Select your Top Menu from wp menus

ہجومی تشدد کے خلاف سمستی پور میں اقلیتی و اکثریتی فرقہ کا زبردست احتجاج

ہجومی تشدد کے خلاف سمستی پور میں اقلیتی و اکثریتی فرقہ کا زبردست احتجاج
مختلف تنظیموں اور مذاہب  کے لوگوں نے جلوس میں شرکت کر کے امن بھائی چارے کا دیا پیغام

سمستی پور (محمد مصطفیٰ)ملک کے مختلف شہروں میں انتہاپسندوں کی جانب سے مظلوم اور نہتے لوگوں پر بے بنیاد الزامات لگا کر انہیں ماب لنچنگ کا شکار بنائے جانے کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے وطن ویکاس سنگٹھن کے زیر اہتمام، آل انڈیا مسلم بیداری کارواں،آزاد ہند سینا،سی پی آئ ،سی پی ایم مالے،بھیم آرمی،بام سیف،گرودووارآ منتظمہ کمیٹی،بہار یوتھ فیڈریشن،جمیعت علماء ہند،آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین، و دیگر ملی تنظیموں کی حمایت کے ساتھ احتجاجی ریلی نکالی گئی۔جو طئے شدہ پروگرام کے مطابق جلوس چینی میل سے دس بجے صبح روانہ ہوا جو اہم شاہراہ اوور برج سے ہوتا ہوا ضلع ہیڈکوارٹر کلکٹریٹ صدر دروازے کے پاس پہنچ کر جم کر مودی حکومت و ہجومی تشدد کے ملزم درندے کے خلاف جم کر نعرے بازی کی حالانکہ شدید گرمی کے باوجود ہزاروں کی تعداد میں مسلمان و دیگر ملی تنظیم کے رہنما و کارکن نے اپنی انسانیت دوستی کا ثبوت پیش کرتے ہوئے جلوس اور احتجاجی جلسہ میں شرکت کی۔ احتجاجیوں نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے جس پر ماب لنچنگ بند کرو۔ ماب لنچنگ کا دور نہیں چلے گا اور اس طرح کے الفاظ کے درج تھے۔جلسہ کے اختتام کے بعد ضلع مجسٹریٹ کو میمورنڈم بھی پیش کیا گیا جس میں ماب لنچنگ کے خلاف سخت قانون بنانے اور ملک کے ہر باشندہ کے تحفظ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا۔ سرکاری بس اسٹینڈ احاطے میں منعقد احتجاجی جلسے میں مقررین نے ہندوستان میں جاری ماب لنچنگ کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے ملک کے لیے نقصان دہ اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ قرار دیا۔وطن ویکاس سنگٹھن کے قومی صدر ایڈووکیٹ انظار الحق سہارا نے کہا کہ دستور میں جن بنیادی حقوق کی آزادی دی گئی ہے وہ کسی رنگ، نسل اور فرقہ کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ ہندوستان کے ہر شہری کوحاصل ہیں، چاہے وہ کسی بھی علاقہ اور طبقہ سے کیوں نہ تعلق رکھتا ہے۔ لہذا دستور کی رو سے کوئی کسی پر ظلم نہیں کرسکتا۔انہو ں نے مزید کہا کہ حکومت کی بھی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کے جان، مال، عزت وآبرو کی حفاظت کی ضمانت دے، ساتھ ساتھ انہیں تحفظ فراہم کرتے ہوئے پورے ملک میں پر امن فضا برقرار رکھنے کی کوشش کرے۔ اس سلسلہ میں رکاوٹیں پیدا کرنے والوں اور قانون ہاتھ میں لے کر ملک کا نام بدنام کرنے والوں کو سخت سزائیں دیں تاکہ آئندہ پھر کوئی ملک کا نام بدنام کرنے کی جرأت وہمت نہ کرسکے۔
احتجاجی جلسہ میں اس بات پر بھی زورد یا گیا ہے کہ ہندوستان میں مختلف مذاہب کے لوگ بستے ہیں اور یہ اس کی خصوصیت رہی ہے کہ وہ ہر طرح کے لوگوں کو اپنے اندر لیے ہوئے ہیں۔ لہذا اس خصوصیت کو برقرار رکھنے کے لیے ہم میں سے ہر ایک کو کوشش کرنی چاہیے اور اس بات کو بھی ہمیشہ ملحوظ رکھنا ہے کہ ہمارے کسی بھی قول وفعل سے ملک کی سالمیت کو نقصان نہ پہنچنے پائے۔ ہم ایک اچھا شہری بن کر ہندوستان کی ترقی میں اپنا اہم رول ادا کرنے کی کوشش کریں،اس موقع پر پروفیسر سابق ممبر اسمبلی شیل کمار رائے بھمرو پور مکھیا امتیاز انصاری،زلفخار علی بھٹو،راجداقلیتی سیل کے صدر نسیم عبداللہ انصاری، مالے رہنما سریندر پرساد سنگھ،سعید الظفر انصاری،راجد رہنما محمد اکبر علی،آزاد ہند سینا رہنما محمد سعد،محمد ساجد اقبال جتوارپور ،راجد رہنما سمیع اقبال مظفر پور آل انڈیا مسلم بیداری کارواں کے ضلع صدر اسرار دانش،جمرل سکریٹری عطاء الرحمٰن،وغیرہ نے بھی خطاب کیا،موقع پر بہار یوتھ فیڈریشن کے صدر محمد تمنا خان۔پپوخان،محمد شاکر،سید وحیدالدین عرف گلریز،محمد سلطان احمد ٹیپو،بھیم آرمی کے وصال سمراٹ،ڈاکٹر سورج کمار داس، روبید عالم،محمد نوشاد،محمد جاوید انصاری۔سابق مکھیا مہیش پٹی رضوی عرف بھائی جان،محمد علاؤ الدین انصاری، قطب الدین انصاری،رضی الاسلام رضو،محمد ارمان صدری،محمد مصطفیٰ عالم،محمد آفتاب احمد،صاحیب عالم،عارف حسین،غلام مصطفیٰ محمد صہیم، مولانا سعید الرحمن اعظمی، کے علاؤہ سیکڑوں لوگ موجود تھے