Select your Top Menu from wp menus

معاشرے میں پنپتا سفید پوش فقراء کا ریلہ  

معاشرے میں پنپتا سفید پوش فقراء کا ریلہ  
 نقاش نائطی
چھپا دست ہمت میں زور قضاء جو
مثل یے کہ ہمت کا حامی خدا  ہو
(حالی مرحوم)
تقریبا تیس سال قبل ہمارے  بچپن کے اسکول  ساتھی محمد اجمل ابو مولی دامودی عین عفوان شباب میں مرض لقوہ کا شکار، معذور بن حوالہ بستر ہوجاتے ہیں. “آمد دعوت اجل” کے انتظار کی ایک انجانی، غیر محسوس، “لمبی مدت، لا علاج، لاحق سقم”، ہونے کا  یقین ہونے پر،اپنی  قسمت پر طنز و طعن و ملامت کرتے، تل تل سسکتے “بستر چین و سکون” کو، “بستر مرگ” میں  تبدیل کرتے، خود تڑپتے اور اپنے اعزہ و اقرباء کو تڑپاتے رہنے کے بجائے، اللہ رب العزت کی طرف سے نازل کردہ اس آزمائش کی گهڑی میں بهی سکون قلبی والے رزق حلال کے حصول  کی جستجو کرنا مناسب سمجھتے ہوئے بیکاری ومعذوری کے صبر آزما اوقات، مضمحل و آہ و بکاء کرتے بتانے کے بجائے ایک مصمم ارادے, ایک نئے عزم سے اپنے سرپرستوں کو آگاہ کرتے ہیں۔گو ان کو اس لاچاری میں کمانے  کی قطعی ضرورت نہ تھی, لیکن توضیع اوقات بھی ان کے لئے ضروری تھا. اس لئے ان کے  سرپرستوں نے ان کے گھر سے کافی دور بازار میں ایک چهوٹی سی اسٹیشنری کی دوکان لگا کر دی تھی. تجارت میں  ان کی مدد کے لئے ایک نوکر بھی تھا.  روز صبح اپنے مینول  وهیل چیر  پر اپنے ہاتهوں سے پہیہ گھماتے ایک کلو میٹر دوکان آتے پورا دن تجارت میں مصروف رہتے اور سر شام  واپس اسی وهیل چیر پر گھر چلےجاتے. آتے جاتے راستہ میں ہر ملنے والے سے نہایت خوش دلی سے مسکراتے ہوئے علیک کرتے جانا انکا معمول تھا۔ اسکول کے بچے اپنی ضروریات کی چیزیں انسے لینے میں فخر محسوس کرتے تھے. مئی بوک شاپ (My book Shop ) اجمل کے عزم و ہمت اسقلال کا لینڈ مارک دکان بن گئی تھی. آج ان کے انتقال کے اتنے برسوں بعد بهی اس دوکان کے گاہک مرحوم اجمل کو یاد کر، اس کے عزم و استقلال کو سلام کرتے ہیں.
شہر کے ایک معمر بزرگ سید عمر برماور مرحوم نے  اس طرح محنت مشقت سے رزق حلال کماتے دیکھ کر اس معذور اجمل کو “مرد میدان قوم نائط”  کے لقب سے نوازہ تھا. یقینا وہ  معزور ہوتے ہوئے بھی مرد میدان قوم ہی تھے. اللہ اسکی بال بال مغفرت کرے آمین
اجمل کی اس مشقت کو دیکھ زمانہ طفل جامع مسجد کے قریب بانگیا گھر کی دیوڑهی پر سفید کرتا سفید لنگی پہنے ایک ہاتھ ایک پاؤں سے معذور رکن الدین محمد میراں عرف عام “وجڑی میراں” کی کرانے کی دوکان یاد پڑتی یے. یہ دوکان،  بهٹکل کے پہلے سایکلو اسٹائل  پرنٹنگ پریس وٹے خلفو کی دوکان سے متصل ہوا کرتی تھی . اسی دوکان سے حلال رزق کما کما کر معذور وجڑی میراں مرحوم نے اپنے اور اپنے بھائی کے بچوں کی پرورش و تعلیم و تربئیت کی تھی. اس لاچاری میں بھی محنت و مشقت سے رزق حلال کماتے کماتے بالکل سفید کپڑے زیب تن کئے ،آنے والی پیڑھی کے لئے ایک بہترین مثالی زندگی دے گئیے تھے۔اللہ ان کی بھی بال بال مغفرت کرے
آج  سے بیس ایک سال پہلے ایک حادثے کا شکار بن نچلے آدھے جسم سے اپاہج بنے ڈاکٹر اشفاق صاحب  نے بھی کئی ایک سال تک اپنے آبائی”برماور دواخانے” میں حاضری دیکر ان گنت مریضوں کو شفا یابی دلائی تھی.اور آج بھی ان کے ہاتهوں میں شفا یے.گر قوم ان سے استفادہ حاصل کرنا چاہے. ہم اپنے ہاتهوں بے جا پیسوں کی ریل پیل سے معمولی بیماری کے لئے قریبی شہر تک کا سفر کرنے کی ہمت رکھتے ہیں.اپنے بیماور بچوں کو لئے اغیار کے ڈاکٹروں کے پاس گهٹنوں انتظار کی سکت ہم اپنے میں پاتے ہیں. لیکن کچھ اپنا بھلاہو تو کچھ دوسروں  کا بھلاہو اس جذبہ کا فقدان  ہم میں ہے  شاید. ورنہ سردی زکام،انفلوئنزا بخار کھانسی کے موسمی سقم کی جانچ اور مناسب دوائی کی تجویز کا ہنر وہ بخوبی رکھتے ہیں.اور مریضوں کو دیکھتے دیکھتے ویسے بھی،کچھ کلاس پاس کمپاؤنڈر  بھی آدھا ڈاکٹر بن جاتا پے. لیکن ہم اور ہمارا مزاج ہمیں بیسٹ سے بیسٹ چائیے دنیا جہاں کی سہولتوں سے ہم استفادہ حاصل کریں گے، لیکن کوئی اور ہم سے فائیدہ اٹھائے یہ ہمیں کم ہضم ہوتا یے. ورنہ وهیل چیر پر بیٹھے بیٹھے ڈاکٹر اشفاق نہ صرف ہزاروں مریضوں کو صحت یاب کرسکتے ہیں اور اس سے، ان کے اپنے توضیع اوقات کے مسئلہ سے نپٹنے کی راہیں بهی کھل سکتی ہیں. اللہ ان کو صحت والی زندگانی عطا کرے.
ایک اور جوان سال رکن الدین مقبول احمد اپنی معذوری کے باوجود رزق حلال کے حصول کے لئے ایک چهوٹی سی دوکان گوشت مارکیٹ کے متصل کھول، مصروف معاش ہیں. فوٹو کاپی مشین اور موبائیل سم اور کرنسی مہیا کراتے ہیں. ہم اپنے ہر وہ کام (جو ہم کسی اور سے بھی کرواہی لیتے ہیں )     ان  سے کرواکر کس طرح ان کی مدد و  نصرت کرسکتے ہیں یہ ہم آپ پر ہے
ہر انسان کو اس کا مقدر کا لکھا ہی  رزق ملتا یے. نہ ایک دانہ زیادە نہ ایک دانہ کم. ہاں البتہ رزق حلال و حرام کہ عزت و تفخیریت والی رزق کہ ہزار بہانہ ہزار جهوٹ بول کر معزز انداز سے مانگی جانے والی بھیک، اس کے حصول کا اختیارکل اللہ رب العزت نے حضرت انسان کے اپنے ہاتهوں دیا ہوتا یے.خود کو یا کسی اہل خانہ کوموذی امراض ہونے کا بہانہ ہو یا اولاد کی شادی بیاہ کا رونا رو کر، عزت نفس کی دہائی دیتے ہوئے معزز انداز بھیک مانگتے سفید پوشوں کو دیکھ کر، وجڑی میراں مرحوم ، اجمل دامودی مرحوم ، ڈاکٹر اشفاق و رکن الدین مقبول کو سلام کرنے کو دل کرتا یے. کہ انہوں نے اپنی معذوری کے باوجود محنت و مشقت سے حصول رزق حلال کی سعی کر ،سالم ہاتھ پاؤں والے بیکار سفید پوش “دست تحت” کے ماروں کے لئے، تازیانہ عبرت بنے ہوئے ہیں. ہم یہ نہیں کہتے کہ تمام سفید پوش سائل جهوٹے اور مکار ہوتے ہیں لیکن یہ یاد رکهیں ان میں سے چند کا جهوٹ و افترا پروازی دوسرے مستحقوں کے ساتھ، حق تلفی کا انہیں  ذمہ دار یقیناً  بناتی یے. اور عند اللہ انہیں گنہہ گار ضرور کرتی یے ایسے ہی ایک سفید پوش تندست فقیر کو خاتم الانبیاء سرور کونین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ وعلیہ وسلم نے بھیک مانگتے دیکھ اسے اپنے پاس بلاکر، کیا یہ نہیں پوچھا تھا کہ تمہارے پاس کتنی رقم ہے۔کچھ رقم ہونے کا اقرار کرنے پر، کیا آپ صلی اللہ وعلیہ وسلم نے اس کے پاس موجود رقم سے بازار جا،ایک کلہاڑی خرید کر،پاس کے جنگل سے لکڑیاں کاٹ اسے بازار میں بیچنے کی تجارت کا گر نہیں سکھایا تھا؟اللہ کے رسول صلی اللہ وعلیہ وسلم کی تعلیمات آج کے ہم مسلمین کے لئے کیا نہیں ہیں؟کیا ہم میں سے بعض تونگر صاحب حیثیت ہمارے درمیان موجود ایسے سفید پوش تندرست فقراء کو ان کے لائق چھوٹا موٹا کاروبار ، تجارتی ٹھیلا یاضروریات زندگی پر مشتمل سڑک کنارے بھاکڑا یا چائے کی دوکان کھلواکردے، انہیں عزت والی حلال رزق کمانے کے مواقع مہیہ نہیں کرسکتے؟فی زمانہ عام بازاروں میں مہیا کپڑوں کی دھلائی سکھائی کرنے والی الیکٹرونک مشین، ایسے تندرست فقراء کو ھدیتا دلواتے ہوئے، آس پاس محلے والوں کے کپڑے جمع کر، دھلوا صاف کر اور استری کر،خود کار گھریلو لانڈری معاش والی تجارت اپناتے ہوئے، عزت نفس بچاکر رکھنے والے حلال معاش کہ راہ پر انہیں گامزن کیا نہیں کرسکتے؟ ایسے وقت جب گذشتہ چار ایک دہائیوں سے خلیج کے ملکوں کھلے،حلال رزق کے دروازے اب تقریبا بند ہونے کی کگار پر ہیں اور خلیج کی کمائی پر منحصر علاقوں میں، بیٹی کی شادی یا بیوی بچوں کے علاج معالجہ کے بہانے یا اپنی اولاد کی بہتر تعلیم ہی کے بہانے، ایسے سفید پوش تندرست فقراء  کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہوا چاہتا ہے،  ایک حد تک خود کفیل احباب کوایک منظم حکمت عملی کے ساتھ، اپنے درمیان پھل پھول رہے،سفید پوش فقراء کے اس ریلے کے سد باب  کی فکر کرنی ہوگی اور تعلیمات سرور کائینات اپنے درمیان  محنت مزدوری سے، عزت نفس والی رزق حلال کمانے کا ماحول تیار کرنا پڑیگا اس کے لئے ہمارے اپنے ماحول میں تعلیمی آگہی پیدا کرنی پڑیگی۔اپنی اولاد کی تعلیمی فکر کے ساتھ ہی ساتھ اپنے آس پاس گھر آنگن پچھواڑے کے کسی مفلس مسکین  کے بچے کو اسپانسر کر انہئں تعلیم کے زیور سے آراستہ کرتے ہوئے اپنے تابناک مستقبل کو سنوارنے کی فکریں کرنی ہونگی۔قوم و ملت کے لئے کئی گئی آج کی ہماری فکریں کل مستقبل کی ہماری جوان نسل کو بہتر روزگار پرمتمکن کر ایسے سفید پوش صحت مند فقراء سے معاشرے کو پاک رکھنے میں یقینا  ممد ہونگی۔
آللہ سے دعا یے کہ ہمیں ایمان کامل کے حاملین سے بنائے اور عزت و توقیرئیت والی حصول رزق حلال کی ہم آپ  سبهوں کو توفیق دے.اور بساط بھر کمزور و لاچار رزق حلال کے متلاشیوں کی حتی المقدور مدد و نصرت کرنے کی توفیق دے.  آمین ثم.آمین