Select your Top Menu from wp menus
سرخیاں

کانگریس اور دوسری سیاسی پارٹیاں کہاں ہیں اور کیا کر رہی ہیں؟؟؟

کانگریس اور دوسری سیاسی پارٹیاں کہاں ہیں اور کیا کر رہی ہیں؟؟؟

عرض داشت
دوسری بار اقتدار کا ذائقہ حاصل کرتے ہی بھارتیہ جنتا پارٹی جس انداز سے آگے بڑھ رہی ہے، اگر جمہوری نظام کی بقا کے لیے نئی کوشش نہیں کی گئیںتو ملک کی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔


صفدر امام قادری
صدر شعبہ اردو، کالج آف کامرس، آرٹس اینڈ سائنس، پٹنہ

علم سیاسیات کی کتابوں میںجمہوری نظامِ حکومت کے لیے سیاسی پارٹیوں کا وجود اسی اعتبار سے اساسی حیثیت کا حامل ہے کیوں کہ اس سے حکومت اورعوام کے درمیان ایک ضروری رشتہ قائم ہوتا ہے۔ مختلف سیاسی جماعتوں کی سرگرمیوں کے بعد ہی آپ جمہوری نظام کے موثر اورمستحکم ہونے کی توقعات کر سکتے ہیں۔ مگر نریندر مودی اور امت شاہ کی دوسری تاج پوشی کے بعد ہندستان کی دوسری سیاسی جماعتوں کو جیسے سانپ سونگھ گیا ہے۔ جمہوریت میں فتح و شکست کا سلسلہ قائم رہتاہے اسی میں اگلی امید اور نئے ماحول کے لیے پھر سے تیّار ہونے کی جدو جہد شامل ہوتی ہے مگر یہ عجیب وغریب صورتِ حال ہے۔ سب سے بڑی جماعت کانگریس سے لے کر تمام دوسری سیاسی پارٹیاں منظرِ عام سے غائب ہیں اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ جمہوری نظام کی بقا اور استحکام کے لیے ملک کی اس مشکل گھڑی میں خوابِ غفلت سے بیدار نہیں ہونے والے ہیں۔
حزبِ اختلاف یا اپوزیشن کے موثروجود کے بغیر جمہوری نظام کمزور تر ہوتاجاتا ہے اور سیاست ملوکیت یا مطلق العنانی کی راہ لے لیتی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اور این۔ڈی۔اے کو ہرگز اتنی سیٹیں نہیںملی ہیں کہ ان کے مقابلے دوسرے افراد صفر ہو جائیں کیوں کہ ۴۸۹۱ءمیں راجیو گاندھی کی قیادت میں کانگریس نے ۴۱۴ پارلیمانی سیٹیں جیت لی تھیں اور اٹل بہاری واجپئی کی قیادت میں اس وقت بھارتیہ جنتا پارٹی نے صرف دو سیٹوں میں سِمٹ کر تقریباً خود کو سیاسی میدان سے باہر کر لیا تھا۔
سوال یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں کو اقتدار میں شامل ہو کر سیاست کے پیچ و خم سلجھانے میں تو بڑی آسانیاں ہوتی ہیں اور اس کام میں ان کا دل لگتا ہے مگر کیا انھیں یہ بات یاد نہیں ہونی چاہیے کہ جب علاقائی یا مرکزی حکومت کے اقتدار سے وہ باہر جائیں گے تو ان کی عوامی خدمات اور ووٹ دہندگان کی توقعات کا کیا ہوگا؟آج ملک میں ایک ایک کرکے تمام سیاسی پارٹیاں تقریباً حتمی شکست خوردگی کی چادر اوڑھ کر سو رہی ہیں۔ پارلیمنٹ یا سڑکوں پر ایک دو دن شور و غل کر لینے کے بعد وہ اپنی ذمہ داریوں سے فارغ ہو کر اسی شکست خوردگی کے خول میں سمٹ جا رہی ہےں جس کے مزید خطرناک نتائج برآمد ہوں گے اور اپوزیشن بغیر صاحبِ اقتدار جماعت اور بھی مطلق العنان ہو جائے گی۔ اس سے آگے بھی امیدیں معدوم ہو جائیں گی۔
