Select your Top Menu from wp menus
سرخیاں

سیرتِ ابراہیم علیہ السلام کی عصری معنویت

سیرتِ ابراہیم علیہ السلام کی عصری معنویت
احسان بدر تیمی, ڈائرکٹر القرآن اکیڈمی, جھوٹواڑہ, جے پور
حضرت ابراھیم علیہ السلام تاریخ انسانی کے مشہور  پیغمبر ہیں,جن سے دیگر مذا ہب کے لوگ بھی گہری عقیدت رکھتے ہیں.ملت اسلامیہ کا خمیر بھی آپ ہی کی شریعت کے بنیادی ارکان – توحید, رسالت, آخرت, نماز, قربانی اورحج – سے تیار ہوا ہے.آپ علیہ السلام کا عہد تاریخ کی معذب قوموں – قوم نوح, قوم عاداور قوم ثمود- کے فورًابعد ہے.حضرت ابراہیم بن آذر علیہ السلام 1813ق.م کو عراق(بابل) میں پیدا ہوئے. آپ علیہ السلام نے جس معاشرے میں آنکھیں کھولیں وہ ہرناحیے سے زوال پذیر تھا.سیاسی اعتبار سے ہر جگہ نماردہ اورسامیوں کی دہشت گردی تھی. مذہبی اعتبا ر سے بھی ہر سو ابتری اور تنزلی تھی, کیفیت یہ تھی کہ لوگ اپنے ہاتھوں سے مجسمے بناتے اور انھیں اپنی حفاظت ,صحت اور دولت یعنی الگ الگ ضرورتوں اور قوتوں کا خدا تسلیم کر لیتے. مذہبی پسماندگی اور زوال کی وجہ سے ان کی تہذیبی حالت بھی بد سے بد ترین تھی. لوگ عبادت کے نام پر میلہ لگاتے اور میلے میں خوب عیاشیاں کرتے….. شرابیں پیتے, بے حیائیاں کرتے اور اس طرح شرافت و سنجیدگی کی تمام حدوں کو پار کر جاتے. حضرت ابراہیم علیہ السلام بچپن ہی سے اپنے معاشرے کی ان جاہلانہ اور بت پرستانہ رسوم و روایات سے متنفر رہےاوران  کے خلاف خاندان اور قوم کے لوگوں سے لڑتے بھڑتے بھی رہے. اسی کشمکش اور تصادم کے ماحول میں آپ پلے بڑھے, جوان ہوئے یہاں تک کہ آپ کو نبوت سے سر فراز کیا گیا.اعزازِنبوت کے بعد آپ پوری طرح اپنےفریضے یعنی شرک کی مذمت اور دعوتِ توحید کی طرف متوجہ ہوگئے اور اس مشن کی ابتدا اصولی طورپر اپنے ہی والد سےکی,ان سے کہا: ابا جان!آپ ایسے بے جان بتوں کی عبادت کیوں کرتے ہیں جو نہ سن سکتے, نہ دیکھ سکتے اور نہ آپ کو کوئی فائدہ ہی پہنچا سکتے.ابا جان! مجھے آپ کے مقابلے میں پیغمبرانہ علم و حکمت سے نوازا گیا ہے, لہٰذا مجھے اپنی رہنمائی کا موقع دیں,  میں آپ کو صحیح منزل کی طرف لے جاؤں گا.ابا جان!آپ شیطان کی عبادت مت کیجئے, یقینًا شیطان مہربانی کرنے والے اصل معبود کا نافرمان ہے.ابا جان! مجھے ڈر ہے کہ(شرک و کفرکی وجہ سے )کہیں آپ پر اللہ کا عذاب نہ آجائے اور پھر آپ شیطان ملعون کے زمرے میں آجا ئیں. (مریم:42تا 46)
ان آیات کی لفظیات,ترکیب وترتیب,القاب و آداب, لب و لہجے اورنقطۂ نظر  پر غور کیجئے.دراصل ان میں دعوت کے چند بنیادی اصول بیان کئے گئے ہیں مثلًا:
1-احترامِ آدمیت,لحاظِ مراتب ,اپنائیت اور حسنِ اخلاق ,جیسا کہ حضرت ابراہیم کےہر جملے “اے میرے ابا جان, اے میرے ابا جان”سے عیاں ہے.
