Select your Top Menu from wp menus

کیا ہم ھندی مسلمان، مومنین میں سے بھی ہیں؟

کیا ہم ھندی مسلمان، مومنین میں سے بھی ہیں؟
 نقاش نائطی
      +966504960485
دنیا کی سب سے بڑی، ایک چوتھائی ہندستانی مسلم آبادی، ہزاروں خداوؤں کی پرستش کرنے والے کفار کے سامنے، سمندر کے جھاگ برابر، بے وقعت ہوکر کیوں رہ گئی ہے؟
یہ ہم  کیسے بھول گئے ہیں کہ اسلام کی نشونما اپنے حسن اخلاق اور خدمت خلق  سے، انسانیت کے دل جیت کر ہی تو ہوئی ہے؟
اسلام کا شعار، تالیف القلوب انسانیت بھی ہے یا صرف صوم و صلاة ہی باقی رہ گیا ہے؟
اہل سنہ و الجماعہ کے اسلامی لبادے میں، نوئے فیصد ہم مسلمانوں میں، عملی طور رائج اسلام میں، ناقابل معافی بتائے گئے شرک و وبدعات کے رائج العمل ہونے ہی نے تو، “تنزلی مسلمانان ھند” کا اصل سبب تونہیں ہیں؟
کیا اسی لئے تو، ایسے بے وقعت انسان کو، جو اپنی بیوی اور اہل خانہ کا نہ ہوسکا، رب دو جہاں نے بطور  سزا،ہم 25 کروڑ مسلمانوں پر ظالم حکمراں کے طور نازل کردیا ہے؟
بن ماں باپ کا بچہ مکہ کی گلیوں میں پل کر بڑا ہوجاتا ہے۔شروع لڑکپن ہی میں عرب اقدار کی علامت،بھیڑ بکریوں کو چرانےاورانہیں صحرائی طوفان کی آمد سے قبل محفوظ مقام تک پہنچانے کے فن سے اشنا   چچا عبد المطلب کے  ساتھ پڑوسی ممالک کاتجارتی سفر کر، تجارتی گر بھی سیکھ  چکا ہوتا ہے۔لوگوں کا مال متاع، دوسرے ممالک لےجاکر بیچنے کے فن سے آشنا، مکہ ہی کی ایک بہت بڑی تاجرہ حضرت خدیجہ بنت خویلد کے مال  و متاع  کو، چند متعینہ شرائط پر دوسرے ملک لے جا بیچنے کی تجارتی شروعات ہو چکی ہے۔ خدیجہ بنت خویلد کے تجارتی صلاح کار (سیلس ایگزیکٹیو) کی حیثیت سے انکے غلام میسرہ آپﷺ ساتھ آپ کے معاون بن شریک سفر ہوتے ہیں۔ واپسی سفر میسرہ، اپنی مالکن سے،آپﷺکی تعریف کے پل باندھتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم نے محمدﷺ جیسا امین صادق تاجر زندگی میں نہیں دیکھا۔ فن تجارت کے ایسے ماہر کہ مال تجارت کی تعریف و توصیف میں ایسے قصیدے بیان کرتے ہیں کہ خریدار انکی طرف دوڑے چلے آتے ہیں۔اپنی مال تجارت کے نقائص کو بھی خریدار کے علم میں لاتے ہوئے، تخفیض سے سودا طہ کرتے پائےجاتے ہیں۔ان کی امانت و دیانت داری اور اخلاق حسنہ کی شہرت، تجارتی شہروں میں پھیل چکی ہوتی ہے
