Select your Top Menu from wp menus

انتخابات 2019ءمیں مسلمانوں نے خود کو بے وقعت کیا!

انتخابات 2019ءمیں مسلمانوں نے خود کو بے وقعت کیا!

باخبر کے قلم سے
رشید انصاری

ایک زمانہ تھا کہ ہر جماعت کےلئے مسلمانوں کے ووٹ بڑی اہمےت رکھتے تھے۔ مسلم اکثرےتی علاقوں میں مسلمانوں کی بھاری تعداد کی وجہ سے اس کو مسلم ووٹ بےنک بھی کہا جاتا تھا لےکن مسلمانوں میں نہ صرف اپنی غلطےوں بلکہ اغےار کی سازش کا شکار ہوکر اپنے آپ کو بے وقعت کرلیا۔ اس کی اےک خاص وجہ مسلمانوں کے ووٹوں کی تقسےم بھی ہے۔ ہر اکثرےتی حلقہ میں مسلم ووٹ بڑی بے دردی سے تقسےم ہوتے رہے ہےں اور ہورہے ہےں۔ خاص طور پر شمالی ہند میں ےہ خرابی زےادہ پائی جاتی ہے اس بار بھی ےہی ہوا جبکہ جنوبی ہند میں مسلمان بہت زےادہ نہ سہی خاصی حدتک متحد ہےں۔ اس کی وجہ کےرالا میں مسلم لےگ اور تلنگانہ میں مجلس اتحادالمسلمین جےسی مسلم جماعتےں مستحکم ہے۔ اسی وجہ سے اس سال لوک سبھا میں پہلی بار مجلس اتحادالمسلمین کے دو ارکان ہوں گے ۔ اسد الدین اوےسی کے ساتھ مہاراشٹرا کے حلقہ اورنگ آباد دکن سے مجلس کے ٹکٹ پر سےد امتےاز جلےل کا انتخاب اےک سنگ میل ثابت ہوسکتا ہے۔ بشرطےکہ دےگر مسلم اکثرےتی حلقوں میں امتےاز جلےل جےسا امےدوار ہو اور اورنگ آباد دکن کے مسلمانوں کی طرح دوسرے حلقوں کے مسلمان بھی تدبر اور اتحاد کا مظاہرہ کریں۔
گزشتہ لوک سبھا میں مسلمانوں کی تعداد 23 تھی جبکہ ےہ اب بڑھ کر 27 ہوگئی ہے۔ لوک سبھا میں چار مسلم ارکان کا اضافہ بے شک خوش آئند ہے۔ اس کے ساتھ ہی ےہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ نئی لوک سبھا کے منتخب ارکان میں مجلس کے اسد الدین اوےسی اور امتےاز جلےل کے علاوہ باقی 25مسلم ارکان میں سے کتنوں میں اوےسی کی گھن گھرج، بےباکی اور تدبر نظر آئے گا؟ ماضی کی ہر لوک سبھا میں مسلم ارکان نے عام طور پر بہت کم نے توقعات پوری کیںتھی۔ مولانا اسحق سنبھلی، محمود بنات والا، سلطان صلاح الدین اوےسی اور ان کے فرزند اسد الدین اوےسی جےسے بےباک اور جری ارکان لوک سبھا کم ہی گزرے ہےں۔ زےادہ تر ماضی اور حال کے مسلمان ارکان خوف اور مرعوبےت کا شکار رہے ہےں اور پارٹی ڈسپلن کے نام پر مسلمانوں کے خلاف منظور کی جانے والی قراردادوں کی زےادہ تر مسلمانوں نے ہی تائےد کی ہے۔ گزشتہ لوک سبھا میں طلاق ثلاثہ کے بل کی مخالفت اور اس کے خلاف احتجاج کرنے والے واحد مسلمان رکن لوک سبھا اسد الدین اوےسی تھے اس پر ملک کے مشہور اور ممتاز عالم دین مولانا خالد سےف اللہ رحمانی نے کہا تھا لوک سبھا میں ”اےک ہی مسلمان اسد الدین اوےسی نظر آتے ہےں“۔ اس بار اسدالدین اوےسی کے ساتھ لوک سبھا کئے نئے رکن امتےاز جلےل بھی ضرور نظر آئےں گے۔ ہوسکتا ہے کہ اےمان کی حرارت سے گرم قلب رکھنے والے اےک دو مسلمان بھی نظر آجائےں۔
