Select your Top Menu from wp menus

خودغرضی

خودغرضی

کون رکھے گا یاد ہمیں اس دور خود غرضی میں
حالات ایسے ہیں کہ لوگوں کو خدا یاد نہیں(علامہ اقبال )


ہر انسان میں خود غرضی تو ہوتی ہی ہے ہاں کسی میں کم تو کسی میں زیادہ اورکسی کسی میں تو حد سے زیادہ ہوتی ہے اور انسان کا خود غرض ہونا ایک ایسی صفت ہے جو شاید اس دنیا میں بسنے والے ہر بشر میں موجود ہوتی ہے۔ سب سے بڑی دلچسپ بات ہے کہ یہ صفت ہرانسان میں موجود تو ہوتی ہے لیکن وہ اسے قبول کرنے میں شرمندگی محسوس کرتا ہے۔
اخلاقی طور پر اگر کوئی شخص خود غرض ہے تو اسے یہ بات قبول کرنی چاہئے،پر کیا ایسا ہو سکتا؟؟کیا کوئی انسان خود قبول کر سکتا ہے بھلا!!! کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کوئی کسی کو خود غرض کے لقب سے ہی پکار لیتا ہے۔ کہیں اگر اس انسان میں یہ صفت نا ہو تو وہ برا مان جاتا ہے جو بات اس میں نہ ہو اور وہ اس سے منسوب کی جائے تو اس صورت میں برا ماننا تو ہر انسان کا حق ہے لیکن جب کسی میں خود غرضی کی صفت موجود ہواور سامنے محسوس کرنے والے کو دکھائی بھی دے رہی ہو تو پھر یہ ظاہری امر ہے کہ وہ ایسے انسان کو خود غرض ہی کہے گا۔بے شک ہر انسان زیادہ تر اپنی صفات ،اپنے اعمال، اپنے کردار کی بِنا پر ہی معاشرے میں اپنی پہچان بناتا ہے۔
خود غرضی کی دنیا میں کئی مثالیں موجود ہیں۔ کئی طرح سے خود غرضی کرتے ہیں لوگ لیکن کیا انسان پیدائشی طور پر خود غرض ہوتا ہے؟ نہیں بلکل بھی نہیں!!!! دنیا میں پنپنے والے جرائم لوگوں کی صعوبتیں اور نہ ختم ہونے والے مسائل دوسروں سے حسد جلن انسان کو خود غرض بنا دیتے ہیں؟کیا خود غرضی انسان کا شوق بن چکا ہے؟ یا پھر کئی لوگ دوسروں کو جان بوجھ کر تکلیف پہنچاتے ہیں۔ اور خود غرض انسان کو شائد اپنی عزت گنوانے کا کوئی ملال ہی نہیں ہوتا۔ کیا یہ ایک صحیح اور مثبت عادت ہے یا موقع دیکھ کر ایسا رویہ اختیار کر لیتا ہے؟ ان سوالوں کے علاوہ بھی کئی ایسے سوالات ذہن میں ہیں کہ آج انسان کیوں اس مرض میں مبتلا ہو گیا ہے؟ کیا یہ ایک عادت ہے؟ بیماری ہے؟یا لالچ یاپھر وقت کی اہم ضرورت؟ کیوں انسان اپنی اس عادت سے نجات حاصل نہیں کر سکتا؟ اور دوسروں کو پریشانیوں اور ذہنی دباؤ میں مبتلا کر دیتاہے؟
ہر روز ہمارے گردونواع کئی طرح کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں۔کئی لوگوں کے ساتھ خود غرضی کے معاملات ہوتے ہیں اور یہ سب ہونا کوئی خاص بات نہیں ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ہم لوگ خود غرض اور مفاد پرست اور بے حس ہو گئے ہیں۔ احساس مر چکے ہیں اور یہ ساری باتیں صرف سڑکوں ،بازاروں، اسپتالوں، سرکاری دفاتروں میں ہی نہیں بلکہ تعلیمی اداروں ،اسکولوں، کالجوں اور ہر فیلڈ تک پہنچ گئی ہے۔ہر جگہ خود غرضی اور مفاد پرستی نے اپنا ڈیڑہ جما لیا ہے۔پہلے اسکولوں میں کالجوں میں معاشرے کو سنوارنے کا سبق دیا جاتا تھا پر جیسے جیسے خود غرض ومفاد پرست لوگوں نے حالات کو اپنے قابو میں رکھنے کی کوشش شروع کی اس سے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوگیا۔ جن کے پاس کبھی کھانے کو روٹی نہیں تھی آج وہ اچانک دھوکا دے کر مال دولت والے ہوگئے ،ناجائز طریقے سے دولت جمع کرنے والے کچھ لوگوں نے معاشرے پر اپنارعب جمانے ودکھاوے کی آندھی میں اپنی گھٹیا سوچ کو پروان چڑھایا۔کئی لوگ تو خود غرضی کی آگ میں اسطرح جلتے ہیں جیسے کوئی اوزار بنانے کے لئے لوہے کو آگ میں گرم کیا جاتا ہے۔اسی بے حسی اور خود غرضی نے ہمارے پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔جس سے کئی گھر اور لوگ بربادی کا شکار ہو رہے ہیں۔ کئی خود غرض لوگ اپنے مفاد کے لئے اتنے گر جاتے ہیں کہ وقت پڑنے پر گدھے کو بھی باپ بنا لیتے ہیں!اپنی خود غرضی اور مفاد پرستی میں جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ بنانے میں دوسروں کی برائیاں تلاش کرنے میں اپنے رات دن ایک کر دیتے ہیں۔ خود غرضی کی اس وباء نے لوگوں کوایسے جھکڑ لیا ہے جس سے جان چھڑانا بہت حد تک مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن نظر آرہا ہے۔
ایسے لوگ اپنے مطلب کے وقت آپ سے نہایت میٹھے لہجے میں بات کریں گے مطلب نکل جانے کے بعد نہ صرف آپ کو بری طرح نظر انداز کردیں گے بلکہ آپ کو نقصان پہنچانے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔اور کس حد تک گڑ جائے گے۔خود غرض اور مفاد پرست انسان سانپ کی طرح ہوتے ہیں۔آپ چاہیں ان کے ساتھ جس قدر بھی نیکی کرو وہ ڈھنسنے سے باز نہیں آئیں گے بلکہ ڈھنس کر ہی رہیں گے۔
انا، غرور، خود پسندی، خود غرضی، جھوٹ روحانیت کے لئے تیزی سے ہلاک کرنے والے زہر ہیں اور روحانیت کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ بھی ہیں۔جس نے ان کٹنایوں کو پار کر لیا وہ روحانیت کی راہ پر گامزن ہو گیا اور جس نے انہیں اپنے سر پر بٹھایا اس نے خود کو دھوکے میں رکھا۔خودغرضی اور ذاتی مفادات نے کبھی ہمیں ایک قوم بننے ہی نہیں دیا۔آج کا دور خود غرضی کا ہے۔ضرورت پڑنے پر خون کے رشتے بھی نظریں چرانے لگتے ہیں۔آج کل لوگ خود غرضی میں رشتوں کو نبھاتے کم اور آزماتے زیادہ ہیں۔ کچھ لوگ تو اتنے خود غرض ہوتے ہیں کہ انہیں صرف اپنی ہی فکر ہوتی ہے اوروں کی زندگی برباد کرتے وقت ذرا بھی نہیں سوچتے اور سوچیں بھی کیوں؟اپنے مفاد کے لئے کسی کو بھلا برا کہنے سے بھی باز نہیں آتے۔ جو لوگ آپ سے جلتے ہیں ان کی قدر کریں کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو آپ کو خود سے بہتر سمجھتے ہیں۔
جو انا پرستی، نفرت کے انداز اور خود غرضی کی اساس پر محبت کے شجر لگاتے ہیں ایسے لوگ بڑے درویش صفت انسان ہی ہوتے ہیں۔پر دور ِحاضر میں ایسے لوگوں کا ملنا بہت ہی مشکل ہے۔ محبت دوستی اللہ کے بہترین تحفے ہیں انہیں خود غرض لوگوں پر برباد مت کرو۔ اچھے لوگوں کی خوبی یہ ہوتی ہے کہ انہیں یاد رکھنا نہیں پڑتا وہ ہمیشہ یاد رہتے ہیں۔

سیدہ تبسم منظور ۔ممبئی
نائب ایڈیٹر گوشہ خواتین و اطفال اسٹار نیوز ٹو ڈے
ایڈیٹر گوشہ خواتین اطفال ہندوستان اردو ٹائمز
9870971871

HTML Snippets Powered By : XYZScripts.com