Select your Top Menu from wp menus

اس سنگھی برہمنی راج میں، مسلم میڈیا ھاوس کی کمی کا احساس

اس سنگھی برہمنی راج میں، مسلم میڈیا ھاوس کی کمی کا احساس

نقاش نائطی
+966594960485

*جمہوریت ھند کو سنگھی آمر طرز حکومت سے کون بچائیگا؟ تعلیم یافتہ سول سوسائیٹی کے افراد؟ سنگھئوں کے ہاتھوں بکی میڈیا کے سامنے چند سرفروش میڈیا کرمیوں پر مشتمل دم توڑتے صحافتی رضاکار؟ یا دیش میں انصاف قائم رکھنے کی ذمہ داری اپنے کندھوں پر اٹھائے سپریم کورٹ کے وکلاء اورججز؟ یا باڈر پر بیرونی دشمن ملکوں سے دیش کی حفاظت کرنے والے ویر سپاہی؟ دیش کو برباد کرتی ان سنگھئوں کی پھیلائی منافرت سے دیش واسیوں کو کون بچائے گا؟*

*جمہوریت کے قاتل سنگھی مودی حکومت کے خلاف دیش کی افواج کے آفیسرز سڑکوں پر اترنے تیار*

*کوئی بھی معاشرہ معصیت برائی سے پاک نہیں ہوا کرتا لیکن برائی معصیت کی شرح ہر معاشرے میں جدا جدا ہوا کرتی ہے۔کسی معاشرے کم، کسی معاشرے میں زیادہ۔ اور کسی معاشرے کی برائی یا معصیت لوگوں سے مخفی چھپی رہتی ہے تو کسی معاشرے کی معصیت برائی مختلف میڈیا کے مادھیم سے جگ ظاہر ہوا کرتی ہے۔عراق کویت خلیجی جنگ کے دوران سعودی عریبیہ پر اپنا دباؤ برقرار رکھنے کے لئے سعودی دورے پر آئے ہیومن رائیٹ کے امریکی وفد نے سعودی عربیہ میں سرعام سزائیں دینے، خصوصا سر عام سزائے موت دینے پر سوال اٹھائے تھے تو اس وقت وزارت خارجہ کے ذمہ دار، غالبا پرنس بندر بن عبدالعزیز آل سعود نے واضح انداز میں نہایت پراثر جواب دیا تھاکہ جو امریکی وفد کو لاجواب کرگیا تھا*
*امریکی جرائم شرح کے اعداد و شمار سامنے رکھتے ہوئے پرنس نے کہا تھا۔امریکہ میں ہونے والے قتل کے واقعات کا اتنا فیصد قتل ان لوگوں کے ہاتھوں ہوا کرتا ہے جو پہلے سے قتل کے جرم میں پکڑے گئے تھے۔ اگر پہلے قتل کے بعد انہیں قتل کے جرم میں موت کی سزا دی گئی ہوتی تو ان لوگوں کے ہاتھوں اتنے فیصد معصوم لوگ قتل ہونے سے بچ سکتے تھے۔قاتل کو سزائے موت دینا آپ کو انسانیت پر ظلم لگتا ہے تو ان قاتلوں کے ہاتھوں دوسرے تیسرے یا اس سے بھی زیادہ قتل ہوئے معصوم لوگوں کی زندگیوں کے ضیاع پر افسوس کیوں نہیں ہوتا؟سعودی عربیہ میں اسلامی قانون کے مطابق چونکہ سر عام سزائیں دی جاتی ہیں اس لئے سرزمین سعودیہ میں، جرائم کی شرح دنیا کے کسی بھی ملک سے کم،بہت کم ہے*

*قصص الانبیا کا ایک مشہور واقعہ ہے حضرت موسی علیہ السلام کے زمانے میں ایک گنہ گار عورت آپ کے پاس آکر کہتی میں بہت بڑی گناہ گار ہوں، ایسی ایسی معصیت مجھ سے سرزد ہوگئی ہے کہ لوگ پناہ چاہیں میرے گناہ سے۔ اگر میں سچے دل سے توبہ استغفار کروں تو کیا میرے تمام گناہ معاف ہوسکتے ہیں؟ آپ نے کہا، بے شک سچے دل سے مانگی مغفرت کی دعا ہر گناہ و معصیت کو ایسے پاک و صاف کردیتی ہے جیسے اس سے گناہ ہوا ہی نہیں۔ اس عورت نے کہا حضرت یہ میں جانتی ہوں لیکن آپ اللہ سے ہم کلام ہوتے ہیں ۔ آپ کی اگلی ملاقات میں اللہ رب العزت سے پوچھ کر مجھے بتائیگا کہ میرے گناہ معافی کے لائق ہیں بھی کہ نہیں۔ تاکہ میں چین سے مرسکوں۔*

