Select your Top Menu from wp menus

تاریخ لوٹ آئی ہے

تاریخ لوٹ آئی ہے
از:۔مدثراحمد۔ایڈیٹر روزنامہ آج کا انقلاب،شیموگہ کرناٹک
۔9986437327
آج ہماری تحریر ہماری اپنی ہونے سے زیادہ ہندوستان کی اُ س عظیم شخصیت کی ہے جو نہ صرف عالم دین رہے بلکہ مجاہد آزادی،مفکر،مدبر،مفسر اور حکیم الوقت تھے۔یہ شخص شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی تھے۔انہوںنے اس تقریر کو تقسیم ہند کے موقع پر کہا تھا اور آج یہی حالات دوبارہ رونماہوئے ہیں،ان حالات میں پھر سے اس تحریر کو عام کرنے کی نوبت آئی ہے۔شیخ الاسلام سید حسین احمدمدنی نے جو الفاظ آج سے75 سال قبل کہے تھے وہی الفاظ آج دوہرانے والوںکی ضرورت ہے اور انہیں الفاظ کے تحت عمل کرنے والوںکی ضرورت ہے۔حالانکہ مولانا سید حسین احمد مدنی کے پیروکار،محبین اور عقیدتمند آج بھی ہمارے درمیان موجو دہیں،ان کی آل ہمارے درمیان موجود ہے،جس طرح سے مولانا سیدحسین احمد مدنی نے اُس وقت قوم وملت کی رہنمائی کی تھی،اُسی طریقے سے آج اُن کی آل قوم وملت کی قیادت کی دعویدارہے،فرق اتنا ہے کہ اُن کی آل اور جمعیت علماء ہند کی جانب سے اس تعلق سے واضح طور پر اپنا موقف ظاہرنہیں کیا جارہا ہے۔اگر جمعیت اپنے موقف کو واضح کرتی ہے اور اپنے اکابرین کی ہدایتوں کو عام کرتے ہوئے کام کرتی ہے تو یقیناً اس تعلق سے مثبت نتائج آئینگے۔مولانا سیدحسین احمد مدنی نے اپنے الفاظ جو کہے تھے اس کے اقتباس یہاں درج کئے جارہے ہیں۔{   شیخ الاسلام تقسیم وطن کے بعد پھوٹ پڑنے والےفسادات کے دوران اکثر اس طرح للکارتے تھے۔مسلمانو! اگر تم حالات کو ٹھیک ٹھیک سمجھ لو اور اللہ پر بھروسہ کرکے فسادیوں کا مقابلہ کرنے کیلئے کھڑے ہوجائو تو اپنے وطن اور عوام کو تباہی کے اس جہنم سے نکال سکتے ہو۔مسلمانو! آج خوف اور بزدلی کا جو عالم ہے اس کے تصور سے بھی شرم آتی ہے،گھروںمیں بیٹھے ہوئے ڈرتے ہو۔راستہ چلتے ڈرتے ہو! اپنی بستیوں میں رہتے ڈرتے ہو!کیا تم انہیں بزرگوں کے جانشین ہو جو اس ملک میں گنی چنی تعدادمیںآئے تھے،جب یہ ملک دشمنوںسے بھرا ہو اتھا؟؟آج تما م چار کروڑ کی تعدادمیں اس ملک میں موجود ہو،یوپی میں تمہاری تعداد85 لاکھ ہے،پھر بھی تمہارے خوف کا یہ عالم ہے کہ سر پر پائوں رکھ کر بھاگ رہے ہو!آخر کہاں جارہے ہو؟کیا تم نے کو ایسی جگہ ڈھونڈلی ہے جہاں موت تم کو نہیں پاسکتی؟جُبن،بزدلی اور خوف کو اپنے دل سے نکال دو،اسلام اور بزدلی ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتے۔صبر واستقلال کے ساتھ مصائب کا مقابلہ کرو۔کبھی فساد کی ابتداء مت کرو،اگر فسادی خود تم پر چڑھ آئیںتو ان کو سمجھائو،لیکن اگر وہ نہ مانیں اور کسی طرح بازنہ آئیں تو پھر تم معذور ہو،بہادری کے ساتھ ڈٹ کر مقابلہ کرو اور اس طرح کا مقابلہ کروکہ فسادیوں کو چھٹی کا دودھ یاد آجائے۔