Select your Top Menu from wp menus

کیرالہ کی جامع مسجد نے انسانی خدمت کی مثال قائم کردی

کیرالہ کی جامع مسجد نے انسانی خدمت کی مثال قائم کردی

نقاش نائطی

+966504960485

*گذشتہ جمعرات کیرالہ کووللپم ملپرم میں وقت کے سب سے بڑے اور بھیانک لینڈ سلائیڈ یعنی پہاڑ کے ایک حصہ کے کھسکنے کے بھیانک حادثہ میں کم و بیش 50 افراد کے ڈر کر اور مٹی میں دب کر مرنے کی خبر آئی تھی۔ ملبے سے نکالی گئی بدبو زد مردہ اجسام کو پوسٹ مارٹم کے لئے قریبی شہر منجیری کے میڈیکل کالج لیجانا اور واپس لانا موسلا دھار بارش اور ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کی وجہ سے حکام کے لئے، ایک بہت بڑا مسئلہ بنا ہوا تھا۔مقامی سلفی جامع مسجد کے ذمہ داروں نے حکومتی افسران سے مل کر، مردہ اجسام کو اور خراب ہونے سے پہلے آخری رسومات ادا کرنے کی خاطر، اپنی طرف سے سہولیات مہیا کرتے ہوئے،پوتھوکل ملپرم کی سلفی جامع مسجد کے دروازے انسانی خدمت کی خاطر پوسٹ مارٹم کے لئے کھول دئے۔ مسجد کے مرکزی ہال کے ایک حصہ میں جہاں پانچ وقت کی نماز کے لئے جگہ چھوڑ،باقی پوری مسجد، پوسٹ مارٹم کے لئے حکام کے حوالے کردی گئی۔مسجد سے متصل بچوں کے مدرسے کی کرسیاں اور ٹیبل پوسٹ مارٹم کے لئے استعمال کی خاطر دئیے گئے۔*

*محمد،چندرن،سرسوتی، چاکو سب دھرم کے ہندو مسلمان مسیحی مرد و نساء سب کے مردہ بدبودار اجسام مسجد کے اندر ھال میں لائے گئے اور اسکول میں بچوں کو اسلامی تعلیمات دینے والے ٹیبل پر رکھ کر پوسٹ مارٹم کرتے ہوئے،آج کے پورے ہندستان کو سنگھی منافرتی لپیٹے میں ماحول میں، مسجد سے انسانیت کا سبق عام کیا گیا۔ پوسٹ مارٹم کے بعد مختلف مذہبی مردہ،مرد و زن اجسام کو، ان کے مذہبی روا داری کا خیال رکھتے ہوئے ،مختلف المذہبی والنٹیرز نے مسجد کے وضو خانے میں نہا دھو غسل دے کر، ان مردہ اجسام کو ان کے وارثوں کے حوالے کیا۔ اس مذہبی منافرت والے دور میں بھی، مسجد ٹرسٹیوں اور مسلم والنٹیرز کی انسانیت نواز خدمات کو دیکھ پرمیشورم گورنمنٹ منجیری میڈیکل کالج کے ایٹینڈنٹ نے خوب سراہا۔ اکثر میتوں کا پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر پی ایس سنجے نے اپنے عبادت کرنے کی پاک و پوتر عبادگاہ مسجد کو غیر اقوام کی بدبوزد مرد زن اجسام کے پوسٹ مارٹم کے لئے کھلا چھوڑ دینے پر،اسے انسانیت کی جیت قرار دیتے ہوئے مسجد حکام کا نہ صرف شکریہ ادا کیا بلکہ ایسے انسانیت نواز عظیم خدمات کی عالمی سطح پر تشہیر کرتے ہوئے مسلمانوں کی انسانیت نوازی عام کرنے کی بات بھی کی۔ کیا سنگھی گودی میڈیا مسلمانوں کی تعریف و توصیف کرتی ایسی رپورٹوں کو نشر بھی کیا کریگی؟ یہ ایک اہم سوال ہے جو سیکیولر ذہن لوگوں کے قلب و اذہان میں کلبلا رہا ہے ؟*
*Kerela Muslim’s Humanitarian serves praised*

*A mosque near Nilambu in Mallapram dist. Kerala has been converted to Autopsy room, and the bodies reaching there for postmortem are not of Muslims.*

*Setting yet another example for the humanitism, the Salafi Juma Masjid, Pathukal in Mallapram Dist kerela, threw its doar open to take the bodies of the victims of the disastrous land slide that took place at Kovaalappom in Kerela on Thursday last. More then 50 people were feared dead in one of the most worst landslide that took place in recent memory.*
*A shifting of the dead bodies to the nearest hospital for postmortem became tough because of the romitesness and in assesibilty of the region. The mosque authorities offered a portion of the prayer hall,along with chairs and tables of the adjacent Madrasa to perform the postmortem.*

*The bodies of Moammed Chandran, Sarasvathi,and the Chacko and all other were brought inside the main prayer hall of the Mosque for postmortem. One find a better example for humanism,whole works should know this,said the Permeshwaram attendant Government Medical Collage Manjeri Kerala.*

*Forensic surgeon PS Sanjay who perform postmortem to several bodies said he was humbled by the humanistic value displaced by the local Muslims, converting the sacred place like Mosque into a Autopsy room is s wonderful gesture from the land of the Communal amity.Dr Sanjay said.*
*The area set aside for wazu or abulation was used for bathing the dead bodies. A set of volenteer are engaged to cleaning and bathing the dead bodies giving due respect to the victim’s faith*