Select your Top Menu from wp menus

ظالم حکمرانوں کے سامنے حق وانصاف  کی بات کہنا بہت بڑا جہاد

ظالم حکمرانوں کے سامنے حق وانصاف  کی بات کہنا بہت بڑا جہاد
جنرل سکریٹری کل ہند معاشرہ بچاؤ تحریک،مولانا حافظ سرفرازاحمد قاسمی
ظلم وزیادتی، کسی کو ستانا یاکسی کے جان کے درپے ہونا انسانیت سے گری ہوئی بات ہے، ظالم اسلام کی نگاہ میں ایسابد ترین انسان ہے کہ اگر کوئی  مسلمان اسکی کسی طرح کی مدد کرتاہے اورظلم وتشدد میں اسکاساتھ دیتاہے تو ایسا شخص دائرہِ اسلام سے خارج ہوجاتاہے،ایک حدیث میں رسول اکرمﷺنے ارشاد فرمایاکہ”کوئی آدمی کسی ظالم کے ساتھ اسلئے چلے تاکہ اسکی مدد کرے اوروہ یہ جانتاہے کہ یہ شخص ظالم ہے تووہ اسلام سے نکل گیا”(مشکوٰۃ)شریعت اسلامیہ  میں ظلم کامفہوم بہت وسیع ہے،
علماء نے لکھا ہےکہ کسی چیزکو اپنے اصل مقام اور صحیح  جگہ سے ہٹاکر کسی دوسری جگہ رکھدینا ظلم کہلاتا ہے،یعنی کسی بھی چیز کاغلط استعمال ظلم کے دائرے میں آتاہے،آنکھ،کان،زبان،ہاتھ پیر،مال ودولت،طلاقت وقوت،حکومت واقتداریاجاہ حشم کے علاوہ کسی اورچیز کااستعمال اگر شریعت کے خلاف کیاجائے یااسکے ذریعہ کسی کو نقصان پہونچایا جائے تو یہی ظلم ہے،حضرت ابوبکروراقؒ مشہور تابعی ہیں فرماتے ہیں کہ اکثرو بیشترایمان کو نکالنے والی چیزبندوں پر ظلم کرناہے،
اللہ تعالی ظالموں کودنیامیں ڈھیل دیتارہتاہےلیکن جب اسکاظلم حد سے تجاوز کرتاہے توپھراسکی پکڑ بہت سخت ہوتی ہے، ظالم شخص دنیا میں کسی پر خواہ کتناہی ظلم کرلے اوراپنی نفسانی خواہشات کی تکمیل کرلے،آخرت میں اس سے ایک ایک ظلم کابدلہ لیاجائےگا،ان خیالات کا اظہار،شہرکے ممتاز عالم دین،مولانا حافظ سرفراز احمد قاسمی جنرل سکریٹری کل ہند معاشرہ بچاؤ تحریک، وناظم معہد ملت ایجوکیشنل ٹرسٹ حیدرآبادنے یہاں اپنے ایک بیان میں کیا،
انھوں نے کہاکہ صرف انسان ہی نہیں بلکہ کوئی جانور بھی اگردوسرے جانور پرظلم کرے گاتو اس مظلوم جانور کوبھی بدلہ دیاجائے گا،ایک دوسری حدیث میں ہے کہ”اگرکوئی سینگ والی بکری بغیر سینگ والی بکری پرظلم کی ہوگی توقیامت کے دن اس مظلوم بکری کو سینگ عطا کیاجائے گاجس سے وہ اپنے خلاف ظلم کابدلہ لے گی”(مسلم) قرآن کریم اوراحادیث نبوی ﷺ میں جہاد کی فرضیت واہمیت دوسرے فقہی احکام اورعبادات سے بدرجہازیادہ ہے،جہادکے معنی عموماً قتل وقتال اورلڑائ کے سمجھے جاتےہیں، مگرمفہوم کی یہ تنگی وتحدید قطعاً منشاء شریعت کے خلاف ہے،جہاد کالفظ جہد سے ماخوذ ہے جسکے معنی محنت،کوشش کے آتےہیں،
اسی کے قریب قریب اصطلاحی معنی بھی ہیں، یعنی حق کی سربلندی اوراسکی اشاعت وحفاظت کےلئے ہرقسم کی جدوجہد،قربانی،ایثاراوران تمام جسمانی،مالی اوردماغی قوتوں کو جواللہ کی طرف سے بندوں کوملی ہیں اس راہ میں صرف کرنا،یہاں تک کہ اسکےلئے اپنی، اپنے عزیزواقارب،اہل وعیال،خاندان اورقوم تک کوقربان کردینا،حق کے مخالفوں اوردشمنوں کی کوششوں کوناکام بنانا،انکی تدبیروں کورائیگاں کرنا،انکے حملوں کوروکنااوراسکےلئے میدان جنگ میں اگران سے لڑناپڑےتو اسکےلئے بھی پوری طرح تیاررہنا یہی جہاد ہے،جواسلام کاایک اہم رکن اوربہت بڑی عبادت ہے، مولاناقاسمی نے کہاکہ علماء نے جہاد کی کئی قسمیں لکھی ہیں،
ان میں جہادبالعلم اورجہادبالمال کے علاوہ ہرفرض اورنیک کاموں کی انجام دہی بھی علماء کے نزدیک جہاد ہے،اسی طرح خطرناک مواقع پر حق بات کے اظہارمیں بےباک ہونابھی جہاد کی ایک قسم ہے،ایک حدیث میں سرکارِ دوعالمﷺ نےارشاد فرمایا”ایک بڑاجہاد کسی ظالم طاقت وقوت کےسامنے حق اورعدل وانصاف کی بات کہدیناہے” اس سے معلوم ہواکہ ظالم وجابرحکمرانوں  کےسامنے ناراضگی کااظہاراورحق وانصاف کی بات کہناوقت کااہم ترین تقاضہ اوربہت بڑاجہاد ہے،لیکن حق کی راہ میں دائمی جہاد وہ ہے جوہرمسلمان کوہروقت پیش آسکتاہے، اسلئے رسول اکرم ﷺ کے ہرامتی پر یہ فرض ہے کہ دین کی حمایت،علم دین کی نشرواشاعت،حق کی نصرت،غریبوں کی امداد،امربالمعروف، نہی عن المنکر،اقامت عدل،ردِ ظلم اوراحکام الہی کی تعمیل میں ہمہ وقت اورہمہ تن لگارہے، تاکہ اسکی زندگی کاہرلمحہ اورجنبش ایک جہاد بن جائےاوراسکی پوری زندگی جہاد کاایک غیرمنقطع سلسلہ نظرآئے،یہی قرآنی تعیلمات اورنبوی ہدایات کاتقاضہ بھی ہے اوروقت کی اہم ضرورت بھی،اللہ تعالی ہم سبکواسکی توفیق عطافرمائے
برائےرابطہ 8801929100
HTML Snippets Powered By : XYZScripts.com