*حضرت موسی علیہ السلام نے اللہ رب العزت سے ہم کلامی کے دوران اس عورت کی تڑپ کے بارے میں بتاتے ہوئے اس کی مغفرت کئے جانے کے بارے میں پوچھا ۔رب دوجہان کی طرف سے بھی یہ نوید آئی کہ بے شک انسان اپنے گناہ سے سچے دل سے معافی چاہے تو اس کے گناہ ایسے معاف کئے جاتے ہیں جیسے کہ ابھی وہ پیدا ہوا ہو گناہ و معصیت سے پاک و صاف، سوائے حقوق العباد کے۔ حضرت موسی علیہ السلام نے یہ نوید نو جب اس عورت کو سنائی تو مستعجب اس عورت نے مزید استفسار کے لئے، اپنے ایک ایک گناہ ایک ایک معصیت کے راز حضرت موسی علیہ السلام کے سامنے کھول کر بتاتے ہوئے پھرپوچھا حضرت اگلی بار اللہ رب العزت سے ہم کلامی کے وقت ضرور بضرور پوچھئے گا کہ ایسے ایسے گناہ کی مرتکب، میں کیا معافی کے لائق بھی ہوں؟*
*اگلی ملاقات کے دوران جب حضرت موسی علیہ السلام نے اس عورت کی بے چینی کا تذکرہ کر، اس کی مغفرت کئے جانے کے بارے میں سوال کیا تو بارگاہ ایزدی سے جواب آیا،اب اس کی مغفرت نہیں ہوسکتی۔ اسے اپنے گناہ کی سزا بھگتنے کے لئے جہنم کی آگ میں جلنا ہوگا۔ حضرت موسی علیہ کو تعجب ہوا کچھ دن پہلے تو رب ذوالجلال نے اس عورت کی مغفرت کئے جانے کے بارے میں نوید نوسنائی تھی اب یہ متضاد حکم کیوں؟ آپ کے اس سمت سوال پر اللہ رب العزت نے وضاحت کی کہ کل تک اس بندی کے گناہوں کا علم صرف اس تک اور مجھ تک تھا اس لئے اس کے معافی طلب کرلینے پر اسکی مغفرت کرنے کا مجازمیں تھا۔ لیکن اب چونکہ اس نے اپنی معصیت کے راز خود سے آپ پر واشگاف کرتے ہوئے اپنی معصیت و گناہ کا گواہ بنالیا ہے، اس لئے اسے اپنی معصیت کی سزابھگتنی ہوگی۔ اسی لئے تو بزرگان دین کہتے ہیں کہ انسان خطا کا پتلا ہوتا ہے ۔گناہ اگر کسی وجہ سے سرزد ہوبھی جائے تو اس کا تذکرہ کسی سے کرنے کے بجائے سچے دل سے اپنے رب ہی سے مغفرت و معافی مانگ لینی چاہئیے۔بے شک اللہ معافی مانگنے سےخوش ہوتا ہے اور اپنے بندوں کے گناہ معاف کیا کرتا ہے*
*آج کل تو نوجوانوں میں یہ فیشن عام ہوگیا ہے کہ جرم سرزد ہوجانے کے بعد پشیمان ہونے اور مغفرت طلب کرنے کے بجائے اسے آپنے قابل فخر کارنامے کے طور اپنے دوستوں کی محفلوں میں بیان کرتے پھرتے ہیں۔ اور سائبر میڈیا ہر اس کی تصاویر شیر کرنے سے بھی نہیں چوکتے۔ خصوصا مسلم سماج تعلیمی آگہی کے فقدان کے سبب، اور اغیار کی منظم سازش کے چلتے، ہر اقسام کے جرائم میں سرفہرست پائے جاتے ہیں۔ حالیہ ھندستان میں پنپ رہی سنگھی موب لنچنگ اموات والے دور میں بھی، کم سن لڑکیوں کی عصمت دری میں مسلم نوجوان سامنے آرہے ہیں یا منظم سازش کے تحت سامنے لائے جارہے ہیں*

