Select your Top Menu from wp menus

ہاں!کچھ تلخ حقائق

ہاں!کچھ تلخ حقائق

غلام علی اخضر

gaobaidi@gmail.com

ہاں !ہم اس دیس میں رہتے ہیں ،جہاں سیاسی لیڈران جمہوریت کے نام کا شراب پلاپلا کر عوام کو گمراہ کرتے ہیں اور عوام یہ جانتے ہوئے کہ ہم گمراہ کیے جارہے ہیں،پھر بھی ان سے اچھائی کی امیدیں رکھتی ہے؛جب کہ صرف بربادی ہے۔ ہاں !ہم اس دیس میں رہتے ہیں ،جہاں کی گنگاجمنی سرکاری پالیسی چرمراگئی ہے۔ ہاں !ہم اس دیس میں رہتے ہیں،جہاں کی رہنمائی بدنام زمانہ اشخاص کرتے ہیں۔ جس کی سچائی یوگی،امت شاہ،پرگیہ ٹھاکور جیسے لوگوں کاحکومتی نظام کاحصہ ہونا ہے۔ ہاں !ہم اس دیس میں رہتے ہیں ،جہاں ’’بیٹی بچائو بیٹی پڑھائو‘‘کے نعرے تو لگتے ہیں،مگرخود حکومت کے رکھوالے اور دیگر درندے آئے دن بیٹیوں کی عزت تارتار کرتے ہیں۔ ہاں !ہم اس دیس میں رہتے ہیں ،جہاں عصمت تار تار کرنے والوں کے ساتھ سرکار کھڑی رہتی ہے۔ ہاں! ہم اس دیس میں رہتے ہیں ، جہاں کے پردھان منتری ہرغیر ملکی دورے میں آتنک سے مُکت پانے کی فکر ظاہر کرتے تو ہیں لیکن خود آتنک قول وفعل کے وحشیوں کو اپنی سیاست میں جگہ اور بھکتوںکو آتنک مچانے کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہیں۔ ہاں !ہم اس دیس میں رہتے ہیں ،جہاں کشمیر کو اپنے دیس کا اَٹوٹ حصہ تو مانتے ہیں مگر کشمیریوں سے بغض رکھتے ہیں۔ ہاں !ہم اس دیس میں رہتے ہیں ،جہاں جنت نماکشمیر کو سیاسی بدنیتوںنے جہنم بنادیا۔ ہاں ! ہم اس دیس میں رہتے ہیں ،جہاںکشمیرسے 370کے ا ہم احکامات کو صرف اس لیے ہٹایا جاتا ہے، کیوں کہ وہ ایک مسلم اکثریتی اسٹیٹ ہے ۔ اگر یہ سچ نہیں تو پھر اس کے مثل دھارا دیگر ریاست میںکیوں برقرار ہے؟ صرف اس لیے کہ وہ مسلم اکثریتی اسٹیٹ نہیں ہے ؟۔ یہ فیصلہ دیس کے لیے نہیں ہوا بلکہ اس سے آرایس ایس کے ارادے کی تکمیل ہوئی۔ جن رہنمائوں کویہ لگتا ہے کہ یہ صرف سیاسی مسئلہ ہے تو سورج کے سامنے چمگاڈر کی آنکھ دیکھنے سے قاصر ہے تو اس کا کیا علاج۔ ہاں !ہم اس دیس میں رہتے ہیں ، جہاں غیروںسے اسلام کو وہ نقصان نہیں جتنا تلوے چاٹنے والے مسلمانوں سے ہے۔ ہاں !ہم اس دیس میں رہتے ہیں ، جہاں دیس بھکتی کی آڑ میں کسی کی جان لے لینا عام بات ہے۔ ہاں !ہم اس دیس میں رہتے ہیں ، جہاں کے ’’ایوان بالا‘‘کوایک خاص رنگ اور ذہنیت میں رنگنے کی کوشش جاری ہے۔ ہاں !ہم اس دیس میں رہتے ہیں ، جہاںنعرہ’’جے شری رام‘‘روحانیت کی غذا ہونے کے بجائے جان لیوا زہر ہے۔ ہاں !ہم اس دیس میں رہتے ہیں ، جہاں اَقلیت کو ہمیشہ سیاسی جماعتوں نے اپنے فائدے کے لیے استعمال کیا ہے۔ ہاں !ہم اس دیس میں رہتے ہیں ، جہاں کا وزیر اعظم جھوٹ بولنے میں اپنی مثال آپ رکھتے ہیں اور من گھڑت تاریخ کو پیش کرنے میں ماہر فن ہیں۔ ہاں !ہم اس دیس میں رہتے ہیں، جہاں ایک چائے بیچنے والے کو حکومت ملی ہے جو روزی کمانے کی مثال پکوڑے بیچنے سے دیتا ہے ۔ ہاں !ہم اس دیس میں رہتے ہیں ، جہاں اکثریتی میڈیا گودی میڈیا ہے۔ اگر سرکار دن کو رات کہے تویہ رات بولے۔ ہاں !ہم اس دیس میں رہتے ہیں ، جہاں الیکشن کے دور میں مسلم مخالف بیان دینا ووٹ بینک ہے۔ ہاں !ہم اس دیس میں رہتے ہیں، جہاں انگریزوں کی غلامی کے مثل آرایس ایس کی غلامی کی جاتی ہے۔ ہاں !ہم اس دیس میں رہتے ہیں ،جہاں اب انگریز پالیسی پر حکومت ہورہی ہے۔