 آپﷺ 35 سال کی عمر کو پہنچتے ہیں۔ ایک عجیب واقعہ ظہور پذیر ہوتا ہے۔ طوفانی بارش کے چلتے، کعبہ کی دیوار ڈھ جاتی ہے اور حجر اسود بھی الگ ہوکر گر جاتا ہے۔ کعبہ کی دیوار کی مرمت بعد حجر اسود کی تنصیف کا مرحلہ آتا ہے تو مکہ کے تمام بڑے سردار اس مبارک جنت کے پھتر کو دیوار میں اپنے ہاتھوں رکھنے کا شرف حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اس بات پر اختلاف بڑھتے بڑھتے تلواریں بے نیام ہوجاتی ہیں۔اپنے اپنے خاندانی زعم میں ،کوئی بھی جھکنے تیار نہیں ہوتا نوبت خون خرابے تک آجاتی ہے۔ یہ کشمکش والے لمحات، پانچ دنوں کے توقف کے بعد بھی حل نہیں ہوپاتے ہیں۔پانچویں دن مکہ ہی کے ایک سردار ابو امیر مخدوم کی اس رائے پر کہ، دوسرے دن علی الصبح سب سے پہلے کعبہ اللہ کون تشریف لائے گا حجر اسود اسی کے ہاتھوں کعبہ کی دیوار میں نصب کیا جائیگا۔ اس پر اتفاق طہ پاجاتا ہے۔ دوسرے دن سرداران  مکہ، کعبہ اللہ تشریف لاتے ہیں تو وہاں پر 35 سالہ نوجوان محمد ابن عبداللہ کو دیکھ کر ایک آواز کہہ اٹھتے ہیں کہ یہ تو امین ہے، صادق ہے،اس سے کسی بھی قسم کی برائی سرزد ہوتے ابھی تک،ہم میں سے کسی نے نہیں پائی ہے۔ ہمیں منظور ہے کہ یہ اپنے دست مبارک سے حجر اسود کی تنصیب کریں۔ ایسے لمحات میں بھی آپﷺ ایک چادر بچھا حجر اسود کو اس پر رکھتے ہیں اور کہتے ہیں سب سرداران  مکہ چادر کو کونے سے پکڑ کر اٹھائیں اور خود اپنے دست مبارک سے حجر اسود کو متعین جگہ نصب کرتے ہوئے، تمام سرداران مکہ کے دل جیت لیتے ہیں۔
آپ ﷺ کی عمر چالیس سال کو پہنچتی ہے  کفار مکہ میں رائج شراب جوئے اور عورتوں کے ناچ گانوں کی محفلوں سے اداس، آپﷺ جبل نور کے غار ثور میں اللہ کی وحدانیت کے متلاشی ہوتے ہیں۔ جبریل آمین کا نزول ہوتا ہے اور “اقراء بااسم ربک الذی خلق” والی آیات کے ساتھ نبی آخر الزمان کے منصب پر متمکن ہو، ڈرے سہمے گھر پہنچتے ہیں۔ ڈر اورخوف سے بدن تپ کر کانپ رہا ہوتا ہے، آپ اپنی بیوئی امہات المومینین حضرت خدیجہ الکبری رضی اللہ عنہ سے چادر اوڑھنے کہتے ہیں امہات المومنین حضرت خدیجہ الکبری آپ ﷺ کی ڈھارس بندھاتے ہوئے کہتی ہیں، آپﷺ تو امیں ہیں صادق ہیں۔آپ ﷺنے تو کبھی کسی کا دل نہیں دکھایا ہے، کسی کو تکلیف نہیں دی ہے، ہمیشہ سب کے کام آتے رہے ہیں آپﷺ کے ساتھ اللہ تعالی کبھی برا نہیں کریگا
کچھ دنوں کے توقف کے بعد آپﷺصفا پہاڑی کے متصل۔۔۔۔۔۔۔ پہاڑی پر چڑھ کر مکہ والوں کو آواز دیتے ہیں۔جب سب مکہ والے جمع ہوجاتے ہیں تو آپ ﷺ ان سے مخاطب ہو پوچھتے ہیں کہ میں چونکہ پہاڑی پر کھڑا ہوں،پہاڑی کے اس طرف بھی دیکھ سکتا ہوں۔اگر میں کہوں کہ پہاڑی کے دوسری طرف ہتھیار بند دشمن ہمارے خاتمہ کے لئے جمع ہوچکے ہیں تو کیا تم میری بات پر یقین کروگے؟ مجمع سے  سب کی ایک  آواز گونجتی ہے  کہ ہم نے آپ کو ہمیشہ آمین اور صادق پایا ہےآپ جھوٹے نہیں ہوسکتے۔ ہم آپ کی بات کا یقین کرتے ہوئے اپنے اپنے گھروں میں جاکر ہتھیار لئے آتے ہوئے، اپنے دشمن سے دو دو ہاتھ کرنے، تیار آپ ہم کو پائیں گے۔
