Select your Top Menu from wp menus

’شب انتظار گزری ہے‘ : دیہی زندگی کے مسائل بیان کرتا ایک ناول

’شب انتظار گزری ہے‘ : دیہی زندگی کے مسائل بیان کرتا ایک ناول

طیب فرقانی

ڈاکٹر انوار الحق ہندوستان میں نئی نسل کے ادبی حلقوں کی معروف شخصیت ہیں ۔بہار کے ضلع مظفرپور سے تعلق رکھتے ہیں۔ فی الحال ڈائنامک انگلش ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ میں انگریزی معلم کی حیثیت سے اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ کئی کتابوں کے مصنف ہیں ۔غریب اور نادار بچوں کی مفت تعلیم و تربیت کے لیے فلاحی ادارے” دی ونگس فاو¿نڈیشن“ کے بانی ہیں ۔ان کاانگریزی ناول” دی لانگ ویٹ ©“کا اڑیازبان میں ترجمہ پہلے ہی ہوچکا ہے۔
۸۱۰۲ میں اس ناول کا کامیاب اردو ترجمہ بھی منظر عام پر آیا ۔ترجمہ وسیم احمد علیمی نے کیاجو شعبہ¿ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ میں اس وقت ایم اے کے طالب علم ہیں ۔زمانہ طالب علمی سے ہی ان کو ترجمہ نگاری سے نہایت شغف ہے اور اس ناول کے ترجمہ کے علاوہ انہوں نے بوکر ٹی واشنگٹن کی خود نوشت(Up from slavery to the White House) ”اپ فرام سلیوری ٹو دی وائٹ ہاو¿س “کے تیسرے باب ”دی اسٹرگل فا ر این ایجوکیشن “ کا ترجمہ کرنے کے ساتھ ساتھ کئی انگریزی افسانوں کا ترجمہ بھی کیا ہے ۔ترجمہ نگار وسیم احمد علیمی سے بڑی امیدیں ہیں ۔وہ کم عمری میں بڑے کام کرنے کی طرف گامزن ہیں ۔ انھوں نے محنت سے یہ کام کیا ہے ۔ مختلف ثقافتی ، ادبی اور علمی سرگرمیوں میںپیش پیش رہتے ہیں ۔ بی اے کے دوران ہی کسی ناول کا ترجمہ ان کے بہتر مستقبل کا اشاریہ ہے۔ اور اس کام کے لئے انھیں یقینا سراہا جانا چاہئے ۔ ان کے استاد ڈاکٹر سید تنویر حسین نے ان کے اس کام کو سراہا بھی ہے۔ ترجمہ اچھا ہے ۔ رواں دواں ہے ۔ دیہاتی لہجے کو ابھارنے کے لئے کئی مقام پر ترجمہ نگار نے تلفظ کو بگاڑ کر دیہاتی تلفظ دکھانے کی کوشش کی ہے ۔ جیسے فکر کو پھکر ،آفت کو آپھت اور خوب صور ت کو کھبسورت وغیرہ ۔ ناول کا حجم اتنا ہے کہ آپ اسے ایک نششت میں پڑھ سکتے ہیں ۔ طباعت اچھی ہے ۔ اچھے کاغذ پہ شائع کیا گیا ہے ۔ کمپوزنگ کی غلطیاں نہ کے برابر ہیں ۔ پروف ریڈنگ اچھے سے کی گئی ہے ۔ ناول قابل مطالعہ ہے ۔ اور مصنف و ترجمہ نگار دونوں ہی مبارک باد کے مستحق ہیں۔
یہ ناول ہندوستان کے دیہی نچلے متوسط طبقے کے ایسے مسلمان گھرانوں کی کہانی پر مشتمل ہے جن کوآزادیءہند کے وقت اعلا خاندان تسلیم کیا جاتا تھا ۔بنگلہ دیش بننے سے بہاری مسلمانوں کو جن اذیتوں سے گزرنا پڑا ناول اس کی جھلکیاں پیش کرتا ہوا نظرا ٓتا ہے۔ ناول نگار کو قرة العین حیدر کی تحریروں سے خاصا شغف رہا ہے اور انھوں نے قرة العین حیدر کی غیر افسانوی نثر پر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے ۔ اس لیے مان کر چلنا چاہیے کہ انھوں نے ’وقت ‘کے تصور کو گہرائی سے سمجھا ہوگا ۔ اور اس کا اچھا خاصا اثر ان کے ناول پر دکھائی دیتا ہے ۔ وقت انسانی کرداروںکو کس طرح بدل کر رکھ دیتا ہے اور ان کے جذبات و احساسات پر کس طرح حاوی ہوجاتا ہے اس کی ایک مثال اس ناول میں دیکھی جاسکتی ہے ۔ وقت بڑے بڑے زخموں پہ مرحم بھی رکھ دیتا ہے اور نہ جانے کتنے زخموں کو پیدا کرتا ہے اور نہ جانے کتنے زخموں کو یوں ہی ہراچھوڑ کر آگے بڑھ جاتا ہے ۔ اس ناول کے کرداروں کی زندگی میں وقت بے رحم دریا کی طرح بہتا رہتا ہے ۔ کبھی اپنی نرمی اور ملائمت کی چادر ان کرداروں کی زندگی پر ڈال دیتا ہے تو کبھی نرم اور ملائم چادروں کو بہا کر لے جاتا ہے ۔ ناول کی ابتدا میں ترجمہ نگار نے خلیل جبران کے ناول ’ شکستہ پر‘ کا ایک اقتباس پیش کیا ہے جو وقت کی تبدیلی کو بیان کرتاہے ۔ یہ اقتباس بامعنی ہے ۔ اور درست مقام پہ پیش کیا گیا ہے ۔

کہانی ایک دیہاتی معذور مسلم لڑکی کے آس پاس گردش کرتی ہے جس کا نام رانی ہے ۔ ہندوستانی صوبہ بہار کے ضلع مظفرپور اور اس کے اطراف کی اس کہانی کا مرکزی کردار رانی ہے جو اپنے نام کے معنی کے برخلاف ایک پولیو زدہ معذور لڑکی ہے ۔ جس نے زندگی میں غربت کے علاوہ کچھ نہیں دیکھا ۔ لیکن اس نے اپنی غربت زدہ زندگی سے نکلنے کی کوئی بھرپور کوشش کبھی نہیں کی ۔ بس وقت نے کبھی اس کا ساتھ دیا کبھی اس سے منہ موڑ کر آگے نکل گیا ۔ اس نے اپنی زندگی کی آرزوﺅں میں گزاری ۔ کبھی یہ آرزو کہ کوئی نیک سیرت شخص آئے اوراس کی معذوری کی پرواہ کیے بغیر اس کو بیا ہ کر لے جائے ۔ کبھی یہ آرزو کہ اس کی جیٹھانی اس کے برے وقت میں کام آئے اور کبھی یہ آرزو کہ اس کا بیٹا پروفیسر بن جائے ۔ پہلی آرزو پوری ہوتی ہے جب کہ دوسری اور تیسری آرزو پوری ہونے سے قبل وہ تپ دق کا لقمہ بن جاتی ہے ۔ کہانی کا آغاز رانی کے بچپن سے ہوتا ہے ۔ وہ نہر کے کنارے اپنی سہیلیوں کے ساتھ کھیل رہی ہوتی ہے ۔ اور اس کی چپل نہر میں گرجاتی ہے ۔ وہ ہزار کوششوں کے باوجود نہر سے اپنی گلابی رنگ کی نئی چپل خود سے نہیں نکال پاتی ۔تب اسے کوئی سہیلی چپل نکا ل کر دیتی ہے ۔ ناول میںیہ اس کی پہلی ناکام کوشش تھی ۔اقتباس ملاحظہ کریں:
”ناتواں قدموں سے اپنی چپل پر قابو پانے کی کوشش میں اس نے اپنا توازن کھو دیا۔اس کی چپل پیروں سے آزاد ہوکر نہر میں جا گری جہاں اس کی نگاہیں اس ہچکولے کھاتے چپل کو دیکھ سکتی تھیں ، وہ ایک بے نیاز سی لڑکی تھی ، اس نے اپنی سہیلیوں کی مدد کے بغیر ہی چپل باہر نکالنے کی کوشش کی ۔۔۔۔۔۔۔۔جب ایک لڑکی نے اس کو نہر کی جانب لڑکھڑاتے ہوئے دیکھا تو دوسری لڑکیوں کے ہمراہ شور مچاتی ہوئی اس کی طرف لپکی ،ایک نے اس کو کھینچ کر باندھ پر لا کھڑ اکیا ،دوسری وہیں پڑی ایک لکڑی کی مدد سے اس کی گلابی چپل کو باہر لے آئی “۔
(شب انتظار گزری ہے ،ص۵۲،۶۲)
دوسری کوشش وہ تب کرتی ہے جب اسے سسرال میں اپنے سسر کی نصیحتوں پہ عمل کرتے ہوئے خاندان کی شیرازہ بندی کرنی ہوتی ہے اور اس کوشش میں وہ کامیاب ہوتی ہے ۔ اس کے علاوہ زندگی سے لڑکر زندگی کو اپنے موافق بنانے کی کوشش کرتے ہوئے اسے کسی مقام پر نہیں دکھایا گیا ہے ۔اس کی پوری زندگی میں وقت اور حالات یا تو اس کے مخالف رہتے ہیں یا اس کے موافق ۔ ناول میں تعلیم نسواں کا موضوع بھی ڈھونڈا جاسکتا ہے ۔رانی کا باپ اپنی بیٹی کو تعلیم دلوانے کے بجائے اس کی شادی کی فکر زیادہ کرتا ہے ۔
