Select your Top Menu from wp menus

میری سوچ گندی نہیں’ الفاظ ننگے ہے

میری سوچ گندی نہیں’ الفاظ ننگے ہے

ذوالقرنین احمد چکھلی ضلع بلڈانہ مہاراشٹر
مکرمی، ہندوستان اور پڑوسی ملک میں جس طرح کے دل دہلا دینے والے واقعات آئے دن رونما ہورہے ہیں۔ وہ بڑے ہی دل سوز ہے، دل کو پاش پاش کردینے والے ہیں۔ معصوم بچوں سے لے کر ادھیڑ عمر خواتین تک اب اپنے آپ کو اس معاشرے میں غیر محفوظ محسوس کر رہی ہے۔ دہلی کی دامنی سے یہ سلسلہ منظر عام پر آیا تھا۔ اور پورے ملک میں شدید غم وغصہ کا اظہار مجرموں کے خلاف دیکھنے ملا تھا۔ خواتین کی حفاظت کیلئے دامنی پتھک کی بنیاد رکھی گئی جس میں پولس دستے گھوم پھر کر خواتین پر ہو رہے ظلم کیلئے خلاف کارروائی کرتے ہوئے دیکھائی دیتے ہیں۔ لیکن خواتین پر ہورہے جنسی استحصال کا‌ سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ کٹھوعہ کی  آصفہ پر ظلم ہوا عوام نے ملک‌میں غم وغصہ کا اظہار کیا مجرموں کو پھانسی دینے کا مطالبہ کیا پوکسو ایکٹ بنایا گیا۔ لیکن صرف ۶ مجرم کو قید کی سزا‌ سنائی گئی۔ جبکہ جرم اتنا سنگین تھا کہ مجرم کو سرے عام تختہ دار پر لٹکا کر دنیا والوں کیلئے نشان عبرت بنا دیا جاتا۔ آصفہ کے ساتھ عوام کے محافظ کہلانے والے پولس نے ہی ایسی دلسوز حرکت کی جب کہ اس بچی کی حالت ادھر مرے ہوچکی تھی۔ جو کئی دن سی بھوکی پیاسی تھی اور مجرم اسے منہ دباکر مارنے والے تھے تو پولس والا کہے رہا تھا مجھے کچھ کرنے دو پھر مار دینا۔ ایسی ہی پڑوسی ملک زینب کے ساتھ بے رحمانہ انداز میں درندگی کی حد پار کر دی گئی۔ حال ہی میں علی گڑھ کی معصوم ٹیونکل شرما کو دو لوگوں نے بچی کے باپ کے قرض ادا نہ کرنے پر بے رحمی سے قتل کردیا اسکی آنکھیں نوچ لی۔ کس سطح پر آج یہ معاشرہ پہنچ چکا ہے۔ معصوم بچوں سے لے ادھیڑ عمر کی خواتین تک سب خوف و دہشت کے سائے میں جی رہے ہیں۔
ملک ہندوستان اور پڑوسی ممالک جو مشرقی ممالک میں شمار ہوتے ہی۔ مشرقی معاشرہ ایک ایسا معاشرہ کہلاتا تھا کہ جس میں عورت کے سر سے ڈوپٹہ کا سرک جانا معیوب سمجھا جاتا تھا۔ کسی عورت کے بال کھلے ہونے پر اسے بے حیا کہا جاتا تھا۔ بغیر پردے و برقعے کے نکلنا تو دور کی بات رہی۔ گھر کی چوکھٹ سے سر بھی نہیں نکالتی تھیں۔ گھر کے آنگن میں جھاڑو لگانا ہوتا تو فجر سے قبل ہی جھاڑو لگانے کا رواج تھا۔