*خصوصا 2014 بعد سنگھی حکومتی دور میں متعدد ہوئے موب لنچنگ کے واقعات بے قصور مسلمانوں دلتوں کو سوچی سمجھی سازش کے تحت بھیڑ کے ہاتھوں سر عام قتل کرنے کے بعد، اس واقعہ کی عکس بندی کر اسے سائبر میڈیا پر خود سے وائرل کر، پسماندہ طبقات دلت و مسلموں میں خوف و ہراس قائم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ نربھئی عصمت دری قتل کا واقعہ چند اوباش قسم کے لڑکوں کی طرف سے اتفاقا سرزد عمل ہوتا ہے جو یقینا قابل مذمت تھا اور ہے بھی۔لیکن اس اتفاقی واقعہ کواستعمال کر،اس سے عوام میں ھیجان خیزی پیدا کر، پورے ہندستان میں حکومت وقت کے خلاف جن آکروش پیدا کرنے کا شریح یا اعزاز جن سنگھی ذہنیت میڈیا کو ہی جاتا ہے کہ اس نے اس واقعہ کی کوریج 24 ساعتی الیکٹرونک میڈیا پر کرتے ہوئے، مختلف بہانوں سے مختلف مذہبی لوگوں کو مختلف پروگرام میں، الیکٹرونک میڈیا پر لائیو ٹاک شو یا آپسی گفتگو ( ڈبیٹ پروگرام) میں گاہے بگاہے پیش کرتے ہوئے، سول سوسائیٹی کے لوگوں کو، ہاتھوں میں جلتی شمع لئے خاموش احتجاج کرنے سڑکوں پر نکلنے مجبور کیا تھا۔ 2014 قبل کانگریس سرکار کے ٹوجی گھوٹالے یا کھنن مافیا گھوٹالے کی سنگھی میڈیا کے ذریعے اتنی تشہیر کی گئی تھی کہ دیش واسی کانگریس سرکار کو نہایت کرپٹ سرکار تسلیم کرنے پر مجبور ہوگئے تھے ۔ 2014 سے 2019 تک سنگھی حکومت دوران ٹوجی گھوٹالے کے تمام ملزمین باعزت عدالتوں سے بری ہوگئے ان پر کوئی جرم ثابت نہیں ہوا لیکن ان گھوٹالوں پر احتجاج کی آڑ میں بی جے پی 2014 انتخاب جیتنے میں کامیاب ہوپائی تھی اس نے نہ صرف مختلف گھوٹالوں سے کانگریس حکومت کو بھی پیچھے چھوڑ دیا بلکہ ریزرو بینک ، سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن جیسے غیر سیاسی ہندستانی بڑے اداروں کا بھی بھگواکرن کر ،جمہوریت سیکیولرزم انصاف وغیرھم کا گلا گھونٹے ہوئے، جھوٹ و افترا پروازی والی اپنی سنگھی آمریت سے، ہزاروں سالہ چمنستان ہندستان کی امن و سکون و شانتی کو،موب لنچنگ سنگھی چڈی دھارکوں کے پیروں تلے روند کر اور الیکشن کمیشن پر اپنے گجو بھیا کو بٹھاتے ہوئے ای وی ایم الیکٹرونک پروگرامنگ، اپنی خود ساختہ جیت کو سوا سو کروڑ دیش واسیوں کے سر زبردستی منڈھتے ہوئے، دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا خون کرتے ہوئے، ہندستان کی اصلی آزادی حق رائے دہی ہی سے، دیش واسیوں کو محروم کرکے رکھ دیاہے۔ 1975 محترمہ اندرا گاندھی جی نے اس وقت کی میڈیا، سنگھی اخبار پر پابندی عائد کر، ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کرتے ہوئے تاریخ کے پنوں میں اپنے آپ کو آمر حکمران کے طور بدنام کرلیا تھا۔لیکن مودی مہاراج کی حسن کارسازی دیکھئے کہ امریکی طرز حکومت پالیسی ساز صیہونی لابی کے پشت پر رہتے آسانی سے کنٹرول میں آنے والی ایک نفری حکومت (صدارتی نظم ہو کہ ان کے خوابوں پر مکمل عمل پیرا وزیر اعظم ہی کیوں نہ ہو)، انکے کندھوں پر اپنی پالیسیز کی بندوق رکھے،اصلا ھند پر حکمرانی کرنے والے پونجی پتی برہمن لابی نے،اس وقت کی الیکٹرونک میڈیا ہی کو خرید کر، سنگھی مودی کے ہر برے کرموں کو صاف ستھرے دن کے اجالے کے طور دیش واسیوں کے سامنے رکھتے ہوئے،پورے ہندستان میں 1975 والی اندرا ایمرجنسی سے خطرناک،اظہار حق رائے دہی ہی سے دیش کی جنتا کو محروم رکھنے کے باوجود، سنگھی آمر مودی شاہ کی حکومت کو اب تک کی لوک پریہ حکومت ثابت کرنے میں کامیاب رہے ہیں*
*تعجب ہوتا ہے کہ ایک انجان ہندستانی ناری نربھیہ کے ساتھ انجان اوباش سڑک چھاپ لڑکوں کے ہاتھوں ساموھک بلاتکار پر نئی دہلی انڈیا گیٹ سے ممبئی آزاد میدان تک بند کے ہر شہر ہر گاؤں میں موم بتیاں ہاتھوں میں لئے حکومت وقت کے (کانگریس) خلاف احتجاج درج کرواتے ہوئے، ان سنگھئوں کے دہلی کی راج گدی ہتھیانے میں مدد کرنے والے، سیول سوسائیٹی کے سوشل ورکر،اب کہاں دبکے بیٹھے ہیں؟ کہ انہیں ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت دیش بھر میں سنگھئوں کے ہاتھوں منظم انداز ہورہی بیسیوں ماب لنچنگ مسلم دلت اموات نظر نہیں آرہی ہیں؟دیش کا سب سے بڑا اندولن کاری نیتا، گاندھی ثانی کے طور اپنے آپ کو پیش کرنے والے،انا ہزارے کو دوبارہ ان شن کرنے میدان میں اترنے کے لئے مودی جی کو سنکھٹ میں گھرتے دیکھنے کا کیا انتظار ہے؟ کہ وہ آئیں اور لوگوں کو بے وقوف بناکر سنگھئوں کو ایک مرتبہ پھر بچالے جائیں گے۔ مختلف میدانوں میں محو مصروف سیول سوسائیٹی والے کیا اپنے درمیان کچھ وقت پہلے تک موجود شری نریندر دھابولکر، ایم ایم کلبرگی اور گوری لنکیش کے ان سنگھئوں کے ہاتھوں ناحق شہید کئے جانے کی وجہ سے ڈر کر، اپنے اور اپنی آل اولاد کی فکر گلو میں لئے، دیش کو ان سنگھئوں کے ہاتھوں لٹتے تاراج ہوتے دیکھنے پر مجبور ہوگئے ہیں؟ پھر کیوں بیسیوں موب لنچنگ اموات اور ہندستانی کم سن ناریوں کی،ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت، ان سیاسی سنگھی بھیڑیوں کے ہاتھوں ساموھک لٹتی عزت اور ختم ہوتی زندگیوں پر بھی سول سوسائیٹی کے معزز لوگ آپنے اپنے گھروں میں دبکے بیٹھے ہیں؟ دیش کو بچانے کی ذمہ داری کس پر ہے؟ اپنے اور اپنی آل اولاد کا پیٹ پالنے کے لئے اور انہیں دو وقت کے دو نوالے مہیا کرنے والے دن بھر کی دھوپ گرمی میں پھتر توڑ محنت کرنے والے مزدوروں کو کیا سڑکوں پر اترناپڑیگا؟ یا اس دیش کا تعلیم یافتہ سول سوسائیٹی طبقہ، سوا سو کروڑ دیش واسیوں کے بھارت ماتا دیش کو ان سنگھئوں کے ہاتھوں مزید تباہ و برباد ہونے سے بچانے کے لئے کیا آگے آئیگا؟ ہم نے تو سوچا تھا سنگھی مودی حکومت کے پہلے دور میں مذہبی منافرت دوسری باری جیتنے کے لئے ہورہی ہے۔ اب سنگھی مودی حکومت کی دوسری باری میں، سنگھی ریاستی حکومت میں تبرئز انصاری کی کھمبے سے باندھ کر ہوئی موب لنچنگ بعد، پورے دیش میں جن آکروش پیدا ہوگا اور نربھیہ کانٹ کے طرز تبرئز موب لنچنگ کانٹ پر دیش بھر میں سنگھی حکومت کے خلاف احتجاجی دور شروع ہوگا۔ لیکن اب کی بار بھی سنگھئوں کے خلاف ہم پچیس تیس کروڑ مسلمان اپنے سیکیولر ہندو بھائیوں دلتوں پچھڑوں کو سنگھئوں کے خلاف اپنے احتجاج میں ساتھ لانے میں کامیاب نہ ہوکر، ہندستان بھر پورے جوش خروش سے منعقد ہونے والے ہزاروں لاکھوں کے احتجاج کو اپنے درمیان ایک سیکیولر آزاد میڈیا نہ رہنے کے سبب ، موثر انداز کامیاب نہیں کرپائے۔آئے دن دیش بھر میں وقوع پذیر ہونے والے سنگھی موب لنچنگ اموات سے، آپنی ذاتی مدافعت ہی کے لئے، دستور الھند کے دائرے میں رہتے ہوئے، منظم طور مسلم دلت اسکولی بچوں بچیوں کو جوڈو کراٹے اکھاڑہ جیسے مدافعتی کھیل سیکھنے سکھانے کا نظم قائم کیا جائیگا یا ان احتجاجی جلوسوں کے انعقاد بعد سوڑا جوش کچھ وقت بعد مدہوس طرز پر اگلے کسی مسلمان کے موب لنچنگ شہید ہونے کا انتظار کیا جائیگا؟*