جے پرکاش نرائن ’نمایندگان کو واپس بلاﺅ‘(Right to Recall) کی وکالت کرتے تھے کیوں کہ یہ توقع کرنا کہ جو امیدوار یا سیاسی جماعت انتخاب میں فاتح ہو گئی تو وہ پانچ برس ملک اور عوام کے مفاد میں لازمی طور پر کام کرکے گی؛ قابلِ یقین نہیں۔ اس لیے ہندستانی آئین میں عوام کو اس حق کے استعمال کی اجازت چاہتے تھے۔ اس طلب میں یہ بات از خود شامل تھی کہ جسے انتخاب میں شکست حاصل ہوئی ہے، اسے ناکارہ نمایندوں کے متبادل کے طور پر سمجھا جائے۔ مشکل یہ ہے کہ یہ نیک خیال کبھی کسی سیاسی جماعت کو پسند نہیں آیا کیوں کہ ملازمت کی طرح یہاں بھی ’محفوظ‘ زندگی کی چاہت تھی جو آج بڑھتے بڑھتے بڑی تنخواہ، بھتّے، بہت طرح کی سہولیات سے لے کر پنشن تک پہنچ چکی ہے۔ کمال یہ بھی ہے کہ حکومت کسی بھی پارٹی کی ہو مگر ایسی سہولیات اور مالی فائدے کے حصول میںکوئی بھی شخص یا پارٹی پیچھے نہیں رہتی۔ حد تو یہ ہے کہ اُن دنوں میں جب ایوان کا چکّا جام ہوتاہے اور کسی وجہ سے پارلیمنٹ میں کوئی کام کاج نہیں ہو سکتا؛ ممبران کو یومیہ بھتّا دیا جاتاہے۔
جمہوری نظامِ حکومت حقیقت میں حزبِ مخالف کی قوّت اور صلاحیت سے کامیاب یا ناکام ہوتی ہے۔ اقتدار کی طاقت کی انتہا نہیں ہوتی مگر حزبِ اختلاف اگر موزوں حکمتِ عملی اپنائے تو حکومت شُترِ بے مہار نہیں ہو سکتی۔ ایوان کے اندر اور باہر ایسی ہزار گنجایشیں آئین سازوں نے رکھی ہیں جس سے عوامی توقعات اور حکومت کے درمیان ایک توازن کی تلاش میں کامیابی پائی جا سکے۔اس کے لیے اختلاف سے متعلق جماعتوں اور افراد کو موثر قیادت کے لیے میدان میں آنا ہوگا۔ مگر آج ایسا نہیں ہو رہا ہے۔ ہاری ہوئی سیاسی جماعتوںکو اس مشکل گھڑی میں نئے راستوں کی تلاش کرنی چاہیے۔
آج ملک کے عمومی سیاسی نظام پر غور کریں تو محسوس ہوتا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے علاوہ کوئی سیاسی جماعت ہے ہی نہیں۔مرکز کے علاوہ ایک ایک کرکے پورے ملک میں ان کی حکومتیں قائم ہوتی چلی جا رہی ہیں۔ زور زبردستی، جوڑ توڑ، خرید و فروخت، ای وی ایم کی تکنیکی خرد برد وغیرہ ایک سلسلے سے بھارتیہ جنتا پارٹی کے کامیاب سفر کے سنہرے اصول ہیں۔ ان کا یہ سفر برق رفتاری کے ساتھ رواں دواں ہے۔ کرناٹک میں انھوں نے یہ بھی ثابت کردکھایا کہ حکومت کو بچا پانے میں کانگریس اور ان کی حلیف جماعتوں کے پاس کوئی حکمتِ عملی نہیں ہے۔ اگلا نشانہ ممتا بنرجی بنیں گی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی ج اُڑان ہے، اس میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ آیندہ اسمبلی انتخاب کا انتظار نہیں کر پائے گی۔ پارلیمنٹ انتخاب میں وہ اپنی کارکردگی بنگال کے خطّہ اراضی میں ثابت کر چکے ہیں۔ اُن کی بے تابی اس آدھی جیت کو مکمل فتح یابی میں تبدیل کرنے کے لیے کافی ہے۔
حزبِ اختلاف یا بھارتیہ جنتا پارٹی سے الگ خیالات رکھنے والی سیاسی پارٹیوں کی اصل پہچان’تین طلاق‘ کی منظوری کے دن واضح طور پر ہوگئی تھی۔ اس کاسلسلہ کشمیرکے معاملے میں مزید دھاردار رہا اور ہوا کے ایک جھونکے کی طرح دونوں ایوان میں آئین کی تبدیلی کے قوانین منظور ہو گئے۔ کہیں کہیںسے اختلافات کی آواز اُٹھی بھی وہ مبہم اور غیر موثر تھی۔ کہنا چاہیے کہ سیاسی پارٹیوں کے یہ روٹین بیانات تھے جن سے اس ملک اور اس کے عوام کا کوئی خاص فائدہ نظر نہیں آتا۔ سامنے سے یہی معلوم ہوتاہے کہ دنیا کے سب سے بڑے جمہوری نظام میں غیر موثرحزبِ اختلاف کی وجہ سے بھارتیہ جنتا پارٹی سب سے طاقت ور اور مختارِ کُل بن کر ہندستانی جمہوریت کو ملوکیت اور مطلق العنانیت میں تبدیل کر رہی ہے مگر اس کی مخالفت اور اس کی تحدید میں اپوزیشن ناکام، بے اثر اور غیر مرتب وغیرمنظم انداز سے کام کرکے فی الحقیقت بھارتیہ جنتا پارٹی کوہی مضبوط کر ہی ہے۔
