Select your Top Menu from wp menus

قرآنی کردار،محبت کی بولی ، اور علوم میں مہارت

قرآنی کردار،محبت کی بولی ، اور علوم میں مہارت

راہ عمل
سیدہ مہرافشاں
دلوں پہ دیجئے دستک پھر محبت کی
گھروں سے لوگ نکلتے نہیں صدا کے بغیر
رمضان شریف اپنی پوری رونقوں اور برکتوںکے ساتھ آیا اور رخصت ہوا۔ گرمی کی شدت کے باوجود اہل ایمان نے خوشی کے ساتھ ماہ مبارک کا استقبال کیا۔پورے مہینے رب کی رضا جوئی کے لیے محنت کی۔پہلی مرتبہ معلوم ہوا کہ شروع سے آخر تک عام طور سے مساجد نمازیوں سے بھری رہیں۔اسی دوران الیکشن کی گہماگہمی بھی رہی مگر اس کا کوئی منفی اثر رمضان کی رونقوںپر نظرنہیں آیا۔ چناو¿ کے نتائج آئے جو اطمینان بخش نہیں رہے لیکن یہ بھی اللہ کی مشیت ہے۔ ہمیں مایوس اور ناامید ہوئے بغیر حکمت اور دانائی سے ان حالات میں اپنی راہ نکالنی ہوگی۔خوشی کی بات یہ ہے کہ عیدالفطر ملک بھر میں بخیریت گزرگئی اور خراب ماحول کے باوجود کہیں کوئی شر نہیں ہوا۔
رمضان کے فوراً بعد۳۱ جون کو ڈاکٹرفخرالدین محمدصاحب کی دعوت پر ایجوکیشن کانکلیو میں شرکت کے لیے حیدرآباد جانا ہوا۔ راستے میں سوچ رہی تھی کہ ہمارے بزرگوں کو جو فاصلہ طے کرنے میں ہفتوں لگ جاتے تھے وہ آج گھنٹوںمیںپورا ہوجاتا ہے۔ جدید علوم، سائنس اورٹکنالوجی کی بدولت اس انقلاب میں ہماری ملت اورمسلم مملکتوں کا کتنا حصہ ہے؟کیا یہ صورت بدل نہیں سکتی؟ اسکا جواب اگلے چھ دن کی کانفرنسوں میں مل گیا۔ ان میں اسی سمت سوچ کی پرواز نظرآئی۔ ہم بے صلاحیت نہیں۔ صرف نیند سے بیدار ہونے اور تعلیم کے نظام کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔اس جشن تعلیمی میں ملک بھرسے سینکڑوں نمائندے آئے۔ دہلی اورعلی گڑھ سے بھی تقریباً ۵۲افراد نے شرکت کی۔ہم اپنے میز بان کی پرتکلف تواضع کے لیے ممنون ہیں۔ڈاکٹرفخرالدین کی اہلیہ وقارفاطمہ صاحبہ بھی ڈاکٹر ہیں ۔یہ ڈاکٹروں کا خاندان ہے جس میں ڈیرھ درجن سے زیادہ ڈاکٹرہیں۔ ماشاءاللہ۔ان کی چاہت ہے کہ ہمارے نوجوان بھی آگے بڑھیں۔ یہ کچھ مشکل نہیں۔ فخرالدین صاحب میسکو(مسلم ایجوکیشنل سوشل وکلچرل آرگنائزیشن) کے بانی و سرپرست ہیں، جس کے تحت بشمول میڈیکل کالجز کئی اعلی تعلیمی ادارے چل رہے ہیں،جن میں ضرورت مند طلباءکو بھی سہولت دی جاتی ہے۔ان میں ’الف‘ کورس منفرد ہے جس میں صرف چھ ماہ میں عربی زبان اور قرآن فہمی میں بہترین استعداد پیدا ہوجاتی ہے اور بطورٹیچر ملک میں اورباہرروزگارراہ کھل جاتی ہے۔
حیدرآباد میں کئی اہم جدیدموضوعات پر ماہرین کے خطاب ہوئے۔ ایک بھرپوراجلاس مدرسہ تعلیم پر ہوا۔ خواتین کا اجلاس خاص الخاص رہا۔ اس کی صدرمحترمہ پروفیسر شاہدہ مرتضیٰ نے اردو میں خطاب کیا اورماحول میں خرابیوں کے اسباب کی نشاندہی کے ساتھ پتہ کی باتیں کہیں۔ اس اجلاس میںدوسری شرکاءانگریزی میں بولیں حالانکہ سارے سننے والے انگریزی داں نہیںتھے اور ہر شریک اردوسمجھنے والا تھا۔ دوسرے اجلاسوں میں بھی انگریزی چھائی رہی اورحیدرآباد جیسے شہر میں اردو کے چہرے پر نقاب پڑی رہی۔ انگریزی میںمہارت بہت خوب سہی مگریہ خیال رکھناکہ سبھی سننے والوں تک پوری بات پہنچ جائے ، افادیت کوبڑھادیتا ہے۔
حیدرآباد میں چاردن شدید مصروفیت میں گزرے۔ پانچویں د ن گلبرگہ شریف پہنچے۔ درگاہ حضرت خواجہ بندہ نوازگیسودراز ؒکی مسجد میںنماز ظہرادا کی ۔افسوس کہ وہاں کی روحانی فضا کو صفائی ستھرائی کی کمی اوربھیک مانگنے والوں کی یلغار نے جیسے دبوچ لیا ہے۔ ہمیں کیا ہوگیا ہے کہ گرو دواروں میں جاﺅ توہرطرف صفائی ستھرائیاور ایسی تواضع کہ دل لگے اورہمارے مقدس مقامات کا یہ حال ؟ اے اللہ ہماری قوم پر رحم فرمااورہمارے دلوں میں اتاردے کہ صفائی اور پاکیزگی نصف ایمان ہے۔ بعض افراد کے تساہل کی وجہ سے حیدرآباد سے روانگی میں تاخیر ہوئی اورہم خواجہ غریب نواز یونیورسٹی نہیںدیکھ سکے البتہ وی سی پروفیسراے ایم پٹھان نے یونیورسٹی سے متعارف کرایا۔ وہاں سے رات کو بیدر پہنچے۔ یہ ایک تاریخی شہر ہے۔ اسی میں جناب عبدالقدیرانجنئر نے تعلیم کی ایک بستی ’شاہین گروپ آف انسٹی ٹیوشن‘کے نام سے بسائی ہے۔ جس میں ۴۱ ہزاربچے پڑھ رہے ہیں۔ اس کے بعض اداروں کودیکھ کر بیحد خوشی ہوئی۔ سب کچھ بدلا بدلا لگا۔یہاں ایک کانفرنس میں شرکت کے بعد ۸۱ کی دوپہرواپسی کا سفرشروع ہوا اوردیررات دہلی پہنچے۔
ان چھ دنوں کی رودادیں اوروہاں تعلیم کے لیے کوششوں کا ذکرکیا جائے تو دفتر کے دفتردرکار ہیں۔ امیدکہ تفصیلی رپورٹ جلد آئے گی۔ بیدرمیں عبدالقدیرصاحب کا جلوہ وجنون حیران کن ہے۔ وہاں کئی حیرت انگیزمشاہدے ہوئے۔طلباءنہایت منظم اورمہذب، خدمت کا جذبہ، کلاس میں غیرمسلم اور مسلم بچیوں کا ایک ساتھ بیٹھنا اورحافظ پلس کا ان کا عجوبہ کورس جس کے تحت حافظوں کو چارسال میں انٹرکراکے میڈیکل اوردوسرے داخلہ امتحانوں میں بٹھایا جاتا ہے۔ اب تک اس ادارے کے چارسو سے زیادہ بچے انٹرنس امتحان پاس کرکے سرکاری میڈیکل ، انجنئرنگ اورلاءکالجوں میں داخلہ پاچکے ہیں۔ ہماری ایسے بچوں سے ملاقاتیں ہوئیں جو معمولی گھرانوں سے آئے ہیںمگران کی پرواز بلند ہے۔ قدیرصاحب ، فخرالدین صاحب اورانعام دارصاحب کا کہنا ہے کہ ذہانت پر پیسہ والوں کا اجارہ نہیں۔ ذہین بچے جھگی بستیوںمیں بھی ملتے ہیں۔ایسے بچوں کی ہرممکن مدد کی جاتی ہے۔
یہاں سیمینار میں بڑی کام کی باتیں سامنے آئیں۔ ڈاکٹر اسلم پرویز صاحب نے جدیدتعلیم اورقرآن فہمی میں تعلق کو اپنا موضوع بنایا اورجناب پی ا ے انعام دار صاحب (اعظم کمپلکس پونا) نے تعلیم کو جدید ٹکنالوجی سے جوڑنے کے تجربے بیان کیے۔ ڈاکٹراسلم صاحب عرصہ سے قرآن اورسائنس کے موضوع پر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے قرآن کو سمجھ سمجھ کر پڑھنے کی تلقین کی۔ قرآن کو سمجھیں گے اوراس پر عمل کریں گے تبھی ہماری زندگی اللہ کی بندگی میں اس کے احکام کے مطابق گزرے گی ۔ یہی فلاح اورکامیابی کا راستہ ہے۔ اسلام کی تاریخ گواہ ہے کہ جب ایمان کی ہوائیں چلیں توعقائد ، اعمال اوراخلاق میں حیرت انگیز عجائبات ظاہرہوئے۔ حالات کیسے بھی سخت ہوں، ہم صبروتحمل اورایمان پر قائم رہیں تو مشکل حالات سے بخیروخوبی گزرجائیںگے۔ پوری کائنات جس طرح اللہ کی منشاءکے مطابق چل رہی ہے وہی اس کو مسلم بناتی ہے۔ سورج چاند، چرندوپرند، پیڑپودھے، دریا اورپہاڑ سب اللہ کے مقررکئے ہوئے احکام کو بے چوں وچرابجالاتے ہیں۔ جب کہ انسان کو اللہ نے بھلے برے کی تمیز اورپسند وناپسند کا اختیار دیکر پیدا کیا ہے۔ قرآن اللہ کی رضا جاننے اور اس کے مطابق عمل کرنے کی کتاب ہدایت ہے۔ لیکن ہم نے اس کو خوبصورت جزدانوں میں لپیٹ کر رکھ دیا اوربیماروں کوگھول کر پلانے کا نسخہ بنالیا۔بیشک قرآن میں شفا ہے مگرتب جب اس پرعمل ہو۔ اس کاہرلفظ ہمیں زندگی جینے کا سلیقہ سکھاتا ہے۔
انعام دارصاحب نے ان کامیابیوں کا ذکرکیا جو پونا میں تعلیم کو جدید ٹکنالوجی سے جوڑکرحاصل ہوئی ہیں۔ یہاںپڑھنے پڑھانے کے روائتی طریقوں کی جگہ جدید طریقوں کو لاگو کیا گیا۔ غریب طبقے کے کم سن بچوںکا ایک سنٹرقائم کیا گیاہے جس میں تعلیم کے ساتھ ان کو کمپیوٹربنانا اوراس کو ٹھیک کرنا سکھایا جاتا ہے۔ عبدالقدیر صاحب نے ان کی لگن اور کامیابی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ان سے ان کو بھی رہنمائی ملی ہے۔
ان کوششوں کا مقصد صرف تعلیم کا پھیلاو¿ نہیں بلکہ نئی نسل کو نئے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے اہل بنانا ہے۔ دینی تعلیم کے ساتھ جدید علوم پر ایسی پکڑ ہو کہ ہمارے بچے دنیا کی قیادت کے اہل بن سکیں اور لوگ ان کے پیچھے جڑیں اورہندستان کوپھرسے سونے کی چڑیا اور صحیح معنوں میں جگت گرو بنا دیں۔ یہ کام بلند اخلاق، اعلیٰ کردار، تعلیم اورتحقیق کی جوت جگانے سے ہوگا۔ایک ایسی نسل تیار ہو جو اہل ملک کوہی نہیں پوری دنیا کو محبت اورفلاح کا پیغام دے اوراسی کی علمبرداربنے۔اس کی بنیاد ۴۱ صدی قبل محسن انسانیت حضرت محمدﷺ نے ڈالی تھی۔ اس محبت کو عام کرنے کے لیے ہمیں کسی خاص قوم، برادری اورخطہ کے لوگوں کو نہیںچننا ہے بلکہ اللہ کے ہر بندہ کو چاہے وہ کسی بھی نسل ،خاندان، مذہب اورخطہ کاہو ،اس کواس دائرے میں لے آناہے۔ خدمت کا جذبہ اورمحبت کا پیغام ہی انسانوں کے دلوں کے بنددروازوں کوکھولتا ہے اوردشمن کو دوست بناتاہے۔آج جولو گ دنیامیںکہیں بھی اسلام کے دائرے میں آرہے ہیں وہ قرآ ن کے اسی پیغام اوررسول کے سیرت کے انہی پہلوﺅں سے متاثر ہوکر آ رہے ہیں اوراسی لیے وہ ہم جیسے نسلی مسلمانوں سے بہترثابت ہورہے ہیں۔
ہمارے نوجوان آج غیروں کی ناانصافی، ظلم اورزیادتی کا شکار ہیں ۔ بیشک زیادتی غیروں کی ہے لیکن کچھ کمی ہماری تعلیم وتربیت کی بھی ہے۔ انسانیت اور محبت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ سفر کے دوران سیٹ کو ہم اپنی جاگیرسمجھ لیتے ہیں اوردوسروں کو جگہ دینے کے لیے تھوڑی سی تکلیف کوگوارہ نہیں کرتے۔ معمولی باتوں پر آپے سے باہر ہوجاتے ہےں جس سے مخالفوں کے دل کی مراد پوری ہوتی ہے ۔ان کو ماحول خراب کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔ ہمیں اپنے ان مسلم بھائیوں کابھی خیال رکھناچاہئے جو غیروں کے درمیان ڈرڈر کر جیتے ہیں۔ خوشگوارماحول بنانے کی یہ مہم اپنے گھرمحلے سے شروع کرنی ہوگی اوراس کا پیغام پورے ملک اوردنیا میںپہنچانا ہوگا۔ یاد رکھئے ظلم وزیادتی اور جبرکا مقابلہ صبر، تحمل، بردباری اورمحبت کی بولی سے ہی کیا جاسکتا ہے۔ لیکن کوئی اس کو کمزوری نہ سمجھے ۔ بلکہ اس کو اپنی طاقت بنائیں۔
یہ تشنگی کی روایت ہمیں سے ہے منظر
ہمارے قبضے میں دریا ہے ہم ہی پیاسے بھی
WhatsApp: 9818678677