Select your Top Menu from wp menus

افسوس میں مولوی کیوں بنا

افسوس میں مولوی کیوں بنا
شاہدحسینی
آج کے زمانے میں جب کہ حالات بد سے بدتر ہوتے جارہے جہالت کا دور دورہ ہے تعلیم نبوی سے ملت اسلامیہ کی دوری اس کا سبب ہے ان سب حالات کے پیش نظر آج علما کے ساتھ عوام کاجومعاملہ ہے اسی کا نقشہ اپنے تجربہ کی روشنی میں کسی نے عجیب انداز میں یش کیا ہے جو صحیح ہے اپنی گفتگو کا آغاز کس انداز سے کیا ہے کہا ہے کہ کبھی بچپن میں بڑی تمنا تھی۔کہ اللہ حافظ ِ قرآن بنائے۔والدین کی دعاؤں اور استاذ کی محنت سے یہ مرحلہ مکمل ہو گیا۔ابھی تک تو عمر دس سال تھی۔ کہیں بھی جا سکتے تھے۔مگر قسمت میں مولوی اور پھر مفتی بننا لکھا تھامگر کیا معلوم تھا کہ مولوی اور مفتی بن کر بھی کوئی کام یا ہنر ہی سیکھنا  پڑیگا۔اور اتنے دھکے کھانے پڑینگے‌ کہ دل یہ کہنے لگا کہ کاش میں مولوی نہ بنتا۔صرف دین دار بن جاتا۔کیونکہ نیا نیا فارغ مولوی بیچارہ جب کسی مدرسہ میں پڑھانے کیلئے درخواست دیتا ہے تو مہتمم اور ذمہ داران کی آواز آتی ہے کہ ہم کو تجربہ کار مولوی چاہیے اور وہ بھی چھ سات  ہزار تنخواہ میں۔اس شرط کے ساتھ کہ وہ چوبیس گھنٹے مدرسہ کی چہاردیواری میں طلبہ کے ساتھ قید رہیگا۔نہ وہ باہرامامت کر سکتا ہے اور نہ کوئی کاروبار کر سکتا ہے۔نیا فاضل مولوی مدرسہ کے دروازے سے مایوس ہو کر واپس آجاتا ہے۔کیونکہ وہ تجربہ کار نہیں ہے۔پھر وہ کسی مسجد میں امامت کا فیصلہ لیتا ہے۔تو وہاں اور منھ کی کھانی پڑتی ہے۔مسجد والے ایسی شرطیں رکھتے ہیں۔ کہ لگتا ہے جیسے وہ اس سے حرمین شریفین میں نماز پڑھوائینگے۔مسجد والوں کی شرطیں یہ ہوتی ہیں۔ عالم ہو۔مفتی ہو۔شادی شدہ ہو۔سال لگا ہوا ہو۔لچھے دار مقرر ہو۔اور ساتھ میں خوبصورت بھی ہو۔اور تندرستی سے عالم لگتا ہو دبلا پتلا یا چھوٹے قد کا نہ ہو۔ اب اس کومعقول تنخواہ (چھ ہزار ملیگی)۔عام طور سے ہر مولوی کے اندر یہ شرطیں نہیں پائی جاتی ہیں۔خصوصاً نیۓ مولوی میں۔چنانچہ وہ نوجوان عالم و مولوی جو ایک جذبہ اپنے دل میں لیکر نکلا تھا۔کہ امت کو دین سکھاؤنگا۔ان کو نماز سکھاؤنگا ان کے بچوں کو علمِ دین پڑھاؤں گا اب وہ اپنے جذبہ پر خاک ڈالتے ہوئے مایوس ہوکر واپس لوٹ آتا ہے۔اوراب اس کو کچھ سمجھ نہیں آتا کہ وہ اپنی زندگی میں کیا کرے؟کبھی وہ سوچتا ہے کوئی دکان کریگا۔ کبھی ارادہ بناتا ہے کوئی چھوٹا موٹا کاروبار کریگا۔یا کوئی اور ہنر سیکھےگا۔اور اس طرح وہ مولوی اور اس کا علم وعمل خاک میں مل جاتے ہیں۔اور وہ مولوی گھر والوں اور بستی والوں کی نظر میں گر جاتا ہے۔اور سب کے طعنے اس کو سننے کو ملتے رہتے ہیں۔تواس وقت وہ یہ تمنا کر رہا ہوتا ہے کاش میں مولوی نہ بنتا۔کاش میں شروع سے ہی کوئی اور کام کرتا تو اب تک لاکھوں کما لیتا۔اور لوگوں کے یہ طعنے آج مجھے نہیں ملتے۔افسوس میں عالم کیوں بنا۔اس لئے مساجد ومدارس کے ذمہ داران سے دردمندانہ اپیل اور گزارش ہے کہ خدا کے واسطے ان نوجوان عالموں کو  اس طرح کی شرطیں لگاکر ضائع مت کیجۓ۔ان کو پیار کے ساتھ کام پر لگائیں۔اور یہ تمام الٹی سیدھی شرطیں نہ لگائیں۔ورنہ یہ نئےعالم اسی طرح ضائع ہوتے رہیں گے۔ان کو ذمہ داری دو ان شاءاللہ یہ امت کے نوجوان نئے جذبہ کے ساتھ کام کریں گے۔اللہ اس امت کو خصوصاً مدارس ومساجد کے ذمہ داران کو سمجھ عطا فرمائے
HTML Snippets Powered By : XYZScripts.com