Select your Top Menu from wp menus
سرخیاں

حکمت سے بڑے معرکے سر کیے جا سکتے ہیں۔

حکمت سے بڑے معرکے سر کیے جا سکتے ہیں۔

اسرار دانش

یوں تو انسان پیدائش سے تا دم آخر مختلف قسم کی پریشانیوں اور مسائل سے گھِرا رہتا ہے۔ ہر سانس اک نہ اک مسئلہ اپنی تمام سختیوں کے ساتھ انسان سے زور آزمائی کرتا رہتا ہے۔لیکن گزشتہ کئی سالون سے ہندوستان کے مسلمانوں کے سامنے ایک منظم شازش کے تحت جس طرح کے مسائل تواتر کے ساتھ کھڑے کیے جا رہیں ہیں اس کے پسِ پشت صرف اور صرف مسلمانوں کو الجھا کر تباہ و برباد کارنے کا منشہ کار فرما ہے جو نہایت تشویشناک ہے۔
چند شر پسند عناصر کے ذریعہ منظم طور پر ہندوستان کے مختلف علاقوں میں کہیں چوری کا غلط الزام لگا کر تو کہیںبیف کی برآمدگی کا بہانا بنا کر بظور خاص مسلم نوجوانوں کی بے رحمی سے پٹائی کی جاتی ہے اور موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے۔ ایسے دلدوز واقعات کی خبریں پورے ملک سے تواتر کے ساتھ آ رہے ہیں اس کے با وجود موجود بر سر اقتدار حکومت خاموش تماشائی بنی ہے۔
تمھاری خامشی اس بات کی کی تصدیق کر تی ہے
تمھارا ہاتھ ہے رکھا ہوا قاتل کے شانوں پر
ہندوستان کے امن پسند شہریوں کے لیے جہاں یہ افسوسناک عمل ہے وہیں بالخصوص مسلمانوں کے لیے بہت ہی خطرناک۔ ان حالات سے نمٹنے کے لیے قطعا زور بازو کے مظاہرے کی ضرورت نہیں بلکہ مضبوط حکمت عملی کی درکار ہے۔ حکمت مومن کی گرچہ گمشدہ دولت ہے پھر بھی ایسا نہیں کہ مسلمان حکمت کے اسرار و رموز سے بالکل نا بلد ہو چکا ہے۔ اس کا ر عظیم کے لیے علمائے کرام اور دانشوران قوم و ملت کو بلا تفریق مسلک و نظریہ ایک مضبوط حکمت عملی کے ساتھ سامنے آنے کی شدید ضرورت ہے۔حکمت سے
بڑے معرکے سر کیے جا سکتے ہیں۔

عید الاضحی کے موقع سے جانور کی کھال کی قیمت میں افسوس ناک حد تک کمی آ جاتی ہے اس کی وجہ بھی مخالفین کی پالیسی ہے۔بڑی کمپنیاں ہم سے کم قیمت پر چرم قربانی خرید کر زیادہ قیمت پر خود بیچ کر زیادہ منافع کماتی ہیں یہ سب جان کر ہم حالات کے ہاتھوں مجبور اور ٹھگا ہوا سا محسوس کر تے ہے۔ وقت کے ساتھ یہ احساس بھی ختم ہو جاتا ہے اور پھر ایک سال بعد وہی منظر دیکھنے کو ملتا ہے۔ایسی صورت میں حکمت کا تقاضہ یہ ہے کہ ہم چرم قربانی کو فروخت نہ کیا جائے۔ اس عمل سے ہمارا بہت خفیف تریں نقصان تو ضرور ہو گا لیکن آئندہ کے لیے سود مند ثابت ہوگا۔بڑی کمپنیاں جو زیادہ نفع کماتی ہیں اثر انداز ہوں گی تب جا کر ہمیں چرم قربانی کی مناسب قیمت مل سکے گی۔
دوسری جانب ایک اعداد وشمار کے مطابق ہندوستان بیف ایکسپورٹ کے کاروبار میں امتیازی مقام حاصل کر چکا ہے۔کیا یہ ہمارے ستھ نا انصافی نہیں ہے کہ بیف اکسپورٹ کی بڑی کمپنیاں آپ (غیر مسلموں ) کی ہیں اور بیف کے نام پر قتل عام ہمارا کیا جائے۔ہندوستان میں آبادی کے لحاظ سے مسلمان ۴۱ فیصد ہیں اور بیف کا استعمال ۱۷ فیصد افرادکرتے ہیں۔ ۷۵ فیصد کون لوگ ہیں جو بیف کھاتے ہیں؟کیا یہ آنکڑے ہمیں دعوت فکر نہیں دیتے ہیں؟
اس تعلق سے راقم الحروف کی آخری رائے یہ ہے کہ مسلمان بیف کھانا بالکل ترک کر دے۔ اور ایسا کر نے سے ہماری زندگی کسی بھی زاوئے سے اثر انداز نہیں ہو رہی ہے۔ چونکہ برادران وطن بیف کو مذہبی جذبات سے جوڑ کر دیکھتے ہیں لہذا ہم ان کے جذبات کی قدر کرتے ہوئے بیف کے کاروبار اور اس کے استعمال سے مکمل احتراز کے ساتھ حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا جائے کہ ملک میں جو بھی بیف ایکسپوڑٹ کی کمپنیاں ہیں ان کے لائسنس کو مسترد کیا جائے تو بات بنتی ہوئی نظر آ سکتی ہے۔
اگر ہندوستان کے مسلم اسکالرس اورتمام مکاتب فکر کے علمائے کرام بلا تفریق مسلمانوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے سر جوڑ کر بیٹھیں اور سنجیدگی سے غور و فکر فرمائیں تو یقینی طور پر خوشگوار نتائج کے بر آمد ہونے کے امکان سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے۔
اسرار دانش
ضلع صدر
آل انڈیا مسلم بیداری کارواں
سمستی پور
Mob: 9031860572

HTML Snippets Powered By : XYZScripts.com