Select your Top Menu from wp menus

ہندوستان کی آزادی میں مسلمانوں کا کردار

ہندوستان کی آزادی میں مسلمانوں کا کردار
تحریر: تبریزفرازمحمدغنیف
ہمارا پیارا ہندوستان جس کے ایک ایک اینٹ سے ہمیں پیار ہے،جس کی محبت ہمارے رگ و ریشہ میں پیوست ہے، اس وطن عزیز میں کم و بیش سارے مذاہب کے ماننے والے لوگ زندگی بسر کرتے ہیں کثرت میں وحدت کا ہمارا یہ چمن بہترین مظہر پیش کرتا ہے اسی بنیاد پر یہاں کی تہذیب کو دنیا گنگا جمنی تہذیب سے یاد کرتی ہے الغرض اگر مجھ سے کوئی یہ سوال کرے کہ ہندوستان کسے کہتے ہیں تو میں  بلا تردد یہ کہہ سکتا ہوں کہ ٹیپو سلطان، مولانا آزاد، مولانا محمد علی جوہر، عبدالحمید خاں غازی پوری، خان عبدالغفار خاں،نواب سراج اللہ، شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی،شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، ڈاکٹر سید محمود، اشفاق اللہ خاں، مفتی عتیق الرحمن عثمانی، ڈاکٹر مختار احمد انصاری، مولانا مظہرالحق، مولانا جعفر علی خاں،عبدالحمید خاں اور دیگر مجاہدین آزادی کے خون و جگر سے سینچے گئے گلشن کا نام ہندوستان ہے۔ علامہ اقبال نے کیا ہی خوب کہا ہے.
   جب گلستاں کو خوں کی ضرورت پڑی
   سب سے پہلے  ہماری  ہی  گردن  کٹی
   پھر بھی کہتے ہیں ہم سے اب اہل چمن
   یہ    چمن   ہے   ہمارا    تمہارا   نہیں
مگر افسوس صد افسوس کہ آج وطن عزیز کے اندر زورو ستم کی تھپیڑوں نے ہمیں چور چور کر دیا ہے ظلم و استبداد کی زہر آلود ہوا پوری فضاء کو مسموم کر چکی ہے غضب بالائے غضب یہ کہ ہندو ہندی ہندوستان ملا بھاگوں پاکستان کے نعرے لگ رہے ہیں آزادی ہند میں مسلمانوں کے کردار کا انکار ہو رہا ہے اور یہ دعویٰ کیا جا رہا ہےکہ ملک کی اکثریت جب انگریزوں کے مقابلہ میں قید و بند کی صعوبتیں جھیل رہی تھی اور اس کے نوجوان آزادی وطن کی خاطر سینوں پر گولیاں کھا رہے تھے تو اس وقت عافیت و اطمینان کے زادیئہ راحت میں پڑے تھے اور خواب و خرگوش میں مصروف تھے گویا ہندوستان میں مسلمانوں کا کوئی حق نہیں ہے مادر وطن پر مسلمانوں کا کوئی احسان تک نہیں ہے۔
   ان لوگوں کو کیا وہ وقت یاد نہیں جب ہندوستان میں صنف نازک پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے جارہے تھے اور ہندی مفکروں کا یہ خیال تھا کہ عورت تو کذب کی بیٹی ہے، دوزخ کی رکھوالی ہے، امن کے دشمن ہے، سانپ سے زیادہ موذی ہے، مردوں کے لئے کھلونا اور گڑیاں ہے۔ ہم پوچھنا چاہتے ہیں کہ اے دانشوران قوم وہ کون ہے جس نے ہندی  عورتوں کا مقام بلند کیا تحت الثری سے اٹھاکر ثریا تک پہچا دیا ماؤں کو عظمت کا تاج پہنا دیا بیوی کو الفت کی دیوی بنادی بہنوں پر الفت کے پھول نچھاور  کردیا وہ مسلمان ہی تو ہے جس نے تارے سے چمک پھولوں سے مہک مانگی چاند سے چاندنی لے لی ۔
اے مسلمانوں کے  احسان کو فراموش کرنے والوں تاریخ سے پوچھو کہ 15 اگست 1947ء کے یوم آزادی میں کسنے  خون کی ہولیاں کھیلی تھی صرف کھیل ہی نہیں بلکہ کثیرالتعداد علماء کے گلے میں انگریزوں نے پھانسی کا پھندا ڈال دیا دہکتی آگ میں کون ڈالا گیا تھا ہاں وہ سب کے سب مسلمان تھے چھوڑوں آزادی کی تاریخ کو ذرا یہ بتاتے چلنا کے قطب مینار کے سنگریزوں میں کس کی قربانیاں ہیں، لال قعلہ کے حسین دیواروں میں کس کی داستانیں ہیں ہندوپاک جنگ کے وقت پاکستانی ٹینک کو تباہ کرنے والا کون تھا جسے تاریخ عبدالحمید خاں غازی پوری کے نام سے جانتی ہےہاں ہاں یہ ہمارے ہیں شاہ جہاں بھی ہمارا ہے اورنگ زیب وعالمگیر بھی ہمارے ہیں عبدالحمید بھی ہمارا ہے یہ سب کے سب مسلمان تھے اے وقت کے تعصب پسندوں ہماری قربانیوں کو کہاں تک تلاش کرو گے سارے چمن پر تو ہماری ہی داستانیں بکھری پڑی ہیں۔
  یوم آزادی کے خون کی ادنی مثال ہے اس جیسی ہزاروں مثالیں آپ کو اپنےگردوپیش مل جائیں گے اس کی تازہ ترین مثال”وندےماترم”کو قومی گیت کے روپ میں نافذ کرنے کی ناپاک حرکت ہے۔ ایک طرف تو یوم آزادی کا نعرہ لگایا جاتا ہے اور دوسری طرف مسلمانوں کو کلمہ کفر ادا کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔کیا یہی یوم آزادی ہے ؟
اگر اتنی ہی دیش  پریمی کا  خیال ہے تو علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ کےتاریخی ترانہ”سارے جہاں سے اچھا ” کو قومی ترانہ کے روپ میں کیوں قبول نہیں کیا جاتا؟ کیا صرف اسی وجہ سے کہ یہ ایک مسلمان کا لکھا ہوا ترانہ ہے؟
لیکن برادران وطن ہم سے چاہے جو بھی ناروا سلوک کرے ہمیشہ کی طرح ہماری زبان سے نکلے گا تو صرف یہی کہ:
     سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا
    ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا
آخر میں اللہ سے دعا ھے کہ اللہ جو لوگ کہتے ہیں کہ مسلمانوں نے ہندوستان کی آزادی میں اپنا خون نہیں بہایا اے اللہ انہیں صحیح سمجھ عطا فرما۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آمین
متعلم: جامعہ امام ابن تیمیہ
مقام : بریوا،ڈھاکہ ،مشرقی چمپارن
رابطہ نمبر: 7970366107