چالیس سال کی عمر تک پہنچتے نبی آخر الزماں کے منصب جلالی پر متمکن ہونے سے پہلے والی آپﷺ کے مختلف درجاتی عمر کے واقعات میں، ایک بات ہم نے مشترک، آپﷺ میں پائی ہے۔ وہ ہے آپﷺ کی امانت صداقت و لوگوں کے درمیان آپ ﷺ کے حسن اخلاق کا و شاندار نمونہ،جس کے لئے آپ ﷺ کے ازلی دشمن کفار مکہ بھی قائل تھے۔یہی وہ اصل نبوی اثاث ہیں جو فی زمانہ نبوی دعوت تا قیامت، کفار و مشرکین تک پہنچانے کی ذمہ داری پر متمکن، امت محمدیہ میں ناپید ہیں۔ مسلمان وضع قطعہ محمدی ﷺ تو اپنانے، ہمہ وقت تیار پائے جاتے ہیں، شان مسلمانی درشاتی،ٹوپی جبہ کرتا داڑھی بھی اپنانے تیار ملتے ہیں، لیکن اقدار نبوت  کے علمبردار، امانت و صداقت و معاملات معاشرت میں، آپﷺ کی پیروی کرنے سے، ہزار بہانے صاف مکرتے پائے جاتے ہیں۔عام ان پڑھ جاہل مسلمان تو کجا، علوم دینیہ کے علمبردار، علماء فضلاء و حفاظ کرام کی اکثریت بھی، معاشرتی معاملات کے عملی میدان میں، نہ صرف کوری، بلکہ یہود و نصاری و مشرکین ھنود جیسے کفاران وقت حاضر سے بھی گئی گزری پائی جاتی ہے۔یہی وہ اسباب ہیں کہ بنگلہ دیش کے بازار ہوں یا مایا نگری ممبئی کی منڈیاں، کسی مال تجارت کے اصلی ہونے کی یقین دہانی کا سوال اٹھتا ہے تو بنگالی، مارواڑی، گجراتی، مراٹھی تاجروں کو،”ہم میاں جی نہیں” کا ہم مسلمانوں پر طنز کسنا، صبر کے گھونٹ ہم مسلمین کو پیئے جانے پر مجبور کرتا ہے۔
ہماری شان مسلمانی کے تمام اقدار کو اغیار نے اپنا لیا ہے اور ہم اغیار کے اوصاف اپنائے نفل صوم صلاة اور ذکر و اذکار  کے عوض دنیا میں رہتے، آخرت کی دوزخ سے آمان، اور  جنت کے سودے کرتے پائے جاتے ہیں۔ بعد سقوط اسپین، ایک منظم سازش کے تحت، ہم مسلمانوں میں موجود، جہادی تڑپ کو سرد خانہ میں رکھ کر، ہمیں کثرت نفل اعمال کے بدلے جنت کے سودے کرنے کا گر، سکھلادیا گیا ہے یا ابھی تک تبلیغ دین ہی کے بہانے، ہم میں وہ ‘وصف خرید بہشت’ سرایت کیا جارہا ہوتا ہے۔ تب  پھر، ہم مسلمانوں کو، معاملات معاشرت و دین اسلام کی اقدار، امانت و صداقت سے کیا لینا دینا باقی رہ جاتاہے؟ یہی وہ اسباب ہیں ہم اللہ کے رسول، خاتم الانبیاء سرور کونیں حضرت محمد مصطفی ﷺ کی پیشین  گوئی، قرب قیامت کی نشانی، بقدر جھاگ سمندر سے بھی زائد،کثرت تعداد مسلمانی کے باوجود، کفار کے سامنے بے وقعت، کیا پائے نہیں جاتے ہیں؟ کیاہم فی زمانہ معاشرے میں اغیار کے سامنے، پیشین گوئی رسولﷺ، قوم مسلم کو بے بس و بے سروپا  نہیں پاتے ہیں؟