2- مادی اورفلسفیانہ طرزِاستدلال,جیسا کہ حضرت ابراہیم کا جملہ ہے”آپ ایسے بے جان معبودوں کی عبادت کیوں کرتے ہیں جو(معیارِ معبودیت پہ کسی بھی طرح کھرے نہیں اترتے ) نہ سن سکتے ہیں,نہ دیکھ سکتے ہیں اور نہ ہی کو ئی فائدہ پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں.
3-بشارت:جیسا کہ آپ علیہ السلام کی یقین دہانی ہے”ابا جان! میری بات مان لیجئے, میں آپ کو سیدھے راستے کی رہنمائی کر دوں گا.
4-عقیدۂ توحید سے دعوت و تبلیغ کی ابتدا:جیسا کہ حضرت ابراہیم کی فہمائش ہے”ابا جان! آپ (رحمان کو چھوڑ کر ) شیطان کی عبادت مت کیجئے.
5-انذار:جیسا کہ حضرت ابراہیم نے اپنے والد کو ڈرایا ہے”ابا جان! (کفر و شرک پر قائم رہنے کی صورت میں) مجھے ڈر ہے کہ کہیں آپ پر اللہ کا کوئی عذاب نہ آجائے.
اس پرخلوص دعوت کے جواب میں والد نےکہا:ابراہیم تم  میرے معبودوں سے بغاوت کررہےہو,دیکھو! بازآجاؤ ورنہ میں تمہیں سنگسار کردوں گا,سنو!تم یہاں سے دفعہ ہوجاؤ.(مریم:47)
والد کی اس دھمکی اور برہمی سےخائف ہو کر آپ پیچھے نہیں ہٹے بلکہ ایک قدم اور آگے بڑھ گئے اور اس بار اپنے والد کے ساتھ قوم کے دیگربہت سےافراد کو اکٹھا کرکے مخاطب ہوئے:
یہ مورتیاں جن کے تم مجاور بنے بیٹھے ہو,ان کی حیثیت کیا ہے؟لوگوں نے جواب دیا:(یہ تو ہمیں بھی نہیں معلوم,ہم ان کی مجاوری اور عبادت اسی لئے کرتے ہیں کیونکہ)ہم نے آباء و اجداد کو ایسا ہی کرتے پایا ہے. ابراہیم علیہ السلام :پھر تو تم اور تمہارےآبا و اجداد سبھی واضح ترین گمراہی میں رہے. افراد قوم:تم واقعی کو ئی سچی بات پیش کر رہے ہو یا یونہی مذاق کر رہے ہو؟ابراہیم علیہ السلام:(میں سچ کہہ رہا ہوں) تم سب کا پروردگار تو وہی ہے جو آسمانوں اور زمینوں کا مالک ہے, جس نے انہیں پیدا کیا ہے اور میں ان (حقائق) کا تمہارے اوپر گواہ ہوں.(انبیاء:56)سیدنا ابراہیم اور قومِ ابراہیم علیہ السلام کے درمیان توحید و شرک پر  مبنی یہ مباحثے چلتےرہے یہاں تک آپ علیہ السلام نے قوم کے لوگوں کو مسکت جواب دینے اور انھیں قائل کرنے کی غرض سےایک زبردست عملی خاکہ تیا ر کر لیا.پلان کے مطابق آپ صنم کدے میں داخل ہوئے اور پھر جو کچھ ہوا اس کا نقشہ قرآن نے اس طر ح کھینچا ہے:
انھوں (حضرت ابراہیم) نےسوائے ایک بڑے بت کےتمام چھوٹےبتوں کوپاش پاش کردیا تاکہ لوگ اسی سے رجوع کرنے پر مجبور ہوں.سردارانِ قوم یہ ماجرا دیکھ کر تلملا اٹھے اورکہنے لگے:جس نے بھی یہ جرأت کی ہے, یقینًا وہ ظلم کرنے والا ہے.