تمہاری تعداد خواہ کتنی ہی تھوڑی ہو،مگر قدم پیچھے نہ ہٹائو اور اپنی عزت وحرمت کی حفاظت کرتے ہوئے جان دے دو،یہ عزت اور شہادت کی موت ہوگی۔اس ملک کو تم نے خون سے سینچا ہے ،آئندہ بھی اپنے خون سے سینچنے کا عزم رکھو،یہی ملک سے حقیقی وفاداری ہے،اس ملک پر تمہارا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا کسی دوسرے باشندے کا۔ وفاداری کےاظہار کاجو ڈھنگ تم نے اختیارکررکھا ہے وہ نہ مفید ہے اور نہ ضروری۔آج ملک کے ساتھ وفاداری یہ ہے کہ ترقی پسند جماعتوں کے ساتھ فرقہ پرستی کے جراثیم کاخاتمہ کردو۔وفاداری کے پرانے طور و طریقے اب بدل چکے ہیں۔اب افسرانِ حکومت یا حکومت کے ساتھ وفاداری کے کوئی معنی نہیں۔جب تک اس ملک میں جمہوریت کا نام و نشان باقی ہے،حکومت ہم خود ہیں۔وزرائے حکومت کو ہم نے اپنے ووٹوں سے منتخب کرکے بھیجا ہے۔تاکہ وفاداری کے ساتھ ملک اور اہل ملک کی خدمت کریں،یہ ثابت کرنا ان کا فرض ہے کہ وہ عوام کے وفادار اور ملک کے سچے خیر خواہ اور خادم ہیں،ہم کو ان سے باز پرس کا حق ہے،پھر اس غلامانہ وفاداری کاکیا مطلب؟بلاشبہ ملک کے ساتھ وفاداری ملک میں ہر بسنے والے کا قومی فریضہ ہے،لیکن اس وفاداری کامعیار کسی کاص مذہب یا نظریے کی پیروی نہیں ہے،کیا ہندوستان کی آزادی کیلئے مسلمانوں نے خون نہیں بہایا؟کیا یہاں رہنے والے سب اس ملک کے وفاداررہے ہیں؟اس لئے مسلمانو! ڈرو نہیں،حق کے ساتھ رہو اور بہادری و ہمت سے حالات کامقابلہ کرو اور ضرورت پڑنے پر مقابلہ کرتے ہوئے جان دینا پڑے تو دے دو کہ یہی ملک وملت کے ساتھ وفاداری کا تقاضا ہے}۔
ملک میں درپیش حالات کا جائزہ لیا جائے تو شیخ الاسلام کی وہ تمام باتیں کہی تھی وہ صدفیصد صحیح ہیں۔آج ہماری قوم پوری طرح سے نکمی،لاچار،کمزور اور پریشان حال ہے۔قو م کا ایک بڑا طبقہ اپنے اوپر ہورہے ظلم وستم کاجواب دینے کیلئے تیارہے۔لیکن اسی قوم کا ایک طبقہ حکمت اور صبر کا حوالہ دیتے ہوئے نوجوانوں کو بےموت مرنے کیلئے چھوڑ رہا ہے۔ہماری قوم میں یہ سوچ بھی عام ہوچکی ہےکہ مرنے والاتو ہمارے یہاں کا نہیں ہے،لیکن سوال یہ ہے کہ کیا شہید ہونے والےکا بدلہ لینے کیلئےشہید کا تعلق سے ہمارے گھروں سے ہو؟۔اگر نہیں تو کیونکر پوری انسانیت خاموش ہے۔تبریز انصاری کے بعد بھی مسلسل ہندوستان میں شرانگیزی کے واقعات دیکھے جارہے ہیں۔ہر طرف مسلمانوں کوبلا وجہ مارا جارہا ہے،جئے شری رام کے نعرے کہلوا کر مارنا آج فیشن بنتا جارہا ہے۔مسلمانوںکی18 کروڑ کی آبادی میں سے10 کروڑ مسلمان تو مرد ہیں لیکن ان مردوں میں مُردوں کی صفات پیدا ہوتی جارہی ہیں۔ہم براہ راست بدلہ تو نہیں لے سکتے،لیکن احتجاجات کرنے کیلئے تو کم ازکم آگے آسکتے ہیں۔کیا ہم مسلمانوں کو اب بھی انتظارہے کہ ہم مسلمانوں کے گھروں سے مزید لاشیں نکلیں؟۔ایک مسلمان کی موت بزدل کی موت ہونے سے اچھا ہے کہ وہ شہادت کی موت مرے۔کیونکہ شہیدوں کی موت کو ہی تاریخ میں گنا جاتا ہے،بے موت مارے جانے والے مٹی کے ساتھ دفن ہوجاتے ہیں۔