آج ہم مسلمین کے اس تنزل پزیری والے،بے بسی والے ماحول میں  بھی، اس سقم تنزلی قوم مسلم کو تلاش کر، اس پر قابو پاتے ہوئے و قرون اولی کی شان مسلمانی کے اقدار واپس لانے کی سعی کرنے کےبجائے،آج بھی، ہماری رسوائی و تنزلی کا سبب صوم و صلواة والے اعمال کی کوتاہی گردانتے، اسی طرف رجوع کرنے کی دہائی دیتے ہوئے، ہمیں اپنے اصل سبب یا ھدف تنزلی، امانت، صداقت و حسن اخلاق کے حصول سے،کوئی انجانی طاقت، قوت ابلیس، بعید و باز رکھنے میں کامیاب تو نہیں ہوپارہی ہے؟
 ہمارے اعمال  صوم و صلواة باوجود مختلف کوتاہیوں کے،ابھی بھی اتنے بابرکت ہیں کہ اغیار میں اس کی اتنی ہئیت و تکریم اللہ نے  باقی رکھی ہے کہ، جب وہ اپنی بیمار اولاد کے،اس تمدنی ترقی یافتہ ڈاکٹروں کےعلاج سے ناامید ہوجاتے ہیں تو اپنے بچوں کو اٹھائے مسجدوں کے باہرکھڑے، مسجد سے بازاروں گھروں کو لپکتے ہوئے، پھر سے معاشرتی جھوٹ کذب و دھوکا دہی والے اپنے عمومی اعمال سے، ایک مرتبہ پھر بھرشٹ یا گنہ گار ہونے سے قبل، ہم نمازیوں سے، دم کرواتے ہوئے، اپنے بچوں کو شفا یاب کر رہے ہوتے ہیں۔دراصل ہم مسلمانوں کا عزت و احترام بھلے ہی ان میں مفقود ہو،  ایک نمازی کی خیر وبرکات کے وہ معترف ہوتے ہیں۔ اسی لئے مسلم گھرانوں، دوکانوں کے آگے جاکر، معاملات  سے کوتاہ تر مسلمانوں کی پھونک پر اعتبار کرنے کے بجائے، مسجدوں سے لپکتے دنیادار نمازیوں کی پھونک بھی، ان کے لئے لائق اعتبار ہوتی ہے۔کیونکہ نماز کی برکاة  ابھی ان نمازیوں کے ساتھ چل رہی ہوتی ہے جو شیطانی عمل، معاملات کی کوتاہی کی وجہ ہم سے زائل ہو جانی ہے۔اور  پھر ایک مرتبہ ہم اپنی مسلمانی کی وقعت سے ماورا پائے جاتے ہیں۔
اللہ کے رسولﷺ کی ماقبل رسالت جوانی کی عملی زندگی،و بعد رسالت 23 سالہ مکی و مدنی زندگی، آپﷺ والے امانت صداقت و دیگر آداب معاشرت کے اوصول، خلفاءراشدین کی عملی زندگی،راتوں کو گشت کر ،صرف مسلمین ہی کی نہیں، یہود و نصاری پر مشتمل اپنی کل رعایا کی خبر گیری اور تالیف القلوب کے اصلوب پر عمل پیرآئی ہی، ہم مسلمیں کو اپنی کھوئی ہوئی عزت و توقیریت واپس دلا سکتی ہے۔کیا وہ لمحات ہم بھول چکے ہیں۔جب سرور کائینات خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفی صلی اللہ وعلیہ وسلم، گلی سے یہودی بڑھیا کو وزنی سامان لے جاتے دیکھ کر،اس کے ہاتھوں سے سامان خود ڈھوتے اس کے ساتھ چلتے،مکہ سے باہر، اس کے گھر پہنچا دیتے ہیں۔ آپ ﷺ کو اجرت پر کام کرنے والا مزدور سمجھ کر راستے پھر دوران گفتگو وہ آپ ﷺ ہی سے کہتی جاتی ہے کہ آجکل مکہ میں، کسی نے نبوت کا اعلان کیا ہوا ہے وہ چرب زبان ہے لوگ اس کی باتوں میں آجاتے ہیں، تو مجھے اچھا لگتا ہے اس لئے تو میری نصیحت مان، اس نبوت کا اعلان کرنے والے سے دور ہی رہنا ورنہ تیرا بھی دین بھرشٹ ہوجائیگا۔ آپﷺ خاموش سنتے اس بڑھیا کا سامان اٹھائے اسے اس کے گھر تک پہنچا دیتے ہیں۔وہ مزدوری دینا چاہتی ہے، آپ انکار کرتے کہتے ہیں اماں میں نے مزدوری کے لئے یہ آپ کی مدد نہیں کی۔اپنے اللہ کو راضی کرنے کےلئے  ہی، آپ کی مدد کی ہے۔اس بڑھیا کےپوچھنے پر جب آپﷺ اپنے نبی ہونے کی بات کہتے ہیں تو وہ یہودی بڑھیا آمنا  وصدقنا کہتے آپﷺ ہاتھ پر مسلمان ہوجاتی ہے.سیرت رسول ﷺ کے ان گوشوں جانتے بوجھتے اپنے میں وہ۔اخلاق حسنہ ہم نے کیوں نہیں پائے ہیں؟
ہم کیا وہ لمحات  بھی فراموش کرچکے ہیں جب خلیفہ المسلمین حضرت ابوبکر صدیق کا انتقال ہوجاتا ہے ،سرور کونین محمد مصطفی ﷺ کی ہدایات کی روشنی میں،خلیفہ ثانی کے منصب پر، اپنے جلالی کیفیت کے مالک حضرت عمر رض کو متمکن کیا جاتا ہے۔ منصب خلافت کی ذمہ داری سنبھالنے کا پہلا دن ہے آپ رض بیت المال چلے جاتے ہیں۔امین بیت المال سے پوچھتے ہیں کہ کیا تم حضرت ابوبکر صدیق رض کے کسی ایسے وصف کے بارے میں جانتے ہو جو مجھ سے اخفا یے تاکہ میں اس پرعمل کرسکوں اور ان کی قربت پاسکوں۔ پتہ چلتا ہے روزانہ بعد العشاء، فلاں گلی سے خاموشی کے ساتھ چلے جاتے تھے ہاں البتہ  ہفتہ مہینہ کے ایک مقرر دن آٹے کے بوری  دال و دیگر لوازمات لئے بھی اس طرف جاتے پائے گئے ہیں ۔حضرت عمررض یہ سنتے ہی اس گلی کی طرف جانے لگتے ہیں،آگے پوچھتے پاچھتے ایک جھونپڑی تک پہنچتے ہیں۔ اندر ایک نابینا یہودن بڑھیا بستر میں پائی جاتی ہے۔  آہٹ سن کر بڑھیا کہتی ہے،  دو دن سے کہاں رہ گئے تھے؟کیا تمہیں معلوم نہیں تمہارے علاوہ مجھ غریب کو روٹی پکا کر کھلانے والا کوئی نہیں ہے؟ حضرت عمر رض وصف بو بکر رض سے باخبر ہوجاتے ہیں۔چپکے سے چولہے کے پاس جاکر آٹا گوندھتے ہیں سالن پکاتے ہیں اور اپنے ہاتھوں سے یہودی بڑھیا کو کھانا کھلاتے ہیں اور پھر بڑھیا سے مخاطب ہوکر کہتے ہیں۔ اماں کیا آپ جانتی ہیں کل تک آپ کو روٹی سالن پکاکر کھلانے والے کون تھے؟ وہ مسلمانوں کے خلیفہ اول حضرت ابوبکرصدیق رض تھے ان کا کل انتقال ہوچکا ہے اور میں عمر بن خطاب ہوں۔ مجھے نہیں معلوم تھا آپ کے بارے میں۔  آج معلوم کرکے ابھی پہنچا ہوں۔بڑھیا روتی ہوئی کہتی ہے اچھا وہ بوبکر، مسلمانوں کے خلیفہ اول تھے جو  اتنے مہینے سے آکر مجھ یہودن کی خدمت کیا کرتے تھے اور کبھی اپنے بارے میں نہیں بتایا اور عمر بن خطاب تو نے پہلے ہی دن اپنا تعارف کرادیا؟ یہی وہ عمر بن خطاب ہیں جو بیت المال سے آٹے کی بوری اپنی پیٹھ پر لاد کر،ایسےمحتاجوں کے گھروں تک پہنچایا کرتے تھے،نوکر جب بوری اٹھانے پر اصرار کرتا، تو روتے ہوئے نوکر ہی سے سوال کر، اسے خاموش کرا دیتے تھے کہ میں مسلمانوں کا امیر المومنین ہوں۔رعایا کی خبر گیری و ان کی کفالت میری ذمہ داری ہے۔آج اس دنیا میں تو، توں آٹے کی بوری اٹھانے میری مدد کریگا، کل قیامت کے دن میری کوتاہیوں کا بوجھ بھی اٹھانے کیا آئیگا؟
