Select your Top Menu from wp menus

پرائیویٹ تعلیمی اداروں کا گرتا معیار! اور اسکول مینجمنٹ

پرائیویٹ تعلیمی اداروں کا گرتا معیار! اور اسکول مینجمنٹ

مکرمین اسکول انتظامیہ

ذوالقرنین احمد

میں ایک سال جولائی ۲۰۱۸ میں آپ کے ادارے میں تدریس کیلئے جوائن ہوا تھا۔  شروع میں مجھے ڈی ایڈ کالج پر تدریس کیلئے جوائن کیا گیا۔ ۳ مہینے بعد پرنسپل کے طرف سے کسی بات پر مجھے کانوینٹ پر پڑھانے کیلئے کہا گیا اور پورے تعلیمی سال ہونے تک میں کانوینٹ پر تدریس کرتا رہا، جس میں ۴  کلاس کا کلاس ٹیچر بنایا گیا اسے کے علاوہ   میں   ۶ کالس پرسائنس، اور ۲،  ۵ پر ای وی ایس اور ۳ کلاس پر گرامر اور جی کے مضمون پڑھانے کیلے دیاگیا تھا۔ جس کی تدریس میں نے بجوبی انجام دیں، میرا بی ایڈ کا سیکنڈ ائیر جاری ہونے کی بنا پر امتحان وغیرہ کیلئے اورنگ آباد جانا ضروری ہوتا تھا۔ اس لیے چھٹیاں لینی پڑیں۔