یعنی ’’پھوٹ ڈالو حکومت کرو‘‘۔ ہاں !ہم اس دیس میں رہتے ہیں ،جہاں مذہبی افیم سونگھاسونگھا کر بھکتوں کونشے میں مست رکھے جاتے ہیں۔ جس کی وجہ سے لوگوں کو بربادی کی راہ بھی کامیابی کی منزل معلوم ہونے لگتی ۔ ہاں !ہم اس دیس میں رہتے ہیں ،جہاںوسیم رضوی جیسے نہ جانے کتنے بدنام زمانہ لوگ عیش و عشرت میں زندگی گزارتے ہیں۔ ہاں !ہم اس دیس میں رہتے ہیں ، جہاں مسلمان اپنی بیوی کو یک بارگی تین طلاق دے تو انھیں تین سال کی سزا مگر اکثریتی طبقے کے لوگ اپنی بیوی کو چھوڑے تو ایک سال کی ۔ جب کہ سپریم کورٹ یک بارگی تین طلاق کو طلاق ہی نہیں مانتی تو معلوم نہیں سزا کس بات کی۔شاید صرف اس لیے کہ وہ مسلمان ہے؟ ہاں !ہم اس دیس میں رہتے ہیں ، جہاں یک بارگی تین طلاق دینے والے کو سوھار نے کاحل تین سال جیل کی سزا ہے مگر عورت زندگی کیسے بسرکرے گی اور کورٹ دوڑنے کے خرچ کے کیا ذرائع ہوں گے۔ اس کا سولیوشن نہیں ہے۔ ہاں !ہم اس دیس میں رہتے ہیں ، جہاں کی سرکارکویہ بھی معلوم نہیں ہے کہ وہ مرد جو اپنی بیوی کی وجہ سے تین سال جیل میں رہ کر باہر آئے گا تو ہ بیوی کے ساتھ خوشی خوشی زندگی گزارے گا؟اور اگر معلوم ہے، تو پھر مسلم دشمنی ہے۔مگر کچھ کم عقل اور دینِ متین کو اپنی سمجھ کے مطابق سمجھ رکھنے والے پھولے نہیں سمارہے ہیں۔ ہاں !ہم اس دیس میں رہتے ہیں ،جہاں غربت دن بدن ترقی پر ہے۔ بے روزگاری کی شرح نے چالیس سال کا ریکارڈ توڑاہے مگر اس کے باوجود ہم ’’پٹیل ‘‘کی مورتی بنانے میں3000ہزارکروڑاور چندریان 2کے لیے 978کڑور خرچ کردیتے ہیں۔ ہاں !ہم اس دیس میں رہتے ہیں ، جہاں گائو مُترپینے میں شفا سمجھاجاتاہے۔ ہاں !ہم اس دیس میں رہتے ہیں ،جہاں کی فلموں میں ایک خاص طبقے کی وضع قطع کے ساتھ مجر مانہ سِین دِکھادِکھاکر اس وضع قطع والوں کے خلاف ایک بڑی جماعت کے دماغ میں زہر بھردیاہے۔ ہاں !ہم اس دیس میں رہتے ہیں ، جہاں انگریز سے آزادی تو ملی ہے مگر اس کی پالیسی اور تہذیب کے آج بھی ہم غلام ہیں۔ ہاں !ہم اس دیس میں رہتے ہیں ، جہاں کی حکومت ملکۂ وکٹوریہ اور ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرح پالیسی اور ہٹلری رویہ رکھتی ہے۔ ہاں !ہم اس دیس میں رہتے ہیں ، جہاں اردو والے اردو، اردوکا رونا روتے توہیں مگرموقع ملتے ہی خود نام نہاد رونا رونے والے اس کی ترقیاتی رقم کوہضم کرجاتے ہیں۔ ہاں !ہم اس دیس میں رہتے ہیں ، جہاں کی جیل میں بھی مذھبی منافرت ہے۔ ہاں! ہم اس دیس میں رہتے ہیں، جہاںآزادی کے لیے مرمٹنے والے کو یاد کرنے پرپابندی عائد کردی جاتی ہے۔ ہاں ہم وہ قوم ہیں،جو تدبیر میں درد کی دوا ڈھونڈنے کے بجائے صرف تقدیر تقدیر کا رٹّا لگائے رہتے ہیں۔ ہاں ! ہم وہ قوم ہیں، جس کے رہبران اتحاد کے راستے ہموار کرنے کے بجائے فرقوں اور جماعتوںمیں ہمیں باٹ دیے ۔ ہاں ! ہم وہ قوم ہیں، جس کے 80؍فیصد مذہبی محافل تجارت کے اچھے ذریعے ہیں۔ ہاں ! ہم اس قوم سے ہیں، جس کے رہبران ایسے خواب خرگوش میں ہیں کہ ابابیلوں کی آواز بھی اسے بیدار نہ کرسکے۔ ہاں!ہم اس قوم سے ہیں، کسے کب کہاں بے گھر کردیا جائے، کہنا مشکل ہے۔ اس کے باوجودرہبران کے سرمیں جوں تک نہیں رینگتی-آج خانقانوں سے امید شبیری رکھنا صرف احمقانہ عقیدت ہے۔ باتیں کڑوی ہے۔۔۔ مگر…یہ یاد رہے !-جو حقیقت ہے۔ اسے سویکار کرنا چاہے ۔

HTML Snippets Powered By : XYZScripts.com