ہمارے اسلاف کے یہ وہ شاندار اقدار تھے جو آج ہم مسلمانوں کی سیرت کی کتابوں میں دفن ہوکر رہ گئے ہیں۔ ہاں البتہ بارہ ربیع الاول کے ایام، علماء کرام کی تقآریر میں ان واقعات کو سن کر آنکھیں بھر آنے کا احساس تو ہم کرتے ہیں لیکن اپنی عملی زندگی میں لانے کی سوچنا  بھی گوارہ نہیں کرتے۔ شان مسلمین کے بر خلاف، رات بھر لہو لعب میں وقت گزاری اور دن ڈھلے تک سونے کی ہماری  اپنی عادات خبیثہ نے، فجر ظہر کی باجماعت نماز تو غائب کر ہی دی تھی دن ڈھلے تک سونے کی عادت نے دوپہر قیلیولہ کے وصف مسلمانی کو، جہاں اغیار نے اپنایا ہے وہیں مسلم نوجوان نسل قیلیولہ نام سے بھی ناآشنا لگتی ہے۔حصول دنیا کے بعض سنن تو ہمیں یاد ہیں لیکن، کئی کئی دنوں کی موسلا دھار بارش میں، جہاں مدارس و مکاتب کی تعطیل کا اعلان ہوتا ہے، مگر ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کے جمع تقدیم یا جمع تاخیر، نماز پڑھنے کی سنت کو معاشرے میں زندہ رکھنے کی فکر پر، تقلیدی بحث غالب آجاتی ہے،رب دو جہاں عرش معلی پر مستوی ہیں جیسے جذبہ ایمان پر،وحدت الوجود والی فکر، جتنے کنکر اتنے شنکر والے اقدار، ہر جگہ ہر چیز میں ہمیں اللہ نظر آنے لگتا ہے۔جس شرک کے کسی بھی صورت معاف نہ کئے جانے کی وعیدیں احادیث میں مکرر آئی ہیں، انہی شرک و وبدعات و اعمال شیعیت و رافضیت کو ہم نے،اہل سنہ و الجماعہ کے اسلامی لبادے میں، پوری طرح، اپنی زندگیوں کے معمولات کا حصہ بنایا ہوا ہے۔ ہزاروں سالہ دین حضرت نوح علیہ السلام ہندومت کے،برہمنوں کے ہاتھوں دان دکشنا  استحصال والی برائیاں، تبرعات کے بہانے ہمارے اہل سنہ اکابرین نے اپنائے ہوئے ہیں۔اپنے مطلب کے لئے فتوہ عمری ایک مجلس تین طلاق کے راجح ہونے کی رٹ لگائے، جہاں قرآن کے احکام کی کھلی خلاف ورزی کرتے، ہم پائے جاتے ہیں ، وہیں پر عدل عمری و شب کی تاریکیوں کا گشت کر رعایا کی خبر گیری اور دیگر اوصاف عمری پر عمل درآمد، گویا ہم ہمارے لئے ضروری ہی نہیں سمجھتے ہیں۔اور پھر بھی ہم قرون اولی کی مسلمانوں کے اقدار کے متمنی پائے جاتےہیں۔ ایسے میں اللہ نے ان جنونی سنگھئوں کو ہم پر آمر حکمران کے طور نازل کیا ہوا ہے تو کیا یہ رزاق دو جہاں کی طرف سے  ہم مسلمانوں پر امتحانی لمحات اور ہمیں متنبہ کرنے کی واضح نشانیاں نہیں ہیں؟