لیکن آج کی عورت افسوس اس معاشرے پر جس کے مرد اپنی خواتین پر گہری نظر نہیں رکھتے جنہیں دیوس کہا گیا ہے۔ جو اپنی عورتوں کی حفاظت نہیں کرتے۔ چھوٹے چھوٹے کام کیلئے آج کل عورتیں بازاروں کی زینت بنی دیکھائی دیتی ہے۔ ضرورت کے تحت نکلنا الگ بات ہے لیکن غیر محرم کے بغیر دو پانچ روپے کا سامان لانے کیلئے گھر سے ایسی نکلتی ہے۔ کے اللہ کی پناہ، خوشنما تنگ برقعے جو نہیں دیکھنے والے مرد کو بھی اپنی طرف متوجہ کریں۔ ایسی ہی عید اور دیگر رسم و رواج کے موقعوں پر شاپنگ کے نام پر بغیر محرم کے بازاروں کی زینت بنی ہوتی ہیں۔ خریدی پڑوسن کی کرنی ہو یا دور کے کسی رشتے دار کو لیکن اسکے ساتھ آدھا درجن خواتین بھی ساتھ ہوتی ہے۔ چاند رات کو تو مرد سے زیادہ خواتین بازاروں میں موجود ہوتی ہے۔ جنہیں رات کے ۲، ۴ بجنے پر بھی گھر کی شوہر کی فکر نہیں ہوتی ہے۔ چاند رات میں جتنی بے پردگی اور غیر مردوں کے ساتھ اختلاط ہوتا ہے بھیڑ کی وجہ ایک دوسرے کو بلکل مس ہوکر دھکے دے کر خواتین اپنی دھن میں مگن شاپنگ کرتی ہے۔ اکشر بڑے شہروں کے حالات ایسے ہے، کہ محرم اور غیر محرم کا خیال تک کسی خواتین یا مرد کو پریشان نہیں کرتا ہے۔ شوہر بھی ساتھ ہو تو بیوی کے ڈر سے خاموش ہاتھ میں شاپنگ بیگ تھامے پیچھے چلتا رہتا ہے۔
اتنا ہی نہیں نازک دو شیزایں اپنے حسن کے جلوے بکھرتے ہوئی نوجوانوں کو اپنا پیچھا کرنے پر آمادہ کرتی ہے۔ بڑا سا اسٹال سر پر باندھ کر، چہرہ میک اپ سے لدا ہوا، لبوں پر ریڈ الرٹ، چہرہ کھلا ہوا، ادھ ننگے بدن جینس اور ٹاپ پہنے، تو کوئی جسم کے نشیب و فراز کو ظاہر کرنے والے چمکدار نگینوں سے لدے نام نہاد برقعے پہنے ہوئے مردوں کو اپنی توجہ کا مرکز بننے پر مجبور کرتی ہے۔ کئی چاند رات کے دین غیر محرم جوان لڑکوں کے مہندی اتارنے کیلئے انکے سامنے زرا سا ڈپٹہ ڈالے ایک ڈیڑھ گھنٹے تک اسکی حوس کا نشانہ بنتی ہے۔ غیر مرد کے ہاتھوں میں اپنا ہاتھ دیتی ہے اور وہ اپنے ران پر ہاتھ رکھ کی مہندی اتارنے سے زیادہ اسے لذت حاصل کرنی کی کوشش کرتا ہے۔ وہ اس دوشیزہ کے جھکے سر سے کھلے گلے والے  لباس سے اسکے سینے کو تاکتا رہتا ہے۔
اتنا‌ ہی نہیں غیر مردوں کی دوکانوں پر کپڑوں کی خریدی وقت نوجوان لڑکوں کے عجیب و غریب کمینٹ کرتے ہیں،باجی آپ یہ رکھیں آپ کو اچھا لگے گا۔ یہ آپ کو فٹ آئے گا۔ یہ کلر آپ کو بہت سوٹ کریں گا۔  آپ کا کلر اچھا ہے۔ اور پتہ نہیں کیا کیا۔ اور وہ خواتین غیر محرم سے اپنی تعریف سن کر پھولے نہیں سماتی ھے۔ نوجوان لڑکے لڑکیاں اسی رات اور دیگر رسم و رواج شادی بیاہ کے موقعوں کا فائدہ اٹھا کر اپنے والدین کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہوئے موبائل نمبر کے تبادلے کرتے ہیں۔ اور بھی اتنی چالاکی سے کے ساتھ کھڑی ماں ،بہن، بیوی کو بھی پتہ نہیں چلتا۔
