Select your Top Menu from wp menus

دفعہ ۳۷۰؍کی تنسیخ :وادی اور وعدہ 

دفعہ ۳۷۰؍کی تنسیخ :وادی اور وعدہ 

ندیم عبدالقدیر
(فیچر ایڈیٹر، روزنامہ اردو ٹائمز ممبئی)

آرٹیکل ۳۷۰؍کی تنسیخ کثیر رخی اثرات رکھتی ہے لیکن کچھ وقت کیلئے   چلئےہم اس کے صرف ایک رخ کے علاوہ سارے پہلوؤں کو بھول جاتےہیں۔ کچھ دیر کیلئے ہم اس بات کی پروا نہیں کرتےہیں کہ اس سے وادی میں دہشت گردی میں اضافہ ہوگا، ہم اس بات کو بھی فراموش کردیتےہیں کہ کشمیری عوام میں ناراضگی پھیلے گی، ہم اس بات کو بھی نظر انداز کردیتےہیں کہ پاکستان کس طرح کے رد عمل کا اظہار کرے گا، ہم اس بات کی بھی پروا نہیں کرتے ہیں کہ اقوام متحدہ کا رخ کیا ہوگا، ہم یہ بھی بھول جاتےہیں کہ عالمی برادری کیا کرے گی۔ یہ ساری باتیں بھول جانے کے باوجود بھی ہم ایک بات نہیں بھول سکتےہیں اور ہمیں نہیں بھولنا چاہئے، وہ ہے ہماری ہزاروں سال پرانی روایت، تہذیب، ثقافت، اصول اور اخلاق ۔ ہندوستان کو ہمیشہ سے ہی اپنی صدیوں پرانی عظیم روایت اور تہذیب پر فخر رہا ہے۔ یہ تہذیب انسانی ہمدردی اور  اخلاقی اقدار کی بالادستی پر قائم ہے ۔ ہم  اس بات کا ڈھنڈورا پیٹتے نہیں تھکتے کہ دنیا کو اخلاق کا درس ہم نے دیا ہے ۔تقریباً ہر ۱۵؍اگست کو ہمارے وزرائے اعظم لال قلعہ کی فصیل سے ہماری صدیوں پرانی  شاندارروایت کا بکھان کرتےہیں۔ ہم نے اپنی صدیوں کی اعلیٰ ظرفی کیلئے لوک کہانیاں لکھیں، افسانے لکھے اور شاعری کی ۔ ہم نے لکھا؎ سنوتو گنگا یہ کیا سُنائے
کہ میرے تٹ (ساحل) پر وہ لوگ آئے
جنہوں نے ایسےنِیّم  (اصول) بنائے
کہ پران (جان ) جائے پر ،وچن (وعدہ) نہ جائے
’جان جائے لیکن وعدہ نہ ٹوٹے(پران، جائے پر، وچن نہ جائے)ہماری تہذیب کا بہت پرانا اور قابل فخر  اصول رہا ہے۔  وہ ہندوستان جو ہزاروں سال سے بنی نوع انسان کو اخلاق اور انسانیت کے کئی درس دیتا رہا ہے اُس ’ہندوستان‘ نےریاست کشمیر سے ایک وعدہ کیا تھا۔ اس وعدہ کو ہم نے اپنے آئین کا تحفظ بھی دیا اور اسے دستور کی دفعہ ۳۷۰؍ میں تحریری طور پر شامل بھی کرلیا تاکہ کشمیریوں کو اس بات کا  پختہ یقین ہوجائے کہ یہ وعدہ صرف زبانی نہیں ہے ۔ یہاں یہ بات یاد رکھنے والی ہے کہ یہ وعدہ کسی ایک فرد نے ، کسی ایک جماعت نے ، کسی ایک گروہ نے ، یا کسی ایک سیاسی پارٹی نے نہیں کیا تھا  بلکہ  ’جمہوریہ ہند‘ نے کیا تھا، اور ہم جب بھی’جمہوریۂ ہند‘   کا ذکر کرتےہیں تو وہ صرف ۷۰؍سال کی تاریخ نہیں ہوتی ہے وہ ہزار وں سال کی شاندار روایت ہوتی ہے۔
