Select your Top Menu from wp menus

ذکی طارق کی شاعری

ذکی طارق کی شاعری

محمد اسلم آزاد
اسسٹنٹ ٹیچر 2+ہائی اسکول ہنوارہ گڈا جھارکھنڈ
8210994074
تعارف
نام : محمد ذکی انصاری
یوم پیدائش : 10 مئی 1972
قلمی نام : ذکی طارق
والد : محمد شفیع انصاری
تعلیمی لیاقت : فاضل دینیات
مشغلہ : شعر وشاعری
پیشہ : درس وتدریس
استاذ: طارق انصاری صاحب
پتہ: سعادت گنج بارہ بنکی یوپی

ذکی طارق عصر حاضر کے ان شعراءمیں سے ایک ہیں جنہوں نے اردو شاعری کو نئی راہ دکھائی ہے ،اگر ہم موجودہ دور کے شعراءکی بات کریں تو یقینا اردو ادب کی دنیا میں ہمیں بے شمار ایسے لوگ نظر آتے ہیں جو اردو ادب کی خدمت میں ہمہ تن مصروف ہیں پھر چاہے وہ ادب کے کسی بھی صنف سخن سے تعلق رکھنے والے ہوں ۔وہ مسلسل اپنی محنت اور کاوش کے ساتھ اردو کا دامن سیراب کر رہے ہیں۔ اردو ادب کی ملک گیر بات کی جائے تو ہم پاتے ہیں کہ ہندوستان کی تقریبا سبھی ریاستوں میں ہی اس زبان کیلئے فکر کرنے والے لوگ موجود ہیں جو بلاشبہ بغیر کسی ذاتی مفاد کے خلوص کے ساتھ اردو کیلئے کام کر رہے ہیں ۔
موجودہ دور میں شاعری کی دنیا میں محترم کامران غنی صبا ،افتخار راغب،پریم ناتھ بسمل ،خورشید طلب ،انور آفاقی اور ذکی طارق وغیرہ کچھ ایسے شعراءہیں جنہوں نے اردو ادب سے وابستہ لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے ، یہ چند ایسے نام ہیں جو موجودہ دور کی شاعری کا درخشندہ ستارے ہیں ۔
اتر پردیش کے بارہ بنکی ضلع سے تعلق رکھنے والے جناب محترم ذکی طارق صاحب ان ناموں میں سے ایک ہیں جنہوں نے اپنی شاعری کے ذریعہ ملک اور بیرون ملک میں اپنی علیحدہ شناخت قائم کی ہے ،ہندوپاک کی لگبھگ تمام اخبارات میں ان کی غزلیں اور نظمیں مسلسل شائع ہو رہے ہیں ۔
اسکے علاوہ مختلف رسالوں میں بھی انکی غزلیں خوب دیکھی جاسکتی ہیں جو بلا شبہ انکی مقبولیت کی طرف اشارہ کرتی ہے ۔ یہ کہنا بالکل بھی غلط نہ ہوگا کہ انہوں نے اپنی شاعری کے ذریعہ اردو ادب کا دامن وسیع کیا ہے ۔اپنی شاعری میں محترم ذکی طارق صاحب جس زبان کا استعمال کرتے ہیں اسے دیکھ کر قطعا گمان نہیں ہوتا کہ وہ معمولی شاعر ہیں ۔

غزلوں میں اردو کے زخیم الفاظ کا استعمال کثرت سے ملتا ہے جن کا استعمال کرنے سے آج کل کے بیشتر شعراءگریز کرتے ہیں لیکن دوسری طرف انکی نظموں میں سادہ اور سہل زبان کا استعمال بھی ہوا ہے ۔
اشعار میں لفظ کو کیسے پرونا ہے جس سے بات واضح ہوانکو اچھی طرح پتہ ہے
ذکی طارق کا نام اسلئے بھی قابل ذکر ہے کیونکہ انہوں نے شاعری کی تقریبا تمام اصناف مین طبع آزمائی کی ہے اور ان میں کامیابی بھی حاصل کی ہے ، ان کی اصل جولان گاہ غزل ضرور ہے لیکن انہوں نے اسکے علاوہ بے شمار نظمیں ،غزلیں، قوالی ،سہرا ،منقبت اور مرثیہ وغیرہ بھی لکھا جو لوگوں میں خوب مقبول ہوا ہے ۔
انہوں نے اردو ادب کی خدمت میں اپنی زندگی کا بیشترحصہ صرف کیا ہے ۔ایک عرصہ تک وہ صحافت کے کام سے وابستہ رہے ۔کچھ عرصہ تک اخبارات میں ادارت کاکام انجام دیا ۔انہوں نے بارہ بنکی سے ہفت روزہ اردو اخبار ” آخری نام “ بھی جاری کیا جوکسی وجہ سے ایک سال بعد بند کرنا پڑا ۔
انکی شاعری کا خاص موضوع جمالیات ،یاسیات اور اصلاحیات ہے جس پر انہوں نے کثرت سے اشعار لکھے ہیں اور ان موضوعات پر انہیں بیحد دسترس بھی حاصل ہے
لفظوں کا بروقت اور بر محل استعمال انہیں بڑا شاعر بناتا ہے ۔غز لیات پر انہیں دوسری صنف کے مقابلے میں زیادہ دسترس حاصل ہے۔حالانکہ انہوں نے اپنے موضوع سے ہٹ کر بھی کافی اشعار لکھا ہے
آج ذکی طارق صاحب شاعری کی دنیا میں کسی تعرف کا محتاج نہیں انکی شاعری نے انہیں مقبولیت دوام بخشا ہے ۔وہ آج بھی دل وجان سے ادب کی خدمت میں مصروف ہیں ۔
پیش ہے محترم ذکی طارق صاحب کے کچھ چنندہ اشعار

نازِ محبوب کچھ ایسے میں اٹھانا چاہوں

خود ہی روٹھاہوں مگر اسکو منانا چاہوں

دیدی اپنے نام کی نسبت ہمارے نام کو

کس قدر مضبوط ہے رشتہ ہمارا آپکا

راستہ اپنا لے انکا گر ہے جنت کی طلب

وقف ہے خلد مقدس سبط پیغمبر کے نام

گئی رتوں کے پھر آنے کی آس نہ رکھ

گذشتہ لمحوں کی تصویریں اپنے پاس نہ رکھ

HTML Snippets Powered By : XYZScripts.com