یہی بازاروں اور رسموں میں کئی پرانے عاشقوں کی بھی ملاقات ہوجاتی ہے۔ جس سے انکا پرانا عشق پھر سے جوان ہوجاتا ہے۔ اور ایک اچھے بھلے شادی شدہ گھرانے کو تباہ برباد کرنے کا سبب بنتا ہے۔ ایسی کئی مثالیں ہے۔ جو شادی ہونے کے باوجود بھی گرل فرینڈ اور بوائے فرینڈ بنانے کا ایک ٹرینڈ شروع ہوچکا ہے۔ جو سوشل میڈیا اور ٹی وی سیریل کی دین ہے جو مغربی خواتین میں ایک وقت میں کئی مردوں سے تعلقات قائم کرنے کا کلچر ہے۔ جنہیں یہ تک پتہ نہیں ہوتا کہ ہونے والے بچے کا اصل باپ کون ہے۔ اب ان تمام باتوں کا ذمہ دار کسے کہا جائے کس پر الزام لگایا جائے۔

اس میں مرد بھی برابر کے گناہ گار ہے۔ لیکن خواتین ہی غیر
محسوس طریقے سے انہیں موقع فراہم کر رہی ہے۔ سارے مرد تو جنید بغدادی نہیں ہے جو تمہارے اوپر پہلی نگاہ پڑھ جانے پر نیچی کرلیں۔ غیر محرم جب تنہا ہوتے ہیں، چاہے وہ تنہاہی میں ہو یا بھیڑ میں شیطان انکے بیچ میں حائل ہوجاتا ہے۔ اور‌ انہیں حرام کام کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ بھلے ہی الا ماشاء اللہ جو تقوی اختیار کیے ہوئے مرد اور عورتیں ہیں۔ انکی بات اور ہے۔ لیکن اکثریت اس گناہ میں مبتلا ہوتے ہے۔
اب کسے ذمہ دار ٹھرایا جائے خواتین پر جنسی استحصال کیلئے! مرد تو حوس کا پوجاری ہوتا ہے وہ تو صرف موقع کی تلاش میں ہوتا ہے۔ اسی لے قرآن میں  کہا گیا کے زنا کے قریب بھی‌مت جاؤ کیونکہ جو چیز قریب ہوتی ہے انسان کا اس کی طرف توجہ رجہان بڑھ جاتاہے۔ خواتین اپنے لباس کو اسلام کے مطابق نہیں رکھنا چاہتی، پردہ  نہیں کرنا چاہتی ہے، میک اپ کرکے اپنے حسن کو ظاہر کرتے ہوئے کھلے عام گھومنا چاہتی ہے۔ مردوں کو اپنی توجہ کا مرکز بنا نا چاہتی ہے۔ پارکوں، مال، سپر مارکیٹ میں اپنے حسن کے جلوے بکھیرنا چاھتی ہے۔ ادھ ننگے کپڑے پہن کر اپنی خوبصورتی کو ظاہر کرنا چاہتی ہے۔ تعلیمی اداروں میں جینس ٹاپ اور فیشن شو وغیرہ میں برہنہ لباس پہن کر اسٹیج پر ناچنا چاہتی ہے۔
