Select your Top Menu from wp menus

۔۔مسلمانوں میں غیر اسلامی شعور: ایک المیہ

۔۔مسلمانوں میں غیر اسلامی شعور: ایک المیہ
ریاض الدین شفیق جامعہ امام ابن تیمیہ
موبائل نمبر :9162090838
بلاشبہ مذہب اسلام ایک ضابطہ حیات ہے جو انسانیت کے تمام پہلوؤں پر عدل و انصاف کے ساتھ بات کرتا ہے ،زندگی جینے کا صحیح اور درست راہ اپنانے کی ترغیب دلاتا ہے، ظلم و جبر کی سخت مذمت کرتا ہے اور حق گو لوگوں کے شانہ بشانہ ہو کرخیرخواہی اوراخوت و بھائی چارگی کو عام کرنے کی بھرپور تلقین کرتا ہے مزید یہ کہ بدکردار و بدچلن لوگوں کو سوسائٹی سے دور رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔تاکہ سماج میں  ظلم و جور اپنا پاوں نہ پھیلائے اور شر و فتن کا بول بالا نہ ہو اور معاشرہ کے اندر خوشحالی کا بسیرا ہو۔۔۔
لفظ مسلم دراصل اس اونٹ کیلئے استعمال کیا جاتا ہے جس کی نکیل اس کے مالک کے ہاتھ میں ہو اور وہ اپنی مرضی سے نہیں بلکہ اس کا ہر عمل مالک کے تابع ہو۔ ایک مسلم کو مسلم کہے جانے کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے خالق حقیقی کی شناخت کرکے اس کے دستور و قوانین کے موافق عمل کرے۔اس کا ہر لمحہ اسلامی تعلیمات کے مطابق  گزرتا ہو۔ اور اس کی زندگی کے ہر گوشے میں اسلامی فرامین کو برتری حاصل ہو کیونکہ وہ اس بات سے بخوبی واقف ہوتا ہے کہ اسلامی قوانین زندگی کے تمام تر گوشوں پر نہ صرف بحث کیا ہے بلکہ تمام قوانین کے مصالح کو بھی واضح طور بیان کر دیا ہے۔۔۔۔۔۔ اور قانون الہی کی ذراسی مخالفت ہونے پر فورا وہ اللہ سے توبہ و استغفار کیلئے کمر بستہ ہو جاتا ہے۔ غرض یہ کہ ایک مسلمان دنیا کی ہرچیز کے درمیان اچھے برے کی تمیز جانتا ہے جو ایک بہتر انسان ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہے ۔۔۔۔۔۔۔
ایک مومن مسلمان زندگی کے ہرمیدان میں خوش رہتا ہے اس کے سامنے حالات اچھے ہو یا برے، وہ کبھی بھی اپنے اخلاقی معیار کو گرنے نہیں دیتا اور خوشی خوشی ہر قسم کے مصائب وآلائم کا ڈٹ کر مقابلہ کرتا ہے۔لیکن افسوس کہ دور حاضر کے مسلمان بہت بے چینی و اضطرابی کی زندگی بسر کررہا ہے اس کی عزت و ناموس پر دوسروں کا قبضہ ہے اور اس کی آبرو  نیلامی کے در پہ ہے  ایسا لگتا ہے کہ اہل دنیا نے اسے انسانیت سے نیچے گرا دیا ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کی وجہ یہ ہیکہ آج  مسلم قوم کو پوری طرح فرامین اسلام سے دور ہٹ کر زندگی جینے کی لت لگ گئی ہے۔ گناہوں سے اس طرح لپٹ گئے جیسے دونوں میں چولی دامن کا رشتہ ہو۔ہر برائی کو ہم نے سماج میں جنم دے دیا ہے جس کی بنا پر ہمیں یہ ذلت و رسوائی کی زندگی جینا پڑ رہا ہے ۔۔۔اس بات کا بہت قلق ہے کہ یہ قوم اپنی مالی میراث کو آگے بڑھانے کے بجائے اس کو نیست و نابود کرنے پر تلی ہوئی ہےاور اسلامی میراث کو ترقی دلانے اور گناہوں کو دور کرنے کیلئے اپنے دل میں کوئ رجحان پیدا نہ کر سکی۔ جبکہ ہمیں پتہ ہے کہ صغائر و کبائر گناہ پے در پے کرنے والی قوم بہت جلد آسمانی آفت کا شکار ہوجاتی ہے جیسا کہ گزشتہ قوموں کی ہلاکت کا تذکرہ قرآن کریم میں بطور عبرت موجود ہے۔۔۔۔غیر قوموں کی تمام قباحتیں جس کا کل تک ہمیں تصور نہ تھا آج پوری طرح ہم پر حاوی ہے۔ آپ سوچئے کہ زنا جیسی خطرناک اور مہلک ترین مرض، جس سے نسل کی خرابی لازم آتی ہے مذہب اسلام نے اس پر حد مقرر کیا ہے اور خطاکارکو جلد از جلد کیفرکردار تک پہنچانے کا حکم دیا ہے ہمارا معاشرہ اس بدترین مرض کا شکار ہے جبکہ بعض مفلوج ذہن والےتو اسے زمانے کی سرعت اور ذہنی رفتار سے تعبیر کرتے ہیں۔بھلا جس گناہ کو اسلام نے سختی سے منع  کرکے اس کیلئے بطور عبرت شدید تعذیر متعین کیا ہو ، وہ کبھی بھی انسانیت کیلئےمفید نہیں ہوسکتا ہے۔بلکہ ایسے افعال انجام دینے والے شخص خود زندگی میں اپنی قبر کھودنے کے مترادف عمل کر رہا ہے۔اسی طرح سود خوری، چغل سازی،اور غیبت جیسی امراض مسلم سماج میں پوری طرح غالب ہے جس نے آدمی کو ذہنی اور جسمانی دونوں اعتبار سے لاغر و کمزور بنا دیا ہے۔ اپنے بزرگان کی وہ ساری نیک خصلتیں جو ہمیں زندگی میں آگے بڑھنے کیلئے کافی تھیں ہم نے اسے پوری طرح کھودیا ہے۔اور غیروں نے انہیں اپنا کر زندگی کے ہر میدان میں پیش پیش ہیں اسلاف کی باتوں کو نظر انداز کرنے کی وجہ سےسربلندی اور برتری کے بجائے ناکامی اور نامرادی نے ہمیں جکڑ لیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر آج بھی مسلم قوم شریعت مطہرہ کو اپنے سینے سے لگاکر زندگی کے ہر مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں تو ہماری بے بسی بہت تیزی سے ختم ہوسکتی ہے۔اور نسلوں کیلئےہمارے اسلاف کی جدو جہد رنگ لاسکتی ہےاور ہم دنیا وآخرت کی اس بلندی تک پہنچ سکتے  ہیں جہاں تک ہمارے صحابہ و تابعین کی رسائی تھی، جنہوں نے اپنی زندگی کے تمام حالت میں اسی شریعت محمدیہ کو اپنائے رہا اور جس کی کامیابی کی گواہی رب العزت نے رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ کہہ کر دیا۔۔۔اللہ ہمیں نیک نیت سے حق و باطل کے درمیان فیصلہ کرنے کی توفیق دے۔۔۔۔۔آمین