*دیش کی افواج کے چالیس بہادر فوجیوں کے، پلوامہ کونوائے منظم دہشت گردانہ حملہ میں،اپنوں کے ہاتھوں شہید کئے جانے کی حقیقت کا ادراک و احساس دیش کے فوجیوں کو ہی بہتر ہے۔ ایک کے بدلے دشمن ملک کی افواج کے دس سر لانے کا ڈھنڈھورا پیٹنے والے سنگھئوں کا دیش کی آن بان شان کو داؤ پر لگا کر، سرجیکل اسٹرائیک ٹو کرتے ہوئے دشمن ملک کے 300 سے زیادہ دہشت گردوں کو مارنے کی حقیقت کا صحیح ادراک بھی دیش ہی کی افواج کو بخوبی ہے۔ لیکن کیا پلوامہ کانوائے حملہ میں شہید فوجیوں کے پارتو شریر اور اپنا جیگوار جنگی طیارہ دشمن کے ہاتھوں کھوکر بھی، دشمن ملک میں گھس کر دشمن افواج کو سبق سکھانے والے جھوٹے و افترا پروازی والے دلفریب منظر نامہ پر، سیا سی تقاریر سے دیش واسیوں سے ان کی جھوٹی شان کے بدلے ووٹ مانگ کر سنگھی سرکار ٹو کیا نہیں بنائی گئی ہے؟انہی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے اب دیش کی افواج مودی حکومت کے خلاف کھل کر میدان میں آچکی ہے ۔ان فوجیوں نے مودی جی کو اب کی بار پندرہ اگست کے موقع پر لال قلعہ پر چڑھنے نہ دینے کا پرتگیہ کیا ہے۔ دیش کی افواج کے ذمہ دار کیا دیش کو ان سنگھی آمر حکمرانوں سے آزادی دلانے میں کامیاب ہو پائیں گے؟ یا دیش کی عدلیہ سپریم کورٹ کے سنگھی کرن سے آمان کے لئے، الیکٹرونک میڈیا مادھیم سے دیش کی کروڑوں جنتا سے گوہاڑ لگانے والےسپریم کورٹ ججز کے، اب ہونٹ سلے طرز ہی پر دیش کے ان ڈھاڑتے فوجیوں کو بھی ہم خاموش اپنی بیرکوں میں پائیں گے یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا*

*دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اور دنیا کی سب سے بڑی کنزیومر منڈی میں جہاں دنیا جہاں کے تاجر مختلف النوع تجارت میں محو مصروف و مشغول ہیں وہیں پر ہندستانی الیکٹرونک میڈیا کے بڑی پانچ میڈیا ھاوسز دو فی صد برہمنوں کے ہاتھوں میں ہیں ۔ دلت اور پسماندہ طبقات پر مشتمل چالیس پچاس فیصد سیکیولر ذہن ہندو بھائی اور پچیس سے تیس فیصد ہندستانی مسلم، کئی کئی سو کروڑ کے بیسیوں تجار اپنے دامن میں سموئے رکھتے ہوئے بھی، ایک سیکیولر نیوز میڈیا یا ایک مسلم نیوز میڈیا ھاوس کے قیام کے لئے برسوں سے ترس رہے ہیں۔ ہزاروں سال سے دلتوں آدیواسیوں پر مذہبی بھید بھاؤ ظاہر کر، ان پر حکومت کرتے آئے دو فیصد برہمن، ایک مرتبہ پھر الیکٹرونک میڈیا پر اپنے قبضہ کی وجہ سے، چمنستان ہندستان کے سیکیولرزم و جمہوریت کا جھوٹی ای وی ایم جمہوریت ہی کے بہانے، دن دھاڑے خون کر، ہند پر اپنی برہمنی حکومت قائم کرنے میں کامیاب لگتے ہیں۔اور ہم دلت مسلم اپنے میں ایک اپنا الکڑونک میڈیا نہ رہنے کی وجہ ان دو فیصد برہمنوں کی سازشوں کا شکار بن ذلیل و خوار ہو جینے پر مجبور ہیں،وما علینا الا البلاغ*