Select your Top Menu from wp menus

اترپردیش اردو اکادمی پر اردو داں عوام کے ساتھ ناانصافی کرنے کا الزام

اترپردیش اردو اکادمی پر اردو داں عوام کے ساتھ ناانصافی کرنے کا الزام
 نئی دہلی (حکیم عطائرا لرحمن اجملی) اتر پردیش یونانی ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کے صدر حکیم ڈاکٹر پرواز علوم اعظمی نے اپنے ایک  بیان میں کہا کہ اتر پریش حکومت نے اردو قانون کے نفاذکے لئے عدالت عظمیٰ و عدالت عالیہ کے فیصلے پر حکم نامہ جاری کردیا ہے مگر اس حکم نامہ کو سبھی محکمہ کے سیکریٹری یعنی آئی اے ایس آفیسران سمجھنے اور اسکا نفاذ کرنے میں ناکام ہیں۔ اسکے ساتھ ہی اتر پردیش میں جتنی بھی حکومت کی آٹونامس آرگنایزیشن ہیں وہ بھی قانون اردو کی دھجیاں اڑارہی ہیں انہوں نے بتایا کہ ابھی حال ہی میں اتر پردیش اردو اکاڈمی نے اردو داں عوام کے مفاد میں آئی اے ایس اسٹڈی سینٹر کھولا ہے جس میں داخلہ لینے کی اطلاع کو اردو داں عوام تک پہونچانے کے لیئے جو پمفلیٹ اور اشتہار عوام میں نقسیم کیا جارہا ہے وہ صرف  ہندی زبان میں ہی شایع کیا گیا۔ جبکہ ہمارے اتر پردیش کی دو سرکاری زبان و مادری زبان اردو و ہندی ہے۔ مگر اردو اکاڈمی کے عہدیداران اپنے پمفلیٹ کو اردو میں نہ شایع کراکر اتر پردیش حکومت کو بدنام کر رہے ہیں۔ لہٰذا وزیر اعلیٰ سے اپیل ہے کہ وہ یہاں کی اردو اکاڈمی کے تمام عہدیداروں کو برطرف کردیں تاکہ ریاست کے دیگرسرکاری عہدیداران سبق حاصل کر سکیں۔ انہوں نے کہاہے کہ اترپردیش میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے اس لئے وہاں پر تمام حکومتی حکم نامہ اور دستاویز اردو زبان میں بھی شایع کیا جانا چاہے