ناول کی کہانی کا زمانہ بیسویں صدی کی ساتویں دہائی سے شروع ہوتا ہے اور تقریبا تین نسلوں کی کہانی بیان کرتا ہے ۔ بین السطور سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مصنف اسے کس زمانے میں لکھ رہا ہے ۔ کیوں کہ ناول نگار واقعات بیان کرتے ہوئے زمانے کی وضاحت بھی کرتا جاتا ہے ۔ مثلا وہ کہتا ہے کہ اُس زمانے میں فون کی سہولت نہیں تھی یا اُس زمانے میں سفر مشکل ہوا کرتا تھا وغیرہ ۔ یہ ناول روشن خیال اور ترقی پسند مصنف کی تخلیق ہے ۔وہ رانی کو مرکزمیں رکھ کر مختلف سماجی ، سیاسی ، تہذیبی ، مذہبی ، معاشی او ر اخلاقی مسائل کو کریدنے کی کوشش کرتا ہے ۔ اس کوشش میں کہانی اکثر اپنے ڈگر سے بھٹک جاتی ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ کچھ خاص واقعات کو اپنے اظہار خیال کے لئے مصنف نے تختہ مشق بنایا ہے ۔ حالاں کہ ان موضوعات و مسائل کی سنجیدگی اور سنگینی سے انکار ممکن نہیں ہے۔ لیکن ان مسائل کو ٹھیک طرح سے ناول میں گوتھا نہیں گیا ہے ۔ یا پھر انھیں ادھورا چھوڑ دیا گیا ہے ۔ اسی وجہ سے ناول کے اختتام تک یہ اندازہ کرنا مشکل ہوتا ہے کہ کہانی کہاں پر جاکر ختم ہوگی ۔ رانی کے کھیل سے کہانی شروع ہوتی ہے ۔ پھر اس کے باپ کے جیل چلے جانے کی بات شروع ہوتی ہے ۔ پھر اس کے بھائی کے مدرسے چلے جانے کی بات شروع ہوجاتی ہے ۔ یہاں مصنف نے مدرسہ میں مولوی حضرات کی جنسی بے راہ روی کو اپنی تنقید کا نشانہ بنایا ہے ۔ مدرسوں میں اغلام بازی کی قبیح کرتوتوں سے پردہ اٹھایا گیا ہے اور بچوں کی ذہنی و فکری اور نفسیاتی پیش کش اس حصے کو ناول کا بہترین حصہ بناتا ہے ۔ اور ایسا لگتا ہے کہ ناول نگار رانی کے بھائی کو مرکزی کردار میں ڈھالنا چاہتا ہے ۔ تبھی کہانی کا رخ رانی کی شادی کی طرف پھیر دیاجاتاہے ۔ یہ صرف ایک مثال ہے ۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ناول نگار واقعات کو بننے کی کوشش تو کرتا ہے لیکن وہ کڑیوں کو کبھی بڑھادیتا ہے یا کبھی گھٹا دیتا ہے ۔
مدرسوں میں اغلام بازی کی قباحت پہ بات کرنے والی کوئی تحریر اس سے پہلے میری نظر سے نہیں گزری ۔ یہ ایک سنجیدہ موضوع اور مسئلہ ہے ۔ مصنف اپنی تمام تر روشن خیالی کے ساتھ اس باب میں بڑی کامیابی کے ساتھ اپنے قلم کے شہوار کو رفتار دیتا ہے ۔ رانی کا بھائی آخر کار اسی قبیح عمل کا شکار ہوکر مدرسے کی تعلیم سے متنفر ہوجاتا ہے ۔ اور پھر کبھی تعلیم گاہ کی صورت تک دیکھنا گوارا نہیں کرتا ۔ اس کی جہالت کا ذمہ دار وہ طبقہ اشرافیہ ہے جسے مسلم سماج کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری دی گئی ہے ۔