افرادِ قوم:سنا ہے ایک نوجوان ہے جسے لوگ ابراہیم کہتے ہیں. سرداران قوم:تو اسے مجمعِ عام میں حاضر کرو تاکہ لوگ اسے دیکھ سکیں.حضرت ابراہیم کو حاضر کیا گیا اور پوچھا گیا:ابراہیم کیا یہ تم نے کیا ہے؟
حضرت ابراہیم:یہ بڑے خدا نے کیا ہے,( یقین نہ ہو تو )ان چھوٹے خداؤں سے پو چھ لو اگر یہ بات کر پائیں.یہ سن کر لوگ قائل ہوگئے اور من ہی من ایک دوسرے کو لعنت ملامت کرنے لگے کہ اصل خطا کا ر تو تم ہی ہو.پھر لجاجت سےکہنے لگے:(ابراہیم )تم اچھی طرح جانتے ہو کہ یہ بولنے والے نہیں.
حضرت ابراہیم :اس کا مطلب تم لوگ اللہ کوچھوڑ کر ایسے بے جان معبودوں کی عبادت کرتے ہو, جو نہ تمہیں کچھ فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ ہی نقصان. افسوس ہے تم پر اور ان پر جن کی تم عبادت کرتے ہو, کیا تمہارے پاس اتنی سی بھی عقل نھیں.اتنا  سننا تھا کہ سردارانِ قوم آگ بگو لا ہو گئے اور سپاہیوں سے مخاطب ہو کر کہنے لگے:اسے جلا کر بھسم کر دو اوراپنے معبودوں کی مدد کرو .چنانچہ ایک زبردست الاؤ تیار کیا گیا اور اس میں ابراہیم علیہ السلام کو جھونک دیا گیا. ادھر رب ابراہیم کی سیکوریٹی پوری طرح تعینات تھی,آگ کو حکم دیا گیا:اے آگ ابراہیم کیلئے ٹھنڈی اور غیر مضر بن جا.اس طرح اللہ وحدہ لا شریک نے کفار ومشرکین کی سازشوں کو ناکام کرکے انھیں ذلیل و خوار کردیا (انبیاء:58تا70)
ان آیات سے چند باتیں ثابت ہوتی ہیں:
1-حق پرست لوگ ابراہیم علیہ السلام کی طرح بے باک اور جری ہوتے ہیں. 2-حق کی   آبیاری کرنے والےزمانے کے مطلوب علم و فن اوردلائل و براہین سےآراستہ ہوتے ہیں. 3-حق پرستوں کے ساتھ خالق کائنات کی حمایت ہوتی ہے. 4-حق پر قائم رہنے والے ہزار تکلیفوں اور آزمائشوں پر صبر کرکےبالآخر شادکام اور سرخرو  ہوتےہیں. اس کے بر عکس باطل پرست لوگ قومِ ابراہیم کی طرح ہٹ دھرم,اجڈ اور ضلالت پسند ہوتے ہیں,وہ دلائل و براہین سے لا جواب ہوکر بلبلا جاتے ہیں,اپنے جتھوں کو مذہب اور معبود کی حفاظت کیلئے اکٹھا کرتے ہیں, حق پرستوں کے خلاف طرح طرح کی سازشیں کرتے ہیں اور پھر انسانی معاشرے میں حیوانیت و درندگی کے بھیانک واردات انجام دیتے ہیں. یہ آیتیں در اصل حق و باطل کی فتح و شکشت کیلئے ابدی اصول بھی ہیں کہ جب تک حق پرستوں میں ابراہیم علیہ السلام کی مذکورہ صفات پائی جائیں گی, وہ باطل پرستوں کی ہزار سازشوں اور پرو پیگنڈوں کے با وجود سرخرو اور شادکام رہیں گے.لیکن جیسے ہی وہ ان صفات سے عاری ہوں گے, ان کی کیفیت دور حاضر کی طرح ناگفتہ بہ ہوجائےگی.
