Select your Top Menu from wp menus

مولانا سید ابو اختر قاسمی ”استاذالاساتذہ ایوارڈ“ سے سرفراز

مولانا سید ابو اختر قاسمی ”استاذالاساتذہ ایوارڈ“ سے سرفراز
دربھنگہ(پریس ریلیز)مولانا سید ابو اختر قاسمی اکابر دیوبند کے علوم کے سچے محافظ اور مبلغ ہیں۔ حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحب ؒ سے آپ کا خاص لگاؤ تھا اور قاری طیب صاحب آپ پر بہت عتماد فرماتے تھے اور مولانا کی تربیت میں مولانا عبد الاحد صاحب ؒ کا اہم کردار رہا ہے، مولانا عرصہ دراز سے دینی و عصری علوم میں مشغول رہے ہیں۔ جامعہ رحمانی مونگیر اور مدرسہ امدادیہ دربھنگہ میں مولانا کی جو خدمات رہی ہیں اسے فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ مذکورہ باتیں قاضی شریعت حضرت مولانا قاسم مظفرپوری نے شہر کے علامہ اقبال لائبریری بی بی پاکر دربھنگہ میں ”مولانا ابو اختر قاسمی۔حیات و خدمات“کے عنوان سے منعقدہ سمینار و اعزازیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔مولانا نے پروگرام کی نوعیت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ زندہ لوگوں کے سامنے ان کی تعریف مناسب نہیں کیونکہ اس سے تکبر پیدا ہوتا ہے،لیکن مولانا کے اوصاف بیان کرنے سے ان میں تکبر توپیدا نہیں ہوگا،البتہ بعدکے لوگوں کوبہترین رہنمائی ملے گی۔اس موقع پر مولانا ابو اختر قاسمی کی نصف صدی سے زائد دینی، علمی، اصلاحی دعوتی اور تدریسی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ان کے شاگردان و محبان کی جانب سے ”استاذ الاساتذہ ایوارڈ“اور معہد الطیبات کی جانب سے اعزازی تمغہ سے نوازا گیا۔پروگرام کے کنوینر صحافی محمد عارف اقبال نے اس سمینار میں آئے ہوئے تمام مہمانوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے اپنے استقبالیہ خطاب میں کہا کہ میرے لئے سعادت کی بات ہے کہ ہم مولانا ابو اختر قاسمی کی موجودگی میں ان کی خدمات اور جہد مسلسل کا ذکر خیر کر رہیں جو یقینا نئی نسل کے لئے تاریخ کا ایک سنہرا باب ہے، انہوں نے یہ اعلان بھی کیا کہ اس سمینار میں پیش کئے گئے تمام مقالات اور ملک بیرون ملک میں پھیلے مولانا کے تلامذہ و محبین کی تحریروں کو کتابی شکل میں بہت جلد منظر عام پرلایا جائے گا۔ پروگرام کی نظامت ڈاکٹر عبد المتین قاسمی نے کی۔سمینار سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسرشکیل قاسمی(اورینٹل کالج پٹنہ) نے کہامولاناکاایک ایک لمحہ نوجوان علماء کے لئے نمونہ ہے کہ مولانانے کس طرح اپنے کومصروف رکھا،مدرسہ امدادیہ کی ہمہ جہت ترقی میں مولانا کے کردارکوبھلایانہیں جا سکتا ہے۔ مولانا نے اس طرح کے سمینار کو مزید وسعت کے ساتھ کرنے کی تجویز رکھی۔مولانا ابو الکلام قاسمی شمسی(سابق پرنسپل مدرسہ شمس الہدیٰ پٹنہ) نے کہا کہ مولانا ہمہ جہت شخصیت کے مالک ہیں، ان کی زندگی میں ان کی خدمات کا اعتراف یقینا قابل ستائش ہے اور اس سلسلے کو مزید آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔معاشرے میں دینی و ملی خدمات انجام دینے والی دیگر شخصیات پر بھی وقتا فوقتا ایسے سمینار ہونے چاہیں تاکہ نئی نسل ان کابرین کو اپنا آئیڈیل بنا سکے۔ محمد علی اشرف فاطمی(سابق مرکزی وزیر) نے مولانا سے اپنے دیرینہ تعلقات اور مولانا کی بے لوث زندگی کا تذ کرہ کرتے ہوئے کہا کہ دربھنگہ شہر کے لئے یہ فخرکی بات ہے کہ مولانا جیسی شخصیات موجود ہیں اور عوامی عالم دین بن کر قوم و ملت کی ہر موڑ پر رہنمائی و رہبری فرما رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میری سیاسی ترقی میں مولانا کا اہم کردار ہے، وہ ایک مخلص عالم اور باپ بن کر مجھ جیسے طالب علم کی رہنمائی میں کبھی بھی بخل سے کام نہیں لیا۔ مولانا وصی احمد قاسمی(مہتمم مدرسہ چشمہ فیض ململ) نے کہا کہ میں آج جو کچھ بھی ہوں وہ سب مولانا ابو اختر قاسمی کی دین ہے، انہوں نے کہا کہ مولانا کی شخصیت صرف متھلانچل ہی نہیں بلکہ پورے بہار کے لئے سرمایہ افتخار ہے، ان کے ہزاروں شاگرد ملک و بیرون ملک میں دین اسلام کی سربلندی کے لئے ہمہ وقت مصروف کار ہیں جو ان کی کامیابی کی اولین دلیل ہے۔پروفیسر شمیم باروی(سابق پروفیسر سی ایم سائنس کالج) نے کہا کہ مولانا بافیض شخصیت کے مالک ہیں، بلا تفریق مسلک و مذہب انسانی بنیادوں پر کام کرنے کے عادی ہیں، انہوں نے کہا کہ مولانا نے جس خاموشی کے ساتھ اپنی خدمات کا دائرہ وسیع کیا ہے وہ سنہرے حرفوں سے لکھے جانے کے قابل ہیں۔ مفتی عبدالسلام قاسمی (استاذ مدرسہ امدادیہ)نے کہا کہ مولانا سے میرا تعلق زمانہ طالب علمی سے رہا ہے، ہم نے ان کو بہت قریب سے دیکھا اور پرکھا ہے، اللہ نے انہیں جن خصوصیات سے نوازا ہے وہ بہت کم لوگوں کو میسر ہیں۔ مفتی آفتاب غازی(ناظم معہد الطیبات) نے کہا کہ مولانا کے خطابت میں ظرافت کی شیرینی ایسی ہی تھی جیسے دوا شکر میں ملا کر پلائی جائے جس سے کڑواہٹ بھی محسوس نہ ہو اور بیماری بھی ٹھیک ہو جائے، اللہ تعالیٰ نے آپ کو مزاج شناسی، مزاج پرسی اور مزاج سازی کا خاص ملکہ عطا فرمایا تھا۔ مولانا شاہنواز بدر قاسمی(بانی وژن انٹر نیشنل اسکول سہرسہ) نے کہا کہ مولانا کی شخصیت ہم جیسے نوجوانوں کے لئے زندہ آئیڈیل کی ہے، انہوں نے عوامی عالم دین بن کر جس خوبصورتی کے ساتھ خد مات انجام دی ہیں وہ ہم سب کے لئے ایک مثال اور حوصلہ بخش ہے، اس سمینار کا اصل مقصد یہی ہے کہ ہم ان کے نقش قدم پر چل کر ان کے علمی و دعوتی اور تعلیمی مشن کو آگے بڑھائیں۔قاری عثمان(استاذ شفیع مسلم ہائی اسکول) نے کہا کہ شفیع مسلم ہائی اسکول میں آپ کی تدریس کے انداز پر روشنی ڈالتے ہوئے مختلف واقعات کا ذکر کیا۔نظر عالم(قومی صدر آل انڈیا مسلم بیداری کارواں) نے کہا کہ مولانا جیسی شخصیت برسوں میں پیدا ہوتی ہے، ان کی روشن خدمات کونظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے علاوہ نیاز احمد سابق اے ڈی ایم، قمر عالم فخری، ڈاکٹر عبد الودود قاسمی، قاری محمد نسیم قاسمی، ڈاکٹر منور راہی، ایڈوکیٹ عرفان پیدل، مولانا احمد حسین وغیرہ نے بھی خطاب کیا جبکہ دیگرمقالہ نگاروں میں مفتی ثناء الہدیٰ قاسمی،مولانا شبلی قاسمی، مولانا سہیل احمد رحمانی، قاری افضل امام فاروقی،ڈاکٹر احسان عالم، مولانا نوشاد احمد قاسمی، قاری فرید صدیقی، مظفر رحمانی، ارشد فیضی، نورالسلام ندوی وغیرہ کے نام شامل ہیں۔ پروگرام کی کامیابی میں رول ادا کرنے والوں میں ڈاکٹر احمد نسیم آرزو، شاہد اطہرو مدرسہ اسلامیہ جھگڑوا کے اساتذہ و طلباہ شامل ہیں۔اس موقع سے مولانا عبدا لکریم قاسمی، مفتی نورا لہدیٰ قاسمی،فیض اکرم، کلیم اللہ رحمانی،ڈاکٹر آفتاب عالم، محمد قاسم، مولا نا جمیل اختر، فاتح اقبال ندوی، سلیم قاسمی وغیرہ موجود تھے۔  
HTML Snippets Powered By : XYZScripts.com