یہ بات درست ہے کہ انتخاب اور اس کے بعد مختلف مورچوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی نے مخالف جماعتوں کو بار بار یہ احساس دلایا ہے کہ وہ ہر طور پر ہاری ہوئی پارٹیاں ہیں۔ سچائی یہ ہے کہ جب دو پارلیمانی سیٹوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی سمٹ گئی تھی اس وقت بھی وہ ایسے احساسِ کمتری میں مبتلا نہیں تھی، جس انداز سے آج اقتدار سے باہر رہنے والی تمام جماعتوںکا حال ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ آج بھی موقع بہ موقع بھارتیہ جنتا پارٹی ہی حزبِ اختلاف کی پارٹی کی طرح کانگریس اور ان کی حلیف جماعتوں کو بار بار ان کی حقیقی سیاسی حیثیت دکھاتی رہتی ہے، اسی کے ساتھ نکتہ چینی کا کوئی موقع بھی نریندر مودی اور امت شاہ کی ٹیم ضایع ہونے دینا نہیں چاہتی اس کے نتیجے میں کانگریس اور اس کے ساتھی جماعتوں کی بے اثری پورے طور پر ثابت ہو رہی ہے۔
ایک زمانے میں بہترین پارلیمنٹ ممبرکی حیثیت سے مدھو دنڈوتے کا شمار ہوتا تھا۔ اس سے پہلے مدھولیمے ، چندرشیکھر اور رام منوہر لوہیا ایوان میں عوامی مسائل کو پیش کرکے ملک کے گوشے گوشے میں جمہوری ادارے کے محافظ کے طور پر پہچانے جاتے تھے۔ اسی دور میں کسی نے مدھو دنڈوتے کے پے بہ پے سوالوں سے پریشان ہو کر یہ جانناچاہاتھا کہ جہاں پانچ سو پینتالیس ممبران موجود ہوں، وہاں آخر روزانہ کئی سوالات ایک مدھو ڈنڈوتے کے کیوں پیش ہوتے ہیں۔ اخبار میں روزانہ یہ خبر آتی تھی کہ مدھو دنڈوتے کے سوالوں پر کانگریس ناچار اور دفاعی ہو جاتی تھی تب یہ معلوم ہوا کہ سوالوں کی لاٹری میں روزانہ چالیس پچاس سوالات تنہا مدھو ڈنڈوتے کے ہی ہوتے تھے۔
آج پورا اپوزیشن مل کر ایک مدھو ڈنڈوتے کی برابری نہیں کر سکتا کبھی چندرشیکھر اپنی پارٹی کے تنہا پارلیمنٹ کے ممبر ہوتے تھے مگر جب انھیں موقع ملتا تھا کانگریس حکومت کا تیا پانچہ کر دیتے تھے۔ اٹل بہاری واجپئی نے بھی اکیلے کانگریس سے بار بار بہادری سے حساب کتاب لیا مگر کانگریس میں صفحہ¿ اول کے تمام لیڈر بہ شمول ان کے قائدین پارلیمنٹ میں حکومت کو آئینہ دکھا پارہے ہیں اور نہ ہی سڑکوں پر آکر بھارتیہ جنتا پارٹی کی عوام مخالف اور غیر جمہوری کردار کو طشت از بام کرنے میں کامیاب ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کانگریس اور دوسری پارٹیاں بھارتیہ جنتا پارٹی کو واک اُوور دے چکی ہیں اور یہ جماعت اپنی طبیعت سے ملک کو جہاں چاہے لے جائے، بحرِ ہند میں ڈُبا دے یاآگ لگا کر بھسم کردے، اس کی ایک ذرا پرواہ نہیں ۔
دنیا میں جمہوریت کی تاریخ صرف صاحبانِ اقتدار سے مرتب نہیں ہوئی ہے۔ ایسا ہوت تو ہٹلر کبھی ختم نہیں ہوتا، لینن کی زارشاہی کو ختم نہ کر پاتے ۔اقوامِ عالم کی ایسی تاریخ ہم نے دیکھی ہے کہ کئی بار قومیں اپنا مفاد بھی نہیں سمجھتی اور غلط فیصلے کرکے اندھیرے کا سفر شروع کر دیتی ہے مگر انھیں اجالے کی طرف لے آنے کا کام حزبِ اختلاف کا ہوتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ کانگریس کی نکمی قیادت اور دکھاوے کی سرگرمیوں سے ان اندھیروں سے نجات ممکن نہیں۔ پہلے کمیونسٹ پارٹیوں کے چند افراد ایسے موقعے پر نمایاں کارکردگی انجام دیتے تھے مگر اب وہاں اور بھی سنّاٹا ہے۔ ملک کا سیکولر اور جمہوریت پسند طبقہ مایوسی کے عالم میں روشن خیال قیادت کی طرف ٹکٹکی باندھے کھڑا ہے ۔ نہ جانے کب اُن کے اِن خوابوں کی تکمیل ہو پائے گی۔
(مضمون نگار کالج آف کامرس، آرٹس اینڈ سائنس میں صدر شعبہ¿ اردو ہیں)
safdarimamquadri@gmail.com

HTML Snippets Powered By : XYZScripts.com