۵؍اگست کو ہم نے اپنا وعدہ توڑ دیا۔ اس دن ہم نے اپنے ’پران جائے پر وچن نہ جائے‘ کے اصول کو پامال کردیا۔ اس وعدے کا توڑا جانا دنیا کےلئے چاہے جو بھی ہو، کشمیریوں کےلئے چاہے جو بھی ہو، پاکستان کےلئے چاہے جو بھی ہو،لیکن یہ خود ہندوستان کی عظیم روایت کی کھلی رسوائی ہے۔ یہ ہماری ہزاروں سال پرانی تہذیب و ثقافت پر ایک گہرا سیاہ دھبہ ہے ۔ یہ اگر کسی کی توہین ہے تو صرف  عظیم ہندوستان کے اعلیٰ اصولوںکی توہین ہے ۔یہ کام اگرکسی ایک فرد ، کسی ایک گروہ یا جماعت نے کیا ہوتا تب تو اسے اُس فرد ،گروہ یا جماعت کی بداخلاقی اور وعدہ خلافی  کہا جاسکتا تھا اور اس سے ہندوستان کی   عظیم روایت پر آنچ نہیں آتی لیکن ملک کی پارلیمنٹ نے اسے منسوخ کرکے سب کچھ تہس نہس کردیا۔  یہ عالمی برادری کے سامنے ہندوستانی روایت کی اہانت ہے اور یہ کام ملک کی سب سے وطن پرست جماعت نے کیا ہے ۔  وعدہ کو وفا کرنے کی ہم نے اپنی ہزاروں سال کی ثقافت کا گلا گھونٹ دیا۔اُدھردنیا خاموشی سے دیکھ رہی ہے کہ ہندوستان اپنے  ہی اصولوں کو نوچ کر کتنا خوش ہے۔عالمی برادری یہ بھی دیکھ رہی ہے کہ زمین حاصل کرنے کیلئے ہندوستان کس طرح کا برتاؤ کررہا ہے۔
آرٹیکل ۳۷۰؍کی منسوخی کے بعد جو کچھ بھی ہوا بالکل ویسے ہی حالات ملک نے ۱۹۸۴ء میں بھی دیکھے تھے۔ جس طرح پورے پنجاب میں کرفیو لگا دیا گیا تھا  بالکل اُسی طرح وادی میں کیا گیا۔ جس طرح آپریشن بلیو اسٹار کے بعد پورے ملک میں جشن اور شادمانی کا سماں تھا بالکل اسی طرح ۳۷۰؍کی تنسیخ پر بھی ملک میں فرط و انبساط کی لہر ہے ، لیکن آپریشن بلیو اسٹار کے بعد کیا ہوا وہ بھی ہم سب جانتےہیں۔
اس تنسیخ کیلئے دلیل کی جتنی بھی پیوندکاری اور جواز کی جتنی بھی کشیدہ کاری کی گئی وہ ساری کی ساری بیکار ہے۔ دفعہ کو منسوخ کرنے کے بعد عوام کو یہ بتایا جارہا ہےکہ اب آپ کشمیر میں زمین خرید سکتے ہیں۔ کیا واقعی اب ہندوستانی عوام وادیٔ کشمیر میں زمین خریدنے کےلئے نکل پڑیں گے؟ اس بات کو ہم ’کشمیری پنڈتوں‘ کی حالت سے سمجھ سکتےہیں۔ کشمیر میں بسنے کی بات ’کشمیری پنڈتوں‘ کے سوائے سب کررہے ہیں۔ کشمیری پنڈت ہی کشمیر لوٹنے کی بات سے کترا رہے ہیں۔  سوال یہ ہے کہ اگر ۳۷۰؍کی منسوخی کے بعد وادی امن و امان کا گہوارہ بننے جارہی ہے تو پھر اس کی افادیت سے کشمیری پنڈت کیوں اپنے آپ کو محروم رکھ رہے ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ہم سب جانتے ہیں کہ وادی کشمیر میں کوئی نہیں جائے گا۔جن کی وہاں زمینیں ہیں وہ وہاں جانے کی ہمت نہیں کررہےہیں تو بھلا وہ کیسے جائے گا جس کی وہاں زمین بھی نہیں ہے  ۔بہرحال جموں میں یہ کام ہوسکتا ہے۔ ۳۷۰؍کے خاتمہ کے بعد اگر کہیں آبادی کے تناسب میں فرق آئے گا تو وہ یقینا جموں  کا ہی خطہ ہوسکتا ہے ۔ یہ بات جموں کے مکینوں کیلئے خطرناک ہے ۔ جموں میں اس بات پر اندر ہی اندر باتیں چل رہی ہیں کہ اگر جموں و کشمیر سے باہر کےلوگ جموں میں جوق در جوق آنا شروع ہوگئے تو اُن کا خود کا مستقبل کیا ہوگا؟ جموں کے بی جےپی کے رکن اسمبلی کا ایک ویڈیو بھی اس حوالے سے سامنے آگیا ہے ۔ جموں کے لوگوں کو اندیشوں نے آ گھیرا ہے۔