اس کے علاوہ ہندوستانی مسلمانوں کو دہشت گردی کے الزام میں پھنسائے جانے کے بے شمار واقعات نے پچھلی کچھ دہائیوں میں مسلمانوں کو سماجی اور معاشی سطح پر ایسا ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے جس کاکرب ناک بیان ایک الگ موضوع کا تقاضا کرتا ہے ۔ مصنف ناول کے اختتام پہ ایسے ہی ایک کردارسے متعارف کراتا ہے ۔اور دکھا تا ہے کہ کس طرح ایسے ایک نوجوان کی زندگی برباد ہوجاتی ہے جس کی ماں کو بھیک مانگنا پڑتا ہے ۔ناانصافی کے اس منظر پہ رک کرمصنف نے اپنے کردار کے حوالے سے جن خیالات کا اظہار کیا ہے وہ ذہن کو جھنجھوڑ نے کے لئے کافی ہے۔ لیکن یہ واقعہ کہانی میں اچانک نمودار ہوتا ہے ۔ اسے ناول کے علت و معلول سے عمدہ مناسبت نہیں ہے ۔
اس کے علاوہ ناول بہار کے متوسط طبقے کے خاندانی اور خانگی جھگڑوں کو بھی پیش کرتا ہے ۔ رانی کے مائکے اور سسرال دونوں ہی خاندان کو آپسی رنجش اور سازشوں میں ملوث دکھایا گیا ہے ۔اور پھر تھک ہار کر ایک ہوتے ہوئے بھی دکھایا گیا ہے ۔ یہ وقت کے دریا کے زیر اثر وقوع پذیر ہونے والے ان سچے واقعات میں سے ہیںجن کا سامنا ہندوستانی مسلمان کرتے رہتے ہیں :
”حامد کے پاس خاصی زمین تھی جس سے غلے اگا کر وہ اپنے بال بچوں کی پر ورش کر سکتا تھا،جب تینوں بھائیوں میں جائیداد کا بٹوارہ ہوا تو حامدکے بڑے بھائی راشد نے اپنے حق سے زیادہ زمین پر قبضہ جمانے کی کوشش کی ۔ نتیجتاََ دوسرے بھائیوں نے اس کی لالچ کی مخالفت شروع کر دی ۔ یہیں سے ان کے درمیاں قانونی جنگ کی بنیاد پڑی ۔بہت جلد اس معاملے کو عزت و دستار کا رنگ دے دیا گیا اور دن بہ دن تینوں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے در پے ہو گئے ۔رفتہ رفتہ ان کی توجہ معاشی زندگی اور بچوں کی تعلیم و تربیت سے ہٹ کر اسی قانونی جنگ پر مرکوز ہو گئی ۔ اس طرح کی جنگ عموماََ ان متوسط طبقوں کے خاندانوں میں نسلاََ بعد نسل چلی آرہی تھی “۔
(شب انتظار گزری ہے ۔ص۴۳)
اس طرح ناول کئی ٹکڑوں میں بٹاہوا نظر آتا ہے ۔ مسائل و موضوعات اگرچہ بہت سنجیدہ اور سنگین ہیں لیکن ناول نگار ان کو سجانے میں پوری طرح کامیاب نہیں ہوا ہے ۔ ان برے لوگوں میں ایک اچھا آدمی اور مثالی آدمی بھی ہوتا ہے ۔ جیسے پریم چند کے ناولوں میں ہوتا ہے ۔ وہ ہے رانی کا سسر ۔ رانی کا سسر ہر اعتبار سے ایک مکمل اور مثالی کردار ہے ۔ وہ اپنے بیٹے کے لئے ایک معذور لڑکی کو پسند کرتا ہے ۔ اور اس عمل کو اپنے عمل خیر میں شامل کرتا ہے ۔ اس کی موت پہ ایک پنڈت اس کی لاش کو گھر پہنچانے کے لئے تیار ہوجاتا ہے اور ناول نگار یہاں گنگا جمنی تہذیب کو ابھارنے کی کوشش کرتا ہوا نظر آتا ہے ۔ کسی حد تک رانی کا شوہر بھی ایک مثالی کردار ہے لیکن ناول کے اختتام سے ٹھیک قبل وہ اپنی تمام مثالیت کو طاق پہ رکھ کر انسان بن جاتا ہے ۔ رانی کے کردار کو بھی مثالی بنانے کی کوشش کی گئی ہے ۔ اس میں کسی طرح کی کوئی برائی نہیں ہے ۔ وہ ایک وفا شعار بیٹی ، بیوی ، بہو اور مشفق ماں کی زندگی گزار کر اس دنیا سے چلی جاتی ہے ۔قاری کی امیدکے مطابق ناول کو اس کی موت پہ ختم ہوجانا چاہئے تھا لیکن ناول رانی کی موت کے بعد بھی اپنی کہانی میں کچھ نئے واقعات شامل کرلیتا ہے ۔ اس طرح ناول نگار نے مثالیت اور عینیت دونوں سے کام لیا ہے ۔ناول میں تمام کردار ایک دوسرے سے مربوط ہیں اور کہانی کی بنت بھی فکشن کے تقاضوں کو پورا کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ترجمہ میں اردو فکشن کی زبان کا خیال رکھا گیا ہے اور زبان کو افسانوی انداز میں پیش کرنے کی کامیاب کوشش کی گئی ہے ۔ اقتباس ملاحظہ کریں :