بغیر ایک وقت کی باجماعت نماز پڑھے، صحابی رسولﷺ قذمان رضی اللہ عنہ کو جہادی جذبہ کے ساتھ، جہاں جنتی ہونے کی بشارت کے سنا ہے، وہیں پر بے حساب اعمال کے ڈھیر اپنے ساتھ لے جانے والوں کو،معاشرتی آداب و لین دین کی کوتاہی کے سبب،آخرت کے مسکینوں میں سے ہونے کی بات، خود نبی آخر الزماں ﷺ کی، احادیث مبارکہ کے ذریعے سے کیا ہم نے نہیں سنی ہیں؟ خود اپنی لاڈلی بیٹی حضرت فاطمہ کو مخاطب کر، حضورﷺ  کا یہ قول ہم تک کیا پہنچا نہیں ہے کہ بیٹی فاطمہ، رسول اللہ ﷺ کی بیٹی ہونے کا فائدہ  قبر و آخرت میں تجھے کچھ نہ ملیگا۔قبر برزخ و آخرت میں اپنے اپنے اعمال ہی کام آئینگے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے غرباء ومساکین کو خیرات و صدقات کے جتنے فوائد بتائے تھے اور بنی نوع انسانیت کی خدمت کر، اپنے رب کی رضا کو پانے کا گر جو ہمارے نبیﷺ نے ہمیں مکرر بتایا تھا،ان تمام احکامات پر صرف نظر کر ہم، اپنے اعمال ہی کے بل پر، جنت کے حصول کے متلاشی پائے جاتے ہیں
غریب کی بیٹیاں اپنے والدین کے مسکین ہونے کے سبب،جہاں گھر بیٹھی، اپنے کالے بالوں میں چمکتے لہراتے فضی مائل بالوں کو دیکھ کر تڑپ اٹھتی ہیں،وہیں پر ہمارے روساء، ہر رمضان و ایام حج فائیو اسٹار نفل عمرہ اور حج کرنے ہی کو  آپنی آخرت سنوارنے کا، آخری حل سمجھتے ہیں۔مسلم روساء کی بیٹیوں کی شادیوں پر ہونے والا اصراف،بیسیوں غرباء کے گھر بساتے ہوئے، امت محمدیﷺ کے بڑھوتری کا باعث بن سکتے ہیں۔لیکن اپنی آل اولاد کی فکر میں ہی جینے کا وصف ہم مسلمانوں نے خوب اپنایا ہوا ہے۔تقدیر پر مکمل ایمان رکھنے والے ہم مسلمین، اپنی اولاد کے لئے، ڈھیر ساری دولت ترکہ میں چھوڑنے کی سعی میں،بعض وقت ہم اپنی عاقبت برباد کرتے بھی پائے جاتے ہیں۔ کاش کہ ہم مسلمانوں میں، اپنی آل اولاد کے علاوہ، مسلم  غیر مسلم  مساکین وغرباء کے تالیف القلبی کا جذبہ بھی جاگے۔ہر قریہ گاؤں شہروں میں مسلم روساء کی طرف سے، فی سبیل اللہ لنگر خانے کھولے جائیں تاکہ کسی بھی انسان کو بھوکے پیٹ سونے کی نوبت نہ آئے اور انسانیت تڑپ نہ اٹھے۔ صاحب حیثیت مسلم برادران، ہاسپٹل اور شفاخانوں کے دورے کرتے پائے جائیں تاکہ پیسوں کی کمی کی وجہ، کسی مفلس مریض کو تڑپتے سسکتے قبل از وقت مرنے کی دعا کرتے، اور انسانیت کو شرمسار کرتے کوئی نہ پائے،عمر تجاوز کرتی باکرہ بہنوں کے، بستر پر تڑپنے کی کسک، بارگاہ ایزدی کو لرزہ بہ اندام کرتے، اس کے وبال سے ہم صاحب حیثیت مسلمانوں کو برباد کئے جانے سے قبل ہم سنبھلنے اور ان باکراؤں کے نکاح کا بندوبست کرنے والے مسلمان ہم بنیں۔ الغرض حقوق العباد کا خیال رکھنے والے ہم بنیں اپنے معاشرے کو قرون اولی کے اسلامی معاشرے میں تبدیل کرنے کی جہد کرنے والوں میں سے ہم پائے جائیں وما علینا الا البلاغ
HTML Snippets Powered By : XYZScripts.com