۳۷۰؍کی منسوخی کیلئے یہ دلیل یہ بھی دی گئی کہ اس سے جموں و کشمیر میں ترقی کا نیا سورج طلوع ہوگا۔  اگر ۳۷۰؍ نے ہی اس سورج کو گہن لگا رکھا تھا  تو ملک کی دوسری ریاستوں میں ترقی کا یہ سورج اب تک طلوع کیوں نہیں ہوا؟ وہاں تو کوئی ۳۷۰؍بھی نہیں ہے ۔ بہار ، یوپی ، مدھیہ پردیش اور راجستھان وہ ریاستیں ہیں جو معیشت کے معاملے میں کشمیر سے پیچھے ہیں۔   ۱۸۔۲۰۱۷ء کی   بے روزگاری کی رپورٹ کے مطابق ہندوستان کی ۲۵؍ میں سے ۱۸؍ریاستوں کی حالت کشمیر سے زیادہ بری ہے اور اس میں دہلی  جیسی ترقی یافتہ ریاست بھی شامل ہے ۔ اترپردیش، بہار، جھارکھنڈ وغیرہ کی تو بات ہی درکنار۔ جہاں تک ۳۷۰؍کی تنسیخ سے دہشت گردی کے ختم ہوجانے کی یقین دہانی ہے، تو یہ یقین دہانی اس سے پہلے بھی کئی بار کی جاچکی ہے ۔ نریندر مودی کے وزیر اعظم بننے سے پہلے امیت شاہ نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ مودی کے وزیر اعظم بن جانے کے بعد دراندازی ختم ہوجائے گی ، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ نوٹ منسوخی کے وقت بھی یہی بات کہی گئی کہ اس سے دہشت گردی ختم ہوجائے گی، محبوبہ مفتی حکومت سے تعاون واپس لیتے وقت بھی یہی بات دہرائی گئی اور اب ۳۷۰؍کو منسوخ کرنے کیلئے بھی اسی جواز کا سہارا لیا گیا، لیکن دہشت گردی ہے کہ ہر لمحہ کے بعد بڑھتی ہی گئی۔
اس قدم سے اگر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے    پاکستان کو چوٹ  پہنچائی  ہے تو یہ سوائے بےوقوفی کہ کچھ بھی نہیں ہے ۔ پاکستان بھلے ہی مگر مچھ کے آنسو بہا رہا  ہو لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ دل ہی دل میں جشن منا رہا ہوگا۔ کشمیریوں کے دلوں میں علیحدگی پسندی کے جذبات کو بھڑکانا پاکستان کےلئے مشکل کام تھا۔ مٹھی بھر نوجوان تو اس کے بہکاوے میں آجاتے تھے لیکن اکثریت اس کی قائل نہیں تھی۔ دفعہ ۳۷۰؍کی تنسیخ نے پاکستان کا کام انتہائی آسان کردیا۔ وہ اس لئے بھی خوش ہے کیونکہ اس کے پاس ہندوستان کے خلاف کوئی ٹھوس کیس   نہیں تھا،جسے وہ عالمی سطح پر اٹھاپاتا تھا اُلٹا ہمارے کے پاس دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کے خلاف کافی کچھ تھا ۔۳۷۰؍منسوخ کرکے ہم نے پاکستان کو ایک ایسا تحفہ طشتری میں سجا کر دے دیا جو اس کے نعمت غیر مترکبہ سے کم نہیں ہے ۔ کشمیر اور پاکستان اب کیا کریں گے یہ   آنے والا وقت ہی بتائے گا  لیکن فی الوقت ہم نے بہ حیثیت ایک ذمہ دار اور مہذب ریاست کے، نہ صرف اپنی ہزاروں سال کی روایت کو پامال کیا ہے بلکہ دنیا کو یہ موقع بھی دیا ہے کہ آنے والے وقت میں کوئی بھی ملک (خصوصاً اگر وہ کمزور ہے تو) ہمارے کسی بھی وعدہ پر یقین نہ کرے۔