Select your Top Menu from wp menus

حضرت مولانا محمد طلحہ کاندھلوی کے انتقال پر مولانا سید ارشدمدنی صدرجمعیۃعلماء ہندکا اظہارورنج وغم

حضرت مولانا محمد طلحہ کاندھلوی کے انتقال پر مولانا سید ارشدمدنی صدرجمعیۃعلماء ہندکا اظہارورنج وغم

نئی دہلی 13/اگست
شیخ الحدیث حضرت مولانامحمد زکریا کاندھلوی مہاجر مدنی ؒ کے خلف ارشد حضرت مولانامحمد طلحہ صاحب کے انتقال پر ملال پر صدرجمعیۃعلماء ہند مولانا سیدارشدمدنی نے اپنے گہرے رنج ودکھ کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ مولانا مرحوم پچھلے نصف صدی سے دعوت وتبلیغ اور عوام کی اصلاح وتربیت کیلئے سرگرم عمل رہے ہیں، مولانا مرحوم اپنی سادگی،منکسرالمزاجی اورملنساری کی وجہ سے ہر طبقہ کے لوگوں میں مقبول تھے، اعتدال،توازن اور توسع وکشادہ نظری ان کاامتیازی وصف تھا، آپ نے اس مادی دورمیں دنیا سے بے رغبتی اور رجوع الی اللہ کی جو نظیر پیش کی ہے وہ کم دیکھنے کو ملتی ہے، ہر وقت ذکر الہی سے زبان کو سرشار رکھنا آپ کا محبوب وطیرہ تھا آپ نے بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ اپنے والدبزرگوارکے حلقہ ارادت کو نہ صرف سنبھالا بلکہ وسعت دی، والدبزرگوار کی طرح حضرت مولانا کی مجلس اور دسترخوان بڑا وسیع تھا، مختلف المزاج اور مختلف نظریات کے لوگ اگر کسی جگہ جمع رہتے تھے تو صرف یہی خانقاہ تھی،حضرت مولانا نے بھی اپنے والد مرحوم کی طرح اس روایت کو باقی رکھا تھا، مولانا مرحوم ابتدائی تعلیم جامعہ مظاہر العلوم سہارنپورسے حاصل کرنے کہ بعد مدرسہ کاشف العلوم بستی حضرت نظام الدین مرکز میں اپنی تعلیم کی تکمیل کرتے ہوئے 1383 ھ میں دورہ حدیث شریف سے فارغ ہوئے، آپ نے بخاری شریف حضرت مولانا محمد انعام الحسن ؒ سے اور طحاوی شریف حضرت مولانا یوسف ؒ سے پڑھی فراغت کے بعد حضرت مولانا شاہ عبدالقادررائے پوری ؒ سے بیعت ہوئے لیکن بیعت کی اجازت وخلافت اپنے والد بزرگوارسے ملی، آپ معروف بزرشخصیت حضرت مولانا افتخارالحسن ؒ کے دامادتھے، اورحضرت مولانا الیاسؒ بانی تبلیغ کے نواسے تھے، مولانا مرحوم تاحیات مدرسہ مظاہر علوم سہارنپورکے سرپرست رہے اوردارالعلوم دیوبند کے رکن شوریٰ بھی رہے۔ایسی شخصیت کا داغ مفارقت دے جانا ایک عظیم سانحہ ہے۔
مولانا مرحوم کے ہزاروں متوسلین اور خوشاں چیں دنیا کے ہر گوشہ میں پھیلے ہوئے ہیں جو دینی خدمات انجام دے رہے ہیں،جو مرحوم کے آخری زندگی کیلئے بڑاسرمایہ ہے، صدرجمعیۃعلماء ہند نے اپنے تعزیتی بیان میں مولانا مرحوم کے پسماندگان اوررفقاء اورمتعلقین سے تعزیت کی ہے اور جماعتی رفقاؤاہل مدارس سے مولانا مرحوم کیلئے ایصال ثواب اور دعامغفرت کے لئے اپیل کی ہے۔