اب نیا تعلیمی سال شروع ہونے کے بعد میں تقریباً ایک مہینہ سے اسکول آرہا ہوں۔ جس‌میں بچوں کے ایڈمیشن کیلئے سرویں میں بھی شریک رہا لیکن اسکول کے تعلیمی معیار اور والدین کی طرف سے  کمپلینٹ کے بچوں کو کچھ نہیں آرہا ہم سرکاری اسکول میں داخل کرانا ہے۔ کہ کر ٹی سی لے کر جارہے ہیں۔ جس سے اسکول کے تعلیمی معیار پر انگلیاں  اٹھائی جارہی ہے۔ جس کا ذمہ دار اساتذہ کو بھی بتایا جارہا ہے۔ ہو سکتا ہے اساتذہ کی بھی کچھ غلطی رہی ہو لیکن جس معیار اساتذہ آپ جوائن کریں گے آپ کو اسی طرح کا معیار تعلیم ملے گا اساتذہ کے معیار سے ہی بچوں کے رزلٹ کا پتہ چلتا ہے۔ آپ اگر اچھی تنخواہوں پر قابل اساتذہ کو جواین کریں گے تو آپ کو کولیٹی ملیں گی۔ اور اگر کم تنخواہوں میں آپ اساتذہ سے معیاری تعلیم کی امید رکھتے ہے تو یہ آپ کی غلط فہمی ہے۔
ہر کوئی محنت اپنی ضروریات پوری کرنے کیلئے کرتا ہے۔ آپ کے ادارے میں ۳ اور ۴ ہزار کے تنخواہوں پر اساتذہ کو جواین کیا جارہا ہے۔ جس کا روزانہ ۲۰۰ روپہ بھی نہیں بنتے ہیں۔ ایک روزانہ کام کرنے والے مزدوروں کی کمائی اس سے کئی زیادہ ہوتی ہے۔ اس یہ بات صاف ہے کے جو اساتذہ ہے وہ قابل ہے لیکن مجبوری میں کام کررہے ہیں کیونکہ وہ کوئی دوسرا کام کرنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ یہ انکی اپنی مجبوری ہے لیکن سوسائٹی کے ذمہ دروں کو یہ بات معلوم ہونی چاہیے کہ آج کے مہنگائی کے دور میں ۲ سو روپیہ کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتے ہیں۔ اور اس میں آپکی سوسائٹی کا یہ حال ہے کہ آپ کے اسکول میں ۲ ، ۳ مہینے تک اساتذہ کی تنخواہیں نہیں کی جاتی ہے۔وہ اپنے جیب خرچ سے اسکول آتے ہیں۔ جس میں آٹوں سے آنے جانے کے ہی ۲۰،سے ۴۰ روپے روزانہ کے لگ جاتے ہیں۔ اور اگر انہیں وقت پر
تنخواہوں نہیں دیں گئیں تو وہ پیدل آنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ اور اسکول کا ٹائم بھی ایسے ہیں کہ پورا دن چلا جاتا ہے۔ انسا‌ن کوئی اور کام بھی نہیں کر سکتا۔ تو وہ خرچ کیسے چلائے گا۔ اسکول کا معیار تعلیم اس قدر گر چکا ہے کہ والدین آکر سیدھے استاذ کو کہتے ہیں کہ ہمارے بچے کی ٹی سی دو ہمیں یہاں نہیں پڑھانا ہے۔ ۵ ہیں ۶
کلاس میں بھی اسے  کوئی بھی زبان ٹھک سے پڑھنا نہیں آرہی اور نگر پریشد کے اسکول میں داخل کر رہے ہیں۔ میرا سال کا تجربہ رہا کے آپ کے اسکول میں جاری پریڈ میں بچوں کے سامنے ٹیچر کو باتیں سنائیں جاتی ہے۔ شروع اسکول میں بے وقت میٹنگ کو بلایا جاتا ہے اور میٹنگ
دو دو گھنٹے چلتی ہے۔ جس میں صرف اساتذہ کی غلطیاں نکالی جاتی ہے انکی رہبری نہیں کی جاتی ہے۔ بے وجہ اساتذہ کو ڈسٹرب کیا جاتا ہے۔ جس طرح سے وہ کام کرنا چاہتے ہیں انہیں کام  کرنے نہیں دیا جاتاہے۔ اس طرح سال بھر میں کئی کئی بار زرا زرا بات پر میٹنگ بلائی جاتی ہے۔ اور بچوں کا تعلیمی نقصان بھی ہوتا ہے۔ جبتک میٹنگ چلتی ہے۔ سبھی بچے اکیلے پیون کے بھروسے چھوڑ دیے جاتے ہیں۔ اسکول کے طلبا کا معیار یہ ہیں۔ کہ وہ ایک لینگویج پر بھی کمانڈ نہیں رکھتے سوائی چند بچوں کے۔جن کے نام انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں۔
کسی بھی پروگرام میں اساتذہ سے چپراسی کی طرح کام لیا جاتا ہے۔ گیدرنگ میں کرسیاں ٹیبل اٹھانے کے کام لیے جاتے ہیں۔ گراؤنڈ میں سے کچرا اٹھانے کیلے کہا جاتاہے۔ کیا ایک استاد کی آپکی نگاہ میں بس یہیں حیثیت ہے۔ اساتذہ پر تدریس کے علاوہ کام کرنے کیلئے پریشر کیا جاتا ہے۔ اور کام نہ کرنے پر بار بار نوکری نکالنے کی دھمکی دی جاتی ہے۔ کیا اساتذہ چپراسی کا کام کرینگے۔ اور اگر نوکری نکالنے کی جو بات کی جاتی ہے۔ تو کیا یہ کونسا اصول ہے کہ کسی ٹیچر کو ڈائریکٹ اس کے ہاتھ میں نوکری سے برخاست کا لیٹر تھما دیا جائے جسطرح سے آپ کے رولز ریگولیشن ہوتے ہیں کہ نوکری چھوڑنے سے کچھ مہینے پہلے آپ کو اپلیکیشن دینا ضروری ہوتی ہے۔تو پرنسپل کو یہ کیسے حق ہے کہ وہ کسی بھی ٹیچر کو بغیر انٹیمشن دیے دستبردار ہونے کا لیٹر تھما دے۔ اس سے یہ بات صاف ہے۔
کہ آپ صرف اساتذہ کو کسی بھی طرح سے استعمال کرنا چاہتے ہیں اسکا جو پیشہ ہے۔ پوروفیشن ہے۔ اسکے علاوہ بھی اس سے کام کرانے پر اسے مجبور کرتے ہیں۔ اور نہیں کرنے پر نوکری سے بے دخل کرنے کی دھمکی دیتے ہیں۔ یہ بات بلکل انسانیت کے خلاف ہے۔ اگر ادرہ چلانا ہے۔ تو قوم کے فلاح کیلے چلایے ورنہ  ایسے اسکول سے قوم ترقی نہیں کر سکتی بلکہ نئی نسل کا مستقبل ایسے غیر معیاری تعلیمی اداروں کی وجہ تباہ و برباد ہورہا ہے۔ اگر اسکول میں معیار تعلیم ہوتی تو آپکے اپنے بچے بھی اسی اسکول میں تعلیم حاصل کرتے ۔ میری باتیں تلخ ہے۔ لیکن یہی حقیقت ہے حقیقت سے آنکھیں بند نہیں کی جاسکتی ہے۔ کیونکہ آئینہ کبھی جھوٹ نہیں بولتا ہے۔ اور ہم عوام کی آنکھوں پر پردہ نہیں ڈال سکتے ہیں۔
میری آپ سے گزارش بس یہیں گزارش ہے کہ طلباء کے تعلیمی معیار کو بلند و برتر کرنا ہے اور اپنے قوم کے بچوں کو دیگر قوم کے شانہ بہ شانہ کھڑے دیکھنا ہے۔ تو تعلیمی معیار کو بلند کیجیے۔ یہ اسی وقت ممکن ہے۔ جب پڑھانے والے اساتذہ قابل ہو۔ کیونکہ اتنی کم تنخواہوں پر وہی اساتذہ کام کرنے پر مجبور ہے۔ جو یا تو قابل ہونے کے باوجود مجبور ہے یا  دوسرا کام کرنے سے قاصر ہے ۔ اور اکثر ایسے ہے جو ۱۲ ویں میں  نمبرات کم حاصل کرنے کی بنا پر آخر میں مجبوراً ڈی ایڈ کر لیتے ہیں۔ اور اسکولوں میں تدریس کیلئے کم تنخواہوں پر کام کرنے کیلئے تیار ہوجاتے ہیں۔
میں اپنی قوم کو دھوکہ نہیں دے سکتا، میں اپنی قوم کے بچوں کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ نہیں کرنا چاہتا۔ کیونکہ جب اس معیار کے تنخواہوں ہی نہیں مل رہی ہے تو ایسے میں پوری ایمانداری سے کوئی کام نہیں کر سکتا ہے۔ اور نہ بچوں کو معیاری تعلیم مل سکتی ہے۔

اسی لے میں نوکری سے مستعفی ہورہا ہوں۔

HTML Snippets Powered By : XYZScripts.com