Select your Top Menu from wp menus

بجلی کٹوتی اور پینے کی پانی کی قلت سے ہاہاکار

بجلی کٹوتی اور پینے کی پانی کی قلت سے ہاہاکار

سہارنپور( احمد رضا) سہارنپور کی دو سو زائد کالونیوں میں شدت کی گرمیں میں پینے کے پانی کی سخت قلت ہے ساتھ ہی ساتھ گھنی آبادی والے مسلم علاقوں میں گزشتہ پندرہ روز سے چھ سے سات گھنٹوں تک مسلسل بجلی کی سپلائی ٹھپ رہتی ہے ان حالات کے مد نظر عوام کا سخت گرمی کے دنوں میں جینا محال ہوچکاہے شہر کے دوسو سے زائد علاقہ ہر دن پانی کی قلت اور بجلی کی سپلائی کی کٹوتی سے سخت مشکل کا شکار ہے افسران کچھ بھی کرنے کی پوزیشن میںنہی ہیں سیاست داں اور پبلک کے چنے ہوئے نمائندے بھی تماشا دیکھ رہے ہیں پبلک کو مشکلات سے نکالنے کو کوئی بھی راضی نہی ہے آج بھی لوگ پانی کیلئے دوسرے علاقوں میں ترستے نظر آئے نگر نگم ٹیکس تو بڑھاتا آرہاہے مگر عوام کو وقت پر پانی کی سپلائی کرنے میں بری طرح سے ناکام ہے جگہ جگہ عوام بجلی کی تخفیف اور پانی کی قلت سے تنگ وپریشان بیٹھا ہواہے!
ریاست میںیوگی آدتیہ ناتھ سرکار کو تشکیل ہوئے آج ۴۲ ماہ سے زائد عرصہ گزر نے جارہاہے گزشتہ پانچ سالوں کی طویل مدت کے دوران عوام نے جو شکایتیں اپنے افسران کو پیش کی ہوئی ہیں انکا ازالہ نئی سرکار کے وجود میں آجانیکے بعد بھی نہی ہوسکاہے غریبوں کی شکایات کا ازالہ لمبے عرصہ سے بہت ہی سست رفتاری کے ساتھ کیا جا رہا ہے ہر ماہ تحصیل دوس، تھانہ دوس اور سمادھان دوس پر آنیوالی سیکڑوں شکایات اور درخواستوں میں سے ہر بار ہمارے سینئر افسران محض دس فیصد شکایات کا ہی ازالہ بمشکل کر پارہے ہیں وجہ یہ ہے کہ جن محکموں کے عملہ کے منھ رشوت کا چسکا لگاہے وہ دباﺅ اور نئی سرکار کے وجود کے بعد بھی عوام کا کام مفت میں کرنیکو راضی ہی نہی جس وجہ سے عوام میں بے چینی کا ماحول ہے آجکل ایسا محسوس ہوتا ہے کہ چند محکموں کے افسران اور ملازمین صوبائی سرکار کو عوام کے بیچ بدنام کر نے کے لیے عوام کی شکایتوں کو نظر انداز کرنے پر بضد ہیں وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ لگاتار اپنے لکھنﺅ سیکریٹریٹ آفس میں ہونے والی روزانہ کی پریس میٹنگ میں یہ ہدایت جاری کر رہے ہیں کہ افسران اپنا رویہ فوری طور سے تبدیل کریں اور عوام کی شکایتوں کا ازالہ مقامی سطح پر سہل انداز میں اور سہی طور پر انجام دیں ہنگامی حالات میں کسی بھی طرح کی شکایت ملنے پر حکام خود موقع پر جائے اور جانچ کے بعد اس شکایت کا لازمی طور پر نپٹارا کریں اسکے بعد بھی یہاں تحصیل، نگر نگم، چکبندی، آبپاشی اور پولیس تھانوں میں بھاری بھرکم رشوت کے بغیر کچھ بھی کام نہی ہورہاہے من مانی اور سرکاری ہٹلر شاہی عروج پر ہے عوام سخت مشکلات سے دوچار ہیں پبلک کے چنے ہوئے نمائندے اپنے سواگت پروگراموں میں مشغول ہیں عوام لاچار اور پریشان ہے جبکہ ہمارے چیف منسٹر کا سیدھا کہناہےکہ اگر ایسا کرنے میں افسر ناکام رہتے ہیں تو انکے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائیگی مگر افسوس کی بات ہے کہ وزیر اعلیٰ کے سخت لہجہ اور ہدایت کے بعد بھی آٹھ ماہ کی مدت میں چند سیاسی اثر ورسوخ والے افسران اور ملازمین نے اپنا رویہ نہیں بدلا ہے آفسوں میں نہ بیٹھ کر اپنے گھروں میں بیٹھ کر وقت گزار رہے ہیں اپوزیشن جماعتوں کا یہ بیان اپنے آپ میں بہت زیادہ سنجدیدگی سے لینے والا ہے کہ وزیر اعلیٰ کے سخت احکامات کے باوجود بھی افسران کا رویہ نہیں بدلا جانا بھاجپائی قیادت کی ناکامی کو ظاہر کرتاہے ؟

HTML Snippets Powered By : XYZScripts.com