Select your Top Menu from wp menus

نئ نسلوں کے لئے آزادی کی عظیم تاریخ کوجاننا نہایت ضروری :مفتی محفوظ الرحمن عثمانی

نئ نسلوں کے لئے آزادی کی عظیم تاریخ کوجاننا نہایت ضروری :مفتی محفوظ الرحمن عثمانی
جامعۃ القاسم دارالعلوم الاسلامیہ مدہوبنی سپول میں جشن آزادی جوش وخروش سے منایا گیا
عبدالخالق القاسمی/اسٹارنیوزٹوڈے
سپول/15 اگست/تاریخ آئندہ نسلوں کے لیے حوصلہ. اور جذبہ کو پروان چڑھاتاہے. تاریخ تعمیر وترقی کاسبب بھی ہے. قرآن کریم نے پچھلی قوموں اور پہلے کے نبیوں کے واقعات کو بیان ہی نہیں کیا بلکہ غور وفکر کی بھی دعوت دی. آزادی ایک بڑی نعمت ہے. آزادی بغیر جدوجہد اور قربانی کے حاصل نہیں ہوتی. یہ ملک بھی بڑی قربانیوں کے بعد آزاد ہواہے. آزادی کی عظیم تاریخ کوجاننا نئ نسلوں کے لئے نہایت ضروری ہے ہم مجاہدین وطن کی قربانیوں کو پڑھیں. یہ باتیں معروف عالم دین. ملی رہنما مفتی محفوظ الرحمن عثمانی بانی ومہتمم جامعۃ القاسم دارالعلوم الاسلامیہ مدہوبنی سپول نے پرچم کشائی سے قبل کہا. انہوں نے جنگ آزادی کی تاریخ بیان کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ  1757 یا1857 سے جنگ آزادی کی تاریخ بیان کرتے ہیں انہیں تاریخ کا علم نہیں یاپھر ناانصافی کرتے ہیں. انہوں نے کہا کہ اگر والی بنگال سراج الدولہ کے ساتھ میر جعفر غداری نہ کرتا تو انگریز اسی وقت اس ملک سے دم دبا کر بھاگ چکاہوتا. انہوں نے فتح علی خان ٹیپو سلطان کاوہ جملہ بھی سنایا جو جذبہ حریت اور آزادی پرابھارتاہے کہ گیڈر کی سو سالہ زندگی سےشیر کی ایک دن کی زندگی اچھی ہے. اس موقع پر مفتی عثمانی نے شاہ ولی اللہ محدث دہلوی. شاہ محمد اسحاق. شاہ عبدالغنی دہلوی شاہ عبد العزیز. شاہ اسماعیل شہید. سید احمد شہید. حاجی امداد اللہ مہاجر مکی. مولانا محمد منیرنانوتوی مولانا رشید احمد گنگوہی. حافظ ضامن شہید. مولانا ولایت علی. مولانا یحییٰ علی. موہن داس کرم چندرگاندھی. سبھاش چندر بوش. علماء صادق پوراور علماء عظیم آباد وغیرہ تذکرہ کیا اورکہابغیران کے تذکرہ کےجنگ آزادی کی تاریخ ادھوری ہے.افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ آج ان مجاہدین کانام اور ان کی قربانیوں کو فراموش کیا جارہا ہے جنہوں نے اس ملک کو آزاد کرانے میں تن من دھن کی بازی لگا دی. سولی پرچڑھنا توگوارہ کیا لیکن غلامیت کے ساتھ زندہ رہنا نہیں.اس موقع پر سیمانچل ڈیلوپمنٹ فرنٹ کےجنرل سیکرٹری شاہ جہاں شاد نےکہاکہ 15 /اگست ہمارے لئےیادگار اور تاریخی دن ہے. ہندوستان کے آزدی کی تاریخ لمبی ہے. آزادی کا مطب ہے پیار و محبت کے ساتھ بغیر کسی بھید بھاو کے ہر ایک شہری کے ساتھ برتاؤ اور سلوک کا. آزادی نام ہے ہرکسی کے ساتھ عدل وانصاف کا. آزادی کا جشن مناتے ہوئے ہمیں یہ عہد کرنی چاہئے کہ ہم اس ملک کی تعمیر وترقی کی مکمل فکر کریں گے. اور اس ملک کی سالمیت اور بقا کا خیال  رکھیں گےیہ ہر شہری کی ذمہ داری ہے. جامعۃ القاسم دارالعلوم الاسلامیہ کے صدر المدرسين مفتی محمد انصار قاسمی نےمجاہدین وطن کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئےتحریک ریشمی رومال کاتذکرہ کیااور بتایا کہ مولانا عبداللہ سندھی نے ریشمی رومال پر رازدانہ خط لکھاجسے انگریز نے پکڑ لیا اور جیل میں قید کردیا مفکر اسلام مولانا ابوالحسن علی میاں ندوی کے بقول شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی انگریز کے پکے دشمن تھے ان کے تن اور من میں ان کی دشمنی سرایت کرگئی تھی یہی وجہ ہے کہ وہ جیل کی سلاخوں میں رہے لیکن آزادی کی جدوجہد کونہیں چھوڑا.جب گرم اور تپتے لوہے پرسلایاجاتااور کہاجاتا کہ جنگ آزادی کافتوی واپس لےلیں توجواب دیتے میں رسول عربی کے غلام کاادنی سا غلام ہوں. حضرت بلال (رضی اللہ عنہ) کاوارث ہوں. قاری شمشیر عالم جامعی. انجینئر ونود کمار. مفتی نسیم اظہرقاسمی. مفتی عقیل انورمظاہری نےاظہار خیال کیا. پرچم کشائی سے قبل طلبہ نےثقافتی تاریخی اور معلوماتی مختصر پروگرام پیش کیا. اور قومی ترانہ پڑھا. جامعہ میں عیدالاضحیٰ کی تعطیل کے باوجود قرب وجوار کے طلبہ اساتذہ. عوام اور برادران وطن نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور مل جل کر جشن آزادی منایا. مظہر حسین عثمانی ناظم جامعہ. مظفر حسین رحمانی. مولانا محمد عقیل قاسمی. قاری مشتاق عثمانی. نیاز احمد وغیرہ نے پروگرام کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا.