Select your Top Menu from wp menus

اردو طنز و مزاح کے عظیم باب مشتاق احمد یوسفی کی فن و شخصیت 

اردو طنز و مزاح کے عظیم باب مشتاق احمد یوسفی کی فن و شخصیت 
نوٹ :مشتاق احمد یوسفی کی پہلی یومِ وفات 20 جون کے ضمن میں ایک خصوصی پیشکش
محمد عباّس دھالیوال
مالیر کوٹلہ پنجاب۔
 اردو ادب میں جب ہم طنزو مزاح کے بلند پائے کے مزاح نگاروں کا ذکر کرتے ہیں تو ایک نام جو خود بخود ہمارے سامنے آ موجود ہوتا ہے وہ نام ہے عہدِ حاضر کے بابائے ظرافت و دریائے لطافت مشتاق احمد یوسفی صاحب کا۔
مشتاق احمد یوسفی جو کہ گزشتہ سال 20جون یعنی 2018  کو 97سال کی عمر پانے کے بعد  اس دنیائے فانی کو ہمیشہ ہمیش کے لیے خیر باد کہہ گئے. یوسفی کی موت یقیناً اردو ادب کے لیے کسی ناقابل تلافی حادثہ کم نہیں ہے جس کی بھرپائی اب شاید کبھی نہیں ہوپائے گی۔انکی ذات کے تعلق سے یہی کہا جاسکتا ہے کہ:
لاوٗں کہا سے ایسا میں
تجھ سا کہیں جِسے
مشتاق احمد یوسفی کی پیدائش ۴ ستمبر 1921ء کو ہندوستان کے صوبہ راجستھان کی ریاست ٹونک میں ہوئی۔آپ نے ابتدائی تعلیم روجپوتانہ،ایم۔اے فلاسفی آگرہ یونیورسٹی ،اور ایل ۔ایل ۔بی کی ڈگری علی گڑہ مسلم یونیورسٹی سے حاصل کی۔اسکے بعد جب ملک کی تقسیم ہوئی تو یوسفی ہندوستان سے پاکستان کے کراچی شہر میں تشریف لے گئے اور وہاں ایک مسلم کمرشیل بینک میں 1950ء میں ملازمت اختیار کر لی اور یہاں ترقی پاتے ہوئے آپ ڈپٹی مینجر کے عہدے تک پہنچے۔اسکے بعد 1965ء میں آپ نے الائیڈ بینک میں بطور مینیجنگ ڈائریکٹر تعینات ہوئے اور 1974 ء میں یوسفی یونائیٹڈ بینک کے صدر مقرر ہوئے جبکہ 1977ء میں پاکستان بینکنگ کونسل کے چیئر مین بنے۔
اردو ادب میں انکے کل پانچ مجموعے آچکے ہیں ان میں چراغ تلے،خاکم بد ہن،زرگزشت،آبِ غم اور شامِ شعرِ یاراں،یہاں قابلِ ذکر ہے کہ مشتاق احمد یوسفی کی نئی کتاب کی تقریبِ رونمائی ساتویں اردو عالمی کانفرنس میں اکتوبر 2016ء میں کراچی میں ہوئی تھی۔جبکہ یوسفی صاحب کی ادبی خدمات کا لوہا مانتے ہوئے حکومتِ پاکستان نے انھیں ستارہ امتیازاور ہلالِ امتیازکے تمغوں سے سرفراز کیا تھا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ یوسفی صاحب تمام عمر بینک کے مختلف عہدوں پر رہتے ہوئے اپنے ملک و قوم کی خدمت انجام دیتے رہے
ویسے دیکھا جائے تو ایک بینک کے پیشہ سے وابستہ آدمی کا بھلا طنزومزاح سے کیا کا م ۔۔! کیونکہ ہمارے مشاہدے میں جتنے بھی بینک سے جڑے لوگ ہیں وہ بہت ہی ریزرو طبیعت کے اور خشک مزاج قسم کے ہوتے ہیں ۔لیکن جب ہم یوسفی صاحب کے مختلف مجموعوں کو اپنے مطالعہ میں لاتے ہیں تو ہم اپنی رائے کو یکسر بدلنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔دراصل یوسفی ہمیں غالب کے بعد دوسرے حیوانِ ظریف نظر آتے ہیں ۔انکا طنز، مزاح سے لبریز ہے اور ان کا قارئین جب انکی تخلیقات کو اپنے مطالعہ میں لاتا ہے تو جہاں وہ خوب لطف اندوزہوتا ہے وہیں انکے طنزیہ تیر معاشرے میں پھیلی مختلف فرسودہ رسموں ، نہ اہل سیاسی نظام اورلوگوں میں پائی جانے والی بری عادات وصفات کی خوشنما منظر کشی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
آٗیئے ہم انکے مختلف مضامین کے اقتباس اور طنزو مزاح سے بھرپور جملوں سے انکی عظیم ظرافت کا اندازہ لگانے کی کوشش کرتے ہیں۔
چنانچہ ایک جگہ اپنی بھولی بھالی نسل کی نفسیات کی عکاسی کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’’ میرا تعلق تو اس بھولی بھالی نسل سے رہاہے جو خلوصِ دل سے سمجھتی ہے کہ بچے بزرگوں کی دعا سے پیدا ہوتے ہیں‘‘
موجودہ عہدمیں رائج تعلیمی نظام کو لیکرانکا ایک ہی جملہ بڑے بڑے مضامین پربھاری محسوس ہوتا ہے کہتے ہیں کہ ’’ہمارے بچپن کی کتابیں اتنی آسان ہوتی تھیں کہ بچے تو بچے والدین بھی سمجھ لیا کرتے تھے۔‘‘
ایک جگہ انسان کی عمر کی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’’عمر بھی جوتے اور ضمیر کی مانند ہے جن کی موجودگی کا احساس اس وقت تک نہیں ہوتا جب تک وہ تکلیف نہ دینے لگیں‘‘ ایک جگہ غالب کے متعلق لکھتے ہیں کہ’’ دنیا میں غالب واحد شاعر ہے جو سمجھ میں نہ آئے تو دگنا مزا آتا ہے ‘‘کہا جاتا ہے کہ مرد کی طاقت اسکی آنکھوں میں ہوتی ہے اور عورت کی طاقت اسکی زبان میں تسلیم کی جاتی ہے لیکن اس تعلق سے یوسفی کہتے ہیں کہ:’’مرد کی آنکھ اور عورت کی زبان کادم سب سے آخر میں نکلتا ہے‘‘
ایک جگہ اور لفظوں کی جنگ میں سچائی کی شہادت کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ’’لفظوں کی جنگ میں فتح کسی کی بھی فریق کی ہو،شہید ہمیشہ سچائی ہوتی ہے‘‘
خاکم بد ہن میں ایک جگہ لکھتے ہیں کہ’’ خدا جانے حکومت آلو بزورِ قانون قومی غذابنانے سے کیوں ڈرتی ہے۔ سستا اتنا کہ آج تک کسی سیٹھ کو اس میں ملاوٹ کرنے کا خیال نہیں آیا۔اسکینڈل کی طرح لذیذ اورزود ہضم ! وٹامن سے بھرپور ،خوش ذائیقہ ،صوفیانہ رنگ، چھلکا زنانہ لباس کی طرح۔یعنی برائے نام۔!’’صاف ادھر سے نظر آتا ہے ادھر کا پہلو‘‘
چراغ تلے میں چار پائی کے بارے میں لکھتے ہیں کہ’’مباحثے اور مناظرے کے لیے چار پائی سے بہتر کوئی جگہ نہیں۔اس کی بناوٹ ہی ایسی ہے کہ فریقین آمنے سامنے نہیں بلکہ عموماً اپنے حریف کی پیٹھ کا سہارا لے کر آرام سے بیٹھتے ہیں اور بحث و تکرار کے لیے اس سے بہتر طرزِ نشست ممکن نہیں ، کیونکہ دیکھا گیا ہے کہ فریقین کو ایک دوسرے کی صورت نظر نہ آئے تو کبھی آپے سے باہر نہیں ہوتے ۔ اسی بنا پر میرا عر
صے سے خیال ہے کہ اگر بین الاقوامی مذاکرات گول میز پر نہ ہوئے ہوتے تو لاکھوں جانیں تلف ہونے سے بچ جاتیں‘‘
موجودہ عہد کے حوالہ سے چراغ تلے میں لکھتے ہیں کہ ’’ ایک وقت تھا کہ ہمارا تعارف بہو بیٹی قسم کی خواتین سے اس طرح کرایا جاتا تھا کہ فلاں کے بیٹے ہیں۔ فلاں کے بھانجے ہیں اور اب یہ زمانہ آگیا ہے کہ فلاں کے باپ ہیں اور فلاں کے ماموں ،عمر رسیدہ پیش رو زبان حال سے کہہ رہے ہیں کہ اس کے آگے مقامات آہ و فغاں اور بھی ہیں‘‘
ایک جگہ کہتے ہیں کہ ’’ بڑھیا سگریٹ پیتے ہی ہر شخص کو معاف کر دینے کو جی چاہتا ہے ۔خواہ وہ رشتے دار ہی کیوں نہ ہو۔‘‘
عہدِ حاضر میں ادب کی حالت کے بارے میں لکھتے ہیں’’ آج کل لوگ یہی چاہتے ہیں کہ ادب ایک کیپسول میں بند کر کے انکے حوالے کردیا جائے ، جسے وہ کوکا کولا کے گھونٹ کیساتھ غٹک سے گلے میں اتار لیں‘‘
آبِ غم میں سیاست میں مخالفت کاکی صداقت کاتذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ’’ سیاست میں ، یا سائیکل پرکسی بھی سمت نکل جائیں، آپ کو ہوا ہمیشہ مخالف ہی ملے گی‘‘
چراغ تلے میں مرد کی سوچ کے بارے میں لکھتے ہیں’’ مرد کی پسند وہ پل صراط ہے جس پر کوئی موٹی عورت نہیں چل سکتی‘‘
خاکم بدہن میں لکھتے ہیں کہ’’ لوگ کیوں ، کب کیسے ہنستے ہیں؟ جس دن ان سوالوں کا صحیح صحیح جواب معلوم ہوجائیگا، انسان ہنسنا چھوڑ دے گا۔ رہا یہ سوال کہ کس پر ہنستے ہیں؟ اسکا انحصار حکومت کی تاب اور رواداری پر ہے۔ انگریز صرف ان چیزوں پر ہنستے ہیں جو ان کی سمجھ میں نہیں آتی ۔۔۔’’پنچ کے لطیفے ،موسم ،عورت ،تجریدی آرٹ۔‘‘ اس کے بر عکس ،ہم لوگ ان چیزوں پر ہنستے ہیں، مثلاً انگریز، عشقیہ شاعری، روپیہ کمانے کی ترکیبیں، بنیادی جمہوریت‘‘
یوسفی زرگزشت میں نظم و نثر میں کس نفاست تفریق کرتے ہوئے نظر آتے ہیں آپ بھی دیکھیں’’ شعر میں جس بات پر ہزاروں مشاعروں میں اچھل اچھل کے داد دیتے ہیں وہی بات اگر نثر میں کہہ دی جائے تو پولیس تو بعد کی بات ہے ، گھر والے ہی سر پھاڑ ڈالیں‘‘
ایک جگہ لکھتے ہیں کہ ’’ جو ملک جتنا غربت ذدہ ہوگا ،اتنا ہی آلو اور مذہب کا چلن زیادہ ہوگا‘‘بڑھاپے کی شادی پر خلاصہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں’’بڑھاپے کی شادی اور بینک کی چوکیداری میں ذرا فرق نہیں،سوتے میں بھی ایک آنکھ کھلی رکھنی پڑتی ہے‘‘
پروفیسر ان پر طنز کرتے ہوئے لکھتے ہیں’’آدمی ایک بار پروفیسر ہو جائے تو عمر بھر پروفیسر ہی رہتاہے،خواہ بعد میں سمجھداری کی باتیں ہی کیوں نہ کرنے لگے‘‘
سیاست پر طنز کرتے ہوئے لکھتے ہیں ’’ہارا ہوا مرغا کھانے سے آدمی اتنا بودا ہوجاتا ہے کہ حکومت کی ہر بات درست لگنے لگتی ہے‘‘
انسان کے دل میں انسانوں کے لیے نفرت کے جذبہ رکھنے کے بارے میں لکھتے ہیں کہ’’انسان واحد حیوان ہے جو اپنا زہر دل میں رکھتا ہے‘‘دلُ پھینک مرد عاشقوں کی نفسیات کا بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ’’مرد عشق و عاشقی صرف ایک ہی مرتبہ کرتا ہے دوسری مرتبہ عیاشی اور اسکے بعد نری بدمعاشی‘‘
ایک اور تلخ سچائی بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ’’آسمان کی چیل،چوکھٹ کی کیل،اور کورٹ کے وکیل سے خدا بچائے ،ننگا کرکے چھوڑتے ہیں‘‘
آبِ غم میں ایک جگہ لکھتے ہیں کہ’’جو شعر بیک وقت ہزار آدمیوں کی سمجھ میں آجائے وہ شعر نہیں ہوسکتا ۔کچھ اور شئے ہے‘‘جبکہ شامِ شعرِ یاراں میں ایک جگہ رقمطراز ہیں ’’بقول مرزا دنیا کی جتنی بھی لذیذ چیزیں ہیں ،ان میں سے آدھی تو مولوی صاحبان نے حرام کر دی ہیں اور بقیہ آدھی ڈاکٹر صاحبان نے‘‘
خاکم بد ہن میں لکھتے ہیں کہ’’ پہاڑ اور ادھیڑ عمر عورت دراصل آئل پینٹنگ کی طرح ہوتے ہیں ۔انھیں ذرا فاصلے سے دیکھنا چاہیے‘‘
ایک جگہ عورت و مرد کے ضمن ایک نیا خلاصہ کرتے ہوئے یہ انکشاف کرتے ہیں کہ مرد کی آنکھ اور عورت کی زبان کا دم سب سے آخر میں نکلتا ہے .
ایک جگہ موجودہ دور میں جو نزدیکی رشتوں میں کا حال ہے اس کی عکاسی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ دشمنی کے لحاظ سے دشمنوں کے تین درجے ہوتے ہیں دشمن، جانی دشمن اور رشتے دار .
ایک جگہ لکھتے ہیں کہ اس شہر کی گلیاں اتنی تنگ تھیں کہ گر مخالف جینز opposite sex آمنے سامنے ہو جائیں  . . . تو نکاح کے علاوہ کوئی گنجائش نہیں رہتی.
” ایک جگہ کہتے ہیں کہ کچھ لوگ اتنے مذہبی ہوتے ہیں کہ جوتا پسند کرنے کے  لیے بھی مسجد کا رخ کرتے ہیں.
ایک جگہ پولیس کے محکمے کو نشانہ بناتے ہوئے کیا خوب حقائق پر مبنی خلاصہ کرتے ہیں کہ صرف 99 فیصد پولیس کی وجہ سے ایک فیصد ی بھی بدنام ہیں.
ایک جگہ موجودہ حکومت کے ضمن ایک سچائی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں حکومتوں کے علاوہ کوئی بھی اپنی موجودہ ترقی سے خوش نہیں ہوتا.
ایک جگہ پھولوں کے تعلق سے ایک بہترین جملہ لکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ پھول جو کچھ زمیں سے لیتے ہیں اس سے کہیں زیادہ لوٹا دیتے ہیں.
ایک جگہ یوسفی لکھتے ہیں کہ ہمارے ملک کی افواہوں کیلئے سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ وہ سچ نکلتی ہیں.
آخرمیں ہم یہی کہیں گے کہ یوسفی کی موت سے اس وقت اردو ادب خصوصاًطنزومزاح کے صنف میں جو خلاء پیدا ہوا یقیناًاسکی بھرپائی ہونا اب ممکن نہیں ہے۔بے شک آج مشتاق احمد یوسفی ہمارے درمیان نہیں ہیں لیکن انکی بیش قیمت تخلیقات کی بدولت وہ اہلِ ادب میں رہتی دنیا تک زندہ جاوید رہیں گے اور انکی تخلیقات سے اہلِ ادب اور قارئین ہمیشہ اسی طرح سے لطف اندوز ہوتے رہیں گے اور نئے لکھنے والوں کے لیے یوسفی ہمیشہ ایک مشعلِ راہ کی مانند رہنمائی فرماتے رہیں گے آخر میں مشتاق یوسفی ایک شاعر کے انھیں الفاظ کے ساتھ خراجِ عقیدت پیش کرنا چاہوں گا کہ:
دیتا رہوں گا روشنی بجھنے کے بعد بھی
میں بزمِِ فکر و فن کا وہ تنہا چراغ ہوں
رابطہ:9855259650