الغرض ابراہیم علیہ السلام اس دھنکتی اور ہیبتناک الاؤ میں بأذن اللہ محفوظ رہے, کچھ دن بعد جب راکھ ٹھنڈی ہوئی اورقوم کے لوگوں نے آپ کو صحیح سالم پایا تو وہ حیران رہ گئے مگر افسوس کہ اس قدر کرشمہ سازی اور معجزنمائی کے باوجود وہ ایمان کی دولت سے سرفراز نہیں ہوئے. اس مقام پر پیغمبرانہ حجت تمام ہوئی اور آپ علیہ السلام نے ہجرت کا فیصلہ کر لیا .جاتے ہوئی اپنی قوم سے مخاطب ہوئے:میں جارہاہوں اپنے رب کی منزل کی طرف, وہ مجھے صحیح سمت کی رہنمائی کرنے والاہے(صافات:99)
 یہ ہجرت ایک عظیم نبوی فلسفہ ہے جس کا مطلب ہے کہ آپ جس مقام پر ہیں, وہاں اگر آپ کو اپنا کوئی جائز مشن کامیاب ہوتا دکھائی نہیں دیتا تو آپ وہاں سے اللہ کا نام لے کر دوسری جگہ ہجرت کر جائیں,یہ کامیابی, ترقی, برکت اور خوشحالی کا بہترین طریقہ ہے.حضرت ابراہیم نے ہجرت کے وقت بیوی سارہ اور بھتیجے حضرت لوط کو اپنے ساتھ لیا اور کنعان(شام اور فلسطین) کی طرف چل پڑے.کنعان میں کچھ دن قیام کے بعد وہاں حضرت لوط کو اپنا قائم مقام بنایا اور خود حضرت سارہ کے ساتھ مصر کی طرف روانہ ہوگئے,جہاں حضرت سارہ کے ساتھ ایک عبرت انگیز واقعہ پیش آیا.اس واقعے کو امام بخاری نے بھی اپنی صحیح میں بیان کیا ہے کہ: حضرت ابراہیم جب مصر پہنچے تو بادشاہِ مصر جو نہایت بد چلن اور ظالم تھا اس نے حضرت سارہ کو غلط ارادے سےبلا بھیجا. حضرت سارہ نے شاہی دربار پہنچ کرچند رکعتیں پڑھیں اور اپنی عصمت کی حفاظت کیلئے اللہ رب العا لمین کے حضور دعائیں کر نے لگیں,ابھی دعا ختم نہیں ہوئی تھی کہ بادشاہ کی حالت غیر ہونے لگی اور وہ زمین پر گر کر ہاتھ پاؤں مارنے لگا. حضرت سارہ کو بادشاہ کی موت کااندیشہ ہوا تو آپ نے ایک بار پھر اس کی بحالئِ صحت کیلئے اللہ رب العزت سے دعا کر دی. کافر بادشاہ جب ہوش میں آیا تو اس نے حضرت سارہ سے معافی مانگی اور آپ کو دیگر بیش قیمت تحائف کے ساتھ خدمت کیلئے اپنی بیٹی (یا خاندانی خاتون) حضرت ہاجرہ کا عظیم تحفہ دیا -تاکہ یہ بھی حضرت سارہ کی طرح پاکباز اور اللہ کی محبوب بندی بنیں-(بخاری :2217)
حضرت سارہ نے اس نایاب تحفے حضرت ہاجرہ کو شو ہرِ نامدارحضرت ابراہیم علیہ السلام کے نکاح میں دے دیا.آپ علیہ السلام اب تک بے اولاد تھے,زندگی میں ایک نئی خاتون آئیں تو کچھ امیدیں جگیں اور آپ نے اللہ رب العالمین سے ایک صالح اولاد کی التجا کردی:
‘اے میرے رب مجھے ایک صالح اولاد عطا فرما,تو اللہ رب العالمین نے آپ کو ایک صالح اور بردبار اولاد سے نوازا'(صافات:101,102)
یہاں غورکیجئے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اولاد کی التجا کسی فردِ بشرسے نہیں کی بلکہ اللہ رب العالمین سے کی ہے. پھر اولاد بھی کیسی مانگی ……..پروفیشنل نہیں,کسی ایکٹر جیسی نہیں بلکہ نیک ,صالح اور فرماں بردار.ولادتِ اسماعیل کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی میں آزمائشوں کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا. اللہ نے حکم دیا کہ اپنی بیوی اور بچے کو صحرائے مکہ چھوڑ کر آؤ. آپ نے اپنے دودھ پیتے بچے اسماعیل اور بیوی ہاجرہ کو ساتھ لیا اور مکہ کی طرف روانہ ہوگئے. آگے جو کچھ ہوا اس کی تفصیل امام بخاری نے اپنی صحیح میں اس طرح بیان کیا ہے کہ: حضرت ابراہیم نے چند دن کے کھجور اور پانی دیکر اپنی بیوی اور بچے کو ایک درخت کے نیچے ٹھہرا دیا اور خود واپس لوٹ گئے.لوٹتے وقت بیوی نے تین مرتبہ پوچھا:ہمیں اس بے آب و گیا علاقے میں کس کے حوالے چھوڑے جا رہے ہو؟
حضرت ابرہیم نے تیسری مرتبہ جواب دیا :اللہ کے.