”مشترکہ فیملی کے ساتھ رانی کی دس سالہ زندگی ہو یا فیملی سے علحدہ ہو کر سالوں سال کی زندگی ،رانی کو اپنی زندگی میں ہمیشہ پر خار وادیوں سے گزرنا پڑا۔ خوشی ہو یا غم ،وقت کا قافلہ تو ہمیشہ گزر ہی جاتاہے ۔ اس سے کیا فرق پڑتاہے کہ جب آپ ماضی کے دریچوں میں جھانک کر دیکھیں تو آپ کو یادوں کا ایک ہرا بھرا گلشن نظر آئے یا خوف و ہراس کا ایک عالم ؟ ماضی تو ماضی ہی ہوتاہے “۔
(شب انتظار گزری ہے ،ص۲۴۱)
(Living in a joint family for ten years and living
separately for many years was full of thorns for
Rani. The time passed as it always passes; it doesn’t
matter whether it leaves good memories for you or it
horrifies you when you look back.)
[long Wait, Chapter Fifteen, pg 109]
کہانی کے کچھ کردار اور مقام کو ڈی کوڈ کرنا آسان ہے ۔ کبھی ایسا لگتا ہے کہ ناول نگار نے اپنے آس پاس کے کچھ کرداروں کے ناموں کو بدل کر اور کچھ واقعات کو جوڑ توڑ کر ان میں رنگ بھرنے کی کوشش کی ہے ۔ رانی کا بیٹا انس جس یونیورسٹی میں پڑھتا ہے وہ مظفر پور یونیورسٹی اور پروفیسر قادری ناز قادر ی ہوسکتے ہیں ۔ اسی طرح قاضی نگر قاضی چک بھی ہوسکتا ہے ۔ رانی کے بیٹے انس کی کہانی خود مصنف کی زندگی سے ملتی جلتی ہے ۔ مصنف نے مظفرپور یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی ۔ اردو ادب کی تعلیم حاصل کی ۔ ادب میں انھیں قرة العین حیدر کافی پسند رہی ہیں انھوں نے قرة العین حید ر پر کام بھی کیا ہے ۔ رانی کابیٹاانس بھی قرة العین حیدر کو پسند کرتا ہے ۔اور دہلی جاکر پروفیسر بننے کا خواب دیکھتا ہے لیکن زندگی گزارنے کے لئے کال سینٹر وغیرہ میں کام کرنا پڑتا ہے ۔ مصنف بھی دہلی جاکر پی ایچ ڈی مکمل کرنے سے قبل کئی اداروں میں نوکری کرتے رہے ۔انھیں بھی پروفیسر بننے کا شوق رہا ہے ۔یعنی ابھی بھی ان کو پروفیسر بننے کا موقع نہیں ملا ہے ۔ انھیں اردو ادب کی تعلیم لینے والوں کی معاشی زندگی کا خاصا تجربہ ہے ۔ اس لئے کہانی کے اس حصے کو وہ بہترین انداز میں پیش کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں ۔اردو ادب کے طلبا کو ہندوستان میں جن معاشی مسائل کا سامنا ہے مصنف نے ان پہ بھر پورروشنی ڈالنے کی کوشش کی ہے ۔ ناول نگار پوری کہانی میں خود مختار راوی کی حیثیت سے کہانی سناتا جاتا ہے ۔مکالموں سے کم کام لیا گیا ہے ۔ ناول میں کہانی بیان کرنے کی کسی جدید تکنیک کا استعمال نہیں ہوا ہے ۔ ایک خط مستقیم پر کہانی آگے بڑھتی ہے اور ختم ہوجاتی ہے ۔

(مبصر:طیب فرقانی،شمالی دیناج پور ،مغربی بنگال)
ali1taiyab@gmail.com
+91 9708073693