Select your Top Menu from wp menus

بہار میں وزیر اعلیٰ اقلیتی ملازمت قرض منصوبہ ایک مذاق بن چکی ہے

بہار میں وزیر اعلیٰ اقلیتی ملازمت قرض منصوبہ ایک مذاق بن چکی ہے

سمستی پور(محمد مصطفیٰ)بہار میں وزیر اعلیٰ  اقلیتی ملازمت قرض منصوبہ ایک مذاق بن چکی ہے. ضلع سمستی پور میں سال 2018-19 کے لئے، ضلع اقلیتی فلاح و بہبود کے شعبہ میں اقلیتی کمیونٹی کی طرف سے تقریباً 550 درخواستیں جمع کیا گیا تھا. 2019 کے شروع میں درخواست دہندگان سے مذکورہ دفتر میں تفتیش بھی  گیا اور اب جولائی 2019 میں ایک سال بعد تقریباً 350 درخواست دہندگان کا قرض منظور کر ضلع بہبود آفیس میں فہرست لگا دیا گیا ہے. ان میں سے، 50 درخواست دہندگان کو محکمہ کی طرف سے بیان کردہ شرائط کو پورا کرنے کے بعد بھی قرض ملتا ہے،تو غنیمت ہے. 100000 تک کے قرض کے لئے درخواست دہندگان کے ذریعہ خود کی گارنٹی یا کسی ایسے شخص کی گارنٹی جن کے نام یا ان کے والدین کے نام کرایہ رشید لگان یا دیگر متعلقہ دستاویزات ہو، سے گارنٹی باونڈ پر دستخط کرانا لازمی ہے. ایک لاکھ  سے پانچ لاکھ روپیہ تک کے قرض کے لئے درخواست دہندگان کو ایک سرکاری / نیم سرکاری / بینک اہلکار / و دیگر ملازم (جن کی ملازمت کم از کم 5 سال باقی ہو) یا کسی انکم ٹیکس ڈونر کی ذاتی گارنٹی کے مساوی رئیل اسٹیٹ کا مساوات سے دستخط کرانا لازمی ہے. ان شرائط کی تکمیل کرنا سب کی بس کی بات نہیں ہے واضح ہوکہ  بینک کی طرف سے آدھار کارڈ اور پین کارڈ کی بنیاد پر کسی بھی ضرورت مند کو تین لاکھ تک کا قرض روزگار کے لئے آسانی سے دیا جا رہ ہے ایسی صورت میں وزیر اعلیٰ اقلیتی روزگار منصوبہ کے تحت ان شرائط کو لاگو کیا جانا کیا اقلیتوں کے جذبات کے ساتھ کھیلواڑ یا مذاق نہیں. کیا اس منصوبہ کے تحت  وزیر اعلی کے ذریعہ  اقلیتوں کو بہلانے کا کام نہیں ہے کیوں کوئی سرکاری ملازم کسی کی گارنٹی لیگا  اس سلسلے میں آل انڈیا مسلم بیداری کارواں کے ضلع صدر اسرار دانش نے کہا ہے کہ وزیر اعلی اقلیتی روزگار قرض منصوبہ کے تحت وزیر اعلی کی طرف سے اقلیتوں جن میں مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہے  سبز باغ دکھایا جا رہا ہے آخر  اتنی کڑی شرط کیوں لگائی جا رہی ہے جبکہ، وزیر اعظم مدرا لون منصوبہ کے تحت،بھی اتنی شرائط عائد نہیں کی گئی ہے ان سخت شرائط کو نافذ کئے جانے سے  وزیر اعلیٰ کی ارادے  واقعی شک کے دائرے میں آجاتے ہیں اگر وزیر اعلیٰ حقیقت میں اقلیتوں کی فلاح و بہبود چاہتے ہیں اور انہیں تجارتی بنانا چاہتے ہیں تو پورے بہار میں اس روز منصوبہ بندی کے تحت جتنے بھی درخواست موصول ہوئی ہیں سبھی کو اپنی طرف سے گارنٹر بانڈ بنا کر بغیر کسی شرط کے قرض فراہم کیا جائے انہوں نے کہا کہ اقلیتی کمیونٹی کے لوگوں کو نئی ملازمت شروع  یا پرانے روزگار میں اضافے کے لۓ جس امید سے قرض کے لئے درخواستیں دی تھیں. اس پر سخت شرائط و ضوابط کی مار سے پانی پھرتا ہوا نظر آ رہا ہے .اگر بہار حکومت کی طرف سے اس سلسلے  میں فوری ہدایات جاری نہیں کیا گیا تو یہی سمجھا جائے گا اقلیتی فارم کو لے کر حکومت بیدار نہیں ہے اور یہ سب كھانا پوری کے لئے کیا گیا

HTML Snippets Powered By : XYZScripts.com