اور پھر مرد کو مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے کہ تم اپنی سوچ بدلو اپنے دیکھنے کا‌نظریہ بدلو، میرا جسم میری مرضی کے پلے کارڈ لیے احتجاج کرتی سڑکوں پر نکل آتی ہیں۔ یوم حقوقِ نسواں کے موقع پر حکومت قانونی اداروں سے برابری کے حقوق کا مطالبہ کرتی ہے کہ ہم وہ سب کر کرسکتی ہے جو مرد کر سکتا ہے۔ تو پھر میں بے جھجھک یہ کہنے پر مجبور ہو کہ آپ بازار میں کسی غریب فقیر پاگل مانگنے والے کو سردی میں ٹھٹھرتے دیکھ کر اپنے کپڑے اتار کر اسے پہنا سکتے ہو جو مرد کے مقابلے کی بات کرتے ہو۔ یقین تمہارا جواب نہیں ہوگا ۔ لیکن مرد کسی عورت کی عزت کی خاطر کسی عورت کو نیم برہنہ دیکھ کر اسکی عزت کی حفاظت کیلے اپنا کپڑا پہناتا ہے۔
لیکن خواتین یہ چاہتی ہے، اور انکے ساتھ حوس پرست عناصر بھی یہی چاہتے ہیں کہ عورت کو بازاروں کی زینت بنا دیا جائے۔ غیر خواتین کے ساتھ مسلم خواتین کو بھی مغربی کلچر کے دلدل میں دھنسا دیا جائے۔ اس لے وہ انکے حق میں مکر و فریب کا خوبصورت جال بچھا کر انھیں بے عزت کرنا چاہتے ہیں۔ انکی عصمت کو پامال کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن خواتین ہے کہ میرا جسم میری مرضی کے نعرے لگا‌نے میں مگن ہے۔ اپنی ہی خود ساختہ سوچ کے محور سے باہر نکلنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ اتنی شدت سے مغربی تہذیب نے ان خواتین کے دلوں میں اپنی جگہ بنا لی ہے کہ ایسے لگتا ہے۔ کہ یہ معاشرہ کو اب مشرق کہنا غلط ثابت ہو گا‌۔ساری مغربی تہذیب کو گھر کے ہر فرد میں داخل کرا دیا گیا جسے فیشن اور وقت و حالات کے ساتھ سمجھوتہ کہ کر اسلامی شریعت کو  نظر انداز کر دیا جاتاہے۔ زرا سے چھوٹے موٹے فنکشن سے لیکر ہر رسم و رواج میں مغربی تہذیب کو اپنا لیا گیا ہے۔ ایسا لگتا ہےکہ اسکے بغیر جینا محال ہے۔
ان تمام باتوں کے باوجود مردوں کو دوش دیا جاتا ہے کہ وہ ریپ کلچر کے ذمہ دار ہے نکاح کو مشکل ترین عمل بنا دیا گیا۔ جس کیلئے صرف لڑکا لڑکی کا بالغ ہونا ضروری ہے۔ آج اسکا معیار بلکل ہی مختلف کردیا گیا۔  پیسہ، گھر ، نوکری،  جائیداد، اسٹیٹس، خاندان،برادری، کاسٹ، یہ معیار نکاح کیلئے بنا دیا گیا۔ جبکہ حدیث میں کہا گیا کہ سب سے برکت والا نکاح وہ ہے جس میں خرچ کم ہو۔ ایک حدیث میں ہے۔ کہ نکاح کو آسان کرو یہاں تک کہ زنا مشکل ہو جائے۔
لیکن آج ان رسم و رواج کی وجہ سے فطری عمل کی تکمیل نہ ہونے کی بنا پر نوجوان لڑکے لڑکیاں ناجائز رشتے قائم کرنے پر مجبور ہے۔ شادی کی عمریں تجاوز کر رہی ہے۔ غریب والدین بچی کی شادی کرانے کیلے جہیز کیلے پیسے نہ ہونے کی بنا پر خودکشی کرنے پر مجبور ہے۔ کئی بچیاں غیروں کے ساتھ بھاگ کر کورٹ میرج کر رہی ہے اور اسلام سے مرتد ہورہی ہیں۔ ریپ کلچر کے ملک میں بڑھنے کی وجہ نکاح میں دیری ہے۔ فطرت سے کھلواڑ کرنے سے دنیا میں امن و سکون قائم نہیں ہو سکتا ہے۔ جس نے بھی جب کبھی قدرتی نظام فطرت سے اختلاف کیا وہ معاشرہ تباہ ہوکر رہ گیا۔ اللہ نے لوط علیہ السلام کی قوم کو عبرت کا نشان بنایا۔ کیونکہ انہوں نے فطرت کے خلاف عمل کیا تھا۔
