی بھیج دیا گیا۔آزادی کیلئے چلنے والی تحریکوں کو انہوں نے کبھی رکنے نہیں دیا۔انہوں نے ایک نائ سے خریدے گئے چاقو سے وائے سرائے لارڈ مایو کو جان لینے کی کوشش کی۔انہوں نے جرمر  کا سامنا کرنے کیلئے کھلے عام جرم کا سامنا کیا۔انہوں نے لکھا ہے ‘میں نے زندگی کے تمام امیدیں ترک کر دی تھیں،جب میں نے آزادی کی تحریکوں سے جڑا۔مجھے اس بات پر فخر ہے کہ میں نے ملک کے کم سے کم ایک دشمن کا خاتمہ کیا اور میں اسے اپنی مذہبی ڈیوٹی سمجھتا ہوں۔ شیر علی کو وائے سرائے کو مارنے کے جرم میں دوبارہ موت کی سزا سنائی گئ اور 11مارچ 1872کو اس عظیم مجاہد آزادی کووائپر جزیرہ پر پھانسی دے دی گئی۔انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے آنے والی نسلوں کیلئے رول ناڈل بتایا گیا جو برطانوی راج کے خلاف لڑے۔وہ اپنی بہادری،حبالوطنی کی وجہ سے ایک رول ماڈل کی حیثیت سے پہچانے جائیں گے۔جنہوں نے ملک کو اپنی ترجیحات میں اعلیٰ ترجیح دی۔
 عمران احمد
نئ دہلی
HTML Snippets Powered By : XYZScripts.com