مسلم مسائل پر پوری بےباکی سے مسلم مفادات کی حماےت کرنے والے بہادر اور بےباک مسلمان ارکان کی لوک سبھا میں شدےد ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ اس کی بھی ضرورت ہے کہ مختلف پارٹےوں کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے مسلمان ارکان اپنے آپ کو پارٹی ڈسپلن سے آزاد ہوکر مسلم مسائل پر مسلم مفادات کی بھرپور تائےد و حماےت کریں۔ جےسا کہ راقم الحروف نے ےہ بارہا لکھا ہے کہ مذہب کے نام پر کسی بھی جگہ کسی قسم کے تحفظ کی دستور میں گنجائش نہےں ہے۔ دستور کے اس نقطہ کا سب سے زےادہ نقصان مسلمانوں کو ہوا ہے اور کسی بھی لوک سبھا میں مسلم ارکان کی تعداد ان کے آبادی کے تناسب سے نصف ےا نصف سے کچھ کم زےادہ کبھی نہےں رہی ہے۔ کےونکہ نام نہاد سےکولر جماعتےں مسلمانوں کو ان کی آبادی کے تناسب سے کبھی ٹکٹ نہےں دےتے۔ سیکولر پارٹیاں مسلمانوں کو زےادہ تعداد میں ٹکٹ ہی نہےں جاری کریں گے اےوان میں مسلمانوں کی تعداد کس طرح بڑھ سکتی ہے؟ دوسری طرف علےحدہ مسلم جماعتوں کے بدترین مخالف متحدہ قومےت کے علمبردار، قوم پرست مسلمانوں نے بہت کم علاقوں میں کسی علےحدہ مسلم جماعت کوپنپنے دےا ہو۔ ےہ تو مسلم لےگ کے مولوی اسمٰعےل مرحوم اور مجلس اتحادالمسلمین کے عبدلواحد اوےسی اور ان کے شےردل فرزند سلطان صلاح الدین کی ہمت اور تدبر تھا کہ کےرالا اور حےدرآباد میں مسلم لےگ اور مجلس اتحادالمسلمین نے اپنے قدم جمائے رکھے۔ اب جو 27 مسلم ارکان منتخب ہوئے ہےں جس میں سے چار ارکان کےرالا ،تلنگانہ اور مہاراشٹرا سے تعلق رکھتے ہےں۔ جن حلقوں سے ےہ منتخب ہوئے ہےں جہاں مسلمانوں کی کافی اکثرےت ہے اور ےہاں پر عوام مسلمانوں کی علےحدہ جماعتوں کو نہ صرف پسند کرتے ہےں بلکہ اس کو مستحکم کرنے میں اپنا رول بڑی خوبی سے ادا کرتے ہےں اگر ان تمام علاقوں میں جہاں مسلمانوں کی اکثرےت ہے کوئی اےک مسلم جماعت (جےسے مسلم لےگ ےا مجلس اتحادالمسلمین ) اپنے امےدوار کھڑے کرکے نہ صرف مسلم جماعت کو مستحکم کرسکتی ہے بلکہ لوک سبھا میں اپنا اثر بڑاسکتی ہے لےکن مسلمانوں کی علےحدہ جماعت کے قےام کے مخالف نام نہاد قوم پرست مسلمان قائدےن اور شمالی ہند سے تعلق رکھنے والے اےک انتہائی محترم، لائق اور بےباک بزرگ صحافی (جنہوں نے ماضی بھی دےکھا ہے اور حال بھی ان کے پےش نظر ہے) کسی صورت مسلمانوںکی علےحدہ جماعت کے قےام کو پسند نہےں کرسکتے بلکہ قوم پرست قائدےن اور مذکورہ بالا بزرگ صحافی نے تو کانگرےس کی پےروی میں مجلس اتحادالمسلمین پر اور اس کے مدبر اور جری قائد اسد الدین اوےسی پر بڑی ہی بے شرمی سے رکیک الزامات لگائے ہےں جو کو وہ ثابت نہ کرسکے لےکن آج بھی وہ قائدےن اور صحافی بڑی بے شرمی اوردھرمی سے اپنے موقف پر اڑ ے ہوئے ہےں۔
ےہاں پر ےہ ذکر بھی ضروری ہے کہ دستور کی تشکےل کے دوران مہاتما گاندھی کا قتل ہوچکا تھا۔ مہاتما کی قاتل ہندوجماعتےں فرقہ پرستی کو پھےلا رہی تھیں تو ےہ کےسے اور کےوں کر قےاس نہےں کیا گےا کل ےہ جماعتےں اگر وسےع پےمانے پر مستحکم ہوجائےں تو کےا وہ مسلمانوں کو ان کی آبادی کے مطابق توکجا چند ٹکٹ بھی دےنے کی روادار ہوں گی؟ ہندومہا سبھا تو زےادہ فروغ نہےں پاسکی لےکن آر اےس اےس کے سےاسی بازو بی جے پی نے ملک بھر میں زبردست قوت حاصل کرلی اور اس نے مسلمانوں کو بمشکل تمام چند ہی ٹکٹ دئے۔ اس کے ٹکٹ پر مقابلہ کرنے والے 6 ےا 7 مسلمانوں میں کوئی بھی کامےاب نہےں ہوسکا۔ بی جے پی کی اس فرقہ پرستی کاادراک اور احساس دستور سازوں کو کےسے نہےں ہوا ؟ےہ امر باعث حےرت و تعجب ہے۔

Rasheed Ansari
Ph: 07997694060
Email: rasheedansari050@gmail.com
Hyderabad (Daccan)