Select your Top Menu from wp menus

سیاست اصولوں کی  نہیں وصولی کی بنیادپر

سیاست اصولوں کی  نہیں وصولی کی بنیادپر

از قلم : مدثر احمدشیموگہ ،
ایڈیٹر ۔ روزنامہ آج کاانقلاب ۔ شیموگہ کرناٹک
موبائل: 9986437327
کچھ ماہ قبل تک جب ملک میں پارلیمانی اور اسمبلی انتخابات ہونے جارہے تھے اس وقت ملک کی عوام کو یہ پیغام دیا جارہاتھا کہ ای وی یم مشینوں میں گڑبڑی ہے اورووٹ کسی بھی پارٹی کو دیں وہ بی جے پی کے کھاتے میں جارہے ہیں ، اس بات کو لے کر سیکولر ہندوستانی خصوصََا مسلمانوں نے بڑے ہی احتیاط کے ساتھ ووٹنگ کی اور مشینوں پر آخری دم تک نظر رکھی ، باوجود اسکے مرکز میں بی جے پی کو اکثریت حاصل ہوئی اور بعض ریاستوں میں غیر بی جے پی سیاسی جماعتوں کو کامیابی ملی ۔ جن ریاستوں میں غیر بی جے پی سیاسی جماعتوں کو کامیابی ملی ہے وہاں بھی سیاسی حالات سدھر نہیں پائے ہیں بلکہ مزید بگڑ چکے ہیں ۔ خصوصََا مسلمانوں نے جن پارٹیوں پر اعتبار کیا وہ پارٹیاں لااعتبار ثابت ہوئی ہیں جس کی تازہ مثالیں ہم نے گوا ، کرناٹک اور مغربی بنگال میں دیکھ رہے ہیں ۔ مغربی بنگال میں مسلمانوں نے ٹی یم سی کو چنا، گوا میں کانگریس اور کرناٹک میں جے ڈی یس اور کانگریس کو منتخب کیا ۔ ان ریاستوں میں بی جے پی کو اقتدار سے دور رکھنے کے لئے مسلمانوںنے پوری ایمانداری کے ساتھ سیکولر کہی جانے والی سیاسی جماعتوں کو ووٹ دیا لیکن یہی سیکولر پارٹیوں کے اراکین اسمبلی نے مسلمانوں کو سر عام دھوکہ دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے بی جے پی سے ہاتھ ملانے کی پہل کی ہے ۔ ایک طرح سے دیکھا جائے تو جن سیکولر امیدواروں کو ای وی یم کےذریعے ووٹ دیا گیا تھا وہ انکا ووٹ انہیں ہی ملا لیکن ووٹ ملنے کے بعد سیکولر لیڈران کمیونل لیڈران بن گئے اور جس بات کا مسلمانوںکو ڈر ای وی یم سے تھا وہ ای وی یم سے کامیاب ہونے والے لیڈروں نے کر دکھایا ۔ دراصل ملک میں آج کل جو سیاست چل رہی ہے وہ سیاست اصولوں کی بنیاد پر نہیں بلکہ وصولی کی بنیاد پر چل رہی ہے اور سیاستدانوں کے پاس ضمیر ،اخلاق ، انسانیت اور ایمانداری سب غائب ہوچکی ہے ۔ ہر ایک اپنے اپنے مفادات کے لئے سیاست کررہا ہے۔ ایسے وقت میں مسلمانوں کے سامنے یہ سوال ہے کہ آخر بھروسہ کریں تو کس پر کریں کیونکہ کانگریس ہو یا جے ڈی یس سب اپنے اپنے مفادات کی خاطر سیاست کررہے ہیں اور جنہوںنے ان پر اعتبار کیا ہے انہیں درد کے سواء کچھ نہیں دیا ہے۔مسلمانوںنے ہمیشہ بی جے پی کو اپنا دشمن مانتے ہوئے یا بی جے پی نے مسلمانوں کو اپنا دشمن بناکر انکی پارٹی سے دور رکھا اور انکے مدعوں نے مسلمانوں کو کبھی بھی انکے قریب ہونے نہیں دیا ۔ امسال ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے بعد وزیر اعظم مودی کی من کی باتوں سے ایسا لگ رہا تھا کہ زمانہ بدل رہاہے اور مودی جی بھی بدل گئے ہیں جس کی وجہ سے وہ مسلمانوں کو سماجی انصاف دینے کے پابند ہوگئے ۔ لیکن پچھلے چند دنوں سے ملک بھر میں جو حالات مسلمانوں کے تئیں پیدا ہوئے اس سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ ملک میں کچھ کا ساتھ کچھ کا وکاس ہورہاہے اور مسلمانوں کے ساتھ بکواس ہورہی ہے ۔ ایسے وقت میں کانگریس ، جے ڈی یس ، آر جے ڈی ، سماج وادی ، بی یس پی ، عام آدمی پارٹی ، ٹی یم سی ، سی پی آئی جیسی نام نہاد سیکولر پارٹیاں مسلمانوں پر ہورہے ظلم و ستم کے خلاف متحدہ آواز اٹھانے کے بجائے مسلمانوں کو انکے حال پر چھوڑ دیا ہے اور کہیں سے بھی مسلمانوں کے تحفظ کے لئے آواز بلند نہیں ہورہی ہے ۔ ان پارٹیوں کے غیر مسلم سیاستدانوں کی بات چھوڑیے خود مسلمان لیڈران خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں اور ہر پارٹی سے ایک جوکر مسلمانوں کے حق میں بات کرنے کا ناٹک کرتا ہوا دکھائی دے رہاہے ۔ جس وقت انہیں مسلمانوں اور دلتوں کے ووٹ درکار تھے اس وقت انہیں نے ایک پلاٹ فارم بنایا تھا اور ووٹ منتشر نہ کرنے کے لئے ایک ہی اسٹیجوں سے جابجا تقریریں کی جارہیں تھی لیکن اب مسلمانوں کے بہتے ہوئے خون پر انکی نظر ہی نہیں پڑ رہی ہے۔ مسلمان جو کسی بھی پارٹی کا ہو وہ اپنی پارٹیوں پر دبائو ڈالنے میں ناکام ہوچکے ہیں کہ وہ مسلمانوں کے تحفظ کے تعلق سے آواز اٹھائیں ، ان مسلمانوں کو تو اپنی فکر پڑی ہے کہ کہیں انکے سیاسی آقا ناراض نہ ہوجائیں اور انہیں عہدوں سے دور نہ کردیں ۔ دوسری جانب یم آئی یم ، یس ڈی پی آئی ، یو ڈی یف اے ، مسلم لیگ جیسی سیاسی پارٹیاں جنہوںنے ہمیشہ مسلمانوں ، دلتوں اور پسماندہ طبقات کے حقوق کے لئے آواز اٹھائی ہے انہیں پارٹیوں سے مسلمان کنارہ کشی اختیار کرلیتے ہیں اور ہمارے ملی قائدین ان پارٹیوں کی تائید کرنے کی بات کرنے کے بجائے یہ کہہ کر مسلم قیادت والی پارٹیوں کو کمزور کردیتے ہیں کہ آپ اس دفعہ خاموش رہیں کیونکہ بی جے پی کو ہرانا ہے اور سیکولر پارٹیوں کو اقتدار پر لانا ۔ اب دیکھ لیں کہ کرناٹک کے سیکولر کانگریسی اور جے ڈی یس کے اراکین اسمبلی کس طرح سے کمیونل ہوتے جارہے ہیں !۔ ویسے دیکھا جائے تو مودی فرعون سے بڑھ کر ظالم و خود ساختہ خدا نہیں پھر بھی مسلمانوںنے اپنوں پر اعتبار کرنے سے زیادہ ان سیاسی پارٹیوں کا اعتبار کیا جو آزادی کے بعد سے آج تک مسلمانوں کو صرف اور صرف اپنے ووٹ بینک کے طورپر استعمال کیا ۔ ہمیں لگتاہے کہ اب مسلمانوں کو اپنی روش تبدیل کرنی ہوگی اور اپنے درمیان سے مسلم سیاسی قیادت کو ابھارنے کے لئے پہل کرنی چاہئے بھلے آنے والے انتخابات میں بھی کمیونل سیاسی جماعتیں ہی کیوں نہ اقتدار پر آئیں ۔ امتحان سخت ہوگا یہ سوچ کر امتحان سے غائب ہونا حکمت نہیں ہے بلکہ امتحان ہر حال میں دینا یہ ضروری ہے ، اسکے بعد نتیجہ کچھ بھی نکلے لیکن بے عزتی و ظلم و ستم کی زندگی سے بہتر تو یہ بات تو ثابت ہوجائیگی کہ سیکولرزم کے پروانے صرف مسلمان ہی ہیں اور انکے بغیر سیکولر زم کا تصور ہی غلط ہے ۔ ہماری رائے یہ ہے کہ مسلمان کانگریس اور اسکی جیسی پارٹیوں کی تقلید کرنے کے بجائے اپنی سیاسی جماعتوں کو مضبوط کرنے کے لئے قدم بڑھائیں اور اس ملک میں اپنے وقار ، اپنی حیثیت اور ضرورت کا احساس دلائیں ۔

EDITOR
AAJ KA INQALAB