بیوی ہاجرہ:تب یقینًا اللہ ہمیں ضائع نہیں کرےگا.حضرت ابراہیم نے جاتے ہوئے اپنی بے سہارابیوی اور معصوم بچے کو ایک بار بھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا, لیکن ایک وادی کے پاس پہنچ کر آپ کے اندر کا ذمے دار شوہر اور ٹوٹ کر چاہنے والا باپ جاگ اٹھتا ہے اور تبھی آپ ان کی حفاظت و صیانت کیلئے بارگاہ الٰہی میں فریاد کرنے لگتے ہیں:پروردگار میں نے اپنی ذریت کو ایک بے آب و گیا وادی میں تیرے مقدس گھر کے قریب چھوڑا ہے,تاکہ اس ذریت کے لوگ بصورت نماز دین قائم کریں, لہٰذا پروردگار ان کی طرف کچھ لوگوں کے دلوں کو مائل کردےاور انھیں پھلوں کی روزیاں عطا فرما تاکہ وہ شکر گذار بنیں(ابراہیم:37)
کجھ دن بعد جب پانی بالکل ختم ہو گیا اور ننھے اسماعیل مارے پیاس کے بے تاب ہونے لگے تو حضرت ہاجرہ پانی کی تلاش میں وادی کی طرف نکل پڑیں. وقت بڑی تیزی سے گذر رہا تھا اور پانی ملنے کی ہر امید مدھم ہو رہی تھی ,اب حضرت ہاجرہ نے کوہ صفا اور مروہ کے درمیان دوڑنا شروع کردیا تھا. سات چکر مکمل کرنے کے بعد آپ نے ایک آواز سنی,یہ حضرت جبرئیل علیہ السلام تھے. حضرت جبریل نے اپنے پاؤں کو زمین پر رگڑا جس سے صاف و شفاف پانی کا ایک چشمہ پھوٹ پڑا, ام اسماعیل نے ‘زمزم’کہہ کر اس پانی کو گھیرنا اور مشکیزے میں بھرنا شروع کردیا.کچھ دن بعد وہاں پانی کی فراہمی سے قبیلہ بنو جرہم کے روپ میں انسانی آبا دی کا سلسلہ شروع ہوگیا. (بخاری:3363) یہ واقعہ مومن خواتین کیلئے درسِ عبرت ہے کہ اگر وہ اللہ پر مکمل بھروسہ کرنے والی بن جائیں تو زندگی کےتمام نشیب و فراز اور مشکل سے مشکل گھڑیاں کامیابی کےساتھ گذار سکتی ہیں. بہر حال حضرت ہاجرہ اس بے آب و گیا اور سنسان وادی میں جہاں دور دور تک زندگی کا نام و نشان نہ تھا, بڑی مشکل سےاپنے معصوم بچے کی جان بچانے اور اسے پوس پال کر بڑا کرنے میں کامیاب ہو پائی تھیں کہ اللہ رب العالمین کی طرف سےایک اور دل دہلا دینے والی آزمائش آگئی.اللہ نے ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا کہ اپنے اکلوتے اسماعیل کو میری راہ میں قربان کرو. آپ علیہ السلام نےاللہ کا یہ حکم اپنے بیٹے سے بیان کیا تو بیٹے نے کہا:
ابا جان! آپ کو جو حکم دیا گیا ہے اسے کر جائیے, ان شا اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے.لہٰذاباپ بیٹے دونوں اس عظیم مشن کیلئے تیار ہوگئے. باپ نے بیٹے کو پیشانی کے بل لٹا دیا (اور بے تحاشا چھری چلانے لگے کہ اتنے میں غیب سے اللہ رب العزت کی آواز آئی) ابراہیم! (رک جائیے )آپ نے خواب کو سچ کر دکھایا.ہم نیکی کرنے والوں کو ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں(صافات:102تا105)
ان آیات سے چند باتیں معلوم ہوتی ہیں:1-حضرت ہاجرہ نے اپنے بیٹے کو نہ جانےکس انداز کی تربیت دی تھی کہ بیٹا اپنےوالد(جو بچپن ہی میں انھیں بے سہارا چھوڑ چلے گئے تھے) کی ایک آواز پر نہ صرف قربان ہونے کیلئے تیار ہوگئے بلکہ یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ’ابا جان! آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے.