تمام مسائل کا حل یہی ہے کہ اللہ کے قائم کردہ نظام  پر عمل کیا جائے کیونکہ دنیا کو  وجود اللہ نے اپنی قدرت سے بخشا ہے۔ اور کسی چیز کو ایجاد کر‌نے والا ہی اسکی تمام خوبیوں اور خامیوں کو جانتا ہے۔

اگر خواتین چاہتی ہے کہ ہم اپنی مرضی سے جیسے چاہے ویسے رہے گے ننگے پھیرے کے یا پھٹی کپڑے پہن گر گھومے گے۔ تم مرد اپنے آپ کو سداھاروں تو یاد رکھوں سارے مردوں کو تو سدھارنا مشکل ہے معاشرے میں اچھے برے، مختلف مذہب کے سبھی افراد موجود ہے۔ ایسے بے حیا ماحول میں حوس پرست مرد بھی موجود ہے۔ جو تمہیں دیکھ کر اپنی حوس کو پورا کرنے کیلئے تیار دیکھائی دیتے ہیں۔ تم ہی انکی اندر شہوت کی آگ کو بھڑکانے کا کام کرتی ہو۔ وہ اپنے آپ کو اپنے ایمانی قوت و تقوی کے بنیاد پر کنٹرول کر سکتے ہیں۔ لیکن غیر مذہب کے افراد کے پاس کونسا تقوی ہے انکا مقصد تو صرف خواہشات کو پورا کرنا ہے۔ کسی بھی طریقے سے ہو۔ اب چاہے وہ خواتین غیر ہو کسی بھی مذہب سے ہو مرد کیلئے صرف حوس پورا کرنے کی چیز ہوتی ہے۔ کہ جسے استعمال کرکے چاہے تو پھیک دیں یا جان سے مار دے۔ اور وہی سب آج ملک میں ہورہا ہے لیکن پھر بھی اس پر قابو پانے میں حکومت قانون ساز ادارے ناکام ثابت ہورہے ہیں۔ اور کہاں سے ہوگے جب محافظ ہی لوٹیرے ہو۔ جہاں زانیوں ، قاتلوں دہشت گردوں کے حق میں سیاسی پارٹیاں اور فرقہ پرست عناصر احتجاج کریں۔ ان کے استقبال کریں۔ قانون بن جانے سے حفاظت ممکن نہیں ہے مجرم کے دل میں قانون سے زیادہ خوف و ڈر اپنے پیدا کرنے والے اللہ کا ہونا ہونا چاہیے۔ اور شرعی اصول کے مطابق مجرم کو فوراً سزا ہونی چاہیے تب جاکر یہ سلسلہ رکے گا۔ ورنہ حالات بڑے ہی سنگینی اختیار کر چکے ہیں ہر روز اخبارات میں پڑھنے آرہا ہے سیکڑوں بنت حوا کی عصمتیں تار تار ہورہی ہے۔
میرے الفاظ سخت ہے لیکن حقائق سے آنکھیں نہیں چرائی جا سکتی ہے۔‌ یہ باتیں آپ کو کوئی اور نہیں کہے گا، ایک تو شرم سے یا لوگ اسے غلط کہنا شروع کر دیں گے اس ڈر سے۔ آپ مجھے کہو گے میری سوچ گندی ہے آپ اپنے سوچ بدلیں۔ لیکن حقیقت تو یہی ہے کہ میری سوچ گندی نہیں ہے میرے الفاظ ننگے ہے۔