2- قربانی کا مقصد کسی محبوب اور پسندیدہ شے کا اتلاف ہرگز نہیں بلکہ اس سے مراد مکمل اطاعت اور جذبہ و احساس کی آزمائش ہے.اللہ خود فرماتا ہے:
‘اللہ کو تمہاری قربانیوں کے گوشت یا خون نہیں پہنچتے مگر ہاں تمہارےدلوں کی پرہیزگاری ضرور پہنچتی ہے'(حج:38)
3-اللہ رب العالمین کی آزمائشیں سیرت مومن کی تعمیر و ترقی میں بنیادی رول ادا کرتی ہیں, ایسے ہی جیسے مخالف ہوائیں عقاب کو مزید اونچا اڑاتی ہیں. کسی شاعر نے کہا ہے:
تندئِ بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہیں تجھے اونچا اڑانے کیلئے
‘واقعۂ ذبح عظیم ‘ کے چند ہی دن بعد حضرت ابراہیم کے گھر فرشتوں کی ایک  جماعت وارد ہوئی.انھوں نے ولادت اسحاق کی بشارت اور قوم لوط کی ہلاکت پر مبنی دو خبریں سنائیں, جس کی وضاحت قرآن میں موجود ہے:فرشتوں کی ایک جماعت ابراہیم علیہ السلام کے گھر وارد ہوئی اور انھیں سلام کیا, تو ابراہیم علیہ السلام نے بھی سلام کا جواب دیا اور پوچھا:آپ لوگ کچھ نا آشنا سے معلوم ہوتے ہیں؟فرشتوں نے کوئی جواب نہیں دیا مگر پھر بھی آپ نے ان کی ضیافت میں کوئی کسر نہ چھوڑی, مہمانوں کو ایک موٹا تازہ بھونا ہوابچھڑا پیش کر دیا اور ان سے (بے تکلف) کھانے کی گذارش کی. جب انھوں نے ہاتھ روکے رکھا تو حضرت ابراہیم من ہی من ڈرنے لگے(کہ کہیں یہ عذاب کے فرشتے نہ ہوں) فرشتوں نے آپ کو نہ ڈرنے کا دلاسہ دیا اور ساتھ ہی ولادت اسحاق کی بشارت بھی دی. یہ سن کر بیوی سارہ نے گال پیٹتے ہوئے کہا:میں بڈھی, بانجھ بچے جنوں گی. فرشتوں نے جواب دیا :ہاں تیرے رب نے ایسا ہی کہا ہے, وہ بہت حکمت والا اور جانکار ہے. حضرت ابراہیم نے پوچھا :اے اللہ کے فرشتو! آپ کا مشن کیا ہے؟فرشتے:ہم ایک مجرم قوم (قوم لوط) کی طرف بھیجے گئے ہیں, تاکہ ان پر پتھروں کی بارش کریں.(ذاریات:24تا30)
جیسا کہ اوپر گذر چکا کہ حضرت ابراہیم نے بابل سے کنعان اور کنعان سے مصر کی طرف ہجرت کرتے ہوئے حضرت لوط علیہ السلام کو اپنا قائم مقام مقرر کر دیا تھا کہ آپ(لوط علیہ السلام) لوگوں کو ضلالت و گمراہی سے بچا کر انھیں راہ راست کی تبلیغ کریں, مگر افسوس کہ قوم لوط نے اپنے نبی حضرت لوط علیہ السلام کی ایک نہ سنی اور وہ بد ترین گناہ لواطت و اغلام بازی کے دلدل میں پھنس گئے تو آخر کار اللہ کے عذاب نے انھیں آگھیرا اور وہ بھیانک زلزلوں سے تہس نہس کر دئے گئے,جس کا ذکر قرآن میں سماجی پس منظر کے ساتھ موجود ہے:
جب ہمارا (اللہ کا )حکم آیا تو قوم لوط تلپٹ کر دئے گئے اور ان پر پتھروں کی بارش برسادی.(ہود:82)
 ان تمام حادثات,امتحانات اور تجربات کے بعد  ابراہیم علیہ السلام اپنی زندگی کے آخری پڑاؤ کی طرف بڑھنے لگے تو اللہ نے حضرت اسماعیل کے ساتھ مل کر توحید کا عالمی مرکز یعنی خانۂ کعبہ کی تعمیر کا حکم دیا, جس کی تو ضیح  صحیح بخاری میں اس طرح ہے: حضرت ابراہیم اپنے بیٹے حضرت اسماعیل سے ملنے آئے اور ان سے کہا:مجھے اللہ نے یہاں پر اپنا گھر بنانے کا حکم دیا ہے. حضرت اسماعیل:تو آپ حکم کی تعمیل کیجئے. حضرت ابراہیم:اللہ کا یہ بھی حکم ہے کہ تم اس کام میں میری مدد کرو. حضرت اسماعیل:میں تیار ہوں. چنانچہ دونوں باپ بیٹے خانۂ کعبہ کی تعمیر میں مصروف ہوگئے. حضرت اسماعیل پتھر اٹھا اٹھا کر دیتے اور حضرت ابراہیم دیوار کی جوڑائی کرتے, جب دیوار آپ کی لمبائی سے اونچی ہوگئی تو آپ نے پتھر کا ایک اونچا مچان بنا لیا, آج وہی جگہ مقام ابراہیم سے موسوم ہے.(بخاری:1627) خانۂ کعبہ کاتعمیری کام  مکمل ہوتے ہی اللہ نے حضرت ابراہیم کو حکم دیا کہ آپ عالمی سطح پرحج کی منادی کرادیجئے تاکہ لوگ دنیا کے کونےکونے سے توحید کے عالمگیر مرکز پر جمع ہوں اور ارکانِ حج ادا کریں :
آپ لوگوں میں حج کی منادی کرادیجئے, لوگ پیدل اور اونٹ پر سوار ہو کر دنیا کے گوشے گوشے سے حاضر ہوں گے. (حج:27)
سیاق و سباق سے اندازہ ہوتا ہے کہ تعمیرِ خانہ کعبہ اور ادائیگئِ حج کے بعد آپ مستقل طور پر کنعان میں حضرت سارہ واسحاق علیہم السلام کے ساتھ سکونت پذیر ہوگئے.جہاں تھوڑی سی علالت کے بعد حضرت سارہ کا انتقال ہو گیا. ادھر مکہ میں اپنے بیٹے اسماعیل اور بہو زمعہ بنت مضاض کے ساتھ قیام پذیر حضرت ہاجرہ بھی بیمار ہوگئیں اور آخر کار اس دار فانی کو الوداع کہہ دیا.اس طرح ذمے داریوں اور فرائض و واجبات کی مکمل ادائیگی کے بعدسیدنا ابراہیم علیہ السلام   بھی اپنی زندگی کے آخری دور میں داخل ہوگئے اور 1644 ق.م میں ابو الانبیا, معمار عرب ,تاریخ کی انقلابی شخصیت سیدنا ابراہیم علیہ السلام اپنے رب حقیقی سے جا ملے. انّا للہ وا انّا الیہ راجعون.آپ کی قبر آج بھی بیت المقدس کے قریب ‘الخلیل ‘میں موجود ہے.
HTML Snippets Powered By : XYZScripts.com